”قانون کی سبز کتاب سرخ ہوچکی ہے“.... قومی یکجہتی سیمینار کی روداد !

27ویں آئینی ترمیم کا شور اس قدر بڑھتا جا رہا ہے، کہ اس شور کو روکنے اور اس پر سب کو متفق کرنے کیلئے حکمران جس قدر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی،،، چلیں! یہ تو ابھی کا شور ہے مگر ہمارے حکمران گزشتہ ایک عرصے سے ہر احتجاج، ہر مزاحمت، ہر تنقید اور ہر آواز کو کچلنے کےلئے کس قدر طاقت کا استعمال کر رہی ہے،،، اس کی بھی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،،، انہی وجوہات کی بنا پر ملک میں سیاسی عدم استحکام خاصا بڑھ چکا ہے، امن و امان کا مسئلہ ایک بار پھر جڑ پکڑ چکا ہے، حتیٰ کہ وطن عزیز کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں، اور سب سے بڑھ کر ملک آئین و جمہوریت برائے نام رہ چکے ہیں،،، یہ مسائل اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ اب واپسی مشکل ہی لگتی ہے،،، اور حد تو یہ ہے کہ ہمارے فیصلہ کرنے والوں کو ان بگڑتے معاملات کا نہ تو تدارک ہے اور نہ ہی وہ اس پر پشیماں دکھائی دیتے ہیں،،، بلکہ وہ مختلف تدابیر اختیار کر کے معاملات کو مزید اُلجھانا چاہ رہے ہیں۔ بلکہ اب تو لوگ یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ حضور!سب کچھ پہلے ہی آپ کا ہے۔ کس چیز کی کمی ہے کہ مزید ”اقدامات“ کی ضرورت پڑ رہی ہے؟ سیاسی نظام فارم 47 کے تابع،،، مخصوص معیار پر جو پورا اترے مختلف حکومتوں میں ان کی بھرتی ہو گئی،،، ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو برباد کرکے رکھ دیا ہے،،، عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، کیا ابھی کچھ ہونا باقی ہے؟ پھر یہی نہیں الیکشن کمیشن سمیت ملک بھر کے ادارے آپ کے ایک اشارے کے منتظر رہتے ہیں تو ایسے میں کیا بہتر نہیں ہے کہ ہم ملک کو درست فرما لیں؟ حیر اسی پر بات کرنے کے لیے ”لیڈر گروپ“ نے ایک ”قومی یکجہتی سیمینار“ کا انعقاد کیا جس میں ملک بھر سے سیاسی دانشوروں، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو مدعو کیا۔ ان مہمانوں میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی،سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل،سینیٹرجان محمد بلیدی،جنرل سیکرٹری جی ڈی اے صفدر عباسی ،رہنما پی ٹی آئی بیرسٹر محمد علی سیف ، سابق سینیٹرظفر چوہدری، سابق سینیٹر، پیٹرن پاک فلسطین فورم اور چیئرمین پاکستان رائٹس موومنٹ مشتاق احمد، سابق صدر لاہور بارایسوسی ایشن جی اے خان طارق اور دیگر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔سبھی شرکاءاس بات پر متفق نظر آئے کہ پاکستان مشرقی ومغرب کے دشمنوں میں گھر ا ہوا ہے،دہشتگردی سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے،آزادی اظہار رائے ختم ہو چکا،27ویں ترمیم میں بہت خطرات ہیں،آئین پامال ہورہاہے،آئین اور قانون کی بالا دستی ہونی چاہیے، تلخیاں کم کرنے کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں سب سے پہلے بات کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا کہ میں” لیڈر“ میڈیا گروپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ ایسے ماحول اور حالات میں ایسے موضوعات پر سیمینارز کا انعقادکررہا ہے جب اس ملک میں سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ایسے میں آزادی سے بات کرنا کوئی آسان نہیں،ہر طرف ”سموگ ہی سموگ“ ہے، حکومت کی طرف سے قرضوں کے حصول کی رفتار انتہائی تیز ہو چکی ہے،موجودہ حکومت نے قرضے حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، حکومتی قرضوں کی وجہ سے عوام پر دن بدن بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔حکومت ہر چیز کو بیچنے پر لگی ہوئی ہے۔سیاسی مخالفین کیلئے بات کرنا مشکل ہو گیا ہے، میڈیا ہاﺅسز پر پیکا ایکٹ کی تلوار لٹک رہی ہے، پوری صحافت پابند سلاسل ہے، اسکے باوجود آج کا سیمینار تازا ہوا کا ٹھنڈا جھونکا ہے، کیوں کہ ہم سموگ شدہ معاشرے کو لیکر چل رہے ہیں،،، انہوں نے مزید کہا کہ آج خود پارلیمنٹ ہی اپنے آپ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔حکومت فارم47کی رسی سے لٹکی ہوئی ہے۔اسٹیبلٹمنٹ اور سیاست ایک پیج پر نہیں ہوتی،ہمارا ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں ہےے۔صوبہ پنجاب میں بھی فارم47پر حکومت بنی ہویہ ہے۔دہشتگردی کے سامنے سب سے بڑی دیوار اس وقت خیبرپختونخوا کی حکومت بنی ہوئی ہے۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ27ویں آئینی ترمیم پر بات ہو رہی ہے۔یہ بات تب کریں جب ملک میں کوئی آئین ہو۔آئین کی اہمیت نہیں رہی۔جو مرضی ترمیم لے آئیں اس وقت سیاسی ماحول بہت تلخ ہے۔سیاست سے نفرت کم کرنا ہو گی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں کم کرنے کی ضرورت ہے۔اس نفرت کو کم کرنا ہو گاتاکہ آئین کی طرف واپس جا سکیں۔آئین ایک بار ٹوٹ جائے دوبارہ نہیں بن سکتا۔ہماری کوشش ہے کہ ماحول کو بہتر کریں ۔ اس سلسلہ میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ساتھ ملکر جدوجہد کررہا ہوں۔حکومت کو اسیران کو ریلیف دیا جانا چاہیے۔خصوصاً خواتین کو جیلوں سے رہا کیا جائے۔ان لوگوں کو ریلیف دیں گے تو سیاسی درجہ حرارت نیچے آئےگا۔اگلے چند ماہ بہت خطرناک ہیں وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے۔عمران خان سے ہر چیز چھین لی گئی ہے۔سہیل آفریدی لانگ مارچ کی طرف جائے گا۔تو کے پی کے میں گورنر راج لگایا جائیگا لانگ مارچ کو طاقت کے زور پر حکومت روکے گی شدید ترین تلخیاں پیدا ہوں گی۔کئی آپریشن کے پی کے میں لانچ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات ہونے چاہئیں حکومت ایک قدم آگے بڑھے اور پی ٹی آئی ایک قدم پیچھے ہٹے گی تو معاملات حل ہوں گے۔ہمارے ہاں لمبی ڈکٹیٹر شپ نہیں چل سکتی۔جمہوریت میں طاقت ہونی چاہیے اسی جمہوریت نے امریکہ کو سپر پاور بنایا۔ سابق سینیٹر مشتاق احمدنے کہا کہ گزشتہ دس برس دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کیلئے بہت سے خطرات رہے ہیں۔اڑھائی ہزار سے زائد افراد دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔اس وقت دہشتگردی ملک کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ہم مشرق ومغرب سے گھرے ہوئے ہیں۔