تحریک انصاف ”فرینڈلی احتجاج“ سے بہتر ہے، نہ کریں!

اس وقت مرکز میں سیاسی اتحاد حکومت کر رہا ہے،،، جس میں موجود جماعتوں کے درمیان نورا کشتی عام بات ہے،،، مگر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں میں آپسی اور اندرونی نورا کشتی پہلی بار سُن رہے ہیں۔ یعنی ہم تحریک انصاف کے بانی کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں کو اگر ”نورا کشتی“ کہیں تو اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے،،، کیوں کہ اس سال کے اوائل میں سب نے دیکھا کہ کبھی وزیرا علیٰ کے پی گنڈا پور کارکنوں کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ نکلے،،، کبھی وہ خودگرفتاری سے بچنے کے لیے بطور وزیر اعلیٰ چھپتے چھپاتے اسلام آباد سے پشاور پہنچے،،، کبھی کارکنان نے اُنہیں گھیر لیا، اور حلف لیتے دکھائی دیے کہ وہ ہمارے ساتھ رہیں گے،،، اورکبھی وہ ”غیب“ کے ڈر سے تحریک کے اعلان کرنے سے گریزاں نظر آئے۔ آپ مذکورہ پارٹی کے دیگر رہنماﺅں کو بھی دیکھ لیں،،، ہر قائد دو اینٹ کی مسجد بنا کے بیٹھا ہے،،، حتیٰ کہ قائد کی رہائی کے لیے5اگست سے چلنے والے تحریک کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے،،، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک آمنے سامنے آگئے ہیں،،، گنڈاپور90روزہ تحریک کا آغاز کر چکے ہیں،،، جبکہ عالیہ حمزہ نے تحریک کے اعلان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست کے مقابلے میں 90 دن کا پلان کہاں سے آگیا ؟ جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان اور سیکرٹری جنرل عمرایوب وغیرہ محتاط انداز میں پارٹی کو لے کر چل رہے ہیں جن پر پارٹی کے اندر سے الزامات ہیں کہ وہ مقتدرہ اور پارٹی کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں،،، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ ہائی کمان لیڈر شپ ڈبل گیم کر رہی ہے۔ اوران سب سے بے نیاز بانی کی بہنیں الگ سے تحریک چلا رہی ہیں،،، جبکہ پارٹی کارکنان ان سب مخمصوں کے درمیان میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اور عوام قائدین کی ان حرکات کو دیکھ کر مقتدرہ کے لیے بھرپور تالیاں بجا رہے ہیں کہ کس طرح وہ سب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔۔۔ کیوں کہ عوام جانتے ہیں کہ تاریخ مقتدرہ کی انہی” حرکات “ سے بھری پڑی ہے۔جیسے آپ کو یاد ہو گا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ’پھانسی‘ لگتے وقت بھی تمام سروے کے مطابق ملک کے مقبول ترین لیڈر تھے تو کیا وجہ تھی کہ پارٹی قیادت اُنکی رہائی میں نہ صرف نا کام رہی بلکہ بعض سینئر ترین رہنماﺅں کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ پسِ پردہ جنرل ضیاءسے ملے ہوئے تھے۔ لہٰذا مارشل لا لگنے سے پھانسی تک کارکنوں نے گرفتاری بھی دی اور کوڑے بھی کھائے مگر پارٹی قیادت اُن سے یہی کہتی رہی کہ بھٹو جلد رہا ہوجائینگے، تحریک کی ضرورت نہیں اور اُنہیں تختہِ دار پر پہنچادیا۔ اِس سارے عمل میں اُس وقت کی مقتدرہِ اعلیٰ، عدلیہ اور بعض نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں کے ساتھ بھٹو کے سیاسی مخالفین کی بھی تائید شامل تھی۔ آج اِس بات کو 50سال ہونے کو ہیں،،، بس کردار بدلے ہیں کہانی وہی ہے۔ اسی لیے جس ’ ہائبرڈ نظام‘ کی بات اب ہو رہی ہے وہ ہمیشہ سے ہماری سیاست میں رہا ہے۔بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ اب نہ 58ٹو بی کی ضرورت ہے نہ ہی کسی PCO کی،،، 26 ویں آئینی ترمیم نے یہ تمام مسائل حل کردیئے ہیں۔ اس ’نظام‘ کی پیداوار شریف بھی ہیں اور عمران بھی۔ البتہ جو آج اِس سے فائدہ اُٹھارہے ہیں ان کو ’تاریخ‘ سے سبق سیکھنا چاہئے۔ کہہ نہیں سکتا کہ آج عمران خان کے مولانا کوثر نیازی، رفیع رضا، جتوئی، ممتاز اور پیرزادہ کون ہیں اور اُن کے جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن اور معراج محمد خان، کون ہیں، یہ فیصلہ تو خود خان صاحب کو کرنا ہے کہ جن جن کو وہ پارٹی کے اعلیٰ ترین عہدوں پر لائے اُن میں سے کتنے مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے۔ رہ گئی بات ریاستی جبر اور قید وبند کی تو یہ سیاست کا حصہ ہے ورنہ قربانی کے بغیر تو کچھ ہاتھ آنے والا نہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ ، لچک یہ بھی سیاست کا حصہ ہے ،،، ’احتجاجی تحریک‘ ہے کہ چل نہیں پارہی، جسکی بنیادی وجہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ پارٹی کے اندرونی شدید اختلافات ، قیادت کا غیر سیاسی مزاج اور مقتدرہ کی ’ناں‘ ہے ،،، لہٰذاپھر ایک بات تو طے ہوگئی کہ تحریک انصاف صرف اور صرف بانی تحریک انصاف کے گرد گھومتی ہے،اور وہی لیڈر ہے،،، باقی سب بکاﺅ مال ہے،،، اور پھر کیا کبھی کسی نے نوٹ کیا کہ آخر ہم ایسے ہی 2ہزار سال سے غلام کیوں ہیں؟ ہم نے ہمیشہ اُس دور کی اسٹیبلشمنٹ کو سلام ہی کیا ہے، خواہ وہ اسٹیبلشمنٹ ایرانیوں کی ہو، افغانیوں کی ہو، سکھوں کی ہو، مغلوں کی ہو، انگریزوں کی ہو،،، ہم نے ہمیشہ ”طاقت“ ہی کو سلام کیا ہے۔ اور آج بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ تبھی تحریک کامیاب نہیں ہو رہی۔ اور ویسے بھی پہلے یہ ہوتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے تحریک اُٹھتی تھی، ،، جنرل ایوب کے خلاف جنرل یحییٰ خان تھے، جنرل یحییٰ کے خلاف گل حسن تھے، جنرل ضیا ءکے خلاف جنرل اسلم بیگ تھے، جنرل مشرف کے خلاف جنرل کیا نی تھے۔ اس لیے ان جرنیلوں کے خلاف بھی تحاریک اُٹھتی رہیں،،، اور مقتدرہ کے مخالف گروپ بھی من پسند سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرتے رہے۔ لہٰذایہ بات تو طے ہے کہ کبھی بھی کسی سیاسی جماعت نے بغیر ”سپورٹ“ کے ایک بھی تحریک کامیاب نہیں کروائی۔ حتیٰ کہ 1983ءکی ایم آرڈی آج کی اپوزیشن سے زیادہ بڑی تھی،،، مگر اُسے مقتدرہ نے طاقت کے زور پر کچل دیا۔ اس لیے ابھی آپ حالیہ تحریک کے کامیاب ہونے کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔ کیوں کہ ابھی اپوزیشن کو کسی قسم کی اندرونی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔ اس لیے آج کل جو یہ تحریکیں پیش کی جا رہی ہیں،،، یہ سب کچھ اپوزیشن کی طرف سے ڈرامے کے سوا کچھ نہیں ہے،،، کیوں کہ تحریک انصاف بھی یہ بات جانتی ہے کہ اُن کے ہاتھ فی الوقت کچھ نہیں آنے والا۔ اور رہی بات مقتدرہ کی تو اُسے بھی چاہیے کہ وہ ہاتھ ہولا رکھے،،، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ اور چھوڑ دیں جان بانی تحریک انصاف کی۔ بلکہ اُن کی طرف توجہ دیں،،، جنہیں وہ اقتدار میں لائے ہیں،،، وہ راتوں رات کھرب پتی ہو چکے ہیں،،، یہ اس قدر نالائق ہیں کہ بیساکھیوں پر ، مہنگائی کرکر کے اور قرضے لے لے کر حکومت چلا رہے ہیں،،، نہ ان کا کوئی وژن ہے اور نہ ہی ان کا عوام کی بھلائی کا کوئی مقصد۔ بلکہ اس طرف بھی توجہ دیں کہ وہ ایسے ایسے پراجیکٹ کا آغاز کر رہے ہیں کہ جن کا کل کو کوئی آڈٹ ہی نہیں ہوسکتا۔ جیسے صاف ستھرا پنجاب ہے،،، اس پر کھربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں،،، اس کا آڈٹ کیا ہوگا؟ انہوں نے تو بعد میں ہاتھ کھڑے کر لینے ہیں کہ سب پیسہ بارش میں ”بہہ“ گیا ہے!۔۔۔ اور پھر جتنے پیسے انڈر پاس کے بنانے پر لگائے جاتے ہیں،،، اُتنے ہی اس کی تزئین و آرائش پر لگائے جا رہے ہیں،،، حالانکہ دنیا بھر میں ایسا کہیں نہیں ہوتا،،، پھر سولر سسٹم منصوبے کو دیکھ لیں، بجلی کے بل دیکھ لیں،،،۔ پھر سی سی ڈی کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے ہیں اور مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کہ آپ جتنے چاہیں بندے ماریں،،، بلکہ ماورائے عدالت سبھی ملزمان کو مار دیں۔ کیا ریاستیں ایسے چلتی ہیں؟ کیا یہ ایک ذمہ دار ریاست ہے؟ کیا جنہیں آپ بندے مارنے کی اجازت دے رہے ہیں ،،، وہ کل کو پیسے لے کر من پسند افراد کا قتل نہیں کریں گے؟ جیسے ایک مشہور انکاﺅنٹر سپیشلسٹ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے فلاں فلاں شخص کو کیوں قتل کیا،،، تو اُس نے برملا فرمایا کہ جہاں اتنے لوگ سرکار کے کہنے پر مارے،،، وہاں ایک آدھ بندہ اگر میں اپنی مرضی کا مار دوں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اور پھر یہ سب کچھ ن لیگ کے دور میں ہی ہوتا ہے،،، پھر یہ لوگ اس کو اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا”مقتدرہ“ آپ نے ان لالچیوں کو کھلا چھوڑ دیا ہے،،، اور عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے،،،کہ آخر کار جو قرضے لیے جا رہے ہیں،،، وہ کسی نے تو اُتارنے ہیں،،، اس لیے یہ بات یہ یاد رکھیں کہ جب جہاز گرتے ہیں تو پھر بزنس کلاس بھی نہیں بچتی،،، پورا جہاز تباہ ہوجاتا ہے۔ بہرحال حالات ویسے نہیں ہیں جیسے تحریک انصاف سمجھ رہی ہے،،، اور مخصوص سیٹوں والے فیصلے کے بعد تو ویسے ہی اب حکومت کو کسی کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے آنیوالا وقت خان صاحب اور پارٹی کیلئے کٹھن ہوگا۔ کیوں کہ سیاسی میدان میں یقینی طور پر اِس وقت ’ہائبرڈ نظام‘ اپنے عروج پر ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف ،نواز شریف یا عمران کے مقابلے میںہمیشہ سے مقتدرہ کی پہلی چوائس رہے ہیں ۔ان کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری نظر آتی ہے یہاں تک کہ خود نواز نے شہباز اسٹیبلشمنٹ بیانیہ کو بہترین قرار دیدیا ہے۔ بقول شاعر زمینِ چَمَن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے رہ گئی بات خان صاحب کی تو سیاسی میدان میں بظاہر وہ تنہا نظر آرہے ہیں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد نہیں بن پارہا۔ مولانا فضل الرحمان اور حافط نعیم الرحمان دونوں کو ہی پی ٹی آئی یا خان پر اعتماد نہیں ورنہ صرف ان تین جماعتوں کا اتحاد بھی خاصی ہلچل مچا سکتا تھا۔ میری اس حوالے سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ایک فورم پر بات ہوئی تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے پی ٹی آئی خود تو ایک پیج پر نظر آئے دوسرے کچھ ماضی کے تلخ تجربات بھی آڑے آ گئے ہیں۔اب اس بات کا تو میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا،،، کیوں کہ جب تک خان صاحب باہر نہیں آتے،،، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اب یا تو خان صاحب پارٹی اپنی بہن علیمہ خان کے سپرد عارضی طور پر کریں یا پھر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو پارٹی چلانے دیں، وہ صحیح سمت پر نہیں جارہے تو قیادت تبدیل کردیں، جنید پر اعتماد نہیں تو علی امین کو ہی پارٹی دے دیں۔ اس وقت تحریک انصاف میں صرف کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے ایسے میں تحریکیں نہیں چلا کرتیں۔ لہٰذاخان صاحب اپنی جماعت کی تنظیم نو کریں،،، اور ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں جو واقعی معنی رکھتا ہو،،، ورنہ موجودہ تحاریک وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہیں!