سیلاب : 12سو بندہ مر گیا، ایک FIRنہ کٹی!

جس ملک میں قائداعظم کی تصویر اُٹھانے، ایک مخصوص جماعت کے نعرے لگانے، کسی سیاسی شخصیت کے گھر کے باہر کھڑے ہونے یا اس کی املاک کو نقصان پہنچانے، یا حکمرانوں کی کرپشن یا اُن کی ”حرکات و سکنات “ عوام کو دکھانے پر دس دس سال کی سزا ہوجاتی ہے،،،وہاں مجال ہے کہ سیلاب میں انسانی غلطیوں کے باعث 12سوافراد لقمہ اجل بن گئے مگر نہ ہی اس سانحے میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، نہ ہی دریا کنارے سوسائیٹیاں بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی،،، نہ دریا کنارے ہوٹل بنانے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی،،، نہ غیر قانونی ریزوٹ بنانے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی،،، نہ ہی این او سی جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی،،، اور نہ ہی یہ سب طرف تماشا دیکھ کر آنکھیں میچنے والوں اور حصے کھانے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی۔ ان کے خلاف کارروائی تو کیا ہی ہونی تھی،،، سادہ سی یہ بات کہہ دی گئی کہ بھائی یہ سب اللہ تعالیٰ کا کیا دھرا ہے۔۔۔ اس میں بندوں کا کوئی قصور نہیں ہے،،، بلکہ بعض نے تو اسے بھارتی آبی جارحیت کہہ کر جان چھڑا لی،،، حالانکہ بھارت کے جتنے بھی ڈیم ہیں وہ پاک بھارت سرحد سے 100سے 200کلومیٹر دور ہیں،،، تو کیا وہ پاگل ہے کہ ہمارے اور آبی جارحیت کرنے کے لیے پہلے وہ اپنے علاقوں کو تباہ کرے گا،،، اس لیے میرے خیال میں جب آپ کے پاس دلائل نہ ہو ں تو پھر آپ الزامات لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ میرے خیال میں تو 9مئی کے بجائے آپ اس کو سانحہ کہیں جس میں جانی نقصان سمیت کھربوں روپے کا مالی نقصان ہوا ہے،،، اور اس میں عام آدمی متاثر ہوا ہے۔ خیر اس پر تو بعد میں بات کریں گے مگر آپ دیکھیے کہ اس کے برعکس سیاسی قیدیوں کے خلاف ہر طرح کی چڑھائی کی گئی،،، 8، 10قسم کی فورسز ان کے پیچھے لگا دی گئیں،،، جن میں پولیس، سپیشل برانچ، ایف آئی اے، ایس آئی یو، نیب ، صوبائی اینٹی کرپشن پولیس، پیرا فورسز وغیرہ نمایاں ہیں۔ اور پھرجس قانون کے تحت ان سیاسی قیدیوں کو زندان میں ڈالا گیا وہ پہلے سے زیادہ متنازعہ ہو چکا ہے،، یعنی انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءکے قانون کے تحت 1997سے 2022ءتک اتنی گرفتاریاں نہیں ہوئیں جتنی ان دو تین سالوں میں ہوئیں۔ حالانکہ اس قانون کے تحت جن دہشت گردوں کو پکڑنا ضروری تھا، وہ آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں،،، وہ آج بھی روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں،،، جب دل چاہتا ہے،،، خاص طور پر بلوچستان اور کے پی کے میں جب دل چاہتا ہے باہر نکلتے ہیں،،، لوگوں کو یرغمال بناتے ہیں اور قتل و غارت اور لوٹ مار کر کے واپس اپنے ٹھکانوں پر چلے جاتے ہیں۔ اور پھر یہی نہیں عالمی ادارے کہہ کہہ کر تھک گئے ہیں کہ جس قانون کے تحت سیاسی کارکنان و قائدین کی گرفتاریاں کی گئی ہیں اور سیاسی کارکنان کے خلاف رواں سال جو سزاﺅں کا ”سیلاب“ لایا گیا ہے،،، وہ قانون سرے سے ہی غلط ہے،،، جسے ہمیشہ سیاسی شخصیات نے اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اور پھر اس میں ہر دور میںمن پسند ترامیم بھی کی گئیں جیسے 2013ءمیں، انسداد دہشت گردی (ترمیمی) آرڈیننس منظور کیا، جس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ءمیں ترمیم کی تاکہ دہشت گردی سے متعلق جرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹرائل کورٹس کے قیام میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے آرڈیننس کو ممکنہ طور پر مناسب عمل اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پھر 2020ءمیں، انسداد دہشت گردی (تیسری ترمیم) بل منظور کیا، جس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مزید ترمیم کی۔ بل میں متعدد نئی دفعات متعارف کرائی گئیں، ،، جنہیں موجودہ حکمرانوں نے اچھی طرح استعمال بھی کیا اور کم و بیش سیاسی کارکنان پر 10ہزار سے زائد ایف آئی آر کاٹی گئیں۔۔۔ خیر یہ الگ بحث ہے،،، مگر بات تو طے ہے کہ ہماری ریاست کے منیجرز نے ایک آسان حل نکال لیاہے کہ من پسند افراد کو من چاہی سزائیں دی جائیں اور جو ”حکمرانوں “ کے ساتھ ہیں،،، اُن کے لیے قانون کو گھر کی باندی بنا دیا جائے اور اُس کے لیے خصوصی رعایتیں دی جائیں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی موجودہ بدترین سیلاب کی تو اس میں جان گنوا بیٹھنے والوں کی تعداد کوئی 800 بتاتا ہے‘ کوئی 850 اور کوئی 900۔ لیکن یہ تعداد جب تک سیلابی پتھر اور ملبے نہیں ہٹتے‘ بڑھتی رہے گی۔ یہ شہید بھی تقریباًڈیڑھ ہزار پاکستانی ہیں۔جو حکومتی غفلتوں کے سبب بہہ گئے،،، جبکہ مالی نقصان کا ابھی تک اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکا۔ کیوں کہ ابھی 90فیصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی ہی نہیں اُترا۔اور ابھی بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاﺅں میں پانی چھوڑے جانے سے پنجاب کے تین بڑے دریاﺅں راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب سے صورتحال سنگین ہوگئی جس کے سبب لاہور، سیالکوٹ، وزیرآباد سمیت دوسرے شہروں کے علاوہ ہزاروں دیہات زیرآب آنے سے سینکڑوں مویشی ہلاک اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں،،، جبکہ اب یہ سارا پانی سندھ میں داخل ہو گا اور پھر خطرہ ہے وہاں تباہی مچائے گا۔ کراچی پہلے ہی بارشوں کی وجہ سے متاثر ہے، اب خطرہ ہے کہ سندھ میں داخل ہونے والا سیلابی ریلا کوئی 15-20لاکھ افراد، ہزاروں گاﺅں، مال مویشیوں اور بڑے علاقے کی فصلوں کو متاثر کرے گا۔ قارئین! کسی ریاست پر حکمران آتے جاتے رہتے ہیں،،، مگر ان کے اچھے یا برے کام ہمیشہ یاد رہتے ہیں،،، اس وقت مملکت خداداد میں موٹرویز‘ رنگ روڈز کے علاوہ بین الاضلاعی رابطے کے لیے سڑکوں کا جال بچھانے کے منصوبے اور اُن سے حاصل ہونے والے کمیشنز سبھی حکمرانوں کی اوّلین ترجیح ہیں،،، ان پر اپنے ناموں کی افتتاحی تختیاں لگا کر آتے جاتے دیکھتے اور فراٹے بھرتی گاڑیوں سے باہر جھانک کر اپنے منصوبوں پر خوش ہوتے ہیں لیکن تواتر سے آتے جان لیوا سیلابوں کی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں کے باوجود ان کے تدارک کے لیے کبھی کسی کو کوئی خیال نہ آیا۔ بھاری مقدار میں بارش کے پانی جیسی نعمت کو مسلسل ضائع کرنے کے علاوہ دریاو¿ں‘ ندی نالوں اور دیگر آبی گزرگاہوں میں ہاو¿سنگ پروجیکٹ کے نام پر بستیاں بسانے کی مجرمانہ وارداتوں کی ہر دور میں کھلی چھٹی رہی ہے۔ دریا کا کنارا ہو یا دریا کی چھوڑی ہوئی زمین‘ مل بانٹ کر کھانے والوں نے اجازت نامے لینے کے ساتھ ساتھ قانون اور ضابطے بھی مصلحتوں اور ضرورتوں کی فائلوں میں دفن کر ڈالے۔ آپ لاکھ بھارت پر الزام لگائیں کہ بھارت نے آبی جارحیت کی اور پاکستان پر پانی چھوڑا۔ میں نے اس حوالے سے پچھلے کالم میں بھی روشنی ڈالی تھی اور پھر یہی کہوں گا کہ بھارت کے اپنے علاقے سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں،،، اور وہ ہر سال ان علاقوں میں سیلابی پانی چھوڑتا ہے،،، لیکن سوال یہ ہے کہ اسے سنبھالنا کس نے ہے؟ کیا ان پانیوں کے آگے بند نہیں باندھے جا سکتے؟کیا ہمیں بھارت نے کہا تھا کہ آبی راستے بند کرکے اُن پر ہاﺅسنگ کالونیاں بنا دو؟ کون نہیں جانتا کہ بھارت سے پانی جموں، اجنالہ اور چڑھدے پنجاب کے ذریعے برکی وغیرہ کے قرب وجوار سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ آپ سازشی سیلاب کا جائزہ لینے کے لیے انٹرنیٹ کھنگال لیں،،، جس میں پاک بھارت بارڈر پر انڈیا نے آہنی دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔ اس لیے اُسے گوگل کر کے ٹریس کرنا انتہائی آسان ہے۔ اس بارڈر لائن کے مغربی طرف جتنی ہاﺅسنگ سوسائٹیاں لاہور‘ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں نظر آئیں گی اتنی ہاﺅسنگ کالونیاں یا سوسائٹیاں آپ کو شاید پورے انڈیا میں زرعی رقبوں پر نہیں دکھائی دیں گی۔ لہٰذا اس وقت دنیا ہم پر ہنس رہی ہے کہ یہ سیلاب نہیں بلکہ مس مینجمنٹ ہے،،، اور آنے والے دنوں میں پاکستان کی آبادی اس قدر بڑھ جائے گی کہ جسے سنبھالنا ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہوگا،،، اور پھر جب نئی کالونیاں بنائی جائیں گی تو پھر یہ ایسے ہی ہوگا جیسے ہم جان بوجھ کر گلوبل وارمنگ کو دعوت دے رہے ہیں۔ لہٰذااس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک نیا فلڈ کمیشن قائم کیا جائے،،، اور اُس کمیشن کو مکمل اختیارات دیے جائیں،،، یہ کمیشن پتہ لگائے کہ کن بڑوں نے اپنی شوگر ملوں اور فارمنگ لینڈز کو بچانے کے لیے چھوٹے گھروندے‘ بستیاں اور لاکھوں خاندانوں کی ک±ل متاعِ حیات پانی میں بہا دی۔پھر پرانے نقشوں کو سامنے رکھ کر دریا کے راستے ٹریس کیے جائیں،،، تاکہ آئندہ سیلاب کو روکنے کے لیے فوری طور پر سارے وسائل اینٹی فلڈنگ کے منصوبوں کی طرف موڑے جائیں۔ پھر جو معتبر ٹھیکیداروں کی طرف سے بنائے گئے پل سیلاب میں بہہ گئے ہیں اُن کے انجینئرز کو گرفتار کرکے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے،،، اور ان ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں،،، تاکہ آئندہ کوئی بھی پل بغیر ریسرچ اور رپورٹس کے نہ بنایا جائے،،، اس کے لیے ہمیں فرنگیوں کے دور میں بنائے گئے پلوں سے ہی کوئی سبق سیکھنا ہوگا جو سو سال بعد بھی آج بھی قائم و دائم ہیں۔ لیکن مجھے علم ہے کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہوگا ،،، کیوں کہ یہاں سب کچھ ایک ”منصوبے“ کے تحت ہو رہا ہے،،، جس کی ایک تازہ مثال ملاحظہ فرمائیں کہ واٹر اینڈ پاور کے ایک وفاقی سیکرٹری نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ انہوں نے بجلی پیدا کرنے والے چھ کارخانوں کو کہا ہے کہ وہ بجلی پیدا نہ کریں‘ ان کو معاہدے کے تحت پورے پیسے ملتے رہیں گے۔ اب کارخانے بند پڑے ہیں لیکن پیسے مل رہے ہیں۔ وجہ پوچھی گئی تو پتا چلا کہ اگر ان سے بجلی خریدی جاتی تو وہ مہنگی پڑتی اور اگر بغیر بجلی خریدے انہیں معاہدے کے تحت کپیسٹی چارجز ادا کرتے رہیں تو وہ سستے پڑتے ہیں۔ اس جواب پر سب شرکا حیران رہ گئے۔ بتایا گیا کہ دراصل معاہدے کے تحت بجلی پیدا کرنے کے لیے فیول بھی حکومتِ پاکستان نے خرید کر فراہم کرنا ہوتا ہے‘ لہٰذا اس فیول کا خرچہ بچایا جا رہا ہے‘ ورنہ فیول خریدنے پر الگ سے ڈالرز خرچ کرنا پڑیں گے۔ کیا کوئی ایسا ظالمانہ معاہدہ ہو سکتا ہے؟لیکن یہ پاکستان ہے،،، یہاں سب کچھ ہو سکتا ہے،،، بشرطیکہ ہمارے حالیہ حکمرانوں کی طرح آپ کو شاطر دماغ اور لومڑی جیسی چالاکیاں آنی چاہیے!