سیلاب: ایک ایک ماہ کی تنخواہیں عطیہ کریں!

آخر کار وہی ہوا جس کاڈر تھا، پاکستان میں ایک بار پھر تاریخ کا بدترین سیلاب آچکا ہے،،، جس میں متوقع طور پر 4سے 5کروڑ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے،،، ایسے میں یقینا ہمیں اپنے متاثرہ بہن بھائیوں بزرگوں کی مدد کرنی چاہیے،،، لیکن اس میں پہل حکمران طبقہ اور افسران کریں ،،، سب سے پہلے سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور لوئیر کورٹس کے تمام ججز، تمام جرنیل اور گریگیڈئیرز ، تمام 20، 21اور 22کے افسران ، تمام اسمبلیوں کے ممبران، ان کے وزرائ، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، صدر مملکت، گورنر صاحبان اور دیگر ان سے متعلقہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی ایک ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب زدگان کے لیے جمع کروائیں،،،کیوں کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان افسران و عہدیداران کی تعداد کم و بیش 10ہزار بنتی ہے،،، اور ان سے حاصل ہونے والی رقوم بھی 20، 22ارب روپے بنتی ہیں۔۔۔۔اور پھر یہ لوگ ایسے بھی نہیں ہیں کہ ان کو ایک ماہ کی تنخواہ دینے سے کوئی فرق پڑ جائے،،، انہیں اس قدر مراعات ملتی ہیں کہ یہ بغیر تنخواہ کے بھی گزارہ کر سکتے ہیں،،، انہیں بجلی فری ہے،،، انہیں پٹرول فری ہے،،، انہیں سرکاری ملازم ملے ہوئے ہیں،،، ان کی گاڑیاں سرکار کی ہیں،،، ان افسران کی تولیگل کمائی اتنی ہے کہ یہ سال کی تنخواہ بھی دے سکتے ہیں،،، لیکن اس کے برعکس اب ہو گا یہ کہ متعدد قسم کے فلڈریلیف اکاﺅنٹس جاری کیے جائیں گے،،، اور غریب عوام سے کہا جائے گا کہ اس میں پیسے جمع کروائیں ،،، لیکن اُس سے پہلے ان مذکورہ بالا افسران و عہدیداران کو ایک ایک ماہ کی تنخواہ کا اعلان کریں،،، ورنہ عوام ان کے گلے پھاڑ دیں گے،،، کیوں کہ یہ تباہیاں انہی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہیں جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے تھرمل بجلی گھر لگائے،،، بغیر درخت لگائے، لاکھوں درخت کاٹ کر نئی ہاﺅسنگ سکیمیں قائم کیں،،،حالانکہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب راوی میں پانی آتا تھا تو اُس وقت شاہدرہ کے قریب بند توڑ دیا جاتا تھا،،، تو سارا پانی وہاں چلا جاتا تھا،،، اور لاہور بچ جاتا تھا،،، لیکن الحمدللہ ہم نے وہاں پر بھی ہاﺅسنگ سوسائیٹیاں قائم کردیں،،، بلکہ میں گزشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہا تھا تو راستے میں دریائے راوی کے کنارے ایک سوسائٹی بنائی گئی ہے اور اُسے اسی بنیاد پر بیچا جا رہا ہے،،، کہ ان کے گھروں سے دریائے راوی کا منظر واضح ہوگا۔۔۔لیکن اب وہ سوسائٹی بھی پوری طرح راوی کی زد میں آکر ڈوب چکی ہے،،،مطلب،، لو کر لونظارے!!! آخر اُس سوسائٹی کو بھی کسی نے لائسنس جاری کیا ہی ہوگا،،، لیکن کون مانے گا؟ یقینا اس کے پیچھے بھی کوئی بڑی سیاسی شخصیت ہی نکلے گی۔،،، خیر چھوڑیں ،،، پھر آپ نے انڈسٹریاں لگائیں،،، دریاﺅں کے راستے روکے گئے،،، جعلی این او سی جاری کیے گئے،،، الغرض لاہور کے گردو نواح میں اتنی سوسائیٹیاں بنا دی گئی ہیں کہ قصور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ یا پتوکی وغیرہ جیسے شہر لاہور کا حصہ لگنے لگے ہیں۔۔۔ کیا یہ سب عوام کا کیا دھرا ہے؟ اور پھر یہ بات تسلیم کریں کہ موجودہ سیلاب اللہ کا عذاب نہیں بلکہ ہماری ”مس مینجمنٹ “ اورغفلتوں کا نتیجہ ہے، نہ تو ہم پانی کو Saveکر سکتے ہیں نا اس سے کام لے سکتے ہیں اور نہ ہی اس نعمت کا صحیح انداز میں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ لیکن فی الوقت ہم نہ ان آفتوں کے آگے بندھ باندھ رہے ہیں اور نہ ہی ان کا سد باب کررہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کا سدباب کیسے ہو؟ آپ یورپ کو دیکھ لیں،،، جہاں ہر سال شدید برف باری ہوتی ہے مگر اُنہوں نے ایسے انتظامات کر رکھے ہیں کہ کبھی کوئی سانحہ رونما نہیں ہوتا۔ بہرحال اب کی بار کہا جا رہا ہے کہ یہ سیلاب 1988ءسے بڑا سیلاب ہے،،، جس کے نقصان کا تخمینہ ابھی تک نہیں لگایا گیا اور نہ ابھی لگایا جا سکتا ہے،،، لیکن اس سیلاب سے جہاں دریائے راوی کنارے ہزاروں گاﺅں اور آبادیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں چاولوں کی اربوں روپے کی فصل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،،، کیوں کہ حالات یہ ہیں کہ بارش کے سیلابی ریلوں کے پانیوں نے تو سب حدیں ہی مٹا دیں۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ سمجھنا دشوار ہے کہ کہاں مکان تھے، کہاں کھیت تھے اور کہاں ڈھور ڈنگر تھے۔الغرض چاروں صوبوں میں آپ تباہی کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ کے پی کے میں سیلابی ریلے جہاں جہاں سے گزر رہے ہیں بستیوں کو اپنے ساتھ تنکوں کی طرح بہائے لیے جا رہے ہیں۔ صورت حال مزید تشویش ناک اس وقت ہوتی ہے جب تمام سیاسی و حکومتی انتظامیہ سوتی رہے۔ سیاست باز سیاست کرتے رہیں۔ متاثرین کی امداد کی بجائے فنڈز کو اقتدار کی ڈوبتی ٹوٹی ناﺅ اور پتوار کو بچانے میں خرچ ہوتے کرتے رہیں۔اور سرکار کہتی رہے کہ یہ اللہ کا ”عذاب“ ہے۔ ہمارے نامہ اعمال کا عذاب ہے! بندہ پوچھے کہ اللہ کا عذاب غریبوںپر ہی آنا ہے؟ مطلب کرپشن بڑے کریں اور عذاب عوام پر ! اور پھر اگر عذاب ہی آنا ہوتا تو اُن کرپٹ افراد پر آتا جو ملکی پیسہ لوٹ کر فرار ہوگئے، عذاب ہی آنا ہوتا ہوتا تو اُن لوگوں پر آتا جن کے فیصلوں اس نہج پر پہنچ چکے ہیں، عذاب ہی آنا ہوتا تو غلط فیصلے کرنے والے ججز پر آتا، عذاب ہی آنا ہوتا تو اُن ”لوٹے“ سیاستدانوں پر آتا جو اپنے ذاتی مفادات کیلئے وفاداریاں بدلتے دیر نہیں لگاتے۔ عذاب آتا تو ملاوٹ کرنے والوں اور زیادتی کرنے والوں پر آتا، عذاب آتا تو غیر قانونی منافع کمانے والوں پر آتا، عذاب آتا تو کالا باغ ڈیم نہ بنانے والوں پر آتا، بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ اگر عذاب آتا تو ہمارے ملک کی پانچوں اسمبلیاں نہ بچتیں۔ عذاب ہی آنا ہوتا تو اُن پر آتا جنہوں نے دریا کنارے ہوٹل بنانے کے لیے غلط لائسنس جاری کیے۔ خیر یہ بحث الگ ہے،،، مگر سادہ سی بات یہ ہے کہ جب آپ نیچر(قدرت) کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں گے،،، لاکھوں سال پرانے پانی کے راستوںکے آگے پل باندھنے اور ناجائز تعمیرات کریں گے تو ایسا ہی ہوگا جیسا پاکستان میں پچھلے دو ماہ سے ہو رہا ہے،،، پہلے کے پی کے اور گلگت بلتستان اور اب پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں ،،، جبکہ راوی جیسے دریائی ”نالے“ بھی بپھرے ہوئے ہیں،،، اور لاہور سمیت درجنوں شہروں کو بھی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں فطرت کے ساتھ چھیڑچھاڑ ہی نے بلکہ ہمارے دور کے ماحول کو سنگین ترین مشکلات سے دو چار کردیا ہے۔ ہر دوسرے روز موسلادھار بارش کی وجہ ہم مون سون سیزن کے بجائے ”کلاﺅڈبرسٹ“ کو ٹھہرادیتے ہیں۔ یہ واقعہ بحیرہ عرب سے ہزاروں برسوں سے آئی ہواﺅں کی وجہ سے رونما نہیں ہوتا ہے۔ وجہ اس کی ”مغربی ہواﺅں“ میں نمی کا وہ تناسب ہے جو بادل سنبھال نہیں پاتا۔ اور”پھٹ“ جاتا ہے۔مون سون کی ہواﺅں کی طرح ہزار ہا سال سے ہمارے ہاں کوہ ہمالیہ کے دامن اور اس کی چوٹیوں پر موجود گلیشیر بھی ہیں۔ برف کے یہ بھاری بھر کم ڈھیر موسم گرما میں پگھل کر ہمارے دریاﺅں میں اکثر سیلاب برپا کرتے رہے ہیں۔