عمران خان کے بچوں کو پاکستان آنا چاہیے؟

وطن عزیز میں گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے ایک بحث جاری ہے کہ کیا بانی تحریک انصاف کے بیٹے پاکستان آرہے ہیں؟ کیا وہ اپنے باپ کی رہائی کی تحریک جو 5اگست کے احتجاج سے شروع ہو رہی ہے، اُس میںحصہ لیں گے؟ اس پر مخالفین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں،،، کوئی کہہ رہا ہے کہ اُنہیں فوراََ گرفتار کر لیا جائے گا، کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ آئیں ، شایان شان آئیں،،، لیکن اگر انہوں نے کسی تحریک میں، احتجاج میں، کارنر میٹنگ میں یا جماعت کو لیڈ کرنے کی کوشش کی تو اُنہیں اسی اثنا میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ مطلب! گھبراہٹ کا یہ عالم ہے کہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر پلان اے اور پلان بی ترتیب دیے جانے لگے،،، یہ تو بھلا ہو خان صاحب کا کہ جنہوں نے کہہ دیا کہ اس تحریک کو لیڈ کرنے کے لیے باپ ہی کافی ہے،،، ورنہ پلان سی ، ڈی بھی ترتیب دیا جاچکا ہوتا۔ حالانکہ میرے خیال میں خان کے بیٹوں کو پاکستان آنا چاہیے،،، وہ پاکستان کیوں نہ آئیں؟ اس کی صرف وجہ بتا دیں؟ اور حکمرانوں کے اتنے خوفزدہ ہونے کی وجہ تسمیہ بھی بتا دیں،،، کہ ہمارے ہاں لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہوگئے ہیں؟ اُن کا آنا یا نہ آنا تو ایک طرف مگر یہ کیا ؟ کہ آپ کسی کی بھی character assassinationشروع کر دیں گے؟ کبھی خان کے بیٹوں کی بے ہودہ تصاویر کے ساتھ اُن کو منسلک کر دیا جاتا ہے، تو کبھی یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے حرام گوشت کھایا،،، وہ مسلمان نہیں ہیں،،، وہ یہودی لابی کو سپورٹ کرنے پاکستان آرہے ہیں،،،یا یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خان کے بیٹے امریکا میں جس لابی سے ملے وہ ہم جنس پرست ہیں۔۔۔ مطلب گھٹیا پن کی بھی انتہا ہوتی ہے،،، کہ کیا وہ سیاست کرنے آرہے ہیں؟ وہ تو اپنے باپ کو بچانے آرہے ہیں،،، کیا لابنگ کرنے والوں کو پاکستان کی تاریخ کا علم نہیں ہے؟ کہ جب پیپلز پارٹی مشکل میں تھی تو انہوں نے ”الذوالفقار“ نامی تنظیم بنائی۔ جنہوں نے ملک بھر میں پرتشدد کارروائیاں کیں،،، جنہوں نے چوہدری ظہور الٰہی کو قتل کیا،،، اگر اس کی مزید تفصیل میں جائیں تو جب ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دی گئی تو مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو لندن کے ایک فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں بھائیوں نے افغانستان اور شام سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی وقت گزارا۔افغانستان میں قیام کے دوران مرتضیٰ اور شاہنواز نے اپنے والد کا تختہ الٹے جانے کا انتقام لینے کے لیے (مبیّنہ طور پر) ’الذوالفقار‘ نامی تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم میں پیپلز پارٹی اور اس کی ذیلی طلبہ تنظیم پی ایس ایف کے ارکان شامل تھے۔پھر اس تنظیم پر انڈین اور افغان خفیہ اداروں کے ساتھ روابط کے الزام بھی لگے،،، حتیٰ کہ ’الذوالفقار‘ نے مزاحمت کے لیے مسلّح جدوجہد کا راستہ اپنایا اور دو مارچ 1981 کو پی آئی اے کی پشاور جانے والی پرواز PK-326 کو ہائی جیک کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ کراچی سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی یہ فلائٹ کابل لے جائی گئی جہاں فوجی افسر میجر طارق رحیم کو جہاز پر ہی قتل کر کے اُن کی لاش رن وے پر پھینک دی گئی۔ ان ہائی جیکرز نے جنرل ضیا کی فوجی حکومت کو دھمکی دی کہ جن 53 افراد کی رہائی کا وہ مطالبہ کر رہے تھے، اگر انھیں رہا نہ کیا گیا تو جہاز میں سوار تمام 143 افراد کو ہلاک کر دیا جائے گا۔ 13 دن تک جاری رہنے والی یہ ہائی جیکنگ اس وقت ختم ہوئی جب ہائی جیکرز کے مطالبات کی منظوری کے بعد مسافروں کو رہا کر دیا گیا۔حالانکہ فاطمہ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو الذوالفقار نامی تنظیم کے سا تھ وابستگی کے حوالے سے ہمیشہ تردید کرتی رہیں،،، حالانکہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے درمیان اسی تنظیم کی وجہ سے اختلافات بھی رہے،،، مگر باپ کا بدلہ لینے کے لیے مرتضیٰ بھٹو نے ہر حد تک جانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ پھر مشرف دور میں جب نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا اور جلا وطن کیا گیا تو کیا اُسے اور اُس کی سیاست کو بچانے کے لیے بیگم کلثوم نواز میدان میں نہیں آئی تھیں؟ کیا اس سے پہلے سیاست میں اُن کا نام کسی نے سنا تھا؟ پھر 2017ءمیں نواز شریف کو جب دوبارہ گرفتار کیا گیا تو کیا مریم نواز کی سیاست میں انٹری نہیں ہوئی؟ اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ پر کون کون سے الزامات نہیں لگائے ،،، کیا اس حوالے سے کسی کو خبر نہیں؟ حالانکہ یہ تو سیاسی خاندان ہیں،،، جبکہ خان کے بچے تو سیاسی بھی نہیں ہیں۔ اور سب سے بڑی بات کہ جیل میں موجود اُن کا باپ ہے،،، تو کیا وہ اپنے باپ سے ملنے کے لیے بھی جیل میں نہیں جا سکتے؟ کیا دنیا کا کوئی قانون ان کو اس حق سے محروم رکھ سکتا ہے؟ اور پھر خان جب اقتدار میں تھا یا پابند سلاسل ہونے سے پہلے اُن کی بہنیں کسی کو سیاست میں نظر آئی تھیں؟ اور اب جب پوری پارٹی کم وبیش بک چکی ہے،،، یا انتشار کا شکار ہے،،، تو کیا اُن کے خاندان میں سے کوئی فرد بھی سامنے نہ آئے؟ اس لیے میرے خیال میں عمران خان کو بچانے کے لیے اُن کے بیٹوں کو آگے آنا چاہیے،،، خان صاحب کو یا کسی اور کو اُنہیں روکنا نہیں چاہیے۔۔۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ تو جب خان صاحب وزیر اعظم تھے، تب بھی سیاست سے لاتعلق رہے،،، انہوں نے نہ تو کبھی یہاں آکر پروٹوکول انجوائے کیا اور نہ ہی سرکاری رہائش گاہیں استعمال کیں،،، جبکہ اس کے برعکس زرداری و نوازشریف کے خاندان کے بچوں کو چیک کر لیں،،، کہ انہوں نے کاروبار میں کون سے فائدے حاصل نہیں کیے؟ کونسے ٹھیکے اُنہیں نہیں ملے؟ ان کی کونسی کمپنی خسارے میں جا رہی ہے؟ حتیٰ کہ ان کی کمپنیاں ہر سال 300فیصد تک جائز و ناجائز منافع کما رہی ہیں،،، اور خان صاحب کے بچے کیا کر رہے ہیں؟ تو کیا اب کوئی بحث بنتی ہے کہ کس کے بچوں کو ملک آنا چاہیے اور کس کے بچوں کو نہیں،،، لیکن مجھے تو اس بحث میں حصہ لینے والوں اور خان کے بچوں کی کردار سازی کرنے والوں پر حیرت ہو رہی ہے ۔یعنی نیچے گرنے کی بھی کوئی سطح ہونی چاہیے ،،، اس قدر کوئی کیسے نیچے گر سکتا ہے؟ خیر بات ہو رہی تھی کہ عمران خان کے بچوں کو پاکستان آنا چاہیے یا نہیں،،، تو اس وقت ایک عام پاکستانی بھی جانتا ہے کہ خان کی رہائی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں،،، انتظامیہ ناکارہ ہو کر رہ گئی ہے،،، عدلیہ مکمل ایجنڈہ ساز بنی ہوئی ہے،،، آئین مفلوج ہو کر رہ گیا ہے،،، ادارے کارکنان کی پکڑ دھکڑ میں مصروف عمل ہیں،،، حتیٰ کہ الیکشن کمیشن تک حکمرانوں کا آلہ کار بنا ہو ا ہے تو ایسے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ خان کو یا اُن کی پارٹی کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ خاموش ہو جائیں؟ کیا وہ ظلم سہتے رہیں؟ اور کیا وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پارٹی قیادت کے لیے آواز بھی نہ اُٹھائیں؟ کیا بھٹو کو بچانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مہم نہیں چلی تھی؟ کیا دنیا کے 100وزرائے اعظم نے اپیل نہیں کی تھی کہ بھٹوکو چھوڑ دیا جائے،،، کیا نواز شریف کو امریکی صدر کلنٹن نے نہیں بچایا تھا؟ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو صدر بش کے کہنے پر بیرون ملک روانہ نہیں ہوگئی تھیں؟ کیا یہ سب دودھ کے دھلے ہوگئے ہیں؟ چلیں مان لیا کہ تحریک انصاف ان جماعتوں سے ذرا ہٹ کر ہے،،، اور موروثیت پر یقین نہیں رکھتی،،، لیکن اگر خاکم بدہن جیل میں عمران خان کو کچھ ہو جاتا ہے،، تو کیا یہی سیاسی جماعتیں یہ نہیں کہیں گی،،، کہ خان کے بیٹوں کو اگر اپنے باپ سے لگاﺅ ہوتا تو وہ اُنہیں بچانے کے لیے پاکستان ضرور آتے۔۔۔ اور ویسے بھی تحریک انصاف موروثیت کے خلاف رہی ہے۔ عمران خان خود اس کے مخالف ہیں۔ ان کا کردار اس کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے اپنی بہنوں، بھانجے، اہلیہ کو پارٹی اور سیاست سے دور ہی رکھا، اپنے بچوں کو بھی۔ اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سیاست نہیں۔ یہ تو اپنے باپ، بھائی کی جان بچانے کی کوشش ہے۔ اسے سیاست نہیں کہہ سکتے اور نہ اسے موروثیت کہا جا سکتا ہے۔ ایسا الزام لگانا ہی بدترین بددیانتی ہے۔ اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ کیا اب موروثیت سے اٹی ہوئی سیاسی جماعتیں خان کے بچوں کی کردار سازی کریں گی؟ کہ جن کی اپنی حکومت نے ہی صرف پنجاب میں 10کھرب کی کرپشن کا الزام لگا دیا ہے،،،اور جن پر الزامات عائد ہو رہے ہیں کہ چینی اسکینڈل میں انہی کی شوگر ملوں کے نام لیے جا رہے ہیں،،، اگر ہم ان کی شوگر ملوں کے نام لے لیں تو ان کے تن بدن کو آگے لگ جاتی ہے،،، کہ بقول شاعر آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی بہرکیف حوصلہ رکھیں،،، اگر بچے اپنے باپ کی رہائی کے لیے آنا چاہتے ہیں تو ست بسم اللہ اُن کو آنے دیں،،، اُن کی راہوں میں ہر گز کانٹے نہ بچھائیں،،، تحریک انصاف کی قیادت بھی اُن کو آنے سے منع نہ کریں،،، وہ باپ کی رہائی کے لیے آرہے ہیں،،، سب کو اپنے ظرف کے مطابق چلنا چاہیے،،، اور رہی بات تنقید کی تو وہ یہاں معذرت کے ساتھ قائداعظم کو بھی نہیں بخشا جاتا ،،، اُن پر بھی انگلیاں اُٹھ جاتی ہیں،،، لہٰذاحوصلہ رکھیں اور بڑا دل رکھیں! سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا! اور یہ جو سمجھ رہے ہیں کہ وہ مستقل حکومت کر نے کے لیے آئے ہیںتو اُن کی اطلاعات کے لیے بتاتا چلوں کہ بھٹو نے بھی کہا تھا کہ اُن کی کرسی بڑی مضبوط ہے،،، لیکن وہ تین ماہ بھی نہیں نکال سکے تھے،،، پھر جنرل ضیاءنے بھی کہا تھا کہ میں ہر الیکشن غیر جماعتی کرواﺅں گا،،، لیکن اُس کے اس نے ایک ہفتہ بھی نہیں نکالاتھا،،، نواز شریف بھی نعرے لگاتے ہوئے آئے تھے کہ وہ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ میدان میں آئے ہیں مگر اُن کو بھی سعودیہ روانہ کر دیا گیا تھا،،، اس دھر تی پر بڑے بڑے سکندراعظم آئے مگر اللہ کو تکبر پسند نہیں ہے،،، اسی لیے تو کہتے ہیں کہ رہے نام اللہ کا!