فلسطین کوریاست تسلیم کرنا،،، محض ”ڈرامہ“!

لکھنا تو وادی تیراہ پر چاہ رہا تھا،،، مگر غیر اعلانیہ صحافتی پابندیوں اور کالم کی عدم اشاعت کی وجہ سے قلم فلسطینی ریاست کے قیام کے نام نہاد اعلانات کی طرف مڑ گیا،،، لیکن دُکھ اس بات کا ہوا کہ جب میری ریاست نے شہید ہونے والوں کے ورثا کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا،،، بات شاید شک میں رہ جاتی کہ وہاں پر واقعی دہشت گردوں کے کمپاﺅنڈ موجود ہوں ،،، مگر ریاست نے خود ہی شکست تسلیم کرکے معاوضے کا اعلان کیا،،، تاکہ عوام میں غم و غصے کو کم کیا جاسکے۔ کیوں کہ آپ جتنی مرضی چیزیں چھپا لیں،،، ٹیکنالوجی کے اس دور میں سچ سامنے آہی جاتا ہے،،، اور پھر ریاستی ناقص حکمت عملی کا پول اُس وقت بھی کھلا جب مذکورہ وادی میں جیٹ طیاروں کی گھن گرج اور بموں کے دھماکوں نے ہر چیز کو لرزا دیا،،، اور اس کی زد میں 30کے قریب عام شہری جن میں چھوٹے معصوم بچے بھی شامل تھے،،، آگئے،،، ہمارا مین اسٹریم میڈیا تو ویسے ہی مکمل بلیک آﺅٹ دکھا رہا تھا،،، مگر سوشل میڈیا پر جب یہ خبریں چلیں تو میں نے سوچا کہ شاید یہ کہیں سے ”دشمن“ پراپیگنڈہ نہ کر رہا ہو،،، لیکن جیسے ہی عالمی میڈیا پر خبریں چلنا شروع ہوئیں تو میں انگشت بدندناں رہ گیا کہ اتنی بڑی نالائقی،،، کہ چھوٹے معصوم بچے بھی اس کی زد میں آگئے،،، خیر اس سے آگے کیا کہا جا سکتا ہے،،، کہ اس وادی کے رہنے والے ہر سال معصوم جانیں گنوا کر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ،،، لیکن یہ بات توطے ہے کہ شہداءکا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا اورمعصوم بچوں کے زخم تاریخ میں چیخ چیخ کر انصاف مانگیں گے۔کہ بقول شاعر ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا بہرحال کوئی کچھ بھی کہے،،، کہ یہاں خارجی ہیں،،، یا بھارتی ایجنٹ چھپے بیٹھے ہیں،،، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس وقت یہ علاقے پاکستانی غزہ کا منظر پیش کر رہے ہیں،،، لہٰذااگر کہیں فیصلے غلط ہو رہے ہیں،،، خواہ وہ مشرف دور میں ہوئے، موجودہ دور میں ہوئے یا تحریک انصاف کے دور میں،،، تو ایسے میں ان قبائلی علاقوں کی عوام کا کیا قصور ہے؟ خیر اللہ ہمارے ملک پر رحم کرے اور فلسطین پر بھی ،،، کہ جسے آج تمام ممالک بطور ریاست تسلیم تو کر رہے ہیں مگر وہاں کے عوام کی نسل کشی کوئی نہیں روک پا رہا.... حتیٰ کے 57اسلامی ممالک بھی ایسا کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں،،، کیوں کہ ان کی پسندیدہ تنظیم ”او آئی سی“ کسی کونے کھدرے میں پڑی ہے۔ اور غیر مسلم ممالک اپنے تئیں فلسطین کو ریاست تسلیم کرتے ہوئے اُس کے لیے علامتی سفارتخانے اپنے ملک میں کھول رہے ہیں،،، تاکہ اسرائیل پر دباﺅ بڑھایا جائے اور اُسے مذاکرات کی میز پر لایا جائے،،، لیکن حد تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 6اجلاسوں میں ہر بار امریکا نے غزہ جنگ بندی کی پیش کش کو ٹھکرایا اور اُسے ”ویٹو“ کردیا۔ جس کے بعد آج دو سال گزرنے کے بعد بھی فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم بند نہ ہوسکے۔ ایسے میں جب اسرائیل اور امریکا ایک طرف جبکہ دنیا کے 190ممالک دوسری طرف کھڑے ہیں تو آپ یہاں سے اندازہ لگالیں کہ اس وقت سپر پاور کون ہے؟ اور رہی بات فلسطین کو بطور ”ریاست “تسلیم کرنے کی تو اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ممالک جن میں یورپی ممالک سرفہرست ہیں،،، فلسطین کو ریاست تسلیم کر رہے ہیں،، ان میں فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا ،پرتگال، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا اور دیگرممالک شامل ہیں،،، ان ممالک کے تسلیم کیے جانے کے بعد اب فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 155سے زائد ہو چکی ہے،،، اور ان تسلیم کرنے والے ممالک میں آپ کو بتاتا چلوں کہ چین، روس، بھارت، تمام عرب ممالک، تمام افریقی ممالک ، لاطینی امریکا کی ریاستیں وغیرہ شامل ہیں،،، یعنی آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت، جو سات اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی، نے اب مزید 19 ممالک کو ریاست کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔جبکہ اسے ریاست تسلیم نہ کرنے والے ممالک میں اسرائیل، امریکہ اور ان کے اتحادیوں سمیت کم از کم 39 ممالک شامل ہیں،،، ان ممالک میں اٹلی، جرمنی، جاپان ، جنوبی کوریا ، سنگاپور ، کیمرون، پاناما ،اوشیانا کے بیشتر ممالک، شامل ہیں،،، حالانکہ ان ممالک میں بھی عوام سخت احتجاج کر رہے ہیں،،، مگر یہ حکومتیں ابھی بھی سوچ بچار کر رہی ہیں،،، جیسے اٹلی میں اسرائیل کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے باعث مختلف شہروں میں سڑکیں، ریلوے اور بندرگاہیں بند کر دی گئی ہیں۔پورے ملک میں اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ میلان کے مرکزی سٹیشن کے اطراف ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگانے اور امریکی پرچم نذر آتش کرنے پر بھی جھڑپیں بھی ہوئیں۔اُدھر روم میں لگ بھگ 20 ہزار افراد نے مرکزی سٹیشن کے باہر ریلی نکالی ہے۔ان احتجاج کرنے والے میں بڑی تعداد میں یونیورسٹیوں کے طلبہ شامل ہیں۔ بہرحال جب تک امریکا اور اسرائیل ایک طرف کھڑے ہیں،، ، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب صرف وقت کو دھکا دینا ہے،،، اس لیے میرے خیال میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔اصل کام فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانا ہے،،، جس میں تقریباََ دنیا کے سبھی ممالک ناکام رہے ہیں،،، اور جو ممالک فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں حیرت کی بات ہے کہ وہ اسرائیل سے بھی رابطے منقطع نہیں کر رہے ،،، بلکہ برطانیہ اسرائیل کو سب سے زیادہ اسلحہ دینے والا ملک ہے ،باقی تمام ممالک نیٹو کے ممبران ہیں ،اور اسرائیل بھی،ان کا آپس میں معاہدہ ہے۔اس لیے جب آپ یہ کہیں کہ ہم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لیا ہے تو اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ یہ ممالک محض اپنے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں،،، نہیں یقین تو اسپین نائب وزیراعظم کا بیان پڑھ لیں کہ اگر آپ واقعی اسرائیل کی مذمت کرنا چاہتے ہیں تو پورے یورپ کو اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ معاہدات کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے، اور یورپی یونین کو چاہیے کہ اسرائیلی ہتھیاروں کی خرید و فروخت بند کرے۔ اور پھر ان کے عوام کو یہ چیز نظر آنی چاہیے کہ غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے بعد اب اس کھنڈر کو ریاست تسلیم کر رہے ہیں۔ اور جہاں تک فلسطینی ریاست تسلیم کی بات ہے فلسطین پہلے سے ہی ریاست ہے ہزاروں سال پہلے سے ایک مملکت ہے اصل معاملہ اسرائیل کے ساتھ ہے وہ غیر قانونی ریاست ہے وہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ کر کے ریاست بنائی ہوئی ہے اور قبضہ کرتا جارہا ہے فلسطین کو تسلیم کرکے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے تھا۔