”حکومت“ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے سے باز رہے !

جب سے صوبہ کے پی کے میں وزیر اعلیٰ تبدیل ہوئے ہیں وفاق پریشان پریشان لگ رہا ہے،،، اُس کی پریشانی اس وجہ سے بھی بڑھ چکی ہے کہ سہیل آفریدی روایتی سیاستدان نہیں بلکہ عوامی سیاستدان اور عوامی لیڈر ہیں۔ اس سے شائبہ جاتا ہے کہ علی امین گنڈا پور ان کے ساتھ ”سیٹ“ ہوگئے تھے، اور موجودہ وزیر اعلیٰ فی الوقت ان کے قابو میں نہیں آرہے ،،، اور اسلام آباد کی طرف 24نومبر کو لانگ مارچ کا اعلان بھی کردیا گیاہے۔ اور وفاق چونکہ کسی بھی حوالے سے کسی قسم کے احتجاج کو برداشت نہیں کررہا ،،، اور اُسے یہ بھی علم ہے کہ اب کی بار نئے وزیر اعلیٰ کے ساتھ نئے جوش و ولولے کے ساتھ لوگ آئیں گے،،، اورکہیں کوئی ڈیل نہیں ہوگی،،، اس لیے وفاق گورنر راج لگانے کے بارے میں سوچ رہا ہے،،، یہاں میں شاید غلط ہوں لیکن ذرائع اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں اس حوالے سے ”ہوم ورک“ بھی کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہوگا،،،بلکہ درجنوں بار پہلے ہی صوبوں میں ایسے اقدامات کیے جاچکے ہیںاور اب کی بار بھی شاید حالات مزید بگڑ جائیں،،، کیوں کہ گورنر راج لگانے اور مارشل لاءلگانے میں کوئی خاص فرق نہیں ہے،،، دونوں میں جمہوری طاقت کو دبانا مقصود ہوتا ہے،،، اور جب آپ اسے دباتے ہیں تو پھر وہ دب کر اُبھرتی ہے،،، اور یہ کے پی کے کا علاقہ ہے،،، یہاں بھی بلوچستان کی طرح غیور اور جنگجو لوگ ہیں،،، پنجاب کی طرح کے پرامن لوگ نہیں ہیں،،، کہ ہم دبا لیں گے،،اور وہ دب جائیں گے۔۔۔ کیوں کہ آپ یہیں سے اندازہ لگالیں کہ آپ انہیں گزشتہ ایک عرصے سے دبا رہے ہیں،، لیکن نہ یہ تحریک انصاف سے بدظن ہو رہے ہیں ، نہ عمران خان سے اور نہ ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی روش میں تبدیلی آرہی ہے۔ چلیں !آپ اسی پر ہی سوچ لیں کہ یہ لوگ اسے کب سے دبانے میں لگے ہوئے ہیں،،، کیا یہ دبا ہے؟ کیا بلوچستان کے لوگ دبے ہیں؟تو یہ غلطی نہ کریں،،، ہر وقت انا کو آڑے نہ آنے دیں،،، خدارا ! ملک کو دیکھیں،،، ان کے جو جائز مطالبات ہیں کم از کم وہ ہی مان لیں،،، ہر وقت انا کوآگے رکھنے سے ملک تباہ ہو جائے گا،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ تاریخ میں جب بھی گورنر راج لگایا گیا، حالات بگڑتے چلے گئے، اس کی سب سے بڑی مثال مشرقی پاکستان کی علیحدگی دیکھ لیں،،، اُس وقت مشرقی پاکستان میں پہلا گورنر راج 1954میں اُس وقت لگایا گیا جب متحدہ محاذ نے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو بھاری شکست دی۔یہ وہاں پر جمہوری فتح تھی، مگر جب حسین شہید سہروردی، فضل الحق اور دوسرے رہنما حکومت سازی کی تیاری کر رہے تھے،تو گورنر اسکندر مرزا نے اچانک اسمبلی برخاست کر کے گورنر راج نافذ کر دیا۔اور وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور انتظامی مسائل کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں،،، اس حوالے سے اُس وقت کے اخبارات میں خاصی جگ ہنسائی ہوئی لیکن ہم اُس وقت بھی اچھے خاصے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ کہ کہیں کسی صوبے میں مرکز کا کنٹرول نہ ختم ہو جائے اور مشرقی پاکستان میں کہیں عوامی حکومت نہ آجائے۔ اور اسی پہلے گورنر راج کے بعد پہلا موقع تھا جب بنگالیوں کو لگا کہ وفاق جمہوری حق نہیں دے رہا۔اور یہیں سے بنگالی قوم پرستی نے جنم لیا۔ پھر وہاں دوسرا گورنر راج 1958ءمیں لگا، جب صدر اسکندر مرزا نے ملک بھر میں مارشل لا نافذ کیا۔اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سمیت تمام صوبوں میں گورنر راج لگا دیا گیا۔جس کے بعد صوبائی خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو گئی۔فوجی نظم و نسق نے مقامی سیاست کو دبایا۔بنگالی عوام کو احساس ہوا کہ مرکز ان پر فوجی حکمرانی مسلط کر رہا ہے۔پھر تیسرا گورنر راج 1969ءمیں لگایا گیا جس کی بڑی وجہ وہاں پر ایوب خان کے خلاف تحریکیں چل رہی تھیں،،، ایوب نے استعفیٰ تودے دیا مگر اقتدارجیسے ہی جنرل یحییٰ خان کے پاس آیا تو انہوں نے پورے ملک میں مارشل لا کے ساتھ گورنر راج نافذ کردیا۔ جس سے مشرقی پاکستان کے عوام کو ایک بار پھر جمہوری نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔مشرقی پاکستان میں بار بار گورنر راج لگانے کے نتیجے میں جمہوری ادارے تباہ ہوئے، وفاق پر اعتماد ختم ہو گیا، بنگالی عوام میں احساسِ محرومی انتہا کو پہنچا اور بالآخر 1971 میں علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام تک نوبت پہنچ گئی۔اور پھر یہ سب کچھ کہنے سننے میں شاید آسان لگے ، لیکن ان گورنر راجوں میں مشرقی پاکستان میں بہت سوں کو قتل کردیا گیا، ،، ہماری 90ہزار فوج کو وہاں ہتھیار ڈالنا پڑے ،جس سے ہماری خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ اور پھر اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم نے اس سے کبھی سبق بھی سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اور ہم نے بار بار بلوچستان میں گورنر راج لگا کر وہاں کے حالات بھی اس قدر خراب کردیے کہ اب سدھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ یہاں گورنر راج عموماً وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی یا عسکری کشمکش کے وقت لگایا گیا،اور اس کے نقصانات صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور سلامتی کے لحاظ سے بھی بہت گہرے رہے ہیں۔مثلاََ وہاں پہلا گورنر راج بھٹو نے 1973ءمیں لگایا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی اقتدار کو طول دینے کے لیے ایسے اقدامات کرتی رہی ہیں،،،خیر اُس وقت وہاں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کی حکومت تھی اور وزیرِ اعلیٰ سردار عطاءاللہ مینگل تھے۔جن پر الزام لگایا گیا کہ صوبائی حکومت ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے،،، اور اسلحہ بھارت سے منگوا رہی ہے۔۔۔ ظاہر ہے مقامی حکومت پر بغیر ثبوت جب اس قسم کے الزامات لگائے جائیں گے تو وہ کیوں کہ آپ کے سگے رہیں گے،،، لہٰذااس اثنا ءمیں وہاں بھی سیاسی بے اعتمادی میں زبردست اضافہ ہوا۔اور بلوچ مزاحمت نے زور پکڑلیا جس کے بعد وہاں تاریخ کا بدترین فوجی آپریشن شروع ہوا۔ جس میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے، کئی مارے گئے۔افسوس تو اس بات کا تھا کہ ہم نے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے باوجود کوئی سبق نہ سیکھا تھا، اور ہر چیز کو طاقت کے استعمال سے حل کرنا چاہتے تھے۔ بہرحال اس آپریشن کے بعد وہاں احساسِ محرومی اور بدظنی نے جڑ پکڑی۔حالات ابھی سنبھلے ہی نہ تھے کہ وہاں پر 1977ءمیں دوسرا گورنر راج لگا دیا گیا،،، یہ گورنر راج جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد لگایا گیاتھا،،، جس سے بلوچستان میں سیاسی سرگرمیاں دب گئیں، اور سرداری نظام مزید مضبوط ہوا۔پھر وہاں تیسرا گورنر راج 1999ءمیں لگا، جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔جس کے بعد بلوچستان میں مقامی حکومتوں کا نظام لایا گیا،لیکن اس سے سیاسی جماعتوں کا کردار مزید کمزور ہو گیا۔