ریاست سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کرے!

9مئی واقعات کی روشنی میں تحریک انصاف کے مزید46ملزمان کو سرگودھا اور لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو دس دس سال کی قید کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی 39ملزمان کو10، 10سال قید کی سزا ہوئی، ان قائدین میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، خالد قیوم ،ریاض حسین ،علی حسن ،افضال عظیم پاہٹ اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر وغیرہ شامل ہیں،،، جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، زباس مان، افتخار احمد، رانا تنویر، حمزہ عظیم پاہٹ اور اعزاز رفیق کو بری کر دیا۔ مان لیا 9مئی کی حقیقت اپنی جگہ مگر حکام بالا سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا ان فیصلوں سے عدالتوں کی بے بسی اور جانبداری کے بارے میں جو تاثر موجود ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ سزائیں اس سیاسی بیانیہ کو مضبوط کریں گی کہ حکومت عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو سزائیں دلا کر اپنا غیر قانونی اقتدار قائم رکھنا چاہتی ہےں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیوں 9مئی کے لیے کوئی انوسٹی گیشن بورڈ نہیں بٹھایا؟کیوں آزاد عدلیہ کمیشن نہیں بنایا گیا؟ کیوں اُس علاقے کا ایس پی ، ڈی ایس پی یا ایس ایچ او معطل نہیں ہوا؟ کیوں کینٹ کے علاقوں کی چیک پوسٹوں کی فوٹیج منظر عام پر نہیں لائی گئیں؟ کیوں جس وقت لاہور کے لبرٹی چوک جیسے علاقے میں جہاں آج احتجاج کرنا ممنوع ہے،،، وہاں پورا دن تحریک انصاف کے قائدین موجود رہے،،، اُنہیں بلا کر کیوں نہ سمجھایا گیا یا اُنہیں وارننگ دی گئی؟ کیوں کور کمانڈر صاحبان کی اس حوالے سے سرزنش نہیں کی گئی کہ اُنہوں نے مظاہرین کو روکنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کیوں نہ کی؟ کینٹ جیسے علاقے میں آپ کور کمانڈر ہاﺅس کے پاس ایک منٹ کے لیے بھی گاڑی نہیں کھڑی کر سکتے۔ کیا انہیں پھنسا کر مارا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا اس سے ریاست کی رٹ ایکسپوز نہیں ہوئی؟ کہ کوئی بھی چند سو افراد لا کر کینٹ پر حملہ کردے تو کوئی روکنے والا نہ ہوگا،،، اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانا ہی مقصود تھا تو ریاست کو استعمال کیوں کیا گیا؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے آفس میں سے ایک لوئیر سٹاف کو نکالنا چاہتا ہوں،،، تو اُس کے لیے سٹوری پلان کروں کہ وہ مجھے پہلے آکر تھپڑ مارے،،، اس کے لیے اُسے ہر سہولت فراہم کرواﺅں،،، کہ اُسے میرے آفس تک آنے دیں،،، وہ شدید غصے میں ہوگا، اس لیے اسے توڑ پھوڑ بھی کرنے دیں،،، اور موقع ملتے ہی وہ مجھے جب تھپڑ مار دے تو اُس کے بعد میں اُس پر کیس بناﺅں اور یہ جواز پیش کروں کہ اس شخص نے میرے ساتھ یہ کیا ہے،،، اس لیے اسے سزا دی جائے،،، بندہ پوچھے ،،، میں نے ایسا ہونے ہی کیوں دیا؟ خیراس میں تو کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ملک کا عدالتی نظام سست اور پیچیدہ ہے۔ اسی لیے سانحہ 9 مئی کے 26 ماہ بعد سزاﺅں کا اعلان ہوا ہے۔ اس دوران ان الزامات میں گرفتار کیے گئے لوگوں کی ضمانتیں بھی نہیں ہو سکی تھیں۔ بلکہ اگر کسی عدالت نے کوئی ضمانت منظور کی بھی تو حکومت نے فوری طور سے اس شخص کو کسی دوسرے الزام میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ یہ صورت حال گرفتار ہونے والے لوگوں اور ان کے اہل خاندان کے لیے انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ تھی، ویسے یہ ظلم کی الگ کہانی ہے،،، اب فیصلوں کا اعلان ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ سے معاملہ آگے بڑھ سکے گا اور امید ہے کہ ان معاملات کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہو گا۔ البتہ ملک کے عدالتی نظام کی صورت حال میں اپیلوں پر فیصلے ہوتے دہائیاں بیت جاتی ہیں۔ یہ معاملات چونکہ ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی ہیں، اس لیے یہ عمومی عدالتی تاخیر ملک کی سیاسی صورت حال پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست سوتیلی ماں بننے کے بجائے حقیقی ماں کا کردار ادا کرے،،، اور سب کو ساتھ لے کر چلے ایسا کرنے سے یقینا ملک میں مفاہمتی فضاءقائم ہوگی۔ اور پھر ایسا کب نہیں ہوا کہ صدق دل سے اقدامات کیے ہوں ۔ اور اُس کے بہتر نتائج نہ ملے ہوں؟ آپ تاریخ کو اُٹھا کر دیکھ لیںآپ کو ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بڑا دل رکھ کر اقدامات کیے جائیں تو اُس کے مثبت نتائج ہی ملتے ہیں۔ مثلاََ فتح مکہ کے واقعہ کو ہی لے لیجیے کہ جب آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے اور مفتوحین کے ساتھ کس قدر محبت شفقت اور معافی کا معاملہ فرمایا کہ جب مہاجرین مکہ دس ہزار لشکر جرار لے کر لشکر کفر و شرک پر چڑھائی کرتے ہیں اور فرطِ مسرت میں ڈوبے ہوئے اس عظیم اسلامی لشکر سے آواز آتی ہے کہ آج بدلے کا دن ہے اور خوب بدلہ لیں گے، آج ہم سمیعہؓ کی آہوں اور صہیبؓ کی سسکیوں کا بدلہ لیں گے۔ آج ہم حضرت بلال حبشیؓ کی چیخوں کا بھی بدلہ لیں گے۔ آج کوئی نہیں بچے گا۔ ہر کوئی اپنے انجام کو پہنچے گا۔ مگر ہمارے کریم آقا ﷺ نے سب پر نگاہِ رحمت ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بولو! تم لوگوں کو کچھ معلوم ہے، آج میں (محمد ﷺ) تم لوگوں سے کیا سلوک کرنے والا ہوں؟“یہ سوال سن کر سب قیدی کانپ اُٹھے اور اُن پہ لرزہ طاری ہوگیا، کیوں کہ ماضی قریب میں آپ پر اپنے ہاتھوں اور زبان سے کیے ہوئے ظلم و ستم ایک ایک کرکے سب یاد آرہے تھے۔ سب کے سب بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں سر جھکا کر یک زبان ہو کر بولے: یارسول اللہ ﷺ! آپ کریم بھائی اور کریم باپ کے بیٹے ہیں۔ یہ جواب سُن کر رحمتِ عالم ﷺ نے اپنے دل نشین اور کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: ”آج میں وہ کہتا ہوں، جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ اسلام نے کہا تھا کہ آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں۔“آپ نے عفو عام کا اعلان فرما دیا،ان معافی پانے والوں میں کیسے کیسے لوگ تھے ذرا تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھیے۔انہی صحابہ ؓ کرام نے اگلی فتوحات کو انجام دیاتھا۔ پھر صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد بڑا دل رکھا اور عام معافی کا اعلان کیا تھا، جس کے دورس نتائج دیکھے گئے۔ الغرض نیلسن مینڈیلا کہا کرتے تھے کہ عظیم لوگ اعلیٰ مقصد کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے سے کبھی گھبرایا نہیں کرتے، اگر آپ اپنے دشمن کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو اس کو اپنا شراکت کار بنا لیں۔یہی بات امریکہ کے سولہویں صدر ابراہام لنکن بھی کہا کرتے تھے کہ میں اپنے دشمن کو دوست بناکر دشمنی ختم کرنے کا قائل ہوں، لہٰذامیں پھر یہی کہوں گا، کہ 9 مئی کا واقعہ قابل مذمت ہے مگر 8 فروری کے مینڈیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ عوام الناس نے اس فروگزاشت کو قابل اعتناءنہیں سمجھا اور عمران خان کو قطار اندر قطار ووٹ ڈالے ہیں، اگر کسی غلطی پر عوامی گواہی میسر نہ آئے تو وہ غلطی بھی ہوا میں اڑ جاتی ہے۔ خاص طور سے اس معاملہ میں عمران خان کی مسلسل حراست اور تحریک انصاف کا ان کی رہائی پر اصرار ایک مثالی صورت حال بن چکی ہے۔ حکومت اسے انصاف کے تقاضے کے مطابق اور شفاف عدالتی کارروائی کہتی ہے جبکہ تحریک انصاف خاص طور سے عمران خان کی قید کو سیاسی تناظر میں دیکھتی ہے اور ہر معاملہ میں یہی مطالبہ سامنے لایا جاتا ہے کہ پارٹی کے بانی کو رہا کیا جائے۔لیکن اس کے برعکس اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی عدالت عمران خان کو بھی اس روز احتجاج اور توڑ پھوڑ میں شامل ہونے یا اس کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں طویل المدت سزا سنا دے۔ ایسا کوئی فیصلہ سیاسی ماحول کو مزید پراگندہ کرے گا۔ بہرحال وقت کے حکمرانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ درگزر سے کام لیں،،، اور خاص طور پر عوامی نمائندوں پر ہاتھ ہولا رکھیں،،، ایسا نہ ہو کہ کل کو ان کی حکومت آئے اور ان کا ہاتھ آپ کے گریبانوں پر ہو۔۔۔ اور پھر یوں یہ سلسلہ چل نکلے۔ جبکہ ان اراکین اسمبلیوں کو سزا اگر ہوتی ہے تو ان سزاﺅں کے نتیجے میں وہ اسمبلیوں کی رکنیت سے نا اہل ہوسکتے ہیں لیکن ابھی درجنوں دوسرے ارکان اسمبلی پر بھی سانحہ 9 مئی کے الزامات میں مقدمے قائم ہیں۔ خاص طور سے خیبر پختون خوا اسمبلی کی صورت حال خاصی دلچسپ ہو سکتی ہے۔ اگر کے پی کے اسمبلی میں تحریک انصاف کے دس بیس ارکان سزائیں پانے کے بعد نا اہل ہو جاتے ہیں تو وہاں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنا آسان ہو جائے گا، جس سے ایک نیا سیاسی بحران جنم لے گا۔کیوں کہ مخصوص سیٹوں میں حصہ ملنے کے بعد خیبر پختون خوا اسمبلی میں اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ اب تحریک انصاف پر ایک اور وار کر کے اگر اسے وہاں اقتدار سے بھی اقتدار سے محروم کیا گیا تو پھر حالات یکسر بدل سکتے ہیں،،، جو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔۔۔ بہرکیف سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے پر تحریک انصاف کے لیڈروں کو سزاﺅں کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر معاملات کو ہوشمندی سے طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں لیکن حالات یونہی یک طرفہ چلتے رہے،،،تو اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے پاس جارحانہ احتجاج ہی واحد راستہ بچتا ہے،،، جس کی وہ پہلے ہی منصوبہ بندی کر چکے ہیں،،، اس لیے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ریاست فیصلے کرے،،، اگر سرکار مخلص ہے تو مفاہمت کے خالی نعرے لگانے کے بجائے عملی اقدامات کرے،،، لیکن اگر اقتدار کی ہوس ان کو کھائے جا رہی ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی جنگ میں قومی مفاد محض ”نعرے“ کی حیثیت رکھتا ہے!