محسن نقوی صاحب! بس کردیں، ورنہ کرکٹ بھی ختم ہوجائے گی!

وزارت داخلہ کا عہدہ کسی بھی ملک میں کل وقتی عہدہ سمجھا جاتا ہے،،، کسی بھی ملک میں اس عہدے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس شخص کے پاس یہ عہدہ ہوتاہے اُس کے لیے یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ نہ تو اُس کا کوئی ذاتی کاروبار ہو، نہ کوئی اور وزارت ہو، اور نہ ہی کوئی دوسرا عہدہ ہو۔ اس کی بڑی وجوہات میں دو بڑی وجہیں یہ ہیں کہ پہلا ملک کے تمام سیکیورٹی ادارے اس کے زیر اثر کام کرتے ہیں،،، اور دوسرا ملک بھر کی سکیورٹی اس شخص کے ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی جو یقینا جانفشانی سے ملک کی خدمت میں کوشاں ہوں گے،،، اس وقت چار چار عہدے سنبھالے بیٹھے ہیں،،، یعنی وہ بیک وقت وزیر داخلہ بھی ہیں،،، سینیٹر بھی ہیں،،، چیئرمین پی سی بی بھی ہیں اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر بھی ہیں،،، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنا ذاتی کاروبار بھی رکھتے ہیں،،، اپنے ٹی وی چینلز اور اخبارات بھی ہیں اور بیرون ملک بھی کئی قسم کی مصروفیات رکھتے ہیں۔۔۔ ایسی صورت میں خواہ آپ لاکھ ٹیلنٹ رکھتے ہوں،،، ایمانداری سے بتائیں کہ کیا آپ اپنے آپ کے ساتھ انصاف کرپائیں گے؟ یقینا نہیں،،، آپ کرکٹ ہی کو دیکھ لیں،،، ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ سال جب ہم ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں پہلے ہی راﺅنڈ میں باہر ہوئے تو اُس وقت موصوف نے کہا کہ اس وقت کرکٹ کو بڑی سرجری کی ضرورت ہے،،، لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ ہم ان دو تین سالوں میں پہلی تین پوزیشن سے ہوتے ہوئے ،،، ٹی ٹونٹی، ونڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھویں نمبر تک چلے گئے۔۔۔ اور رہی بھارت کے ساتھ مقابلوں کی بات تو ہم ایشیا کپ میں اُن کے ساتھ تین مرتبہ مدمقابل ہوئے ،،، تینوں دفعہ شکست سے دوچار ہوئے،،، اور اس سے پہلے بھی کئی ایک میچز میں بھارتی ٹیم سے ہم نے شکست کھائی،،، حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے اندر میں کئی دہائیوں بعد سیریز ہارے،،، پھر کئی ایک آسان مقابلوں میں ہم کمزور ٹیموں کے سامنے ڈھیر ہوئے،،، کیا کوئی یہ بات مان سکتا ہے کہ کرکٹ کا بادشاہ ملک جس نے ون ڈے کا ورلڈ کپ جیتا ہو، جس نے ٹی ٹونٹی کا ورلڈ کپ جیتا ہو، جو تین سال تک ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ون رہا ہو،،، اُس کی حیثیت اب پرلے درجے کے ملک کی رہ گئی ہو، جس کا کوئی کھلاڑی ٹاپ ٹین رینکنگ میں بھی نہ ہو تو آپ کو کیسا لگے گا؟،، جی ہاں! یہ پاکستان کی کرکٹ ہے،،، جو تاریخ کے سخت ترین زوال سے گزر رہی ہے،،، کہ ہم حال ہی میں ایشیا کپ ہارے،بنگالیوں نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا، ویسٹ انڈیز کی کمزور ٹیم جسے آسٹریلیا نے 8کے 8میچ اُس کی زمین پر ہرائے ، جو نیپال سے ہار گئی مگر پاکستان کے سامنے اُسے لا کر کھڑا کردیں،، وہ بھی شیر ہو جائے گی، اور ہمیں جان کے لالے پڑ جائیں گے،،،، پھر یہی نہیں ہم گزشتہ ایک عرصہ سے کرکٹ کا نوحہ پڑھ رہے ہیں،،، کبھی ہم ورلڈ کپ کے پہلے راﺅنڈ سے باہر ہو جاتے ہیں تو کبھی اپنے ملک میں ہی چیمپئن ٹرافی کا انعقاد کرکے خود پہلے راﺅنڈ میں ہی باہر ہو جاتے ہیں،،، اور اب حال یہ ہوچکا ہے کہ ہمیں اگلی چیمپئن ٹرافی، ورلڈکپ اور دیگر ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے بھی ہاکی کی طرح پر تولنا پڑرہے ہیں،،، اور پھر کرکٹ کوالٹی کا حال تو اس سے بھی برا ہے،،، کہ جہاں دنیا بھر کی ٹاپ ٹیمیں آپس میں ٹیسٹ کرکٹ میں پنجہ آزمائی کر رہی ہیں،،، وہیں پاکستان کو محض ٹی ٹونٹی کرکٹ اور ون ڈے کرکٹ کے ساتھ ٹرخا دیا ہے۔ ابھی بھی آپ دیکھ لیں،،، ساﺅتھ افریقہ کے ساتھ ہوم سیریز میں ہمیں محض دو ٹیسٹ دیے گئے ہیں،،، اور پورے سال میں بمشکل 10ٹیسٹ کھیلنے کو مل رہے ہیں،،، جبکہ باقی ٹیمیں 20سے 25ٹیسٹ کھیل رہی ہیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ لکھتے ہوئے کہ ہم کرکٹ میں کہاں سے چلے تھے اور کہاں جاپہنچے اور جب سے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سید محسن رضا نقوی نے بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ جھپٹا ہے۔ کرکٹ کا ستیاناس ہوچکا ہے اندازہ کیجئے جس نے کبھی کرکٹ نہ کھیلی ہو، وکٹ سے واقفیت نہ ہو، کھلاڑیوں کی نفسیات نہ سمجھے وہ شخص کیا کر گزرے گا۔ کرکٹ جو عوام کی تفریح کا ذریعہ تھا۔ اُس کی شکل ہی بگاڑ کر رکھ دی گئی ہے،،، اُس میں اس قدر روپے پیسے کی ریل پیل دکھا دی گئی ہے کہ اب ہماری باتیں میچ فیس سے شروع ہو کر اربوں روپے کمانے تک ختم ہوتی ہیں،، آپ پیسہ کمائیں،،، قوم نے کب کہا کہ آپ پیسہ نہ کمائیں،،، بلکہ دنیا کا ہر کھلاڑی پیسہ کما رہا ہے،،، کیا انڈین کھلاڑی آئی پی ایل سے کھربوں روپے نہیں کمارہے؟ لیکن وہ قومی وقار کا بھی خیال رکھتے ہیں،،، وہ سب سے پہلے اپنے ملک کے لیے کھیلتے ہیں،،، آپ رونالڈو کو دیکھ لیں،،، جتنا وہ اکیلا کھلاڑی ایک سال میں کماتا ہے،،، اتنا تو شاید ہمارے ملک کے تمام کھلاڑی مل کر نہیں کماتے ہوں گے،،،وہ دنیا بھر میں لیگز کھیلتا ہے،،، لیکن جب اُس کے ملک پرتگال کو اُس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اُسی یکسوئی اور دل و جان سے پرفارم کرتا ہے اور اپنی ٹیم کی جیت کا سبب بنتا ہے،،، آپ میسی سمیت دنیا کے دیگر کھلاڑیوں کو دیکھ لیں،،، کہ وہ کن جذبات کے ساتھ اپنے ملک کے لیے کھیلتے ہیں،،، جبکہ ہمارے کھلاڑی میدان میں اُترتے ہی ہیں تو اُن کی باڈی لینگوئج ہی بتا دیتی ہے کہ اب کیا ہونے والا ہے؟ آپ سپورٹ مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں،،، آپ کے پاس وزیرا عظم کے بعد ملک کا اہم ترین عہدہ ہوتا ہے،،، آپ ملک کے اصل تھانیدار ہیں،،، اگر آپ ہی ملک میں نہ ہوں گے تو پیچھے سکیورٹی کی صورتحال کون دیکھے گا،،، آپ خود یکھ لیں کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں دہشت گرد کارروائی ہوئی جس میں درجن بھر شہداءکی لاشیں ہمیں ملیں،،، پھر آزاد کشمیر یا کے پی کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں،،،کیا ملک میں امن و امان قائم ہے کہ آپ دبئی میں دو دو آفسز سنبھال رہے ہیں اور پورے ایشیا کپ کی نگرانی کر رہے ہیں،،، حالانکہ اس ایشیا کپ کا میزبان پاکستان نہیں بلکہ بھارت تھا۔ پھر بھی آپ وزیر اعظم، آرمی چیف کے بیرون ملک دورے پر ہونے کے باوجود آپ بھی ملک سے غیر حاضر رہے،،، تو کیا بہتری اسی میں نہیں ہے کہ اس عہدے کو آپ اُسے سونپ دیں جس کا یہ کام ہو،،،اور آپ کل وقتی وزارت داخلہ سنبھال لیں! بہرکیف عمران خان کے دور میں ٹیم میں یکجہتی ہوتی تھی،،، کرکٹ میں سفارش کلچر نہ ہونے کے برابر تھا،،، تبھی ہماری ٹیم انڈیا میں انڈیا کو ہرا کر واپس آئی۔ ثابت ہوا کہ کپتان کو خود مختار ہونا چاہیئے اور عمران خان کو پچ سے لے کر ہر ملک کے کھلاڑی کی کمزوری کا علم تھا۔انہوں نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا،،، اُس کے بعد آج تک ون ڈے کی تاریخ میں یہ کارنامہ کوئی بھی نہ کرسکا۔ وہ سب پاکستان کے لئے کھیل رہے تھے اور یہ ملازمتیں کرتے تھے آج کل کی طرح ڈالروں کی بارش نہیں تھی۔ پھر کرکٹ بورڈ، نواز ، زرداری اور جنرل پرویز مشرف دور میں سیاست زدہ ہوگیا اور یہ اپنے اپنے چیئرمین کرکٹ بورڈ لگانے لگے،،، یہ ابتداءتھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بربادی تھی جوں جوں معاشرہ کرپٹ ہوا کھلاڑیوں میں گروپ بنے اور چیئرمین نے جس کو چاہا رکھا جس کو چاہا نکالا۔ اندازہ کیجئے بورڈ میں اس وقت712سے زیادہ ملازم ہیں جو میزوں پر بیٹھے چائے پیتے رہتے ہیں ان میں سے بیشتر کوپاکستان کرکٹ کا علم نہیں بہت سے کاردار، امتیاز احمد، خان محمد، حنیف محمد،نسیم الغنی کو بھی نہیں جانتے۔ تو آپ اس کے علاوہ کیا نتیجہ لینا چاہتے ہیں بورڈ ان سب کے لئے دودھ دینے والی گائے ہے ۔ بہرحال حالیہ سیریز میں میں کسی کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی پر بات نہیں کروں گا کہ کس کی وجہ سے ہم بھارت سے فائنل میچ ہارے اور کس کی وجہ سے نہیں،،، دیکھیں! جب اوپری سطح پر میرٹ کا خیال نہ رکھا جائے تو پھر نیچے تک آپ کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس پرچی پر ٹیم میں شامل ہوا۔ اس پر تو شعیب اختر نے کھل کر پوسٹ کیا ”ہم ہارے کیونکہ وہ پہلے سے مجھ سمیت پوری قوم کو پتہ تھا کہ آپ کی یہ ٹیم ایک کلب لیول سے سے بھی کمزور ہے، میرا سوال ان لوگوں سے یہ ہے کہ سلمان آغا کو کس نے کپتان بنایا ہے۔ سست بلے بازی اور ناقص کپتانی اس کی اپنی ہے اس کو تو کوئی اسکول ٹیم میں بھی کپتان نہیں بنائے گا۔“اب اگر چیئرمین کرکٹ بورڈ ہمارا وزیر داخلہ بھی ہو تو اُس کے لیے کوئی یہ پوسٹ لگائے کہ ”پاکستانی کرکٹ ٹیم کا خاتمہ کرنے والا مرد مجاہد،،“ اور نیچے تصویر محسن نقوی صاحب کی لگی ہوتو آپ سوچیں کہ کس قدر غصہ آئے گا۔ کہ لوگ ہمارے وزیر داخلہ کے بارے میں ایسا کہیں،،، لیکن ہم اپنا اصل کام چھوڑ کر جب دوسرے اداروں میں ٹانگ پھنسائیں گے تو پھر لوگ تنقید بھی کریں گے،،، گریبان کو بھی آئیں گے اور سب سے بڑھ کر آپ کا سارا کچا چٹھا کھول کر چیخ چیخ کر کہیں گے کہ اس شخص کا کرکٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں! خیر پھر اگر سب چیخ رہے ہیں تو پھر مجھے بھی کہنے دیجیئے کہ جب سے موصوف چیئرمین کرکٹ بورڈ بنے ہیں تو پاکستانی ٹیم غیر مستحکم ہوئی ہے۔ یقین مانیں جب ہم کسی ٹاپ کی ٹیم کے ساتھ میچ کھیلتے ہیں تو مِس میچ لگتا ہے، جب وہ اپنی بی یا سی ٹیم بھیجتے ہیں تو ہم اُن سے بھی ہار جاتے ہیں ،،، اس میں ذمہ داری کسی اور کی نہیں ہے،،، بلکہ ذمہ دار تو آپ ہیں، کیونکہ فیصلہ ساز آپ ہیں۔ پچھلے تین سال سے جو کرکٹ کھیلی جا رہی ہے، وہ کسی طرح انٹرنیشنل معیار کے مطابق نہیں۔لہٰذاملک پر رحم کیجئے اور اس اہم ترین عہدے کو ایسے شخص کو سونپ دیں جو کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو،،، اسی میں آپ کی بھی بھلائی ہے،،، کرکٹ کی بھی اور عوام کو بھی کہیں نہ کہیں سے خوشی میسر آئے گی،،، اور اُن کی ”جنگ “ کی جیت کا مزہ بھی ہر گز کرکرا نہیں ہوگا،،، اور نہ اُنہیں بھارتیوں کے سامنے سبکی اُٹھانا پڑے گی!