پاکستان بن چکا ہے، اب اس کی قدر کریں!

مجھے میرے ایک دوست نے کہا کہ آپ پاکستان بننے کے حق میں ہیں یا مخالف ہیں،،، تو میں نے تعجب بھرے انداز اور مزاحاََ کہا کہ بھئی میرے پیدا ہونے سے پہلے پاکستان بن چکا تھا، اب اس بات سے قطعی نظر وہ صحیح تھا یا غلط ،،، لیکن اب یہ میرا ملک ہے،،، اب یہ جیسا بھی ہے میرا ملک ہے، میری پہچان ہے، اسی کے پاسپورٹ پر میں نے سفر کرنا ہے اور دنیا میں جہاں بھی جاﺅں میں نے بطور پاکستانی اپنی شناخت کروانی ہے۔ اب مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان بننا چاہیے تھا یا نہیں۔ لیکن جتنا کچھ ہم نے پڑھا ہے اور 1947ءمیں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم اُن کے ساتھ نہیں رہ سکتے، ،، جن کے ساتھ ہم 8سو سال سے رہ رہے تھے،،، پھر یہ بات سُن کر میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی کہ چلیں جن کے ساتھ ہم نہیں رہ سکتے تھے، اُن سے تو ہم الگ ہو گئے ہیں، اب تو ہم خوش ہوں گے،،، میلے ٹھیلے ہوں گے،،، اب تو ہر طرف خوشحالی ہوگی، مٹھائیاں بانٹی جائیں گی،،، لیکن جیسے ہی 1947ءکے بعد کی تاریخ پر میری نظر پڑتی ہے، تو وہ اس سے بالکل مختلف ہے،،، ہم نے شیعہ سنی فسادات دیکھے،،، ہم نے ہر دور میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا نارواسلوک دیکھا، ہم نے احمدیوں کو غیر مسلم ڈکلیئر کیا، پھر اُن کا یہاں جینا دو بھر کر دیا۔ ہم نے سندھی پنجابی لڑائی دیکھی، اب ہم بلوچی پنجابی لڑائی دیکھ رہے ہیں،کراچی میں سندھ مہاجر کی لڑائی دیکھی، کبھی ہم نے سپاہ صحابہ بنتے دیکھی، کبھی ہم سپاہ محمد بنتے دیکھی۔ لیکن میں نے پھر تاریخ کو کھنگالا کہ شاید کہیں یہ لکھا آجائے کہ فلاں صوبے نے فلاں صوبے کے عوام کو لسانیت یا گروہی بنیاد پر قتل کرنا شروع کر دیا،،،یا ایک صوبے نے دوسرے صوبے کے عوام کا داخلہ بند کر دیا۔ پھر مجھے بہت عجیب لگتا ہے کہ 1947ءسے کیا برا تھا ، جو اب برا نہیں ہے،،، ویسے میں یہ بتاتا چلوں کہ خاکم بدہن میں پاکستان بننے کا مخالف نہیں ہوں لیکن مختصراََ یہ کہ ہم اسے سنبھال کیوں نہ پائے،،، اور قائداعظم ؒ کے وژن کے مطابق اس ملک کو چلانے سے کیوں قاصر رہے؟،،، لیکن ویسے ہی ذراایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آج اگر ہم متحدہ ہندوستان میں رہ رہے ہوتے تو آج ایک ارب ہندو اور 75کروڑ مسلمان ہوتے۔ یعنی (20کروڑ مسلمان بنگلہ دیش کے، 25کروڑ پاکستان کے،،، اور 30کروڑ ہندوستان کے )۔ یعنی میرے خیال میں برصغیر کے 75کروڑمسلمانوں کو 3حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے،،، جن پر ہندوستان بسا اوقات اپنی مرضیاں مسلط کرتا ہے،،، جب کہ ایک ارب ہندو متحد رہے،،، یقین مانیں یہ چیز مجھے ہضم نہیں ہورہی،،، اب اگر کوئی یہ کہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر دونوں ملکوں کو الگ الگ کیا گیا،،، تو پھر یہ دونوں قومیں 8سوسال تک اکٹھی کیسے رہیں؟ اور آج اگر برصغیر کے صوبے بنائے جاتے تو 100میں سے 60صوبے ہندﺅوں اور 40صوبے مسلمانوں کے ہوتے۔ اور جب اتنی بڑی اقلیت آپ کے سامنے ہو تو پھر وہ اقلیت نہیں بلکہ اکثریت ہی تصور کی جاتی ہے۔ میرے خیال میں انگریز نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سب سے پہلے ہندو مسلم کو الگ الگ کیا، پھرمسلمانوں کو فرقوں میں بانٹا، کیوں کہ 1857سے پہلے نہ تو دیوبندی تھے، نہ بریلوی تھے، نہ قادیانی تھے،،، بلکہ صرف مسلمان تھے، ،، لیکن بعد میں کئی کئی فرقے بنا کر مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا۔ بہرحال ان تمام باتوں کو ایک طرف رکھیں اور صرف یہی بات تصور میں لائیں کہ پاکستان بن چکا ہے، ،، اب ہم واپس 1947ءمیں نہیں جاسکتے ،،، اس لیے اس کی قدر کریں،،، اس کے وجود کی حفاظت کرنی چاہیے،،، تاکہ ہم موجودہ نعمتوں سے بھی محروم نہ کر دیے جائیں۔ اب آپ کہیں گے کہ نعمتیں کونسی؟ تو یقینا اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے بھی نوازا ہے،، جن کا ہم شکرادا نہیں کرتے اور نہ ہی ہم اُن کی قدر کرتے ہیں،،، جیسے قائداعظم کے بعد ہمیں کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جس نے خالصتاََ پاکستان کے لیے کام کیا ہو، بلکہ جس نے بھی کرنے کی کوشش کی یا تو اُسے پابند سلاسل کر دیا گیا، یا اُسے ابدی نیند سُلا دیا گیا۔ بدلے میں دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی، ہم اپنے ہی ہمسایہ ممالک کی ترقی کی وجہ سے شرمسار ہوئے،ہمارے ہمسائے میں افغانستان ہم سے بہتر حالت میں ہے۔سری لنکا آج ایکسپورٹ میں پاکستان سے آگے نکل گیا ، ایران ساری عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے شہریوں کی زندگی آسان کررہا ہے۔ بھارت اپنے تعصبات کے ہوتے ہوئے اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات خراب ہونے کے باوجود اپنے عوام کو معیاری زندگی دے رہا ہے۔ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔بنگلہ دیش میں انقلاب آچکا ہے، ملائشیا ہم سے بعد میں آزاد ہوا ہے، مگر مجال ہے کہ اُس نے اپنی ترقی پر کبھی کمپرومائز کیا ہو۔ چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ہے۔ وہ اب دنیا کی دوسری معیشت بن گیا ہے۔لیکن اس کے برعکس یہاں ترقی تو دور کی بات ، نفرتوں کے بیج بو دیے گئے ہیں، آج 78 سال بعد بہت سی مایوسیاں ہیں۔ بے کسی ہے۔ بے بسی ہے۔اور رہی سہی کسر پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کو بزور قوت کھڈے لائن لگا کر نکال دی گئی ہے۔سرکار کی کہیں نہ چلی تو اُس نے غریب عوام کو تاریخ کے مہنگے ترین بجلی کے بل تھما دیے ہیں۔ حالانکہ قائداعظم نے آزادی کا مطلب یہ نہیں سمجھایا تھا کہ کسی ملک سے آزادی حاصل کر لی تو اللہ اللہ خیر صلا۔بلکہ انہوں نے 25 اگست 1947ءکو کراچی میونسپل کارپوریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا مقصد ہر شہری کو ناصرف ہر قسم کی محتاجی اور خوف سے نجات دلانا ہے بلکہ اسے آزادی، اخوت اور مساوات کی نعمتیں بھی مہیا کرنا ہے جس کی تلقین ہمیں اسلام کرتا ہے“۔ بہرحال آج ریاست ماں کا کردار ادا کرنے کے بجائے یا شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے ،،، آج اُن کے لیے بے پناہ مسائل کا باعث بنی ہوئی ہے،،، کبھی اپنے ہی شہریوں پر پولیس اور دیگر فورسز سے حملے کر رہی ہے، تو کبھی اُنہیں عدالتوں کے ذریعے سزائیں دلوا رہی ہے،،، ”آزادی“ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کچھ کرنے میں آزاد ہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ ریاست ”ویلفیئر “سٹیٹ ہونی چاہیے، جہاں جمہوری لوگ ہی عوام کی خدمت کریں اور پانچ سال بعد کسی دوسرے کو اقتدار میں آنے کا موقع دیں، کیوں کہ خالص جمہوریت ہوگی تو سب کچھ بہترین ہوگا۔ جبکہ اس کے برعکس یہاں کے حکمران صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں، تبھی یہ پاکستان کے امیر ترین خاندان بن چکے ہیں، یہاں ان کی مخالفت کرنے والوں کو یا تو جیل بھیج دیا جاتا ہے یا اُن پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے اُنہیں عدالتوں کے ذریعے خوار کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہاں تو جب ایک پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو دوسری پارٹی کے لوگوں کو چن چن کر جیلوں میں ڈالتی ہے، جبکہ دوسری پارٹی جب اقتدار میں آتی ہے تو پہلی والی پارٹی کے رہنماﺅں سے گن گن کے بدلے لیے جاتے ہیں۔ اور پورے ملک میں غدار غدار کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم پاکستان میں نہیں بلکہ غداروں کی سرزمین پر رہ رہے ہیں! میرے خیال میں ہم انہی بدیانتیوں کی وجہ سے آج دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو جھوٹ بولنے والوں میں سب سے آگے ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ انصاف دینے والوں میں سے بھی نہیں ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ سانحہ ماڈل ٹاﺅں کے شہدا کو آج تک سزا نہ دے سکے،یہ سانحہ ساہیوال کیس میں کسی کو سزا نہ دے سکے۔ بلکہ دنیا کے سامنے ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے بھٹو جیسے لیڈر کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ، ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے قائداعظم کو صحیح علاج معالجہ نہ دے سکے ، ہم شرمندہ ہیں کہ بعض مقدمات میں تو عدالتیں رات 12بجے بھی کھل جاتی ہیں، مگر لاکھوں مقدمات کے فیصلے کئی کئی سال تک نہیں ہوتے، ہم شرمندہ ہیں کہ یہاں عدالتیں بھی چوروں، لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ورنہ کسی کی کیا جرا¿ت کہ وہ ایک روپے کی بھی کرپشن کر سکے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ کئی بے گناہ جیل میں ہی مر گئے، اور مرنے کے بعد اُن کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے، ہم شرمندہ ہیں کہ یہاں چند ہزارروپے کی کرپشن کرنے والے آفیسر کی پروموشن نہیں ہو سکتی مگر کیا انصاف ہے کہ درجنوں مقدمات کا سامنا کرنے والے کو بڑے سے بڑا وزیر بنا دیا جاتا ہے، مطلب جس پر جتنے زیادہ کیسز اُسے اُتنا بڑاا عہدہ مل جاتا ہے۔ اے کا ش کہ برصغیر کے مسلمانوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنے جیسے میرے عجیب خیالات کا متضاد ہو جائے اور ہم یک زبان ہو کر ایسی قوت بنیں کہ بھارت سمیت خطے کی دوسرے قوتیں ہم سے ہمارے حق چھیننے جیسے نعروں کو زبان پر لاتے ہوئے درجنوں بار سوچیں! اور ہمارے حکمران بھی دنیا کے لیے بالکل اُسی طرح مثال بن جائیں جس طرح ایک جھوٹ بولنے پر صدر نکسن کو گھر بھجوادیا گیا، جس طرح جھوٹ بولنے پر صدر کلنٹن کا مواخذہ ہو جائے،جس طرح تحفے میں ملی دو عینکیں ڈکلیئر نہ کرنے پر کینیڈین وزیراعظم کی تفتیش ہو، وہ جرمانہ بھرے، جس طرح سلووینیا کا سیاستدان ایک سینڈ وچ چوری کرنے پر پارلیمنٹ کی رکنیت کھو بیٹھے ،جس طرح سرکاری خرچ پر ناشتہ کرنے پر فن لینڈ کی وزیراعظم انکوائریاں بھگتے، جس طرح صوابدید سے زیادہ فنڈز اپنے حلقے میں خرچ کرنے پر برطانوی پارلیمنٹرین کی رکنیت چلی جائے، جس طرح انتخابات میں زیادہ پیسے خرچ کرنے پر فرانسیسی صدر سرکوزی کو سزا ہو جائے ۔لیکن میں پھر یہی بات کہوں گا کہ پاکستان بن چکا ہے،،، ہمیں اسی کو سنوارنا ہے،،، اگر کہیں کوئی غلطی کر رہا ہے تو اُسے ہم ہی نے سدھارنا ہے،،، باہر سے کوئی قوت ہماری مدد کونہیں آنے والی،،، بلکہ ہم اپنی تباہی کا جب باعث بنتے ہیں تو دنیا خوش ہوتی ہے،،، کہ یہ جتنا کمزور ہوں گے،،، اُتنا ہی اُن پر من مرضی کے فیصلے مسلط کرنے میں آسانی ہوگی،،، اس لیے قدر کریں تاکہ ہم اس کو کھو نہ دیں!