دونوں طراف سے حالت جنگ میں ہیں۔سیاسی عدم استحکام صوبوں اور وفاق میں نظر آرہا ہے۔آئین اور جمہوریت کی بالادستی نہیں ہے۔آئین اور جمہوریت کی بالا دستی نہ ہونے سے آج ایسے حالات کا شکار ہیں،2000سے لیکر آج تک 151صحافی قتل ہو چکے ہیں۔زبان بندی کیلئے صرف پیکا ایکٹ نہیں بلکہ قتل بھی ہو رہے ہیں،یہاں عالم یہ ہے کہ عمران خان کا ذکر کرنے پر پابندی ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا خطاب اور اسرائیلی پارلیمنٹ کی کارروائی دکھائی جاتی ہے۔صوبوں کو حقوق نہیں دیے جا رہے ،27ویں ترمیم میں بہت خطرات ہیں۔مہنگائی کی بھر مار ہے۔پاکستان کے عدم استحکام کی سب سے بڑی وجوہات ہی یہ سب عوامل ہیں۔اس موقع پر لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جی اے خان طارق نے کہا کہ آج سننے والوں کا فقدان ہے۔پھر بھی اذان دیے جا رہے ہیں۔26ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے وکلاءکو مخالف وکلاءنہیں مخالف ججوں کا سامنا ہے۔آئین پامال ہو رہا ہے۔صحافت،وکلاءاور عدالتیں قاصر ہیں۔ہم ایسے مذاکروں سے سیکھنے آتے ہیں۔معاشرے میں بے چینی کی کیفیت ہے۔کوئی تو وہ راستہ دکھائے جو خوشحالی کی طرف جاتا ہو۔بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں۔سبز کتاب اندر سے سرخ ہو چکی ہے صرف ہماری خاموشیوں کی وجہ سے ہر طرف مایوسی کا عالم ہے۔ اس موقع پر سابق سینیٹر ظفر چوہدری نے کہا کہ وہ سیمینار کے منتظمین کے شکر گزار ہیں کہ بہت حساس وقت میں اس نشست کا اہتمام کیا۔1973کے آئین کے مطابق طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔بدقسمتی سے اس آئین پر عملدر آمد نہ ہوا۔اقتدار کو طول دینے کیلئے آئینی ترامیم کی جاتی ہیں۔خود اراکین پارلیمنٹ کو26ویں اور27ویں آئینی ترامیم کے بارے میں علم نہیں ،ہم اپنے بچوں کیلئے صحت مند ماحول چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ہمیں اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا ہو گی۔نیشنل ایکشن پلان تو بنتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔کرپشن میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جو اس ملک کیلئے بے حد خطرناک ہے۔پھر سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ملک کے جمہوری ادارے بے حد کمزور ہیں۔فوجی حکمران جب بھی اس ملک پر مسلط ہوئے مشکلات پیدا ہوئیں۔خود مختاری ہمارا قومی مسئلہ ہے۔بلوچستان کے معدنی وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔بلوچستان اور کے پی کے حالت جنگ میں عوام کی حکومت نہیں ہے۔اگر عوام کے ووٹوں کو نہیں مانا جائے گا تو معاملات کیسے چلیں گے۔عوام کی رائے کو تبدیل کر کے مرضی کے لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے۔آج بلوچستان میں کوئی قانونی رٹ نہیں ہے۔کسی ڈسٹرکٹ میں حکومت کی رٹ نہیں ہے۔لوگ حکمرانوں کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔اسلام آباد کی سوچ آج بھی نہیں بدلی۔صوبوں کے حق پر ڈاکہ مارا جاتا ہے۔بلوچستان کو ڈنڈے کے زور پر چلانے کی کوشش کی جاتیں ہیں اوریہ تجربہ ناکام ہوتا ہے اور ناکام رہے گا۔