سیلاب : سفاک قاتلوں کو سزا کون دے گا؟

آپ نے یقینا یہ گانا سنا ہو گا کہ ”دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے“،،، آپ بھی سوچیں گے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں مجھے گانا کیوں یاد آگیا،،، یہ اس لیے کہ ہم جب یہ کہہ کر اپنی جان خلاصی کروا لیتے ہیں کہ بھارت نے آبی جارحیت کرکے پاکستان سے بدلہ لیا ہے ،،، جیسے ہمارے وفاقی وزیر احسن اقبل فرماتے ہیں کہ یہ سب بھارت کی آبی جارحیت کا نتیجہ ہے تو اس میں بھارت کے قصور کا تو ہم بعد میں ذکر کریں گے مگر اُن ”دوستوں“ اور ہم وطنوں کا کیا؟ جنہوں نے عام شہریوں کو ”راوی ویو“ کے نام سے ”ہنی ٹریپ “ کرکے عوام سے اربوں روپے ہڑپ کیے اور ایسی آبی گزرگاہوں پر رہائشیں دیں جو رہنے کے قابل ہی نہیں تھیں۔ یعنی دریا کے کناروں پر بستیاں آباد ہونے کے ساتھ ساتھ دریا کی چھوڑی ہوئی زمین پر سوسائٹیوں کی منظوری دینے والے ہوں یا ان پراجیکٹس سے ترقی اور خوشحالی کے کوہِ ہمالیہ پر جا پہنچنے والے‘ سبھی اس کارِ بد میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ آج دریا غضبناک ہوکر اپنی زمینوں کا قبضہ واپس لینے کیلئے بپھرا ہوا ہے کیونکہ زمین کا اصل مالک تو دریا ہے۔ پراجیکٹس کی منظوری دینے والے ہوں یا منظوری لینے والے اور دستاویزات و اکاو¿نٹوں میں لین دین کرنے والے سبھی فریقین تو بس بینی فشری ہیں‘ دریا نے تو کسی کو این او سی یا منظوری نہیں دی۔ اسی طرح قرب و جوار میں میل ہا میل تک پھیلی ہاو¿سنگ سوسائٹیاں بنانے والوں کے سماجی و مالی پس منظر سے لے کر سہولت کاری کرنے والے سرکاری بابوو¿ں اور حکمرانوں کی دیدہ دلیری تک سبھی کے نام اور کارنامے چھپائے نہیں چھپ رہے۔ اپنا گھر اپنی جنت کی خواہش نے جنہیں ان بستیوں کا مکین بنا ڈالا ہے ان سبھی کا کیا قصور ہے؟ سیلابی ریلے تو ان کے پاس موجود کسی انوائس‘ فائل‘ یا این او سی کو نہیں مانتے۔ ان سبھی کے خوابوں کے ساتھ ساتھ ان کی عمر بھر کی جمع پونجیاں اور پورا کنبہ تو بپھرے ہوئے پانی کے رحم و کرم پر ہے۔ کب کون سی لہر کسے بہا لے جائے‘ کل کون کس کا پرسانِ حال ہوگا؟ آج جب پنجاب میں آنے والے بدترین سیلاب نے دیہات، شہروں اور گلی محلوں کو دریا بنا دیا ہے۔ آشیانے اجڑ گئے، راستے برباد ہوگئے، کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری بچی کھچی جمع پونجی اٹھائے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔تو ایسے میں گریبان کس کا پکڑنا ہے؟ دشمن کا یا دوست کا؟ ہم تو دشمن کے بارے میں چند دن پہلے تک کہہ رہے تھے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی روکا تو ہم اُن کے ڈیم پر بم مار دیں گے.... اور اب جب پانی انہوں نے کھول دیا ہے تو پھر آپ کے پاس سنبھالنے کے لیے کوئی جگہ ہے؟ آپ کو یاد ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں عمران خان نے راوی کے کنارے جو شہر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، اس کے ساتھ تقریباً چھبیس کلومیٹر طویل ایک جھیل بھی بنائی جانے والی تھی، جو قدرت کی طاقت کو ایک منظوم اور منظم شکل میں ڈھال دیتی۔ جو لاہور کی پانی کی کمی کو پورا کرنے والی تھی،،، اگر وہ بغض تحریک انصاف میں نہ روکی جاتی اور اگر وہ جھیل وجود میں آتی، تو آج راوی کا منظر نہ صرف زمین کی صورت بدل چکا ہوتا، بلکہ انسانی محنت اور حکمت کی علامت بھی بنتی۔ پانی کے بہاﺅ کو قابو میں لا کر شہر کی رونقیں، زرعی زمین کی نکھار، اور قدرت کی تابندگی ایک ساتھ نظر آتی۔ ہر لہر، ہر قطرہ، ایک نظم کی مانند شہر کی زندگی میں جذب ہوتا، اور یہ منظر نہ صرف چشمِ عینی بلکہ دل و روح کی بھی روشنی فراہم کرتا۔ایک ایسا ادبی اور علامتی منظر، جو انسان کو قدرت کی عظمت اور اپنی تدبیری صلاحیتوں پر غور کرنے پر مجبور کرتا۔ لیکن نہیں! ہم نے ایسا کام کرنا ہی نہیں ہے جو عوام کے یا ملک کے مفاد میں ہو،،، ابھی بھی وزیر اعظم نے چاروں چیف سیکریٹریز اور دیگر اداروں کے سربراہان کو بلا کر ہدایت کی ہے کہ ان کے خلاف سختی سے کارروائی کریں،،، مصدق ملک نے وزیر اعظم کو رپورٹ دی ہے کہ اب حد سے گزر گئے ہیں،،، کسی نے پانی کی گزرگاہوں پر ہوٹل بنائے ہیں،، کسی نے فلیٹ بنائے ہیں، کسی نے ہاﺅسنگ سوسائیٹیاں بنائی ہیں،،، ان کا تعلق ن لیگ، پی پی پی ، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں سے ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ دریا کنارے طاقتور شخصیات کے ریزورٹ ہیں جنہیں بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئی ہیں۔ڈیمز اور کینالز کے معاملے پر صوبوں کے درمیان شک کی فضا ہے، ہر صوبے کو دوسرے صوبے پر شک ہے کہ وہ میرا پانی روک لے گا، بلوچستان کو شک ہے، سندھ کو پانی ملتا ہے اور سندھ انہیں پانی نہیں دیتا۔باتیں تو اُنہوں نے درست کہی ہیں،،، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کیا آج تک کسی طاقتور کو سزا ہوئی ہے،،، جو اس کیس میں ہوگی؟ یہ سب وقتی باتیں ہیں، وقت کو دھکا دینے کی کوشش ہے،،، کسی کو کوئی سزا نہیں ہونی،،، یہ سب وقتی شور شرابہ ہے،،، آپ دیکھیے گا ابھی چند دنوں میں جب پانی اُترنا ہے تو انہوں نے سیلاب امداد کے پیچھے لگ جانا ہے،،،ا ور شور مچا نا ہے کہ ہم سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کر رہے ہیں۔ لہٰذاخدارا! اُنہیں ضرور پکڑیں جنہوں نے ان سوسائیٹیوں کے لیے این او سی جاری کیے ہیں،،،شہروں میں تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ہاﺅسنگ سوسائٹی بغیر کسی طاقتور شخصیت کے عمل دخل کے بن جائے۔ اور پھر اُنہیں بھی پکڑا جا ئے ، جنہوں نے غریب لوگوں سے زمینیں زبردستی چھین کر ان طاقتور مافیا کے حوالے کی گئیں،،، اور کیا آپ کو ان متاثرہ خاندانوں کے احتجاج یاد نہیں ہیں،،، جنہیں کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں،،، خیر اُنہیں بھی پکڑا جائے، جنہوں نے بھاری رشوتیں وصول کرکے ایل ڈی اے کے این او سی دلوائے،،، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ نہیں پکڑے جائیں گے کیوں کہ پاکستانی اداروں اور ان کے ملازمین میں رشوت،سفارشات، چور بازاری، غنڈہ گردی، بددیانتی، حق تلفی، کام چوری، بے انصافی، لالچ اس حد تک ہو چکی ہے کہ وہ اس کو اپنا حق اورامان سمجھتے ہیں،،، پاکستان میں جو دولت مند ہے اس کا ہر کام پاکستان کے قانون کے مطابق ہوتا ہی نہیں ہے ،،، چاہے وہ کسی کو قتل ہی کیوں نہ کردے اس کی بےشمار مثالیں موجود ہیں اور جو اقتدار پر قبضہ کیئے ہوتے ہیں،،، اس لیے موجودہ دور میں غریب کی کوئی زندگی نہیں۔ اور پھر آپ ”دشمن“ کی کارروائی بھی دیکھ لیں،،،کہ اس وقت بھارت میں بھی شدید بارشیں ہورہی ہیں‘ مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں لوگ سیلاب کی وجہ سے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بھارت کے سرحدی علاقے جو ستلج‘ بیاس اور راوی سے ملحق ہیں‘ وہاں بھی سیلاب نے تباہی مچائی ہے، وہاں بھی ڈیم ٹوٹے ہیں اور اپنے ساتھ سب انفراسٹرکچر بھی بہا کر پاکستان کی طرف لے آئے ہیں۔ ایسے حیران کن وڈیو کلپس بھی دیکھنے کو ملے کہ بھارتی کسانوں کی بھینسیں اور گائیں بھی سیلاب میں بہہ کر پاکستان کے اندر تیرتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات اس وقت بڑی عجیب لگے لیکن اگر ممکن ہو تو ان بھینسوں اور گائیوں کو ریسکیو کرکے بھارتی کسانوں کو واپس کر دیں۔ میں خود ایک کسان کا بیٹا ہوں لہٰذا مجھے احساس ہے کہ کسی کسان گھرانے میں گائے یا بھینس کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ اس لیے بھارتی آبی جارحیت کو فی الحال یہی روک دیں،،، اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں اور اُن سیاستدانوں‘ بیوروکریٹس اور ٹھیکیداروں کو جنہوں نے مل کر دریائی بیڈ پر ہاﺅسنگ سوسائٹیاں بنا کر اربوں روپے عوام سے ہتھیا لیے اُن کے ساتھ سوچیں کہ کیا کرنا ہے؟ بہرکیف اس وقت پاکستان کے تمام دریاﺅں پر پانی ایک بے قابو اور گرجدار سمفنی کی مانند بہہ رہا ہے، جیسے آسمان نے زمین پر اپنی تمام طاقت نازل کر دی ہو۔ سیلاب نے انتہا کے تمام پیمانے عبور کر لیے ہیں اور بہاﺅ ریکارڈ شدہ 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، حالانکہ ہیڈ ورکس کی موجودہ صلاحیت محض آٹھ لاکھ کیوسک ہے۔ گویا قدرت ایک شطرنج کی بازی کھیل رہی ہو۔ہر حرکت میں زندگی اور تباہی کا توازن قائم، اور ہر قطرہ ایک علامتی نشانی، انسان کی کمزوری اور فطرت کی شان کا آئینہ ہے،،، قدرت نے عوام الناس کو شاید یہ بھی دکھانا ہو کہ دیکھو آپ کے حکمران کس قدر بدذات ہو چکے ہیں کہ وہ دریاﺅں کی قدرتی گزرگاہوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں،،،، کیوں کہ گلگت بلتستان ہو، کے پی کے ہو یا پنجاب ہر جگہ سیلاب نے یہ حقیقت آشکار کردی ہے کہ یہ قدرت کا عذاب نہیں بلکہ ان حکمرانوں کا دیا ہوا عذاب ہے۔۔۔ قصہ مختصر کہ پاکستان میں سیلابوں کی شدت اور بار بار آنے والی تباہ کاریوں کی جڑیں صرف موسمیاتی بے رحمی میں نہیں بلکہ انتظامی کمزوریوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی کوتاہیوں میں بھی پوشیدہ ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں نے جہاں بارشوں کے نمونے بدل دیے، وہیں ناکافی آبی ذخائر اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے قدرتی بہاﺅ کو قابو میں لانے کی ہر کوشش کو کمزور کر دیا۔اس لیے وہ سب لوگ میرے خیال میں سفاک قاتل ہیں جو دریاﺅں کے کنارے سوسائٹیوں، انڈسٹریوں یا ریزورٹس کو این او سی جاری کرتے ہیں ،،، اس لیے میرے خیال میں ان پر قتل کے مقدمات درج ہونے چاہییں اور ان سب کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے،،، آخر میں چلیں اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ بھارت کی شرارت ہے تو اُس نے پانی دریا میں ہی چھوڑا ہے،،، جسے سنبھالنا ہمارا کام ہے،،، اور دنیا کا ایک اصول ہے کہ نیچے والے ممالک کے دریاﺅں کے راستے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہیے تاکہ پانی کی وحشت کو روکا جاسکے!