سی سی ڈی : ہائیکورٹ سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیتی؟

”سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) اچھا کام کر رہا ہے!“،”ن لیگ پہلی مرتبہ اچھا کام کر رہی ہے“، ”یہ ماورائے عدالت کام کر رہاہے“، ”اس ادارے کے قیام کے بعد یہاں کئی عابد باکسر اور راﺅ انوار پیدا ہوں گے“، ”کئی انکاﺅنٹر سپیشلسٹ پیدا ہوںگے“، ”عوام تو کیا حکومت کو بھی عدلیہ پر اعتبار نہیں رہا، تبھی انکاﺅنٹر کیے جا رہے ہیںکہ یہ ملزمان عدالتوں میں جا کر چھوٹ جائیں گے“ ، ”کئی ایک ایسے لوگ بھی سی سی ڈی کے ہتھے چڑھے جو بے قصور تھے، اُن کا نا حق خون کس کے سر پر ہوگا“ ، ”مانا کہ سی سی ڈی ایک نیا قسم کا ادارہ ہے، مگر یہ ایف آئی آر وہی گھسی پٹی کاٹتے ہیں کہ ایک عام شہری کو بھی ان پر شائبہ ہوتا ہے“، ”پھر کہا جاتا ہے کہ ان سی سی ڈی اہلکاروں کا طرز زندگی ان کی تنخواہوں سے میچ نہیں کرتا، یعنی یہ بندے مارنے کے شاید مخالف پارٹی سے پیسے لیتے ہیں“ ، ”ان اہلکاروں میں سے بہت سے اہلکار تو سی آئی اے پولیس سے لیے گئے ہیں، جو پہلے بھی بندے مارنے میں مشہور تھے“ .... یہ اور اس طرح کے کئی جملے آج کل پاکستان کے عوام خصوصاََ پنجاب کے عوام کے منہ کو لگے ہوئے ہیں۔ دُکھ تو اُس وقت ہوتا ہے جب عوام ، ان اداروں کے سامنے بے بس ہوتے ہیں،،، اور اب عوام کو ایک اور دھمکی کا سامنا ہے کہ اُنہیں 15دن کی مہلت ملی ہے کہ وہ ”انسان“ بن کر اپنے گھروں میں چھپا غیر قانونی اسلحہ جمع کروادیں،،، اس حوالے سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اورایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کی پریس کانفرنس ہوئی جس میں انہوں نے پنجاب کو اسلحہ اور اسمگلنگ کلچر سے پاک کرنے کا اعلان کیا ،، انہوں نے پنجاب سرینڈر آف اللیگل آرمز ایکٹ 2025 کے تحت غیر قانونی اسلحہ جمع کروانا لازم قرار دیا ،،، اگر ایسا نہ کیا تو غیرقانونی اسلحہ رکھنے پر 4 سے 14 سال سزائیں، 10 سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی نے کہا کہ ڈیڈ لائن کے اندر غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے خود اسلحہ جمع کروادیں ورنہ کارروائی ہوگی،ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد کسی کو معافی نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ جن کی دشمنیاں ہیں وہ صلح کرلیں یا دبئی چلے جائیں۔ اب مجھے بتایا جائے کہ کیا پولیس کے کہنے پر کوئی اسلحہ جمع کروائے گا؟ کیا ہماری پولیس اس قدر قابل اعتبار ہے کہ عوام اُن پر اعتبار کرکے اسلحہ جمع کروانے چلے جائیں؟ کیا ان کی کوئی کریڈیبلٹی ہے؟ کہ عوام ان پر اعتبار کریں؟ یہ مہم تو وہاں پر کامیاب ہوسکتی ہے، جہاں پولیس کی کریڈیبلٹی ہو،،، عوام کو پولیس پر اعتبار ہو،،، لیکن یہاں پر تو ایسا کوئی معاملہ نہیں لگتا۔ ویسے تو جہاں تک ملک میں اسلحہ کو کنٹرول کرنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسلحہ رکھنے اور چلانے پر پابندی کے مجوزہ اقدامات کا تعلق ہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے ہاں معروضی صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اسلحہ غلط لوگوں کے ہاتھ میں زیادہ ہے اور اکثر و بیشتر غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ میری اس حوالے سے ایک پولیس آفیسر سے بات ہو رہی تھی،،، موصوف فرمانے لگے کہ ڈھلوں صاحب آپ جیسے صحافیوں کے تعاون سے ہی یہ ممکن ہے،،، میں نے کہا،، ٹھیک ہے، ،، اگر یہ پالیسی سب کے لیے یکساں ہے تو ہم تعاون کرنے، لوگوں کو اسلحہ کی واپسی کی ترغیب دینے بلکہ پولیس افسروں کے ساتھ مل کر چھاپے مارنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن اگر صرف فارمیلٹی پورا کرنا مقصد ہے تو ہمیں اس سے معذور سمجھا جائے۔ مزید بات چیت ہوئی تو میں نے موصوف پولیس آفیسر کو شہر کے چند با اثر افراد کے بارے میں کہا کہ ان کے گھروں اور ڈیروں پر اسلحہ کے انبار موجود ہیں خود آپ بھی انہیں اچھی طرح جانتے ہیں، جس روز ان لوگوں کے ڈیروں پر چھاپے مار کر ان کا اسلحہ قبضہ میں کریں گے اس سے اگلے روز ہمیں بلا لیں ہم پولیس افسروں کے ساتھ عوام سے اسلحہ واپس لینے کی مہم میں شریک ہو جائیں گے۔ ہماری اس گزارش کا کوئی جواب نہ ملا ،،، اور اللہ حافظ کہہ کر موصوف غائب ہوگئے۔ اس لیے جناب افسران بالا سے گزارش ہے کہ اگر آپ کا مقصد شریف شہریوں کو تنگ کرنا ہے اور اُن لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے جن کے پاس اسلحہ کے انبار موجود ہیں اور جن کے جرائم اور اسلحہ کی حفاظت کرنے والے ان کے عزیز، رشتہ دار اور بھائی بند خود امن قائم کرنے والے اداروں میں نمایاں جگہوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اسلحہ کے استعمال میں مزید بے خوف ہوتے چلے جارہے ہیں،، تو پھر عوام آپ سے معذرت چاہتی ہے،،، ہاں اگر قانون سب کے لیے یکساں اور طرزعمل سب کے ساتھ ایک جیسا ہو تو پوری قوم آپ کے ساتھ ہے،،، لیکن فی الوقت میں وہی بات دہراﺅں گا کہ اگر اس مہم کو کامیاب بنانا ہے تو سب سے پہلے پولیس اپنا امیج درست فرمائے،،، ورنہ ماضی کی طرح یہ سب کچھ سیاست کی نذر ہو جائے گا،،، جیسے 1988 میں ضیاءالحق حکومت نے “غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کی مہم” کا اعلان کیا۔پولیس و ایف سی کو ہدایت تھی کہ غیر لائسنس یافتہ اسلحہ ضبط کریں۔تاہم، چونکہ قبائلی علاقوں میں مزاحمت ہوئی، مہم محدود رہی۔پھر 1991 میں نواز شریف نے کراچی میں ”فری ویپن “ مہم کا آغاز کیا اور بڑے پیمانے پر چھاپے مارے،،، لیکن بعد میں اُس سے کہیں زیادہ اسلحہ کراچی میں دیکھا گیا۔ جو اگلے کئی ادوار میں بھی ختم نہ ہوسکا۔ پھر 2001 میں یعنی پرویز مشرف دور میں ملک گیر مہم چلائی گئی،،، کہ شہری خودمختار طور پر اسلحہ پولیس کے حوالے کریں،،، چند ایک تھانوں میں مبینہ طور پر اسلحہ جمع کروایا گیا، مگر رپورٹس آئیں کہ یہ سرکار کا اپنا اسلحہ تھا،،، چانچہ یہ مہم بھی کامیاب نہ ہوسکی۔۔۔ پھر2015میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت پورے ملک میں ناجائز اسلحہ ضبطی مہم کا اعلان کیا گیا۔خاص طور پر کراچی، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چھاپے اور ایمنسٹی اسکیمیں شروع کی گئیں،،، لیکن کسی نے تعاون نہ کیا۔ جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ 2016-17میں لاکھوں راو¿نڈز اور ہزاروں بندوقیں ضبط کیں۔ الغرض پچھلے چند سالوں میں بھی حکومت نے ناجائز اسلحہ جمع کروانے کی مہم شروع کیں،،، مگر مجال ہے کہ عوام ٹس سے مس ہوئے ہیں،،، اس کی بڑی وجہ کوئی اور نہیں ،،، بلکہ پولیس پر اعتبار نہ ہونا ہے،،، لہٰذاایسی مہم وہاں پر مہم کامیاب ہوتی ہے، جہاں پولیس کی کریڈیبلٹی ہوتی ہے، ان کی کریڈیبلٹی تو اتنی ہے کہ کوئی علم نہیں کہ جیسے ہی کوئی اسلحہ جمع کروانے جائے،،، آپ اُس پر دو چار پرچے بھی ٹھوک دیں اور اگلے ہی دن اُس کے ساتھی اُسے چھڑانے آئیں اور اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوجائے! اور پھر یہ بھی کوئی علم نہیں کہ پرانے کئی قتل بھی اسی کے ذمہ ڈال دیے جائیں اور کہا جائے کہ فلاں قتل بھی موصوف کی بندوق سے ہی ہوا تھا۔ بہرحال سی سی ڈی اچھے اقدام کر رہی ہوگی ،،، مگر جب آپ ریاست میں ماورائے قانون اقدام کرنے لگتے ہیں تو پھر ریاست ،،، فلاحی ریاست نہیں کہلاتی بلکہ سخت گیر ریاست کہلاتی ہے،،، کیا کسی نے غور کیا کہ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے دعوﺅں کے مطابق دنیا اُن کے اقدامات کی گرویدہ ہوگئی ہے،،، اس کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہورہی؟ اور کیا کبھی کسی نے اس بات پر غور کیا کہ بیرون ملک کمپنیاں بھی اس وقت وطن عزیز کو خیر آباد کہہ رہی ہیں،،، وہ اس لیے کہ یہ ایک پڑھی لکھی بات ہے کہ جمہوریت کا ایک دن ڈکٹیٹر شپ کے سو سالوں سے بہتر ہوتا ہے،،، دنیا دیکھتی ہے کہ اس ملک میں کوئی نظام نہیں ہے بلکہ فیصلے فردواحد کے مرہون منت ہو رہے ہیں تو وہ اپنا سرمایہ اُٹھا لیتے ہیں،،، کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کل کلاں ”فرد واحد“ کو کچھ ہوگیا تو اُن کا سارا سرمایہ ڈوب جائے گا۔ اس لیے میرے خیال میں اداروں اور سرکار سے میری دست بستہ گزارش ہے کہ ملک میں نظام لے کر آئیں،،، دھمکیوں اور دھونس سے کام نہ چلائیں،،، ایسا نظام لائیں جس میں عوام کوقانون کا خوف ہو کہ واقعی غیر قانونی اسلحہ رکھنا جرم ہے،،، عوام قانون کی حکمرانی کے لیے خود ہی اسلحہ جمع کروانا شروع کر دیں گے،،، یا اسلحہ ضائع کر دیں گے،،، لیکن اگر اُنہیں یہ علم ہے کہ حکومت اُنہیں نہتا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور طاقتور کو مزید طاقتور بنانے کے لیے کوشاں ہے تو وہ آپ کے ساتھ کبھی تعاون نہیں کریں گے،،، بہترین نظام کے حوالے سے ایک چھوٹی سی مثال دتیا چلوں کہ میرے ایک دوست جاپان گئے وہاں ٹریفک قوانین کو لے کر اُن سے ایک چھوٹا سا جرم ہوگیا، دوست نے سوچا کہ عدالت کے سامنے سچ بول دوں گا تو ہو سکتا ہے ، جج مجھے میرے سچ بولنے کا ”کریڈٹ“ دیتے ہوئے معاف کر دے،،، لہٰذاجج صاحب نے اُنہیں ہزار ڈالر کے قریب قریب جرمانہ کردیا،،، وہ کہتے ہیں کہ میں بہت پریشان ہوا اور وہاں موجود ایک دوسرے دوست سے اس کا ذکر کیا اور جج کی شکایت لگائی کہ جب میں نے سچ بولا ہے تو جج کو چاہیے تھا کہ وہ اسے معاف کر دیتے ،،، اس پر دوست کے دوست نے جواب دیا کہ بھئی آپ نے سچ بول کر کوئی انوکھا کارنامہ سرانجام نہیں دیا،،، بلکہ یہاں سب سچ بولتے ہیں اور کوئی جھوٹ نہیں بولتا! لہٰذایہاں بھی ایسا ہی نظام آنا چاہیے کہ سچ بولنے کا مطلب سچ بولنا ہے،،، اُس کے لیے عوام کی تربیت ضروری ہے،،، ناکہ اُنہیں دھمکیاں دی جائیں کہ سدھر جاﺅ ،،، وغیرہ وغیرہ بہرکیف اگر بات سی سی ڈی کی کی جائے تو اس وقت ملک بھر میں چہ مگوئیاں عروج پر ہیں،،،سی سی ڈی نے جو ماورائے عدالت قتل کیے ہیں، اُن سے پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ وقتی کرائم کنٹرول کرنے کے لیے کی جانے والی جعلی کارروائیاں یقینا حکومت کے گلے پڑ سکتی ہیں،،، اور یقین مانیں کہ ان کارروائیوں کے حوالے سے میں تو پریشان ہوں کہ کیا عدالتیں اتنی ہی بے بس ہیں کہ وہ سی سی ڈی کے ان معاملات پر سوموٹو کیوں نہیں لے رہیں؟ پہلے تو بات بات پر سوموٹو لے لیا جاتا تھا، لیکن اب اتنے لوگ ماورائے عدالت قتل ہوگئے ،،، مگر مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں رینگی ہو؟ کیا ان ججز کو نوکری اتنی ہی عزیز ہو گئی ہے کہ وہ اس پر پراسرار طور پر خاموش ہیں۔ پولیس پر سے عدالتوں کا خوف ہی ختم ہوتا جا رہا ہے،،، ایک ہی ایف آئی آر ہر کارروائی میں درج کرتے جا رہے ہیں۔ جس سے شک و شبہ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے،،، اس لیے نظام بنائیں اور اسی نظام کے اندر رہ کر سب کچھ ٹھیک کریں ورنہ سب کچھ اُلٹا پڑ جائے گا!