سیاسی معاملات بہتر کرنے کیلئے عوام کے ووٹوں کے تقدس کو ماننا ہو گا۔پاکستان کی سیاسی جماعتیں آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے پر آنا چاہتی ہیں۔اصلاحات کر کے آنا ہو گا آئینی ترامیم کی بارش کی جاتی ہے۔یہ طے ہی نہیں کس ڈگر پر چلنا ہے سارے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا معاشرے میں پاور گروپس کا وجود خطرناک ہوتا ہے۔غیر جمہوری ریاستوں میں طاقت کا غیر ضروری استعمال ہونا بد قسمتی ہے۔مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جمہوری ریاستوں میں آئین کو استعمال کرتے ہوئے طاقت کو بڑھانا چاہیے۔سب گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر لیکر آئیں امیر اور غریب طبقات متوازن نہیں ہیں غربت بڑھتی جا رہی ہے۔فرقہ واریت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔مذہب کے نام پر جن گروہوں کو مسلط کیا جا رہا ہے وہ ملک کیلئے بہتر نہیں ریاست کمزور ہو چکی ہے۔آئین کمپرومائز ہو چکا ہے۔بلوچستان اور کے پی کے میں ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جارہا ہے ریاست کمزور میڈیا برقد غن زبان بندی،کسی صورت قابل قبو ل نہیں عدلیہ حیثیت کھو چکی ہیں۔زمین اور طاقت کی جنگ میں طاقت مضبوط ہے۔جنرل سیکرٹری جی ڈی اے صفدر عباسی نے کہا آج پاکستان تجربہ گاہ بن کررہ گیا ہے،ہم بندگلی میں پھنس گئے ہیں‘ہمیں کوئی راستہ نظرنہیں آرہا،آج آپ ہر طرف نظر ا±ٹھا کردیکھیں جہاں کوئی سیاسی ورکربات کرتاہے تو فون آجاتاہے،انہوں نے کہا معیشت تباہ ہوچکی ہے،امیرامیرترہوتاجارہاہے اور غریب غریب تر،تفریق پورے ملک میں پیداہوچکی ہے،ایک بوگس اسمبلی بنا کر آپ آئین کے اندرترمیم کرینگے کون اس کو تسلیم کرے گا۔ آخر میں راقم کو بھی بات کرنے کا موقع ملا تو میں نے بلاججھک تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، اورکہا کہ آج کی اس تقریب کے انعقاد کا کریڈٹ میرے بڑے بھائی محمد علی درانی سابق وفاقی وزیر اطلاعات کو جاتا ہے۔انہوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا اور جب سے انہوں نے ہمارے ساتھ کندھا ملایا ہے ہماری پرفارمنس بہتر ہو گئی ہے۔میں نے اس پورے سیمینار کا نچوڑ یہ نکالا کہ پاکستان کی تباہی کی دو ہی وجوہات ہیں ایک مذہب کا ناجائز استعمال اور دوسرا اسٹیبلشمنٹ ،جب تک ہم مولوی کو مسجد میں اور اسٹیبلشمنٹ کو انکی حدود تک نہیں رکھیں گے ہم ایسے ہی مشکلات کا شکار رہیں گے۔فرد واحد سمجھتا ہے کہ مجھے سب پتہ ہے میں ہر کام کر سکتا ہوں۔ان کے ذہن میں آجاتاہے کہ خلیفہ بھی تو ایک ہی ہوتا ہے۔ایوب خان سے دیکھ لیں وہ اپنے آپ کو عقل قل سمجھتا تھا۔یہی سوچ ضیاءالحق اور پرویز مشرف کی بھی تھی ہماری بد قسمتی اس لئے زیادہ ہو گئی ہے کہ مذہب اور اسٹیبلشمنٹ اکھٹے ہو گئے ہیں۔ بہرحال قارئین! پاکستان کے اگلے دن مشکلات کا شکارہیں لیکن ہم پر اُمید ہےں کہ رات کے بعد سویرا بھی ہوتا ہے اور ہمیں اس صبح کا انتظار ہے۔نادان حکمرانوں کے ذہن سے جب تک طاقت کانشہ نہیں اترتا عوام قربانی دیتی رہے گی۔ہم سب اپنے طور پر ہمت اور کوشش کرتے رہیں گے امید ہے بہتری آئیگی(انشاءاللہ)