”بڑوں“ سے بنا کر رکھنا ہی پاکستان میں رہنے کی شرط!

چند ماہ قبل ہی راقم نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت کا ”ہنی مون“ پیریڈ ختم ہونے دیں،،، پھر ساس نے اگر بہو کی زندگی اجیرن نہ کردی تو کہنا،،، لیجئے جناب! جیسے ہی ہنی مون پیریڈ ختم ہوا ،،، پہلے پنجاب میں ایک سال میں دس کھرب کی کرپشن کے چرچے عام ہوئے،،، پھر ہمارے وزیر دفاع کے مبینہ طور پر قریبی ساتھی اے آر ڈی سی کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا اور اربوں روپے کی ریکوری کی گئی،،، جبکہ بدلے میں خواجہ آصف بھی سیدھے ہوگئے اور کہہ ڈالا کہ ہماری بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید رہی ہے،،، جس سے بیوروکریسی میں ہلچل مچ گئی ،،، بلکہ ایک دوست بیوروکریٹ کو میں نے مزاحاََ فون کرکے سمجھایا کہ پرتگال بہتر نہیں ہے،،، امریکا میں پراپرٹی پر ہاتھ ڈالیں کیوں کہ وہ اگلے 25سال تک بھی سپرپاور ہی ہے،،، اس بات پر دوست تلملا اُٹھا اور کہنے لگا کہ بد سے بدنام برا،،، اور ساتھ ہی خواجہ آصف کے لیے ”تعریفی کلمات“ کہنا شروع ہوگیا۔ بہرحال ہماری ناقص اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ میں اے ڈی سی آر اقبال سنگھیڑا کو خواجہ آصف کے قریبی آدمی کہا جا رہا ہے،،، جو الیکشنز میں آر او بھی تھے اور انہوں نے مبینہ دھاندلی کرنے اور خواجہ آصف کو جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا، جب سے یہ گرفتار ہوئے ہیں خواجہ آصف اسی دن سے پریشان ہیں۔جبکہ مزید اطلاعات ہیں کہ خواجہ آصف کے بھتیجے اور ان کے قریبی دوست جو گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں ، دونوں اے ڈی سی آر کے نام پر بہت کچھ کرتے رہے ،،، لیکن حقیقت کیا ہے،،، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔۔۔ کیوں کہ خواجہ صاحب کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہیں ہے،،، اور پھر وہ وزیر دفاع بھی ہیں تو اتنا سارا بوجھ وہ عمر کے آخری حصے میں اُٹھائے پھر رہے ہیں،،، یہ اُن کے علاوہ بھی کوئی نہیں کر سکتا،،، اس لیے ہمیں اُن کے ساتھ خاصی ہمدردی بھی ہے اور چاہت بھی،،، کیوں کہ وہ دبنگ بولتے ہیں اور اکثر اپنے چٹکلوں سے ہمیں محظوظ کرتے ہیں۔۔۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا،،، بلکہ یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ آخر کارموصوف اے آرڈی سی،،، جو 8فروری کے الیکشن میں آر او کے فرائض بھی بخوبی سرانجام دے چکے ہیں،،، جب سے کرپشن کر رہے تھے تو اُنہیں اُس وقت سے کیوں نہیں روکا گیا؟ یا اُنہیں اتنے سال پہلے کیوں نہیں پکڑا گیا؟ اگر اُن کی ”فائل “تیار تھی تو عین موقعے پر کیوں استعمال کی گئی؟ اس سے تو پھر آپ یہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں جب کسی کی بڑے سے بگڑتی ہے تو اُس وقت اُس کی کرپشن کھلتی ہے، جب تک وہ ”بڑوں “ کا تابعدار رہتا ہے، تب تک اُسے کچھ نہیں ہوتا۔ اور پھر یہ صرف خواجہ صاحب کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ آپ بحریہ ٹاﺅن کے روح رواں اور پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون کو دیکھ لیں،،، جنہوں نے 25سال بالواسطہ اور بلاواسطہ حکومت کی ہے،، تب تو کسی نے اُنہیں کچھ نہ کہا۔ وہ اس وقت ہمارے لیے ”مشعل راہ “ بھی تھے،،، کہا جاتا تھا کہ اگر کسی نے ریاست کا انتظام دیکھنا ہے تو وہ بحریہ ٹاﺅن دیکھ لے،،، ہر چیز منظم انداز میں ہوگی ، ہر ملازم اپنا کام کرتا دکھائی دے گا وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ وہ تو بڑا کرپٹ آدمی تھا۔ اُس نے کھربوں کی کرپشن کی۔ اور حقیقت میں فائلوں کو پہیے لگا دیے۔ لیکن اُس کی بگڑی اُس وقت ہے جب اُس نے یہ سوچ لیا کہ اب وہ بڑے بڑوں سے ٹکر لے سکتے ہیں،،، یعنی اُس نے جب القادر ٹرسٹ کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کیا تو اُس وقت ہم پاکستانیوں کو پتہ چلا کہ یہ تو دنیا کا کرپٹ ترین شخص ہے۔یہ تو بہت بے ایمان آدمی ہے، اس نے تو بیڑہ غرق کر دیا ہے ملک کا۔ اس نے تو بڑی منی لانڈرنگ کرکے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ حالانکہ ایان علی جیسا کیس بھی سب کے سامنے ہے جو مبینہ طور پر صدر پاکستان کے لیے منی لانڈرنگ کر رہی تھی،،،وہ بھی کچھ عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد بیرون ملک بھیج دی گئی،،، اُس کے بعد جس نے اُسے منی لانڈرنگ کرتے پکڑا تھا وہ بیچارہ افسر بھی مارا گیا اور جس نے اس کیس کی تفتیش کی تھی وہ بھی مبینہ طور پر مارا گیا۔ اور اگر کوئی زندہ بچا تو وہ منی لانڈرنگ کرنے والے تھے،،، یعنی پراپرٹی ٹائیکون کب ”بعیت“ کر لیں اور ہمیں بتایا جائے کہ.... اوہو.... غلطی ہوگئی یہ تو بہت نیک شخصیت تھے،،، ان پر لگے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے،،، لہٰذااُنہیں مکمل ایماندار شخصیت لکھا اور پکارا جائے! پھر ہمیں کھربوں روپے خرچ کرکے یہ بات بتائی گئی کہ میرے وطن کے لوگو! ن لیگ والے بہت کرپٹ لوگ ہیں،،، ان سے بچ کے رہنا،،، لندن میں جو ان کےفلیٹس (ایون فیلڈ)ہیں،،، وہ قوم کے پیسوں سے بنائے گئے ہیں،،، اگر یہ لوگ نہ بتاتے تو ہمیں کیسے پتہ چلنا تھا کہ واقعی ایسا کچھ ہے،،، لیکن ہمیں پھر یہ بھی بتایا گیا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی 6براعظموں میں جائیدادیں ہیں،،، ہم نے یقین کیا ۔ لیکن ساتھ ہی 2022ءمیں انہیں حکومت تھما کر بتا دیا گیا کہ بھائی! یہ سب لوگ ٹھیک تھے،،، ان کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ پھر اس پر اربوں روپے لگایا گیا کہ خدارا ان کو ایماندار کہیں،،، اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایسا کرنے کے لیے ہم سے ”معذرت“ والا رویہ بھی نہیں اپنایا گیا۔ بلکہ حکم صادر فرمایا جاتا ہے کہ انہیں درست کہا جائے،،، یہ کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتے! یعنی جیسے ہی ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے ٹریک سے ہٹے،،، وہ غدار، کرپٹ اور دنیا کے پرلے درجے کے حکمران بن گئے،،، لیکن جیسے ہی انہوں نے تابعداری اختیار کی سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ آپ عمران خان کو دیکھ لیں،،، اُسے شاید اس فارمولے کا علم نہیں ہے،،، یا اگر علم ہے تو وہ خود اکیلے ہی انقلاب لانے کے چکر میں جیل کاٹ رہے ہیں،،، میرے خیال میں اگر اُنہوں نے کرپٹ، چور، زنائی ، پلے بوائے یا دیگر القابات سے بچنا ہے تو ”تابعداری“ اختیار کرنا ہوگی،،، پھر وہ ہر لحاظ سے درست تصور کیے جائیں گے،،، اور ہو سکتا ہے،، کہ انہیں وقت سے پہلے اقتدار سے اُتار کر ”ہما“ اُن کے سر بٹھا دیا جائے گا۔ الغرض پاکستان میں جو شخص اپنے بڑوں سے بگاڑتا ہے،،، اُس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے،،، جیسا خواجہ آصف کے ساتھ ہو رہا ہے،،، بلکہ خواجہ صاحب نے تادم تحریر میاں نواز شریف سے بھی اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کر لی ہے،،،اور ہو سکتا ہے کہ اُن سے وزارت دفاع کا استعفیٰ بھی مانگ لیا گیا ہو۔ یا ہو سکتا ہے کہ میاں صاحب نے اُن سے کہا ہو کہ آپ کی ”تابعداری“ کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔۔۔ یا ہوسکتا ہے کہ جب ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ”باہمی امور “ کی دلچسپی پر بات چیت ہوئی ہے تو پس پردہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی بڑوں کی کرپشن کے بارے میں اپنے قائد کو آگاہ کیا ہو،،، کیوں کہ وہ ماضی میں بھی جب وزیر دفاع رہے ہیں تو پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ”مقدس“ گائے کے احتساب کی باتیں کر تے رہے ہیں۔اس کے علاوہ بھی انہوں نے بڑی بڑی اور زبردست تقریریں کی ہوئی ہیں،،، اب خواجہ جانے یا خواجہ کو بنانے والے جانیں۔۔۔۔ لیکن اُن میں ایک خوبی ضرور ہے کہ موصوف آگے سے اپنے دفاع میں یا حملہ کرنے کے لیے کھڑے ضرور ہو جاتے ہیں،،، یعنی صاف لفظوں میں اگر بڑوں نے اُسے تنگ کیا تو وہ دوبارہ پارلیمنٹ میں وہی زبان استعمال کریں گے،،، جو اب تک موصوف کرتے آئے ہیں،،، کیوں کہ وزارت دفاع سے زیادہ کوئی ”راز دار“ نہیں ہوتا۔ بہرحال پاکستان میں کمزور ہونا یا طاقتور ہونا مسئلہ نہیں ہے،،، مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ کی بڑوں سے بگڑتی کب ہے،،، جیسے ہی آپ کی بگڑ جائے گی ،،، آپ کمزور،،، لیکن اگر آپ تابعدار رہیں گے تو آپ سے بڑا طاقتور ہی کوئی نہیں،،، اور” خوبصورت“ بات یہ ہے کہ پاکستان ایماندار ملکوں میں 140ویں نمبر پر ہے،،، یعنی ہمارا ملک دنیا کر پٹ ترین ملک ہے،،، بڑوں کو اس سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے،،، اُنہیں صرف اپنا اُلو سیدھا کرنا آتاہے۔ اس لیے میں یہ بات علی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں رہنا ہے تو بڑوں سے بنا کر رکھیں،،، ورنہ آپ کا Survivalہو ہی نہیں سکتا۔ اور یہ بات سب سے زیادہ اگر کسی نے پلے سے باندھی ہے تو وہ صدر پاکستان آصف علی زرداری ہیں۔ کیوں کہ وہ بھی پہلے بہت زیادہ جذباتی تقریریں کرتے تھے،،، جس کی وجہ سے اُنہوں نے کئی کئی سال جیل میں کاٹے،،، جسمانی سزائیں بھی ملتی رہیں،،، پھراُنہیں مرد حر کا خطاب بھی ملا،، ، لیکن اُنہوں نے اب سمجھ لیا ہے کہ اگر پاکستان میں رہنا ہے تو کسی سے بگاڑنی نہیں ہے،،، اور ہاں ! یاد آیا،،، آپ چودھریوں کو دیکھ لیں،،، ساری زندگی جنہوں نے اقتدار کی ہانڈی کھائی ہے،،، اور پنجاب پر بھی بڑی سرعت اور بہترین انداز میں حکمرانی کی ہے،،، وہ بھی بڑوں کی بدولت ہی کی ہے۔۔۔ لیکن اب کی بار چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ نہیں بھئی! خان ٹھیک بندہ ہے،،، اغلوں نے کہا کہ چلیں سر! آپ بھی جیل میں چلیں!۔آپ سعد رفیق کو دیکھ لیں کہ انہوں نے بھی سیاست سے توبہ کررکھی ہے کہ جب تک بڑوں سے بنتی نہیں ہے وہ سیاست سے توبہ کا ورد جاری رکھیں گے۔۔۔ کیوں کہ شاید اُسے بھی علم ہے کہ وہ بغیر کسی غیبی مدد کے الیکشن نہیں جیت سکتا! اس لیے خدارا اس ملک پر رحم کریں اور جو کرپٹ افراد ہیں،،، اُنہیں موقع پر پکڑیں اور اُسے کرپشن سے روکیں،،، ایسا نہ کریں کہ اگر وہ آپ کے سامنے کرپشن کررہا ہے لیکن آپ کی تابعداری میں بھی کوئی کمی نہیں لا رہا تو آپ اُس کے لیے اپنی تمام دودھ اور شہد کی نہریں کھود ڈالیں،،، کہ شاعر بھی حیرانی میں کہہ ڈالے کہ اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا جس کو گلے لگا لیا وہ ”امیر“ ہو گیا بہرکیف حضور ! اس ملک پر رحم کھائیں اور اسے اندر سے کھوکھلا نہ کریں،،، ہمیں دنیا و آخرت میں سب بھی حساب دینا ہے،،، اس لیے یہ پالیسی ہی بنا لیں کہ اچھے کو اچھا اور برے کا تاحیات برا ہی کہا جائے ورنہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے!