ریلیف خوش آئند ، لیکن اتنا تھوڑا وزیر اعظم ؟

پنجاب سے جیسے جیسے پانی اُتر رہا ہے، تباہی کے دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آرہے ہیں،،، وہ الگ بات ہے کہ اس مرتبہ کنٹرولڈ میڈیا پر وہ کچھ نہیں دکھایا جا رہا جو حقیقت ہے،،، بس یہ دکھایا جا رہا ہے کہ فلاں فلاں جگہ کیمپ لگ گئے ہیں،،، وہاں سیلاب متاثرین کو رکھا گیا ہے اور ایک اچھی والی ”پیکنگ“ جس پر مریم نواز کی تصویر لگی ہوئی ہے، اُس میں چپس اور جوس ڈال کر دیا جا رہا ہے،،، جبکہ کچھ کیمپس میں اچھی والی پیکنگ کے ساتھ 6، 6روٹیاں ڈال کر دی جا رہی ہیں،،، جبکہ حالات یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی اور اُس کے بچوں کو بچانے کے لیے 2لاکھ روپے کی پرائیویٹ کشتی کروا کر اپنے بچوں کو لانے میں کامیاب ہوا ہے۔جبکہ ایک شخص اپنا سب کچھ کھو کر بے سرو سامانی کے ساتھ کیمپ میں نڈھال بیٹھا ہوا ہے۔ بلکہ دوست صحافی کے بقول وہ جہاں جہاں بھی سیلاب کوریج کے لیے گیا، سرکاری ٹک ٹاکرز کا جم غفیر ساتھ ساتھ تھا۔ کیوں کہ سرکار نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی جنگ جیتنے کے لیے لامحدود بجٹ کے دروازے کھول دیے ہیں،،، اور ان یوٹیوبرز کے ذریعے دکھایا جا رہا ہے کہ سب اچھا ہے! اور رہی بات مرکز کی تو اتنے برے حالات میں سب کی نظریں وزیر اعظم کی جانب تھیں کہ وہ ان سیلاب متاثرین کے لیے کس قسم کے پیکج کا اعلان کریں گے،،، پھر ایک دن انہوں نے سیلاب زدگان کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے پہلے کہا کہ ہم بجلی کے بلوں کی معافی کے لیے آئی ایم ایف سے بات کریں گے۔ پھر کہا گیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں اگست کے مہینے کے بجلی کے بل معاف کر دیے گئے ہیں،،، حد تو یہ ہے کہ ان علاقوں میں تو ویسے ہی اگست سے پانی آیا ہوا ہے،،، اور لوگ وہاں رہ ہی نہیں رہے تو بل کی معافی کیسی؟ اور پھر جو علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں،،، کیا وہاں پانی میں بجلی چلائی گئی تھی؟ مطلب! لوگوں کو پاگل بنانے کو کوئی موقع تو ہاتھ سے جانے دیا کریں۔ کیا قوم آپ کو اتنی بے وقوف نظر آتی ہے کہ وہ اس قسم کی چھچھوری باتوں میں آجائیں؟ کیا کسی قوم کے لیڈر یا وزیراعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان سیلاب زدگان کے مسائل کیا ہیں؟ ان کے مسائل 6روٹیاں اور آپ کی تصویر والا تھیلا نہیں ہے، بلکہ جو علاقے جو پانی میں ڈوبے ہیں،،، وہ زمینداروں کے ہیں،،، اور زمیندار کی کسی بھی کاروباری شخصیت سے کئی گنا زیادہ ”انا“ ہوتی ہے، وہ آپکی ان چند روٹیوں کا بھوکا نہیں ہے،،، وہ اپنی جگہ ، اپنے علاقے پر ایک چھوٹا سا حکمران ہوتا ہے، وہ اپنے مزارعوں کو دیہاڑی دینے کے علاوہ گندم، چاول اور ہر وہ فصل کا حصہ دیتا ہے جو وہ کاشت کرتا ہے،،، اُسے درحقیقت دینے کی عادت ہوتی ہے،، ہاتھ پھیلانے کی عادت نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ اُس کو 6، سات روٹیوں پر نہ ٹرخائیں، بلکہ اس پر پورا ایک تھنک ٹینک بٹھائیں، ،، کہ ہم ان کو ریلیف کیسے دے سکتے ہیں،،، ہم ان کے لیے کیسے حقیقی مسیحا بن سکتے ہیں؟ اور پھر اس کے لیے جذباتی ہر گز نہ ہوں،،، دو چار دن لیٹ کر لیں مگر ان لوگوں کو اپنی میٹنگز میں بٹھائیں ، انہیں اسٹیک ہولڈرز بنائیں، اور ان کے اصل مسائل سنیںاور اُنہیں حل کریں۔ لہٰذاسیلاب میں ایک مہینہ بجلی فری والی ڈرامے بازی بند کریں،،، کیوں کہ ایسا کرنے سے آپ اپنا مذاق خود کیوں بنوا رہے ہیںاس لیے اگست میں تو ان علاقوں میں پانی وافر مقدار میں موجود تھا، اور ٹیوب ویل بھی نہیں چلے تھے،،، اور رہ گئی بات گھروں کی تو گھروں میں تو ویسے ہی گاﺅں وغیرہ میں دو چار سو یا بڑی حد ہزار روپے بل آتا ہے،،، تو ایسا ریلیف دینے سے بہتر ہے کہ آپ خاموش رہیں،،، پنجابی کی ایک مثال ہے ”بھیڑے روون نالوں چ±پ چنگی“ (برا رونے سے خموشی بہتر ہے)۔ لہٰذااگر بل معاف کرنا ہے تو ٹیوب ویل کے بل معاف کریں،، بلکہ مئی ، جون، جولائی کے بل معاف کریں،،، جب کسان نے یا زمیندار نے فصل کی کاشت کے لیے ٹیوب ویل چلا کر بوائی کی۔ اور سوچا کہ جب فصل تیارہوگی تو سارے قرضے اُتار دوں گا،،، اگر ریلیف دینا ہی مقصود ہے تو کھاد کی بوریوں پر دیں،،، اُنہیں بیج میں سے سبسڈی دیں، اُن کا مالیا معاف کریں،،، آبیانہ معاف کریں ،،، ویسے مجھے اس چیز کا بھی آئیڈیا ہے کہ یہ کبھی ایسا نہیں کریں گے،،، کیوں کہ کھاد بنانے والی فیکٹریاں ان سیاستدانوں کی اپنی لگی ہوئی ہیں،،، لہٰذایہ اُس میں سے کبھی گھاٹا نہیں کھائیں گے،،، چلیں یہ بھی مان لیا کہ ہم ایک مقروض ملک ہیں، ہمارا بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بنا رہے ہیں، ہم نے پھر سود کی ادائیگیاں بھی کرنا ہوتی ہیں،،، لیکن کیا سرکار نے غیر ترقیاتی اخراجات روکے؟ کیا حکومت نے اپنی عیاشیاں روکیں،،، کیا انہوں نے اپنے کیمپ آفسز بند کیے؟ کیا انہوں نے غیر ملکی دورے ترک کیے؟ کیا انہوں نے غیر مناسب قسم کی ادائیگیاں بند کیں، کیا انہوں کرائے کے بجلی گھروں اور پاور پلانٹس کو ادائیگیاں موخر کیں؟ کیا انہوں نے اراکین اسمبلی کی تنخواہیں بند کیں؟ یا اُن ججز کی تنخواہیں روکیں جو 15،15لاکھ روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔۔۔ جبکہ اس کے بدلے میں سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لیے اس سیلاب کی تباہی پر ایک تھنک ٹینک بٹھانا چاہیے ،،، یہ تھنک ٹینک آپ کے اپنے ایم این ایز، ایم پی ایز پر مشتمل ہونا چاہیے جن کا تعلق ان علاقوں سے ہے،،، آپ قصور سے لے سکتے ہیں،، آپ حافظ آباد، جھنگ، چنیوٹ ، بہاولپور سے لے لیں،،، لیکن لیں ضرور،،، کیوں کہ آپ تو ”شوگر ملز“ والے ہیں،،، آپ کو کیا علم کہ کسی کسان کی یا کسی زمیندار کی کتنی زمین ڈوبی ہے، اور کتنی فصلیں خراب ہوئی ہیں،،، اصل سفید پوش تو اس وقت زمیندار بن گیا ہے،،، جو کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتا۔ یعنی اگر آپ کچھ واقعی کرنا چاہتے ہیں،،، تو مخلص رہیں،،،عوام کے ساتھ اور متاثرین کے ساتھ انہیں سستے قرضے فراہم کریں،،، جب آپ بینکوں سے کھربوں روپے خود لے سکتے ہیں تو کیا عوام کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے اور سیلاب کے آگے مستقل بند نہیں باندیں گے تو آپ ایک ناکام ریاست کہلائیں گے۔۔۔ اور ناکام ریاست کے بارے میں نوم چومسکی کی کتاب ”ناکام ریاستیں“ پڑھ کر دیکھ لیں، آپ کے سامنے سب کچھ آشکار ہو جائے گا۔ چومسکی لکھتے ہیں ”دنیا میں غریب نہیں‘ ناکام ریاستیں ہوتی ہیں۔ یہ ناکام ریاستیں اپنے وسائل کو بے دردی سے خرچ کرتی ہیں۔ وسائل کی کمی نہیں ہوتی مگر انہیں ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن سے برباد کر دیا جاتا ہے“۔ پروفیسر نوم چومسکی کا ایک اور قول بھی ملاحظہ کیجئے تاکہ اپنی تباہ حالی سمجھنے میں مزید آسا نی ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”لوگوں کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے دل میں یہ خیال راسخ کر دو کہ وہ اپنی شومی قسمت کے خود ذمہ دار ہیں اور اپنے آپ کو ان کا نجات دہندہ بنا کر پیش کرو“۔لگتا ہے کہ جیسے نوم چومسکی نے ہماری ہی نبض پر ہاتھ رکھ کر ان امراض کی تشخیص کی ہے۔ بہرکیف وطن عزیز میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ بہت بڑا جانی نقصان بھی ہوا ہے اور ابھی تک ہو رہا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس سال موسمیاتی تبدیلیوں کی بنا پر مون سون بارشوں کی کثرت سے سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے مگر سیلاب تو قیامِ پاکستان کے فوری بعد یعنی 1950ءکی دہائی سے آ رہے ہیں۔ ہر دو چار سال کے بعد سیلاب بار بار آ رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا زمانہ 1971ءسے لے کر 1977ءتک کا ہے۔ اس زمانے میں بھٹو صاحب کا یہ قول زبان زدِ خاص وعام تھا کہ جہاں جہاں سیلاب جائے گا وہاں وہاں میں جاﺅں گا۔ تین برس قبل 2022ءمیں ملکی تاریخ کا بہت بڑا سیلاب آیا تھا کہ جس پر ہم نے عالمی برادری سے بھی اچھی خاصی فنڈنگ حاصل کی تھی‘ مبینہ طور پر جس میں سے آدھی ناقص منصوبہ بندی اور آدھی کرپشن کی نذر ہو گئی۔ ان دنوں صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری چین کے دورے پر ہیں۔ ہمارے مستقبل کے حکمران بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری بھی ا±ن کے ہمراہ ہیں۔ یہ صدارتی ٹیم چین کی محیر العقول ترقی کے کرشمے بچشمِ خود دیکھ رہی ہے۔ وہ برق رفتار گاڑیوں‘ دنیا پر برتری حاصل کرنے والے جنگی جہازوں‘ زیر زمین نہیں‘ پ±لوں کے اوپر سے صحراﺅں کو سیراب کرنے والی نہروں اور یونیورسٹیوں میں کی جانے والی تحقیقات وایجادات دیکھ رہے ہیں۔چین کی ترقی کا اصل سبب وہی ہے جس کی طرف نوم چومسکی نے اشارہ کیا۔ وہاں ناقص نہیں‘ وسائل کی بہترین منصوبہ بندی کی گئی ہے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے۔ جناب آصف علی زرداری چینی منصوبہ سازوں سے ذرا معلوم تو کریں کہ ان کے صوبہ سندھ میں 50 فیصد سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔ناقابلِ رہائش ملکوں کی فہرست میں کراچی پہلے دو‘ چار شہروں میں شامل ہے۔ تقریباً دو کروڑ آبادی کا شہر اور پاکستان کا معاشی مرکز شدید نوعیت کی بدحالی اور بیڈ گورننس کا شکار کیوں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سوال کے جواب میں زرداری صاحب کے میزبان اور پاکستان کے مخلص ترین دوست چین کے اقتصادی ماہرین اور منصوبہ ساز انہیں وہی وجوہات بتائیں گے جن کی نشاندہی نوم چومسکی نے اپنی کتاب ”ناکام ریاستیں“ میں کی ہے۔ ہمارے چینی بھائیوں کو جب یہ معلوم ہوگا کہ جناب زرداری سمیت ہمارے حکمرانوں کی اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ذاتی دولت کے بڑے بڑے انبار ہیں تو ان کی سمجھ میں سب کچھ آ جائے گا کہ ہماری تباہ حالی کے حقیقی اسباب کیا ہیں! اس لیے کھلے دل سے ان سیلاب زدگان کی مدد کریں اور ریلیف کے حوالے سے بھی چین سے مدد حاصل کریں کہ اگر وہاں کوئی آفت آتی ہے تو ریاست کا کیا کردار ہوتا ہے اور ریاست وہاں کے علاقوں کی بحالی کیسے کرتی ہے؟