اور حالات مزید بگڑتے چلے گئے،،، پھر وہاں چوتھا گورنر راج اُس وقت لگا جب جنوری 2013 میں کوئٹہ میں علمدار روڈ دھماکے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔اُس وقت وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کی حکومت برطرف کر کے گورنر راج نافذ کیا،،،اس گورنر راج میں بھی امن و امان میں وقتی بہتری بھی نہیں آئی۔بلکہ سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ گیا۔بیوروکریسی نے فیصلوں میں تاخیر کی، ترقیاتی کام رکے۔فرقہ وارانہ تشدد اور بداعتمادی میں مزید اضافہ ہوا۔ان گورنر راجوں کے بعد وہاں آج بھی سیاسی ادارے کمزور ہیں،،، وفاق پر اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے،،، جبکہ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان اقدامات کے بعد عسکریت اور علیحدگی پسند رجحانات کو تقویت ملی ہے اور ترقیاتی منصوبے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں،،،، ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ پاکستان کے کئی صوبوں میں گورنر راج نافذ کیے گئے۔ سب سے پہلے گورنر راج پنجاب میں لگا۔ 25 جنوری 1949 کو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ نواب افتخار ممدوٹ کی حکومت کو ختم کیا اور سردار عبدالرب نشتر نے بطور گورنر صوبے کی باگ دور سنبھالی۔ بہرکیف سندھ اور پنجاب میں بھی تین تین مرتبہ گورنر راج لگے مگر یہ بھی مارشل لاﺅںکا نتیجہ رہے جس نے سیاسی اور جمہوری نظم کو مزید کمزور کیا۔ جیسے سندھ میں گورنر راج 17 اکتوبر 1998 کو لگایا گیا جب کراچی میں حکیم محمد سعید کی شہادت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے اور اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف نے سندھ میں گورنر راج لگا کر معین الدین حیدر کو گورنر تعینات کیا۔پھر 1990 میں سندھ میں گورنر راج کے بعد پیپلز پارٹی کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئیں، جسے سیاسی انتقام سمجھا گیا۔پھر 25فروری 2009 کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 237کے تحت صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کی حکومت کے خلاف دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا اور سلمان تاثیر کو گورنر تعینات کیا گیا تھا۔ بہرکیف یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں اکثر گورنر راج سیاسی اختلافات یا حکومت گرانے کے لیے استعمال ہوا۔اس سے سیاست میں بداعتمادی اور انتقام کی فضا پیدا ہوئی۔کیوں کہ جب سیاسی نظام معطل ہوتا ہے تو انتظامی مشینری غیر مو¿ثر ہو جاتی ہے۔افسران غیر یقینی صورتِ حال میں فیصلے لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ترقیاتی منصوبے رک جاتے ہیں۔اور سب سے اہم بات کہ گورنر راج عوامی رائے کے برخلاف ہوتا ہے، اس سے احتجاج، ہڑتالیں اور بدامنی بڑھ جاتی ہے۔اور رہی بات کے پی کے کی تو اب اگر کے پی کے میں حالات بگڑتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، پی ٹی آئی کی حکومت ختم کر کے گورنر راج لگا دیا جائے گا،،، اس طرح تو پی ٹی آئی کی لاٹری نکل آئے گی۔ عمران خان تو پہلے ہی حکومت اور سسٹم سے نکلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ تین چوتھائی اکثریت سے بننے والی حکومت کو گھر بھیجنا اور صوبے کی بپھری عوام کو سنبھالنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ وفاق ایسے اقدامات سے اجتناب ہی کرے!