پولیس کی ”پولیس“ سے لڑائی : سسٹم کو چھیڑیں گے تو ہمیشہ انارکی پھیلے گی!

بات پی سی بی سے شروع کروں ، عدلیہ سے شروع کروں، مقننہ سے شروع کروں، ریاستی سکیورٹی اداروں سے شروع کروں یا سیاستدانوں کی عدم دلچسپی سے،،، کیوں کہ یہاں ہر ادارہ اپنی مرضی آپ کام کر رہا ہے،،، سسٹم نام کی کہیں کوئی چیز نہیں ،،، ہاں البتہ ”احکامات“ بغیر کسی چون و چراکے مانے جا رہے ہیں،،، بالکل اُسی طرح جس طرح موجودہ حکومت کے سابقہ ادوار میں ہوا کرتا تھا،،، کہ سینئر کو بائی پاس کرنا اور مرضی کے جونیئرز کو مسلط کردینا تاکہ من پسند کام نکلوائے جا سکیں۔ اب بھی ن لیگ کی مرکز اور پنجاب میں حکومت ہے تو اس قسم کے بہت سی مثالیں ہمارے سامنے آرہی ہیں،،، جن میں عدلیہ، بیوروکریسی ،سکیورٹی ادارے تو سرفہرست ہیں ہی،،، اب یہ لڑائی پولیس تک بھی آن پہنچی ہے،،، جیسے آج کل آپ کے علم میں ہوگا کہ لاہور میں پولیس کی صحافیوں کے ساتھ کشیدگی کی بات زبان زد عام ہوگئی ہے.... دراصل یہ لڑائی پولیس اور کرائم رپورٹرز(صحافیوں) کے ساتھ نہیں بلکہ مبینہ طور پر پولیس کے دو گروپوں کی آپسی لڑائی ہے،،، جس میں صحافتی و دیگر اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ دراصل اس وقت لاہور میں دو ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران اورانوسٹی گیشن سید ذیشان رضا کام کر رہے ہیں،،، یہ دونوں افسران ن لیگ کے پچھلے ادواریعنی 2013ءمیں نواز شریف کے اسٹاف میں تھے،،، ان کو حالیہ دور میں ون اسٹیپ ترقی دے کر مریم نواز نے ڈی آئی جی لگا دیا،،، اب یہ دونوں مریم نواز کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں،، یہ دونوں نہ تو سی سی پی او کو لفٹ کرواتے ہیں، نہ آئی جی کو اور نہ ہی کسی دوسرے تیسرے کو۔ اور یہ بات صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ فیصل کامران کے ایک انٹرویو میں بھی اُن سے پوچھی جا چکی ہے،،، جس میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے انٹرویو کے دوران اینکر کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کہنے والے آپ کے بارے میں بھی کہتے ہوں گے کہ یہ پولیٹکل انفلوئینس کی وجہ سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور لگے ہیں، کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ فیصل کامران صاحب سابق وزیراعظم نواز شریف کو میسج کر کے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور لگے ہیں، کیوں کہ بطور اے ایس او انہوں نے وزیراعظم ہاو¿س میں انہوں نے کام کیا تھا، یہ تو گرید 19 کے جونیئر افسر ہیں ، انہیں گریڈ 20 مل گیا۔ اینکر نے بات دہرائی کہ کہنے والے کہتے ہیں کہ فیصل کامران نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو میسج کیا تھا، جس کے بعد نواز شریف نے کہا کہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تو فیصل کامران ہی لگیں گے۔ اس تلخ سوال کے جواب میں فیصل کامران نے کہا کہ کہنے والے کہتے رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہر ضلع کا ڈی پی او ، آر پی او ، سی پی او سمیت کچھ پوسٹیں چیف منسٹر کا اختیار ہوتا ہے کہ انہوں نے لگانی ہیں، کئی سالوں سے اسی طرح ہوتا آرہا ہے۔ یہ گورنمنٹ کی مرضی ہے کہ وہ جس کو چاہیں لگائیں، اُن کے پاس کچھ نام جاتے ہیں جن میں بہتر سے بہترین آفسر کو انہوں نے کسی بھی پوسٹ کے لیے چننا ہوتا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ میرے مطابق یہ سب معنی ہیں کرتا کہ کوئی کیا کہتا ہے، جو چیز معنی رکھتی ہے وہ آپ کا کام ہے۔