عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو فائدہ کوئی اور اُٹھا لے گا!

ٓاب تک تو سب جان چکے ہیں کہ نیپال میں وزیر اعظم سمیت سیاستدانوں کو عوامی لاٹھیوں اور پتھروں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر عوام کے غصے کا شکار ہوئے۔ دکھائے جانے والے مناظر محض تصویریں نہیں، یہ مستقبل کے سائے ہیں جو پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں اگر ہم نے اپنی سمت درست نہ کی!پھر اُس کے بعد کیا ہوتا ہے،،، وہ بھی یقینا ناقابل تصور ہوگا۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور اب نیپال میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے کہ لیکن ان تمام انقلابات سے ہم نے ایک چیز سیکھی ہے،،، وہ یہ ہے کہ اگرآپ آج کے عوام کو لا علم اور جاہل سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی سب سے بڑی بھول اور غلطی ہے۔ لوگ بولیں یا نہ بولیں، اظہار کریں یا نہ کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ، وہ کچھ بھی جانتے ہوتے ہیں جو حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے۔ وہ دور گئے جب عوام بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے لیڈروں کی ہر بات پر اعتبار کر لیا کرتے تھے۔ یہ مواصلاتی رابطوں کا دور ہے۔ اس میں کسی سے کوئی بات چھپی رہنا یا کسی سے کوئی بات چھپائے رکھنا ناممکن ہے۔ یہ انٹرنیٹ‘ سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ کونیکشنز کا دور ہے جس میں کسی کو ان نعمتوں سے محروم رکھنے کا سوچنا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شمار ہو سکتا ہے۔حالانکہ اقوام متحدہ نے 2016ءمیں انٹرنیٹ تک رسائی کو ایک بنیادی انسانی حق قرار دیا تھا۔ کسی ملک کے ہر باشندے تک انٹرنیٹ کی رسائی کو ممکن بنانا اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز میں بھی شامل ہے،،، لیکن ہم ہیں کہ باز ہی نہیں آتے اور ہر چیز کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور پھر جب انقلاب آتے ہیں تو صرف اس کے لیے ایک چنگاری ہی کافی ہوتی ہے،،، اور پھر بم پھوٹ جاتے ہیں۔۔۔ اس میں خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ آپ کے دشمن فائدہ اُٹھاتے ہیں،،، بالکل اسی طرح جس طرح بنگلہ دیش میں امریکا فائدہ اُٹھا گیا، نیپال میں امریکا فائدہ اُٹھا گیا، نیپال کے بارے میں سنا ہے کہ وہاں انڈیا فائدہ حاصل کرگیا،،، یعنی جذبات کسی اور وجہ سے بھڑکے ہوتے ہیں، مگر اس کا فائدہ کوئی اور اُٹھا جاتا ہے۔ اس سے بچنا چاہیے،،، اس سے پہلے کہ ان بڑھکتے ہوئے جذبات سے کوئی اور فائدہ اُٹھالے۔ہوسکتا ہے کہ اس کا فائدہ انڈیا، اسرائیل، ایران ، امریکا یا کوئی اور طاقت اُٹھا لے تو پھر یہاں کچھ نہیں بچے گا۔ کیوں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوتا ہے تو وہی ہوتا ہے جونیپالی حکمرانوں کے ساتھ ہوا ہے، ایک عرصے تک مخالفین کو دبانے کے جو نتائج وہاں دنیا نے دیکھے ہیں شاید ہی اس کی مثال ہمیں دور حاضر میں میسر آسکے۔وہاں کے عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں کیا کچھ ہو سکتا ہے؟ بہرحال عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوتا ہے تو اُس وقت کچھ نہیں بچتا، عوام ملک کو خود سنبھال کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں بلکہ اُن کا اپنا ہے۔ تبھی ہمارے والوں کو بھی سمجھ جانا چاہیے ، ہمارے والوں نے نہ تو عیاشیاں ختم کی ہیں، نہ ریٹائرڈ افراد کی مراعات ختم کی ہیں، بلکہ ریٹائرڈ افراد کو اُن کے اپنے عہدے میں ایکسٹینشن کے بجائے کسی دوسرے ایسے ادارے میں بھیجا جاتا ہے جس کا اُس سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ حالانکہ میرے خیال میں ایکسٹینشن کا خیال ہی ختم کر دینا چاہیے،اس پر پابندی لگنی چاہیے، کیوں کہ اس سے موجودہ سرکاری آفیسرز میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے، اس سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے، میرٹ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس یہاں ہر وہ کام کیا جا رہا ہے جو کسی انقلاب کو دعوت دینے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت حکمران نہ سرکاری دورں پر یہ عیاشیاں ختم کرنے کو تیار ہیں، اور نہ ہی اسمبلیوں،وزیر اعظم ہاﺅس، گورنر ہاﺅس، صدارتی ہاﺅس کا بجٹ کم کر نے کو تیار ہیں۔بلکہ حالیہ دنوں میں تو مہنگائی کی وجہ سے ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔اور پھر ہم نے تو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے میں ڈھائی سال ضائع کر دیے ہیں، ہم انہیں پکڑ پکڑ کر جیلوں میں تو ڈال رہے ہیں مگر مجال ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے کسی کا کوئی موڈ ہو۔آئی پی پیز کے حوالے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ، نہ اُن کے خلاف کارروائی کا کوئی حکومتی ارادہ ہے، کسانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، مزدور طبقہ پہلے ہی پس چکا ہے، اور تنخواہ دار طبقہ بھی اب سڑکوں پر آنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔الغرض ہم طوفان کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو آگ ہم اپنے ہمسایوں کے گھروں میں جلتی دیکھتے ہیں، وہ ایک دن ہمارے دروازے پر بھی دستک دے گی؟ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب امریکی افواج نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو اشرف غنی، جو برسوں تک عالمی طاقتوں کی گود میں بیٹھے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے، پلک جھپکتے ہی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اقتدار کا ایوان خالی رہ گیا اور عوام ایک بار پھر بدامنی کے گرداب میں پھنس گئے۔ یہ منظر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر حکومت عوامی تائید سے محروم ہو جائے تو عالمی طاقتوں کی مدد بھی اس کو نہیں بچا سکتی۔ بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ، جو برسوں تک اقتدار میں رہیں، جب عوامی غصہ بڑھا اور سیاسی مخالفت کی آگ پھیلی تو ان کے ہیلی کاپٹر کے پر بھی لرز گئے۔ وہ لمحہ پورے خطے کیلئے ایک انتباہ تھا کہ طاقت کا زعم محض واہمہ ہے۔ سری لنکا میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت نے راجاپکشے خاندان کو زمیں بوس کر دیا۔ عوام ایوانِ صدر میں گھس آئے، اور وہ مناظر دنیا نے براہِ راست دیکھے کہ کس طرح طاقتور عوامی غصے کے سامنے بے بس ہو گئے۔ پاکستان اس وقت اپنے داخلی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے۔ افراطِ زر نے متوسط طبقے کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اس قوم کو ایک ایسے دائرے میں گھما رہا ہے جس کا کوئی سرا نظر نہیں آتا۔ اگر ان حالات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو تاریخ کی وہی تکرار ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ فلسفیانہ بھی ہے۔ سقراط نے کہا تھا کہ ریاست کی بنیاد انصاف پر ہے۔ اگر انصاف غائب ہو جائے تو ریاست کھوکھلا ڈھانچہ بن جاتی ہے۔ پاکستان میں انصاف کا معیار کیا ہے؟ غریب اپنی زمین بیچ دے، اپنا خون بیچ دے، اپنی عزت بیچ دے، تب بھی اسے انصاف نہ ملے، لیکن طاقتور کیلئے قانون بدل جائے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ریاست کا ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تاریخ میں زوال کبھی اچانک نہیں ا?یا۔ یہ ایک خاموش طاعون کی طرح بڑھتا ہے۔ اشرف غنی کا بھاگ جانا ایک دن کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ برسوں کے بگاڑ کا نتیجہ تھا۔ حسینہ واجد کا فرار ایک حادثہ نہیں بلکہ عوامی غصے کی منطقی شکل تھی۔ راجاپکشے خاندان کا انجام مہنگائی اور کرپشن کی دہائیوں پر محیط پالیسیوں کا پھل تھا۔ نیپالی وزیراعظم پر ہونے والا حملہ عوامی صبر کے لبریز ہونے کی علامت تھا۔ لہٰذاعوامی انقلاب نکلنے میں محض ایک اشارہ اور چنگاری ہی درکار ہوتی ہے، یعنی جب یہ ساری پریشانیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو پھر انقلاب آتے ہیں۔ جس کے بعد کچھ ہاتھ نہیں آتا بلکہ پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔ لہٰذایہ بات سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ دھاندلی زدہ الیکشن سے جیتی ہوئی حکومت دیرپا نہیں ہوتی۔ ہم پاکستان میں یہ 2013ئ، 2018ءاور اب 2024ءمیں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے مسائل کا حل آزاد اور شفاف الیکشن ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اقتدار کی طاقت اور ریاستی جبر کے ذریعے عوام کو دبانے سے گریز کیا جائے۔ عوامی فلاح و بہبود کی بجائے جو حکمران اپنے اقتدار کو مخالفین کو دبانے کے لئے استعمال کررہے ہیں، وہ اپنے انجام سے بھی باخبر رہیں۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں نوجوان اس دور کی اصل طاقت ہیں اور کسی جگہ اگر نوجوانوں کی اکثریت کچھ کرنے کی ٹھان لے تو انہیں روکنا ناممکن ہوتا ہے ، ہم بھی جوانی میں ہر چیز سے بے خبر کچھ کر گزرنے کی تگ و دو میں رہتے تھے۔ اگر اُس وقت بھی ہمیں بہتر سٹوڈنٹ لیڈر شپ نصیب ہو جاتی تو ہم ضیا ءکی آمریت کے خلاف اس سے بڑے جلوس نکال سکتے تھے۔ لیکن پھر وہی بات کی بات کہ ایسی چیزیں پنپنے کے لیے محض ایک چنگاری کی ضرورت ہے، جو حالات کی بہتری کے لیے کسی بھی وقت سب کچھ بدل سکتی ہے،،، بہرکیف بقول شخصے یہ ایک وارننگ ہے۔ وقت ابھی باقی ہے۔ پاکستان کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنے راستے کو درست کرے۔ ہمیں انصاف کو یقینی بنانا ہوگا، معیشت کو عوام دوست بنانا ہوگا، سیاست کو انا سے نکال کر خدمت کی ڈگر پر ڈالنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ریاست ان کی ہے، یہ چند خاندانوں کی جاگیر نہیں۔اگر ہم نے یہ سبق نہ سیکھا توخاکم بہ دہن تاریخ ہمیں بھی اسی فہرست میں شامل کر دئیگی جس میں اشرف غنی، حسینہ واجد، راجاپکشے اور نیپال کے حکمرانوں کے نام لکھے ہیں۔ اور اگر ہم نے یہ سبق سیکھ لیا تویقیناً ہم اپنے بچوں کیلئے ایک ایسا پاکستان بناسکتے ہیں جو زوال کی بجائے بقا اور ترقی کا نمونہ ہو۔اس لیے ہوش کے ناخن لیں اور عوام کو سمجھیں،،، اُنہیں پرلے درجے کے بدو نہ سمجھیںبلکہ اُن کے لیے آسانیاں پیدا کریں،،، حکمران پرتعائش زندگی سے باہر آئیں اور پاﺅں زمین پر لگا کر دیکھیں کہ کون مشکل میں ہے اور کون خوشحال ورنہ یہاں کچھ نہیں بچے گا!