اور پھر ان تسلیم کرنے والے ممالک کی مجبوری یہ بھی ہے کہ یہاں کے عوام مسلمان ممالک سے زیادہ احتجاج کر رہے ہیں،،، یعنی غیر مسلم ممالک کے لوگ 70 فیصد ہم سے بازی لے گئے، ہر جگہ وہ احتجاج کررہے ہیں۔ صمود فلوٹیلا قافلے (جو فلسطین کی طرف رواں دواں ہے،،)میں بھی صرف 30 فیصد مسلمان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ علامتی طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اور عمل میں موثر اقدامات انجام نہ دینا اور اسرائیل پر دباو نہ ڈالنا صرف حقیقت سے آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے۔ کیا اس طرح اسرائیل صیہونی بستیوں کی تعمیر روک دے گا؟ کیا غزہ کا محاصرہ ختم کر دے گا؟ کیا صیہونی ریاست کو اسلحہ کی فراہمی رک جائے گی؟ کیا اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے گا؟ یقیناً نہیں۔ عملی اقدامات کے بغیر یہ کام صرف رائے عامہ کو فریب دینے کے لیے ہے۔بالکل بھی نہیں،،، اور پھر اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ اسرائیل حماس کا کنٹرول ختم کرنے کے بعد دوبارہ فلسطین پر چڑھائی نہ کرے؟ چلیں مان لیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اگرچہ بظاہر فلسطین کے حق میں ایک اچھا قدم ہے لیکن باطن میں ممکن ہے اسی پرانی سازش کا تسلسل ہو جس کے تحت اسلامی مزاحمت ختم کر کے مسئلہ فلسطین کو قبضے اور مزاحمت کی بجائے محض ایک سفارتی تنازعہ بنانے کی کوشش جاری ہے۔ اگر یورپ واقعی اپنے امن پسندی کے دعوے میں سچا ہے تو اسے قبول کر لینا چاہیے کہ مسئلہ فلسطین کا منطقی اور منصفانہ راہ حل وہی ہے جو بارہا پیش کیا جا چکا ہے: مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور حتی سیکولر حلقوں سمیت تمام فلسطینیوں کی شرکت سے ایک وسیع ریفرنڈم کا انعقاد۔ صرف ایسے جامع ریفرنڈم کے سائے تلے ہی فلسطینی قوم کا اپنی تقدیر کے تعین کا حق پورا ہو سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن برقرار ہو سکتا ہے۔ ہر دوسرا راہ حل صرف عارضی طور پر درد ختم کرنے یا پس پردہ اہداف کے حصول کے لیے سفارتی ڈرامہ بازی ہی ہو سکتی ہے۔ بہرکیف فلسطینی اپنے ملک کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں چاہتے ہیں لیکن اسرائیل نے وہاں اپنا دارالحکومت قائم کر رکھا ہے حالانکہ عالمی برادری کی اکثریت اسے تسلیم نہیں کرتی اور اس کا موقف ہے کہ یروشلم کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کے اس مو¿قف کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہودیت کے کئی مقدس مقامات مشرقی یروشلم میں واقع ہیں۔ اس لیے وہ کبھی بھی فلسطین کو آزاد ریاست نہیں بننے دیں گے،،، اس لیے دنیا کے بڑے بڑے ممالک سے گزارش ہے کہ وقت کو دھکا نہ دیں،،، عملی اقدامات کریں،،، اگر کرنا ہے تو اسرائیل کے ساتھ رابطے منقطع کریں،،، اُس باور کروائیں کہ وہ غلط کر رہا ہے،،، اگر کچھ کرنا ہے تو امریکا کے ساتھ تعلقات کو منقطع کرنے کی اُسے دھمکیاں دیں،،، لیکن مجھے علم ہے کہ سپر پاور سے فلسطینیوں کے لیے کوئی ٹکر نہیں لے گا،،، کیوں کہ امریکا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل جب تک چاہے فلسطین کے خلاف اور خاص طور پر حماس کے خلاف جنگ جاری رکھ سکتا ہے! اس لیے اس بیان کے نزدیک باقی باتیں یعنی تسلیم کرنا یا نہ کرنا سب ڈرامے بازی لگ رہی ہے!