وغیرہ وغیرہ خیر اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ موصوف قابل آفیسر ہیں،،، لیکن مبینہ طور پر اُن کے خلاف پورا ایک گروپ اس وقت میدان میں ہے،،، ویسے تو فیصل کامران پنجاب پولیس کو جدید نظام کے تحت چلانا چاہ رہے ہیں مگر نہ تو پولیس کے عوام کے ساتھ رویے میں تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی عام آدمی کو اس کا ریلیف ملا ہے۔۔۔ وہ بذات خود ہر چھوٹی بڑی تفصیل پر نظر رکھتے ہیں اور پھر اپنی ٹیم کو اس وژن کے مطابق چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اس بات کا بھی کریڈٹ لیتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے انٹی گریشن نے لاہور میں جرائم کی شرح کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔ پولیس کا ریسپانس ٹائم پہلے سے کہیں بہتر ہوا ہے، ایمرجنسی کالز پر فوری کارروائی ممکن بنی ہے اور ہر عمل اب شفاف انداز میں رپورٹ ہوتا ہے۔ ان کے بقول پولیس صرف طاقت کا نہیں بلکہ اعتماد اور سروس ڈلیوری کا نام ہے۔لیکن جب اُن سے پوچھا جائے کہ اُن کی صحافی برادری کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجوہات کیا ہیں تو وہ اس پر روشنی ڈالنے سے قاصر رہتے ہیں،،، اور اگر پوچھا جائے کہ سی سی ڈی ماورائے عدالت بندے مار رہی ہے تو اُس پر بھی وہ متاثر کن جواب نہیں دے سکتے۔۔۔ اور پھر جب اُن سے پوچھا جائے کہ عوامی امیج اب بھی رشوت، سخت لہجے اور بدکلامی سے جڑا ہوا ہے، تو اس پر بھی وہ خاطر کن جواب نہیں دے سکتے۔ بہرحال قصہ مختصر کہ کسی اندر کے بندے سے پوچھ لیں یا جانچ پڑتال کر لیں کہ یہ جو لڑائی ہے ،،، یہ درحقیقت مبینہ طور پر پولیس کے ایک گروپ کی طرف سے کروائی گئی ہے، تاکہ صحافیوں کواستعمال کرکے دوسرے گروپ کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے۔ اور اس قسم کی لڑائیاں ہم ن لیگ کے دور میں پہلی مرتبہ نہیں دیکھ رہے بلکہ جب شریف دور حکومت آتا ہے،،، وہ جونیئر کو سینئر کی جگہ لگا دیتے ہے،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے وزیرا عظم نواز شریف جب وزیر اعلیٰ پنجاب ہوا کرتے تھے تب وہ جونیئر کو اُٹھا کر سینئر کے عہدے پر تعینات کردیتے تھے،،، اور پھر اُس سے مرضی کے کام لیتے تھے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے احد چیمہ کو لگایا گیا۔ احد خان چیمہ ایک بیوروکریٹ تھے،وہ انیسویں گریڈ کے آفیسر تھے،،، لیکن شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اُنہیں 20ویں گریڈ میں ترقی دی اور ڈائریکٹر ایل ڈی اے بنا دیا۔ پھر اُن پر کچھ کرپشن کے الزامات لگے،،، خصوصاً آشیانہ اقبال ہاو¿سنگ اسکیم سے متعلق، جن میں انہیں نیب نے گرفتار بھی کیا۔ بعد ازاں الزامات کی تفتیش ہوئی اور برخی مقدمات میں انہیں بریت مل گئی۔ پھر وہ ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں صدر پاکستان نے، شہباز شریف کی سفارش پر، احد چیمہ کو”مشیر برائے اسٹبلشمنٹ“ مقرر کیا، جس کے عہدے کو وفاقی وزیر کے درجے کا درجہ دیا گیا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبے چلائے جن میں لاہور میٹرو بس جیسے منصوبے شامل تھے۔ پھر اُنہیں مارچ 2024 میں، وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں اقتصادی امور کا قلمدان سونپا گیا۔ پھر آپ قمر زمان چوہدری کے بارے میں پڑھ لیں،،، اُن کے بارے میں بھی تفصیلات کچھ اسی طرح کی ہیں۔ دراصل ایسا کرنے سے ماحول میں پیچیدگیا ں جنم لیتی ہیں،،، اداروں میں سینئر افسران عجیب سی کیفیات سے دوچار ہو جاتے ہیں،،، یعنی جو سینئر عہدیداران ہیں، وہ تکلیف میں آجاتے ہیں،،، محکمے کی کارکردگی خراب ہوتی ہے،،، آپ اس کی مثال دور سے نہ لیں بلکہ اس حوالے سے آپ اسلام آباد ہائیکورٹ و سپریم کورٹ کو دیکھ لیں،،، جہاں جونیئر ججز کو سینئر پر فوقیت دے کر چیف لگایا گیا،،،ایسا خواہ 26ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ہی کیوں نہ کیا گیا مگر ایسا کرنے سے آج روزانہ ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ جانے والوں سے پوچھ لیں کہ وہاں کیا حالات ہیں،،، وہاں نہ تو اس وقت سینئر جونئیر کی عزت کر رہے ہیں،،، اور نہ ہی جونیئر سینئر کا احترام بجا لا رہے ہیں،،،، اور اسی وجہ سے سینئر ہر دوسرے روز یا تو کھلے خط لکھ رہے ہوتے ہیں یا احتجاج کرتے نظر آتے ہیں،،، بلکہ گزشتہ روز اسلام آباد کے پانچ سینئر جج صاحبات کو ”انصاف“ کے لیے سپریم کورٹ میں حاضری دیتے دیکھا گیا،،، جس سے تاثر یہ گیا کہ انصاف دینے والے ججز آج خود انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔۔۔ لہٰذاایسا کرنے سے کیا ہوا؟ ادارہ جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا،،، وہ مزید تباہ ہوگیا۔ اور بدلے میں عدلیہ کی کارکردگی پہلے سے زیادہ خراب ہوگئی۔اور سب سے اہم بات کہ اب تک نہ تو لڑائی ختم ہو رہی ہے،،، اور نہ آئندہ اس کے ختم ہونے کے چانسز موجود ہیں۔ اور ہاں یہ ٹھیک ہو بھی کیسے سکتے ہیں؟ اگر یہ ماحول کسی پرائیویٹ آرگنائزیشن میں پیدا کردیا جائے تو وہاں پر بھی سراسیمگی کا عالم ہوگیا،،، نہیں یقین تو آپ اس کا خود سے تجزیہ کر لیں،،، کہ اگر آپ پرائیویٹ جاب ہی کیوں نہ کرتے ہوں،،، آپ کے اوپر اگر کسی جونیئر کو لگا دیا جائے تو اس سے آپ کے کیا تاثرات ہوں گے،،، یقینا آپ ڈسٹرب ہوں گے،،، اور ورک پولیٹکس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ لہٰذااگر ایک سرکاری افسر کو جو سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے آئے،،، اور ایک عرصہ اپنی فیلڈ میں گزارا ہو،،، اور کل کلاں نئی حکومت آجائے اور اُسکی جگہ اُس کے ماتحت کو اُس کا افسر بنا دے تو بتائیں محکمے کی کارکردگی کیا ہوگی؟ بہرکیف پنجاب حکومت ہو یا مرکزی حکومت ہمیں اپنا قبلہ درست رکھنا چاہیے،،، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ جیسے ہی نئی حکومت چارج لے،،، تبادلوں اور تعیناتیوں پر پابندی لگا دینی چاہیے،،، کیوں کہ اوپر سے لے کر نیچے تک سبھی ممبران اسمبلی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اُس کے ضلع میں اُس کے من پسند افسران تعینات ہوں ،،، وہ بھی کیا کریں،،، اُنہوں نے جو اپنے الیکشن میں پیسہ لگایا ہوتا ہے،،، وہ دراصل سود سمیت واپس لینا ہوتا ہے،،، لیکن آپ اس حوالے سے کسی فورم پر بات نہیں کر سکتے کہ بقول بابا بھلے شاہ کھو کے کھائیے رج نئیں ہوندا ننگا پنڈا کج نئیں ہوندا حق مار کے مکے جائیے پینڈا ہوندا، حج نئیں ہوندا لہٰذااس وقت ایک صوبے میں دو پولیس کے ادارے کام کر رہے ہیں،،، اور کسی ریاست کے لیے یہ چیز ہر گز قابل قبول نہیں ہوتی کہ وہاں کی ڈسپلن فورسز گروپ بندی کا شکار ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان خوامخواہ کی چیزوں سے بچے ورنہ سب ملیا میٹ ہوتے دیر نہیں لگتی!