سیلاب زدہ ملک میں اربوں روپے کے جشن !

بونیر سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلاب سے جو تباہی ہوئی ہے، اس نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ ان علاقوں سے دل دہلادینے والی خبریں پڑھنے‘ سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں،،،گاﺅں کے گاﺅں صفحہ ہستی سے مٹ گئے، جس سے ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، اس بار ہلاکتیں زیادہ اس لیے بھی ہوئیں کہ یہ کلاﺅڈ برسٹ رات کے وقت ہوئے جب لوگ سو رہے تھے۔ ان کے سنبھلنے سے پہلے ہی پانی کا ریلا انہیں بہا لے گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جانی نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی پتھروں کے نیچے سے جاں بحق افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے، جوں جوں پتھر ہٹتے جائیں گے، جاں بحق افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ پاکستان میں جولائی اگست میں تقریباََ ہر سال سیلاب آتا ہے مگر مجال ہے کہ پیشگی اقدامات کیے جائیں،،، بلکہ اس سال تو محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں کی جانب سے بار بار کہا گیا کہ اس بار موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشیں روٹین سے زیادہ ہوں گی۔ لیکن مجال ہے کہ کسی نے عملی اقدام کیے ہوں،،، بلکہ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا کہ اُنہوں نے متعلقہ ندی نالوں کی صفائی نہیں اور پانی کا راستہ صاف نہیں کیا جس کی وجہ سے بھی ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے دباﺅ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ خیر اعلیٰ ظرفی اس لیے کہا کیوں کہ یہاں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا بھی ایک ایسا عمل سمجھا جاتا ہے کہ ہم عوام اُس سیاستدان کو داد دیے بغیر نہیں رہتے۔ لہٰذااعلیٰ ظرفی ایک طرف مگر عوام کا جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے، یقینا اُس کا نعم البدل نہیں! مگر یہ بات تو سوچنے کی ہے ، کہ وطن عزیز میں سیلاب تو پچھلے ایک ماہ سے آیا ہوا تو پھر آزادی کے ”جشن“ کیسے؟ کیسے آپ کے ضمیر نے گوارہ کیا کہ ایک آفت زدہ ملک میں جو گھٹنوں تک قرض میں ڈوبا ہوا ہے، وہاں آپ اربوں روپے آزادی کے جشن، ضیافتوں اور ظہرانوں و عشائیوں و پارٹیوں پر اُڑا دیں،،، یہ تقریبات سادگی سے بھی تو ہو سکتی تھیں؟ یعنی انہوں نے 14اگست پر اربوں روپے کی تقریبات کرکے یہ ثابت کیا کہ ہم بے حس قوم ہیں،،،نہ ان حکمرانوں نے ملبے تلے دبی سینکڑوں لاشیں دیکھیں، نہ چھوٹی چھوٹی دوکانوں کے بڑے بڑے نقصانات دیکھے، نہ غریبوں کی سواریاں ندی نالوں میں بہتی دیکھیں، نہ ہوٹل، نہ گھر اور نہ کاروبار تباہ ہوتے دیکھے،،، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ صوبائی تعصب کی وجہ سے یہ تقریبات رکھی گئیں،،، اور پھر ابھی تو 6ستمبر آنا ہے،،، ابھی ہم نے مزید تقریبات کرنی ہیں۔۔۔ جنہیں شیڈولڈ کیا جا رہا ہے۔ کیا ان پیسوں سے سیلاب زدگان کی مدد نہیں کی جا سکتی ؟یقینا کی جاسکتی ہے، لیکن آپ دیکھیے گا کہ انہی دنوں میں سیلاب زدگان کے لیے نت نئے اکاﺅنٹس جاری کیے جائیں گے یا جلد وزیر اعظم ریلیف فنڈ قائم کرکے عوام کو اُس میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں روپے کے اشتہارات چلوائے جائیں گے۔ کیا یہ ڈھونگ نہیں ہے؟کہ ملک کی 60فیصد سے زائد غریب عوام سے پیسے مانگے جائیں گے۔ ریڑھی والے، عام تنخواہ دار شخص، مزدور طبقے سے کہا جا ئے گا کہ وہ ان سیلاب زدگان کی مدد کریں،،، یا یوں ہوگا کہ پسے ہوئے سرکاری ملازمین سے کہا جائے گا کہ وہ ایک دن کی تنخواہ سرکاری خزانے میں جمع کروائیں، اور پھر جو پیسہ اکٹھا ہوگا ،،، اُس سے ایک بار پھر کھربوں روپے کی کرپشن کی جائے گی! آپ یقین مانیں کہ میں 14اگست والے دن اس قدر حیران تھا کہ ہم ایک مقروض اور آفت زدہ ملک 14اگست ایسے انداز میں منارہے ہیں، جیسے دنیا ہم سے قرضے لے کر اپنے اپنے ملک چلا رہی ہے،،، کیا کوئی سمجھدار قوم قرضے اُٹھا کر جشن مناتی ہے؟ جس نے واقعی قرض ادا کرنا ہو، وہ تو ایک ایک روپیہ پھونک پھونک کر خرچ کر رہا ہوتا ہے،،، اُسے قرض لوٹا کر اپنے آپ کو خوشحال کرنا ہوتا ہے،،، لیکن اگر نیت ہی قرض واپس کرنے کی نہ ہوتو ایسے میں جشن منائیں،،، جھوٹی خوشیاں منائیں،،، جھوٹے دعوے کریں،،، تو سب کچھ ”فیک“ لگتا ہے۔کیا آپ نے کبھی کبھی اس بات پر غور کیا کہ ایک ملک جو بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے،،، وہ ایک سال میں 23مارچ، 14اگست، 6ستمبر، عیدین، محرم، نیا سال، پرانا سال، اسلامی تہوار، 25دسمبر، کشمیر ڈے جیسے درجنوں جشن منانے پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتا ہے۔ پھر مہینہ مہینہ ان کے ظہرانے، عشائیے اور اعزازیے ہی ختم نہیں ہوتے،،، کبھی گورنر ہاﺅسز، کبھی وزیر اعلیٰ ہاﺅسز،تو کبھی پرائم منسٹر ہاﺅس تو کبھی کیمپس آفسز ،،، ہر طرف عوام کے پیسوں سے ایسے راج کیا جاتا ہے،،، جیسے یہ سب اپنے گھر سے لائے ہوں۔ یہی پیسہ ان سیلاب زدگان کو جائے، اسی پیسوں سے سیلاب زدگان کو کم از کم ایک وقت کا کھانا میسر آسکتا ہے۔ یا دیگر ضروری کاموں پر خرچ کرسکتے ہیں،، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے،، کیوں کہ ہماری ایسی تربیت ہی نہیںہوئی! چلیں یہ بھی چھوڑیں،،، آپ شوگر ملز ایسوسی ایشن یا فلور ملز ایسوسی ایشنزیا آئی پی پیز مالکان سے کہیں کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد کریں،،، وہ کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے،،، کیوں کہ یہ اُن کی دولت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اب ہوگا یہ کہ غریب لوگ ہی باہر نکلیں گے، کشکول لے کر دوکانوں پر جائیں گے،،، سڑکوں پر اکٹھا ہوں گے،،، لیکن انہی پیسوں سے اشرافیہ ایک بار پھر عیاشیاں کرے گی۔ بہرحال ہمارا ہر جشن اُس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس ملک پر ایک روپیہ بھی قرضہ ہے،،، اور آخری سیلاب زدگان کے ریلیف تک ہمیں تمام پیسے ان کی بحالی کے لیے خرچ کرنا ہوں گے۔ یہ باتیں میں ایسے ہی نہیں کہہ رہا بلکہ آپ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کہ پاکستان میں غیر ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے لیے صرف ایک بہانہ درکار ہوتا ہے۔ یعنی صرف کمیشن کھانے کے لیے یہ لوگ بڑی سے بڑی سڑک کو بھی اُکھاڑ کر دوبارہ بنانے لگتے ہیں،،، جیسے لاہور کے انڈرپاسز کو دیکھ لیں،،، اُن کی ایک سال کے اندر دوسری مرتبہ تزئین و آرائش کی جا رہی ہے۔ مقصد کوئی اور نہیں بلکہ صرف کمیشن حاصل کرنا ہے۔ اور اب یہی مفاد پرست ٹولہ سیلاب یا زلزلے جیسی آفت میں بھی اپنا مفاد ڈھونڈ رہے ہیں۔ مطلب قوم کو پاگل بنایا ہوا ہے۔ بہرحال ہم کیا کہہ سکتے ہیں،،، ہم لاچار لوگوں کے سامنے ایک ایک روڈ کئی کئی بار اُکھاڑ کر دوبارہ بنا لیا جاتا ہے، اور بار بار کمیشن کھایا جاتا ہے،،، بلکہ ہمارے سامنے تو کروڑوں روپے کا عرق گلاب سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے،،، جس کا کہیں آڈٹ بھی نہیں ہوسکتا،،، ہم نے ان لوگوں کا کیا ہی کر لینا ہے،،، لیکن خدارا اپنی عوام کا سوچیں،،، جب ہر سال سیلاب آتے ہیں تو ہم اس کی روک تھام، یا پانی کے راستوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیوں نہیں کرتے؟ کیا عوامی بھلائی کے کام ہمارے لیے زہر قاتل بن گئے ہیں؟ ب جبکہ ہم جان چکے ہیں کہ ہمارا ملک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی زد میں ہے تو انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنے طرزِ زندگی‘ طرزِ عمل اور طرزِ رہائش کو تبدیل کریں‘ خصوصاً پہاڑی علاقوں میں۔ کلاﺅڈ برسٹ جیسی ہنگامی موسمی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کئی ممالک نے کئی سائنسی‘ تکنیکی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں۔ جیسے سب جانتے ہیں کہ جاپان زلزلوں‘ طوفانوں اور بارشوں سے نبرد آزما رہتا ہے تو انہوں نے اپنے ہاں ایمرجنسی واٹر ڈرینج سسٹم اور زیر زمین پانی جمع کرنے کے بڑے بڑے ذخائر بنا رکھے ہیں۔ ٹوکیو میں واقع جی کینز پروجیکٹ اس کی ایک مثال ہے۔ یہ ایک زیر زمین میگا ٹنل سسٹم ہے جو شدید بارش کے دوران برسنے والے پانی کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے۔ بعد میں ضرورت کے مطابق اس پانی کو مختلف نوعیت کے استعمالات میں لایا جاتا ہے، حتیٰ کہ ضرورت کے مطابق آب پاشی کے لیے بھی خارج کیا جاتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں جدید ریڈار اور سیٹلائٹ سسٹمز پر مشتمل نیشنل ویدر سروس فلیش فلڈز کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کے موبائلز پر ایپلی کیشنز موجود ہوتی ہیں جو انہیں موسم کے بارے میں وارننگز جاری کرتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں ٹیکسٹ میسجنگ سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ امریکہ میں اس کے علاوہ شہری منصوبہ بندی میں نکاسیِ آب کے نظاموں کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے تاکہ بارش کا پانی جمع نہ ہونے پائے یا پھر نظام ایسا ہے جس کا مقصد بارش کے اضافی پانی کو سٹور کر کے بعد میں استعمال کرنا ہے۔ ملک عزیز میں کلاﺅڈ برسٹ کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے عالمی تجربات سے سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔لیکن آپ گواہ رہیے گا، کہ ابھی چند ہی دن گزر جانے دیں ہم سب کچھ بھول چکے ہوں گے اور اگلے سال ایک بار پھر کلاﺅڈ برسٹ کا کہہ کر قدرت کا کیا دھرا کہہ رہے ہوں گے۔ بہرکیف ان آفتوں کے سبب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ٹمبر مافیا بھرپور انداز میں سرگرم ہے، اور یہ سیاستدانوں کی آشیرباد کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق درختوں کی بے رحمانہ کٹائی نے پاکستان کو 18فیصد کمی سے جو دوچار کیا ہے یہ تباہی اسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ ملک میں جنگلات کا رقبہ جو 1992ءمیں 5.78ملین ہیکٹر تھا جو کم ہو کر 2025 ءمیں 3.09ملین ہیکٹررہ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ماہرین کے مطابق ملک سنگین ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔ پاکستان کے لئے جنگلات محض درختوںکا جھنڈ نہیں بلکہ یہ ما حولیات کے تحفظ، معیشت اور قومی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ جنگلات پانی کو جذب کر کے فلش فلڈز کو روکتے ہیں۔ زیر زمین پانی کوری چارج کرتے ہیں زرعی زمینوں کو کٹاﺅ سے بچاتے ہیں اور مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں۔ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ ہونے سے بچاتے ہیں،، آب و ہوا کے توازن کو قائم رکھتے ہیں۔ ویسے قدرت اور انسان کی لڑائی بہت پرانی ہے۔ کبھی قدرت تو کبھی انسان جیتا یا ہارا۔ اس وقت سوات سمیت دیگر شمالی علاقوں میں سیاحت بڑھنے سے اب دریاﺅں اور ندی نالوں کے اوپر یا ان کے اندر دکانیں یا ہوٹل بنا لیے گئے ہیں تاکہ زیادہ کمائی ہو سکے۔ سوات میں جس طرح ہوٹلوں کی غیرقانونی منظوریاں دی گئیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ بڑے بڑے سیاستدان‘ بیوروکریٹس اور ٹھیکیدار مل کر یہ خطرناک کھیل کھیلتے آئے ہیں اور اب تک کھیل رہے ہیں، جس میں عام لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ اگرچہ اس تباہی پر دل دکھ سے بھرا ہوا ہے لیکن منیر نیازی کی یہ نظم بھی یاد آ رہی ہے کہ کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ آپ جشن کے شوق بعد میں پورے کر لیجئے گا، لیکن اُس سے پہلے اس ملک کا سوچیں، عوام کا سوچیں،،، اور سب سے بڑھ کر آنے والی نسل کا سوچیں ،،، جن کے لیے یہ ملک کسی جہنم سے کم نہیں ہوگا!