پاکستان ڈالر بنانے کی فیکٹری؟

پاکستان کے ترقی نہ کرنے کے پیچھے جہاں اور بہت سے مسائل ہیں، وہیں دو طرح کے بڑے مسائل بھی درپیش ہیں،،، پہلا یہ کہ ہمارے بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے،،،اور دوسرا پاکستان کو ہر سال ناقص حکمت عملیوں اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے اربوں ڈالر کے جرمانے اور غیر ضروری ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں،،، جن کی ذمہ داری موجودہ و سابقہ تمام حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے،،، اور ان سے یہ قطعاََ انکار نہیں کر سکتے۔ لہٰذاان دو قسم کی ادائیگیوں سے جب تک ہماری جان نہیں چھوٹے گی،،، پاکستان اور اس کے عوام کبھی خوشحال نہیں ہوسکتے۔ جبکہ ان مسائل سے نکلنے کے لیے آپ کو ان جیسے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نڈر، دلیر اور عوام دوست لیڈر شپ کی سخت ضرورت ہے،،، ورنہ خوشحالی کا سوچنا کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہے۔۔۔ خیر اگر ہم مذکورہ بالا پہلے مسئلے کی بات کریں تو اس وقت پاکستان کو مالی سال2025-26 کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 23 ارب ڈالر سے زائد کی رقم واپس کرنا ہوگی۔ کل 23 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں سے 12 ارب ڈالر کی رقم دو مختلف زمروں میں ڈپازٹس کی صورت میں شامل ہے، جن کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ رقم دوست ممالک سے منت ترلا کرکے رول اوور کروا لی جائے گی،،، جبکہ بقیہ 11ارب ڈالر کمرشل بینکوں، آئی ایم ایف یا دیگر مالیاتی اداروں کو واپس کرنی ہی کرنی ہے،،، اور اگر اس میں دیر سویر ہوگئی تو کم از کم 5سو ملین ڈالر کے اضافی جرمانے و سود لاگو ہوجائےں گے،،، جس کی ادائیگی کے بغیر جان نہیں چھوٹنے والی۔ جبکہ دوسرے بڑے مسئلے کے مطابق جیسا کہ راقم نے عرض کیا کہ غیر ضروری ادائیگیاں اور جرمانے وغیرہ شامل ہیں،،، اس کی مثال آپ یوں سمجھ لیں کہ آپ کو یاد ہوگاکہ ن لیگ کے 2013والے دورکے آغاز میں خوب لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی، لہٰذا ن لیگ نے مہنگے مہنگے بجلی کے یونٹ لگا کر عوام میں واہ واہ کروانے کے لیے ایسے ایسے بجلی کے منصوبے لگائے کہ آج عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ ۔۔ جیسے اُس دور میں شاہد خاقان عباسی وزیر پٹرولیم تھے ،،، انہوں نے 2014ءمیں کراچی میں قطر سے ایل این جی ڈیل کی ۔۔۔ جس کے مطابق ایک پاکستانی کمپنی کو روزانہ پونے تین لاکھ ڈالرز کی ادائیگی کا معاہدہ کیا۔ جی ہاں! اُس کمپنی کو اب تک روزانہ پونے تین لاکھ ڈالرز مل رہے ہیں،،، چاہے ٹرمینل استعمال ہو یا نہ ہو۔ اب اس منافع بخش ”کاروبار“ کو دیکھ کر اُس وقت کی ایک اور بڑی کمپنی جو مبینہ طور پر کسی طاقتور سیاستدان کی ملکیت ہے،،، کود پڑی ،،، تو اس سے بھی سوا دو لاکھ ڈالرز روازنہ پر معاہدہ کر لیا گیا۔ یوں دو پاکستانی کمپنیاں حکومت سے روزانہ پانچ لاکھ ڈالرز کے قریب لے رہی ہیں۔ یعنی 16کروڑ روپے روزانہ اور 60ارب روپے سالانہ ان دو کمپنیوں کو دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ایک دوست صحافی کے مطابق ایسے ٹرمینل آج کل مفت لگ رہے ہیں ،،،لیکن چونکہ ہمارے ہاں ڈالرز بنانے کی فیکٹری لگی ہوئی ہے،،، اس لیے ہمیں شاید اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چلیں آپ دور نہ جائیں،،، رواں مہینے کی سُن لیں،،، کہ راقم نے گزشتہ دنوں ”چینی“ پرا یک کالم لکھا تھا جس میں یہ بتایا تھا کہ حکمران اب مصنوعی چینی بحران پر قابو پانے کے لیے 300ملین ڈالر کی چینی درآمد کر رہے ہیں،،، حالانکہ یہ فیصلہ شوگر مافیا کی جیبیں بھرنے کا وہی پرانا طریقہ ہے۔ کہ پہلے سازش کے تحت مقامی چینی برآمد کی گئی، پھر مہنگے داموں واپس خرید کر عوام اور قومی خزانے کی جیبیں خالی کی جا رہی ہیں۔اور اہم خبر یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس کی اجازت بھی دے چکے ہیں،، اور ہو سکتا ہے ،،، اندر کھاتے چینی منگوا بھی لی گئی ہو۔ حالانکہ ہمیں کہا گیا تھا کہ چینی برآمد کرنے سے ڈالرز آئیں گے۔ ڈالر پتا نہیں کتنے آئے یا نہیں آئے لیکن تین سو ملین ڈالرز کی چینی ضرور درآمد ہو گئی ہوگی۔ شہباز شریف حکومت کے پاس شاید ڈالرز بہت ہیں لہٰذا درآمد، برآمد کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ مت بھولیں کہ شریف خاندان کی اپنی شوگر ملز بھی ہیں‘ جیسے اپنے بجلی گھر ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ ڈالرز دینے کا یہ سلسلہ تو دہائیوں سے جاری ہے،،، جیسے آپ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کو دیکھ لیں،،، کہ اس پراجیکٹ میں ہمیں 18ارب ڈالر تک جرمانہ ہو نے والا ہے،،، اور اس میں ثالث فرانسیسی عدالت ہے۔ یہ منصوبہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1995 ءمیں ایران سے سستی گیس خریدنے کےلیے شروع کیا تھا۔ اور ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ شروع کرنے کی ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے تھے۔ 1996 ءمیں انکی حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور یہ منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا۔ 2008 ءمیں آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو اس منصوبے کو فائلوں سے باہر نکالا گیا۔ 2013 ءمیں صدر زرداری نے ایرانی صدراحمدی نژاد کے ہمراہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد نواز شریف وزیرا عظم بن گئے اور زرداری صاحب کی پہلی ٹرم ختم ہو گئی۔ اس پراجیکٹ کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ 2018 ءمیں عمران خان وزیر اعظم بن گئے۔ انہیں بھی مشورہ دیا گیا کہ ایران سے تجارت کا خیال دل سے نکال دیں۔ انہوں نے بھی یہ منصوبہ ختم کرنے سے انکار کر دیا۔کیوں کہ پاکستان اس معاہدے سے نکل جاتا تو اسے کم از کم 18 ارب ڈالر ادا کرنے پڑتے۔ قصہ مختصر کہ اس معاہدے پر اتفاق رائے 1995ءمیں ہوا۔ باقاعدہ آغاز 2009ءمیں ہوا۔ افتتاح 2013ءمیں ہوا اور 2024ءمیں اسے ہر صورت مکمل کرنا تھا۔لیکن معاملے کو ہمیشہ ٹالا جا تا رہا ،،، حتیٰ کہ ایران نے پاکستان کو لیگل نوٹس بھجوا دیا،،، اور اگر ایران لیگل نوٹس نہ دیتا تو ستمبر 2024 ءکے بعد اُسے نوٹس دینے کا اختیار بھی نہ رہتا۔ ایران کے نوٹس دینے کے بعدامریکی اور بھارتی میڈیا میں دھوم مچ گئی کہ اب پاکستان نے ایران کو 18 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، نوٹس ملنے کے بعد پاکستان نے فرنچ عدالت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کی تیاری شروع کردی لیکن اس دوران ایران پر اسرائیل نے حملہ کردیا۔ اور یہ معاملہ ابھی بھی لٹکا ہوا ہے اور کسی بھی وقت بم پھٹ سکتا ہے۔ کیوں کہ معاہدے کے مطابق معاملہ پھر سے فرنچ عدالت میں جائے گا اور اگر وہاں فیصلہ پاکستان کے خلاف آگیا تو 18 ارب ڈالر کا جرمانہ کیسے ادا ہوگا؟کیا پھر پاکستانی فیکٹری میں ڈالرز بنائے جائیں گے ؟ بقول شاعر حاکم وقت تیرے ھر کردار پہ ت±ھو۔۔۔۔ جس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تھ±و۔۔۔ اور پھر یہ سلسلہ ن لیگ اور پی پی پی کے دور میں ہی نہیں بلکہ ناقص حکمت عملی پی ٹی آئی کے دور میں بھی جاری رہی۔ عمران خان کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ پاکستانی پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں‘اس کے بعد برطانیہ سمیت کچھ یورپی ممالک میں پی آئی اے کی فلائٹس پر پابندی لگ گئی تھی جس وجہ سے پی آئی اے کو 600 ملین ڈالرز نقصان ہوا ہے۔ غلام سرور خان سے جب اس بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے عمران خان نے کہا تھا کہ اسمبلی میں یہ بیان دو۔ یوں بغیر سوچے سمجھے ایک وزیراعظم نے ایسا کام کرایا جس کا نتیجہ بڑے نقصان کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے پہلے ہی تباہ حال تھی اور سرکاری رپورٹ کے مطابق اس پابندی کے بعد مجموعی طور پر 740 ارب روپے کا نقصان اٹھا چکی ہے۔ اس پابندی کا فائدہ غیرملکی ایئرلائنز نے اٹھایا۔ پاکستان کے لوگوں کو جو مشکلات پیش آئیں وہ الگ کہ جو سفر سات‘ آٹھ گھنٹے کا تھا وہ چوبیس‘ چوبیس گھنٹوں تک چلا گیا۔ کرائے الگ سے بڑھ گئے اور پی آئی اے اپنے منافع بخش روٹس کھو بیٹھی۔ بہرکیف عرصہ ہوا مجھے یقین آچکا ہے کہ امریکہ نے ڈالرز بنانے کی مشین پاکستان کو دے رکھی ہے جہاں دن رات ڈالرز چھاپے جاتے ہیں اور ہر طرف ڈالرز برس رہے ہیں۔ ایک دور تھا جب لاکھوں کی کرپشن یا غبن کو بھی بڑا سکینڈل سمجھا جاتا تھا۔ ایسی خبر سب کو ہلا کر رکھ دیتی تھی۔ پھر لوگ لاکھوں کی کرپشن کو معمول سمجھنے لگے یا یوں سمجھیں بور ہونے لگے۔ لاکھوں کی کرپشن کی خبر معمول بن کر رہ گئی جو نہ فائل کرنے والے کو اچھی لگتی‘ نہ ہی وہ پڑھنے والے کے دل کو گرما پاتی۔ پھر غبن اور مال بنانے والوں نے اپنا معیار اونچا کرنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ کروڑوں تک لے گئے۔ پھر وہی بوریت۔ کچھ عرصہ بعد اربوں کی خبریں آنے لگیں۔ اربوں روپے کی کرپشن بھی نارمل خبر بنی تو پھر ڈالرز میں سکینڈل رپورٹ ہونے لگے۔ لہٰذاسوال یہ ہے کہ کیا پاکستان یونہی نقصان اُٹھاتا رہے گا،،، ہم پاکستانی یہ نہیں کہتے کہ حکومت ٹیکس نہ لے بلکہ جو جائز ٹیکس ہے وہ لے اور صحیح جگہ اس کا استعمال کرے،،، بلکہ پاکستانی تاجر دوستوں کو اکثر یہ کہتے سنا ہے کہ آپ ناجائز ٹیکس بھی ہم سے لو۔۔۔ مگر یہ تو بتاﺅ کہ لگا کہاں رہے ہو؟ اگر یہ نہیں بتایا جائے گا اور پاکستان سے یونہی ڈالر بے وقعت باہر جاتے رہیں گے تو پھر یہاں ٹیکس چوری بھی ہوگی اور ہیرا پھیری بھی!