نئے صوبے : اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی سازش!

میرے لیے یہ بات باعث فخر سمجھ لیں یا کچھ اور کہ میں ان صوبوں کی تقسیم کی بحث سے 35،40 سال سے زائد عرصے سے واقف ہوں،،، واقف کیا بلکہ اس کا حصہ رہا ہوں۔ اس پر لکھا اور بولا بھی ہے،،، سیمینارز بھی کروائے ہیں اور ہر بار اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملک کو واقعی چھوٹے صوبوں کی ضرورت ہے،،، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کے حوالے سے یہ بحث سوچے سمجھے منصوبے اور نظریہ ضرورت کے تحت ہر تین چار سال بعد کروائی جاتی ہے،،، لیکن اس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے، ،، اب بھی یقینا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا جا رہا ہے،،، اس کے بعد ہر طرف ایک بار پھر خاموشی کے بادل چھا جائیں گے! اور یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ تماشا دیکھتے مجھے چار دہائیاں ہوگئی ہیں،،، آپ جنرل ضیاءالحق سے شروع ہو جائیں ویسے تو نئے صوبوں کی بحث جنرل ضیاءالحق نے شروع کرائی تھی کیونکہ وہ سندھ میں تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) سے سخت نالاں تھے۔ انہوں نے 1983ءمیں مولانا ظفر احمد انصاری کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا جس کا مقصد نظام حکومت میں اصلاحات کیلئے سفارشات تیار کرنا تھا۔ یہ کمیشن کئی دن تک نئے صوبوں کی تجویز پر بحث کرتا رہا لیکن اس کمیشن کے 22 ارکان میں نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق نہ ہو سکا اور آخر کار انصاری کمیشن کی رپورٹ میں نئے صوبوں کا معاملہ جنرل ضیاءالحق پر چھوڑ دیا گیا۔ جنرل ضیاءالحق سندھ میں پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے سندھ میں نئے صوبے بنانا چاہتے تھے لیکن جب پنجاب میں سرائیکی صوبے، خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے اور بلوچستان میں جنوبی پشتونخوا صوبے کے مطالبے نے زور پکڑا تو جنرل ضیاءالحق پیچھے ہٹ گئے۔ اور بتاتا چلوں کہ یہ وہی جنرل جنرل ضیا الحق ہیں جنہوں نے دسمبر 1984ءمیں ایک ریفرنڈم کرایا جو مذاق ہی بنا کیونکہ اُس مشق میں یہ انوکھی شرط لگائی گئی کہ اگر آپ اسلام کے حامی ہیں تو اگلے پانچ سال کیلئے جنرل محمد ضیا الحق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہوں گے۔ مذاق کی نوعیت یہ تھی۔ پھر اگلے سال یعنی 1985ءمیں غیر جماعتی بنیادوں پر اُنہوں نے قومی انتخابات بھی کرائے۔ تو ایسے بندے سے آپ کس قدر مخلصی کی توقع کرسکتے ہیں؟ خیر پھر مشرف دور میں بھی یہ آوازیں اُٹھیں لیکن سندھ میں ایم کیو ایم اور پنجاب میں چودھریوں کی ناراضی نہ مول لینے کی وجہ سے مشرف کو بیک فٹ پر جانا پڑا۔ پھر اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہو گئی۔ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اٹھارہویں ترمیم کو شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات سے زیادہ خطرناک قرار دیا تھا کیونکہ اس ترمیم نے صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ صوبوں کے فنڈز میں اضافہ ہو گیا لیکن صوبوں نے اختیارات اور فنڈز کو بلدیاتی اداروں کو منتقل نہ کر کے اٹھارہویں ترمیم کے اصل مقاصد کی خلاف ورزی کی۔ باجوہ صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ وفاق کے پاس فنڈز کم پڑ گئے تھے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کیلئے کچھ ماہرین سے انہوں نے ایکشن پلان بھی بنوائے۔ آپ اس حوالے سے جون 2017ءمیں میرا کالم پڑھ لیں ،،، اُس وقت بھی پانامہ لیکس کا زور تھااور جیسا کہ میں نے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نئے صوبے چاہتے تھے ، اورپھر کرپٹ حکمرانوں کو اقتدار سے فارغ کرنے کا منصوبہ بنایا جا چکا تھا،،، اسی اثنا میں جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کا شوشہ چھوڑا گیا،،، تاکہ جنوبی پنجاب کی 30، 35سیٹوں کا ایک یونٹ بنا کر من پسند جماعت میں انہیں دھکیلا جائے،،، یعنی اُس وقت دیکھتے ہی دیکھتے جنوبی پنجاب کے ارکان پارلیمنٹ کو ”صوبہ جنوبی پنجاب محاذ“ کے پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا اور ایک سیاسی جماعت کی طرف راغب کیا گیا۔ منصوبہ کامیاب رہا ،2018ءکے انتخابات کے بعد مذکورہ جماعت نہ صرف وفاق بلکہ پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب رہی لیکن نئے صوبوں کے معاملے کو ایک بار پھر کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔ پھر آپ میرا 2019ءمیں اسی موضوع یعنی نئے صوبوں کے حوالے سے کالم پڑھ لیں،،، اُس وقت بھی نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑا گیا،،، اُس وقت ایک بڑی شخصیت حکومت سے الگ ہو رہی تھی،،، اس لیے یہ شوشہ چھوڑا گیا ۔۔۔ الغرض ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی اس کے پیچھے سیاسی وجوہات ہیں جو صوبوں کے مفاد میں نہیں بلکہ یہ اصل مسائل کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے،،، اور جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ پاکستان میں کبھی کوئی منصوبہ عوامی مفاد کے لیے نہیں کیا جاتا،،، بلکہ ہر لمحہ سیاسی کھیل کھیلے جاتے ہیں،،، جو بظاہر عوام کی ہمدردیاں لینے کے لیے ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے،،، اب ہوگا یہ کہ ہفتہ دس دن یا مہینہ دو مہینے یہ کارروائی چلے گی، اور پھر اسے بھلا دیا جائے گا۔۔۔اگر آپ اس حوالے سے پھر بھی کسی وہم کا شکار ہیں تو رانا ثناءاللہ کے بیان کو بغور پڑھ لیں جو کہتے ہیں حکومت 27ویں ترمیم اور نئے صوبوں کے حوالے سے ’مکمل غیر سنجیدہ‘ ہے،،، بہرحال اس وقت پاکستان سے اصل مسائل یہ ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ مناسب جگہ پر نامناسب شخص تعینات کرنا،،، عدالتی انصاف دیا جائے،،، 9مئی کے اصل کرداروں کو سامنے لا کر سزائیں دی جائیں،،، پاکستانی کی سب سے بڑی جماعت کو بحال کیا جائے،،، اُس کے لیڈران کو رہا کیا جائے،،، اُنہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور بڑھتے جائیں گے،،، آپ اس چیز کا اندازہ یہیں سے لگا لیں کہ آپ نے انہیں 8فروری کے الیکشن میں روکنے کی کوشش کی،،، ان سے بلے کا نشان چھینا،،، مگر عوام نے انہی کے اُمیدواروں کو ووٹ دیا،،، اس لیے اصل مسئلہ اس وقت صوبے بنانا نہیں بلکہ جمہوریت کی بے یقینی ، آئین کی دھجیاں اُڑانا ہے۔۔۔ اصل مسائل یہ ہیں کہ جس نے بھی 1973کے آئین کو چھیڑا ہے، ملک اُس سے خراب ہوا ہے،،، کسی ایک ترمیم نے بھی ملک کو فائدہ نہیں پہنچایا ،،، ہاں چند اشخاص کو فائدہ ضرور پہنچا دیا ہوگا۔ لہٰذایہ تو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک نئی بحث کا آغاز کیا گیا ہے۔ اور قوم کب چاہتی ہے کہ صوبے نہ بنیں،،، صوبے بننے چاہیے،،، لیکن فی الوقت جو مسائل چل رہے ہیں اُن کی طرف توجہ دیں،،، اور وقت گزاری سے کام نہ لیں،،، بلکہ عوام یہ بھی جانتی ہے کہ کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ آئین پاکستان کی دفعہ 239 کی ذیلی شق چار ہے جس کے تحت صوبہ بنانے کیلئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ کیا سندھ یا خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی ایسی قرارداد منظور کر دے گی؟ بلوچستان کا وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی شاید نئے صوبوں کی حمایت کر دے لیکن پھر موصوف کو پاکستان پیپلز پارٹی کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا آپ کو یہ آسان کام لگتا ہے؟ ہاں اگر کوئی مائی کا لعل خلوص نیت کے ساتھ کام کرے تو اس سے اچھا کام ہی کوئی نہیں ہے،،، لیکن اگر موجودہ حالات میں ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر جہاں ہم چار صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ، سینکڑوں وزرائ، سینکڑوں مشیران، اور دیگر اسٹاف ممبرز اور بلڈنگز کو پال رہے ہیں ،،، پھر ہم 20،30صوبوں کے ہزاروں وزرائ، مشیران ، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو پال رہے ہوں گے۔۔۔ پھر درجنوں چیف جسٹس صاحبان ہوں گے،،، جن کے لیے ویسے ہی مرتے دم تک اعلیٰ درجے کا پروٹوکول اور پنشن ہے۔ بہرکیف سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت ہمارے مسائل غربت‘ خوراک کی فراہمی‘ صحت کی صورت حال‘ انسانی ترقی‘ سوشل سیکٹر سروسز کے معیار اور ان سروسز تک عام آدمی کی رسائی‘ شفافیت‘ خواندگی‘ قانون کی حکمرانی‘ لوگوں کو انصاف کی فراہمی اور گورننس ہیں؟ اور پھر ان مسائل پر ہم گلہ بھی کوئی نہیں کررہے،،، ہرگز نہیں۔ ہم کون گلہ کرنے والے؟ کریں بھی تو اُس کا فائدہ کیا۔ محض سمجھنے کی کوشش ہے کہ جو چل رہا ہے کب تک چلتا رہے گا؟ یہ سوال اس لیے کہ پہلے بھی ایسے ادوار رہے ہیں‘ ایک بار نہیں متعدد بار۔ ایک اور بات کہنا ضروری ہے۔ بات صرف پنجاب کی ہو تو یہاں ہر چیز چل سکتی ہے۔ فارم 47والی جمہوریت چلانی ہے تو یہاں چل جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواکے حالات بگڑے ہوئے ہیں۔ وہاں کیا کرنا ہے؟ اسمبلیوں سے نااہلیاں‘ الیکشن کمیشن کی پھرتیاں‘ مخصوص عدالتوں کا یکطرفہ انصاف‘ کب تک یہ رہے گا؟ مرضی کے قانون بہت سے پاس ہو چکے ہیں۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کا نام کیا لینا‘ پورا آئینی ڈھانچہ اور عدالتی نظام موم کا سا ہو گیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ لوگوں نے اس پر بات کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ایسا کرنا بے سود لگتا ہے۔ پھر گزارش ہے کہ ایسا کرنے سے کام چلے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن تاریخِ پاکستان کی گواہی ہمارے سامنے ہے کہ ایسا کبھی چلا نہیں۔ تماشا یہ بھی ہے کہ جو بٹھائے گئے ہیں ان کا دائرہ کار محدود تو ہے ہی لیکن کہیں سے بھی اس ہجوم میں سوچ کا پہلو نظر نہیں آتا۔ بس گزارا چل رہا ہے اور اسی کو عافیت سمجھنا چاہیے۔ لیکن یہ نئے صوبے جیسی کہانیاں بنانے سے پہلے کچھ تو اس ملک پر رحم کریں۔ اچھا بھلا ملک ہے‘ دل کی دھڑکن ہے۔ ورثے میں کتنا کچھ ملا‘ کس چیز کی کمی تھی؟ نگہبانی کرنی تھی‘ اب بھی وقت ہے نگہبانی کے کچھ انداز تو سیکھ لیے جائیں!