”لیڈر “کے 23سال: پاکستان میں صحافت کرنا کتنا مشکل ہے؟

پاکستان میں صحافت کرنا کتنا مشکل ہے، اس سوال کا جواب صرف وہی دے سکتا ہے، جو وطن عزیز میں صحافت کر چکا ہے ، کر رہا ہے یا کر کے چھوڑ چکا ہے۔ کیوں کہ اس پروفیشن میں اس قدر اُتار چڑھاﺅ آتے ہیں کہ آپ یا تو فیلڈ چھوڑ جاتے ہیں یا آپ جبر سہنا سیکھ لیتے ہیں۔ راقم کو بھی صحافت میں آئے چار دہائیاں ہونے کو ہیں،،، ہم نے اُس وقت صحافت میں قدم رکھا جب گنتی کے دو چار اخبارات ہوا کرتے تھے،،، اور وطن عزیز میں گنے چنے صحافی ہوا کرتے تھے۔ پھر ایک عرصہ دیگر اخبارات جن میں ”خبریں“ نمایاں ہے،،، میں گزارنے کے بعد 20اکتوبر 2002میں اپنا ادارہ لیڈر گروپ (روزنامہ لیڈر) بھی قائم کیا ، جو صحافت کے ساتھ ساتھ ایک مختلف تجربہ ثابت ہوا۔ کیوں کہ جب آپ خود صحافی ہوں، اور پھر آپ صحافیوں سے کام لینے والے بن جائیں تو پھر آپ کا Behaviour، Atitude اور کام کرنے کا سٹائل مختلف ہوجاتا ہے۔ جسے آپ کے ماتحت کچھ لوگ پسند کرتے ہیں، اور کچھ لوگ نہیں۔ لیکن جب آپ صحافی ہوتے ہیں تو آپ ادارے کے سربراہان یا ایڈیٹرز کو جواب دہ ہوتے ہیں،،، لیکن جب آپ اپنا ادارہ قائم کرلیتے ہیں پھر آپ براہ راست حکومت کے ”انڈر“ چلے جاتے ہیں۔ جی ہاں! آپ کا پرائیویٹ ادارہ آپ کا نہیں رہتا بلکہ سرکار اُسے ”گود“ لے لیتی ہے،،، اور پھر اگر آپ نے Surviveکرنا ہے تو جو حکومت کہتی ہے اُسے پبلش کرنا پڑتا ہے،،، اسے مالکان کی مجبوری سجھ لیں یا کچھ اورلیکن حقیقت یہی ہے،،، کیوں کہ یہاں پرائیویٹ بزنس (اشتہارات) نہ ہونے کے برابر ہے،،، اسی لیے صحافتی ادارے کو حکومتی بیساکھیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ صحافت کے ان 23سالوں میں راقم کو بہت سے پریشر گروپوں کا سامنا کرنا پڑا، بہت سی حکومتیں آئی،اور چلی گئیں،،، ہم نے پرویز الٰہی کا شاندار دور بھی دیکھا اور صحافت کے حوالے سے موجودہ کٹھن ترین دور بھی دیکھا۔ مجھے یاد ہے کہ پرویز مشرف کے 1999ءکے مارشل لاءکے وقت جب صحافیوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی تو میں اُس وقت ایک بڑے قومی اخبار میں بطور چیف رپورٹر کام کر رہا تھا۔ اُس وقت الیکٹرانک میڈیا نومولود تھا، ہمارے بہت سے رپورٹرز روپوش ہونا شروع ہوگئے، کچھ صحافی پکڑے گئے، ہمارے آفسز میں بھی مخصوص بیٹ پر کام کرنے والے صحافیوں کو اُٹھایا گیا۔ ہمیں انتباہ کیا جاتا کہ کسی قسم کے ”نیگٹیو“ رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے کہا ”حضور“ ہم اس سخت دور میں کیسے سر اُٹھا سکتے ہیں۔ پھر ہمیں مجبوراََ کہنا پڑا کہ ”حضور“ جیسے آپ کا حکم! حکم کیسے نہ مانتے بھلا ، سخت مارشل لاءکے دور میں ہمیں ”غائب“ کیے جانے کا اور اغوا و تشدد کیے جانے کا اندیشہ رہتا۔لیکن پھر بھی ہم کسی نہ کسی طرح لفظوں کو گھما پھرا کر اصل بات کہہ دیتے ۔ اسے ہم اکثر ”ہومیو پیتھک“ صحافت بھی کہہ دیتے۔ لیکن پھر بھی بہت سے صحافیوں کو پکڑ کر بھرپور تشدد کے بعد چھوڑ دیا جاتا، سراور بھنویں مونڈ دی جاتیں، یا مار دیا جاتا۔ اس سے پہلے کے ضیاءمارشل لاءمیں چلے جائیں، ہمارے اساتذہ پر تشدد کیا جاتا اور اُنہیں تلقین کی جاتی کہ جو ہم پڑھانا یا دکھانا چاہتے ہیںصرف وہ دکھاﺅ !باقی سب غائب کر دو۔ مطلب! گزشتہ 78سالوں سے پاکستانی صحافت نے اپنے بے باکانہ کردار سے جنرل ایوب، جنرل ضیاء،جنرل مشرف اور موجودہ دور کے سخت اور پر آشوب ترین دور کا جوانمردی سے مقابلہ کیا۔بہت سے صحافیوں نے اس حوالے سے جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا، ماریں بھی کھائیں اور جیلیں بھی کاٹیں۔ انہی بیباک، ایماندار، مخلص اور پیشہ ور صحافیوں کی اس فہرست میں کئی درخشاں ستارے ہیں جیسا کہ آرد شیر کاو¿س جی، آغا شورش کاشمیری، آغا مسعود حسین، ابوعلیحہ (علی سجاد شاہ)، احمد بشیر، اے حمید، ارشاد احمد حقانی، احمد ندیم قاسمی، عارف نظامی، مجید نظامی، خالد حسن، عطاءالحق قاسمی، منو بھائی، میر خلیل الرحمن، نذیر ناجی، عباس اطہر، ثقلین امام، ڈاکٹر توصیف احمد خان، الطاف گوہر، ایاز امیر، ایلس فیض، ایم بی نقوی، باری علیگ، تاج حیدر، سہیل وڑائچ ، فاروق قیصر ، ارشد شریف(مرحوم) اور کئی دوسرے صحافی جنہوں نے صحافت میں اپنی کارکردگی سے ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی ان کے پڑھنے والے ان کی تحاریر سے منسلک ہیں۔ بہرحال ہم نے بہت سے فنانشل کرائسز بھی دیکھے ،،، اور بہت سے دیگر مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا،،، جس دور میں میں نے اخبار شروع کیا اُس وقت روزنامہ ”مقابلہ اور روزنامہ“لیڈر“کا دفتر فلیمنگ روڈ لاہور ہوٹل کے پاس ایک بیسمنٹ میں ہوا کرتا تھا جب ”لیڈر “کا اجراءہوا تو دفتر سٹاف کیلئے چھوٹا پڑ گیا۔تمام شعبہ جات کیلئے اس وقت جوجگہ دستیاب تھی وہ ناکافی ہو چکی تھی۔خیراُس دفترمیں 3سال گزارے اور دونوں اخبارات کی ترقی کی منازل طے کرتے 2005ءمیں مزنگ عابد مارکیٹ باڑہ ٹاور کے دفتر شفٹ ہوئے جہاں سے آج تک روزنامہ”لیڈر“کی اشاعت جاری ہے۔23سال کی طویل جدوجہد ،اتار چڑھاﺅ اور ایسے واقعات کا ذکر جو ناصرف دلچسپ ہیں بلکہ ہمارے نئے آنیوالے صحافیوں کیلئے سبق آموز بھی ہوں گے۔یقیناان باتوں سے نئے صحافی راہنمائی حاصل کر سکیں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی ادارہ یا منصوبہ ہو اسے کامیابی کی منازل تک پہنچانے کیلئے سرمائے کے ساتھ ساتھ اچھی ٹیم ورک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اور میرے ٹیم ہمیشہ میرے ساتھ رہی۔ بہت سے لوگ چھوڑ گئے، کچھ بہتر جگہوں پر بھی گئے، لیکن ادارہ چلتا رہا۔ یعنی جو ساتھی آج ہمارے ادارے میں نہیں ہیں لیکن انکے ساتھ خاصا اچھا وقت گزرا اور انکی نمایاں خدمات رہیں ان میںمحسن گورائیہ، کاظم خاں، مزمل سہروردی، ہمایوں سلیم، قدوس منہاس، اطہر عارف(مرحوم)، تنویر عباس نقوی(مرحوم)، امجد عثمانی،رانا ابرار، شاہد حسین ،میاں ہارون،سردار عامر خورشید،حاجی جاوید،حاجی نسیم، حاجی نعیم،شہباز یونس،سمعیہ اعجاز، سردار اعجاز‘ سردار شہباز وارثی،رضا مغل،سید مشرف شاہ،سرور صدیقی ،فیض رسول بھٹی(مرحوم)، راحیل سید،عمران ملک،رانا خالد قمر،شیراز نثار، فیصل بٹ،سدھیر چوہدری، زیڈ اے مدنی،علی جعفری، نفیس قادری،ذوالفقار شاہ،ایس اے رضا، نواب مقبول، شاہنواز خان،ذیشان الحق،شہزاد احمد، سرفراز احمد،شہزاد ملک،عیبر بٹ،ریاض ٹاک، نعیم جان،احسان الحق،پرویز شفیع،رانا کامران صفدر، رابرٹ بارلو،فراز علی نازش ،نوشین نقوی،صبا ممتاز بانو،جاوید یوسف،رانا ثناءاللہ ساجد،اسد الرحمن، طارق شاہ،محمد عاصم بٹ،علی اسلم، عامر علی، جمشید، سلمان قریشی،انورحسین سمرا،راناخالد قمر،عامر رانا‘ آصف بٹ ‘عامر بٹ ‘عباس رشید بٹ،بخت دگیر چوہدری‘ فراز قصوری ،عمر افتخار،حافظ ذیشان رشید،چوہدری ذوالفقارعلی‘چوہدری ممتاز‘ ریحان منیر زبیری،روزینہ کنول‘مونالیزا،شاہ نواز رانا قابل ذکر ہیںجبکہ جن ساتھیوں کا نام رہ گیا ہے اُن سے معذرت خواہ ہوں۔یہاں میں جناب آفتاب احمد ڈھلوں اوربیگم مسز زاہدہ علی کا خصوصی ذکر کرونگا جو آج تک ہماری ناصرف سرپرستی کر رہے ہیں بلکہ قدم بہ قدم پر ہمارے حوصلے بڑھانے کا سبب بنے۔ ہر دور میں میری پوری ٹیم نے ہمیشہ حق اور سچ لکھا، اس کے لیے میرے رپورٹرز نے جبر بھی سہا،،، یعنی ہمیں شکوہ اس بات کا نہیں رہا کہ حکومت نے ہمارے ساتھ کیا کیا، بلکہ اس جبری صحافت میں ہمیں شخصی جبر کا بھی سامنا رہا ،، حتیٰ کہ ادارے کی بجلی کاٹ دینے جیسے واقعات سے بھی ہمیں نمٹنا پڑا۔ پھر کبھی کبھی اخبارات میں بریکنگ لگتی تو دوسرے اخبارات میں کہرام مچ جاتا،،، حکومتی وزراءمتحرک ہو جاتے،،، لیکن ایک بات سمجھ سے باہر تھی کہ جب ایک صحافی کا کام خبریں بریک کرنا ہوتا ہے۔اور جب صحافی خبر بریک نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا؟ یہی کام آج بھی جب ہم کرتے ہیں تو حالات ہمارے برخلاف کر دیے جاتے ہیں،،، جیسے آپ 9مئی کوئی ہی دیکھ لیں،،، اگر ایک صحافی یہ خبر بریک کرتا ہے کہ مظاہرین کینٹ میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ حکومتی اقدامات سے سخت نالاں ہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟ ہمارا بھی اکثر یہی قصور ہوتا ہے ۔ اس وقت ہمارے بیرون ملک ہجرت کرجانے والے صحافیوں کا قصور یہ ہے کہ یہ عمران خان کے اقدامات کو ملک کے لیے بہتر سمجھتے ہیں، تبھی اُس کے کیے کی تعریف بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھار خان صاحب پر تنقید بھی کرتے ہیں؟ اور پھر بتایا جائے کہ کیا نوازلیگ یا زرداری سے جڑے صحافی اپنی لیڈر شپ کے لیے ایسا نہیں کرتے؟ اگر کرتے ہیں تو پھر ان صحافیوں پر اعتراض کیوں؟ بلکہ ان سیاسی شخصیات کے بارے میں تو مشہور ہے کہ یہ کروڑوں روپے کے تحائف کے ساتھ ساتھ اپنے من پسند صحافیوں کو بڑے بڑے عہدوں سے بھی نوازتے ہیں۔ اُنہیں بیرون ملک دورے کرواتے ہیں جہاں لاکھوں کی شاپنگ سمیت تمام اخراجات یہ خود اُٹھاتے ہیں۔ بہرکیف حکمرانوں کا یہ رویہ صحافت کی اصل روح سے شدید متصادم ہے۔ صحافت ہمارے یہاں ریاست کے پانچویں ستون کی طرح معاشرہ میں موجود رہی ہے۔ صحافیوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت گرانے یا چلانے کا سلسلہ تو جنرل ایوب خان کے زمانے سے جاری ہے لیکن جنرل ضیاءاور میاں نواز شریف نے اسے باقاعدہ اور منظم طریقے سے استعمال کیا۔ جنرل ضیاءکے زمانے میں صحافیوں کی تنظیموں کے ٹکڑے کئے گئے اور پھر انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ نواز شریف کے دور میں صحافیوں اور تنظیموں کو باقاعدہ خریدا گیا اور پھر یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس کے باوجود بھی صحافت نے اپنا تقدس قائم رکھا تھا۔ جنرل مشرف کی طرف سے صحافت کو ملنے والی آزادی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ عشروں پر محیط حکومتی جبر کے بعد ملنے والی اس آزادی کا صحیح استعمال کیا جائے گا اور قوم تک سچ پہنچایا جائے گا۔ مالکان کی طرف سے ایسا کوئی دباو¿ نہیں ہو گا کہ سیاسی صورتحال اور اس طرح کے دیگر معاملات پر صحافی بےلاگ تبصرے کرنے یا واقعات کی حقیقی رپورٹنگ نہ کر سکیں۔ اس صحافتی آزادی کے بعد میڈیا پروفیشنلز کی ایسی تربیت ہونی ضروری تھی کہ انہیں اپنے پیشے کی اخلاقی حدود و قیود کا احساس ہو جاتا، کوئی صحافی اپنی خبر کو کوئی خاص سمت دینے کے لئے کسی حکومتی، اپوزیشن یا دوسری شخصیات پر ذاتی حملے نہ کرتا۔ لفافہ جرنلزم کا بھی سوال نہ اٹھتا اور مفادات کے حصول کے لئے مخصوص طرز کی صحافت نہ کی جاتی۔با دی النظر میں اس وقت تمام اداروں کو دشمن کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے ، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