اور شہروں میں تباہی پھیلاتے ہیں،، لہٰذامذکورہ بالا مسائل تو اپنی جگہ مگر اب ہو گا یہ کہ جب ان علاقوں سے پانی اُترے گا تو ہر طرف تباہی کے مناظر ہوں گے،،، اور پھر ابھی اس پانی نے دو چار دنوں میں دریائے سندھ میں جانا ہے،،، جہاں تباہی کے نئے ریکارڈز قائم ہوں گے،،، آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ جاپان میں 2007ءکی سونامی سب کو یاد ہوگی،،، کیا اُس کے بعد جاپان میں آنے والے زلزلے بند ہوگئے؟ نہیں بالکل نہیں،، بلکہ وہاں ریکٹرسکیل پر 7شدت کے زلزلے آنا عام بات ہے،،، لیکن ایک تو انہوں نے اپنی بلڈنگز کے ڈیزائن اس طرح سے بنا لیے ہیں کہ زلزلے آبھی جائیں تو وہاں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور اگر سمندر کے اندر زلزلہ آئے اور سونامی کی لہریں بنیں تو جہاں جہاں آبادی سمندر کے قریب ہے وہاں وہاں،،، سمندر کے آگے بڑی بڑی دیواریں بنا دی گئی ہیں ،،، بلکہ کہیں کہیں یہ دیواریں 60، 60فٹ سے بھی بلند ہیں،،،، اس لیے اب آنے والے کئی سالوں تک ہم کبھی یہ خبرنہیں سنیں گے کہ جاپان میں سونامی سے 2007والی تباہی ہوئی ہو۔ ہمارے ہاں بھی حالیہ سالوں میں 2010میں ایک سیلاب آیا،،،جس سے تاریخی تباہی ہوئی،،، اس سال پاکستان کا پانچواں حصہ سیلاب کی زد میں تھا،،، یعنی کل رقبے میں سے 1/5حصے پر پانی نے تباہی مچا رکھی تھی،،،اس سیلاب میں ہزاروں جانیں بھی چلی گئیں،،، پھر 2022ءکا سیلاب آیا، اس سیلاب نے 1,739 افراد کو ہلاک کیا اور 3.2 ٹریلین (14.9 ارب امریکی ڈالر) کا نقصان اور 3.3 ٹریلین (15.2 بلین امریکی ڈالر) کا معاشی نقصان ہوا۔اس سیلاب میں ملک کا”ایک تہائی“حصہ پانی کے اندر تھا، جس سے ساڑھے تین کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔یہ سیلاب 2020ءکے جنوب ایشیائی سیلاب کے بعد دنیا کا سب سے مہلک سیلاب تھا اور اسے ملک کی تاریخ کا بدترین سیلاب قرار دیا گیا۔ اسے دنیا کی اب تک کی سب سے مہنگی قدرتی آفات میں سے ایک کے طور پر بھی ریکارڈ کیا گیا۔ لہٰذاقصہ مختصر کہ ان تباہ کاریوں پر اگر کوئی یہ کہے کہ یہ سیلاب ہمارے نامہ اعمال کی وجہ سے ہے،،، تو سوچیں کہ ہم عام شہریوں اور جن کے نقصانات ہوئے ہیں اُنہیں ایسی باتیں کہنے والوں پر کس قدر غصہ آتا ہوگا۔ یعنی اگر ایسی بات ہے تو ساری اسمبلیاں، سارے کرپٹ سیاستدان، سارے کرپٹ حکمران، فیصلہ کرنے والوں کے ادارے اور عدالتیں سلامت کیوں ہیں؟ الغرض ہم لوگ آج بھی اپنی کوتاہیوں کو مذہب کے ساتھ جوڑکر خطرناک عمل سے کھیل رہے ہیں۔ یقین مانیں ایسی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آرہی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ بہرکیف ابھی بھی موقع ہے کہ ہم سدھر جائیں،،، اور حالیہ سیلاب میں بھی جن کے منہ سے رالیں ٹپک رہی ہیں،،، اصل عذاب تو اُن پر آنا چاہیے،،، اور اُن پر بھی جنہوں نے 2010ءکے سیلاب میں اربوں روپے کی کرپشن کی،،، بلکہ حد تو یہ ہے کہ 2005کے زلزلے کو گزرے 20سال ہوگئے،،،مگر آج بھی ان سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے، پھر 2022ءکے سیلاب پر کرپشن کرنے والوں کی رسیاں بھی ابھی تک کھلی چھوڑی ہوئی ہیں،،، اور پھر پاکستان میں فلڈ کمیشن کی سن لیں جس نے چوتھا فلڈ پروٹیکشن پلان دیا ہے لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ تقریباً ہر دس سال بعد بڑا فلڈ آتا ہے اور ہر بار پہلے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔لیکن ادارہ بھی قائم ہے، لوگ تنخواہ بھی بٹور رہے ہیں اور الا ماشاءاللہ عذاب سے بھی بچے ہوئے ہیں!لہٰذافقط عالم مایوسی میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اس ملک پر اللہ رحم فرمائے (آمین)