27ویں ترمیم: جمہوریت کو دفن کر دیا گیا؟

27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ سینیٹ میں پیش ہو چکا، حکومت کو اس بل کو منظورکروانے کے لیے 64ووٹ درکار، جن کے پورے ہونے کے بارے میں سرکار مکمل پراعتماد نظر آرہی تھی، اور ایسا اُس نے کر بھی لیا،،، جبکہ اپوزیشن نگار خانے میں توتی کا کام کر تی رہی،، جس کی کوئی نہیں سن رہا تھا۔جبکہ ہم یہ تمام مناظر ٹی وی سکرین پر بیٹھے دیکھتے رہے،،، ویسے ہم قانونی ماہر تونہیں ہیں، اس لیے اس پوری ترامیم میں بس اتنی بات سمجھ آئی ہے کہ اس ترمیم کا ایک مقصد اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ کو صحیح ”راستے “پر ڈالنا ہے۔ اس مقصد کیلئے تجویز یہ ہے کہ ایک وفاقی آئینی عدالت بنے جس میں تمام حساس نوعیت کے آئینی معاملات دیکھے جائیں۔ جبکہ دوسرا بڑا مقصد جو اس سے بھی بڑا ہے ، وہ آئین کی شق 243 میں مجوزہ ترمیم ہے۔ جس سے عسکری اداروں کی کمان میں ردوبدل کا عندیہ دیا گیا ہے۔جس میں عہدے ”تاحیات “ ہونے کے بارے میں بھی بازگشت ہو رہی ہے۔ بہرحال موجود اعدادو شمار کے مطابق مقتدرہ کی جانب سے جو اختیارات مانگے گئے ہیں،،، معذرت کے ساتھ اُن کا صرف بادشاہوں کو ہی شوق ہو سکتا ہے، ،، کسی جمہوری یا میرٹ پر آئی شخصیت کو نہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ بغیر پڑھے، بغیر بحث و مباحثہ میں حصہ لیے اس ترمیم کو جو اراکین پارلیمنٹ نے قبول کیا ہے، ایسا صرف فارم 47والی حکومت ہی کر سکتی ہے، ورنہ تو ہمیں یاد ہے کہ اٹھارویں ترمیم کرواتے وقت پیپلزپارٹی کی کرپٹ ترین حکومت میں ایک سال اس مسودے پر بحث ہوئی تھی،،، نہیں یاد تو بتاتا چلوں کہ اُس وقت بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ ہوا کہ چونکہ 1973ءکا دستور متفقہ ہے اس لیے اس میں لائی جانے والی اٹھارہویں ترمیم بھی متفقہ ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں پرائم منسٹر ہاﺅس میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی۔ APC میں پارلیمنٹ کے اندر نمائندگی رکھنے والی ساری پارٹیوں کے سربراہان بشمول عمران خان پوری لیڈرشپ نے شرکت کی۔ قومی مشاور ت کا یہ سلسلہ کئی سطحوں پر ایک سال کے عرصے تک چلتا رہا۔ مشاورت کے اس عمل کے دوران درجنوں کی تعداد میں تحریری تجاویز مختلف الخیال پارٹیوں سے جمع کی گئیں۔ اس ایکسرسائز کے دوران وزارتِ پارلیمانی امور کو منسٹری آف لاءاینڈ جسٹس میں ضم کر کے دونوں وزارتوں کا چارج وزارت قانون کے حوالے کر دیا گیا؛ چنانچہ 9 مہینے کی بھرپور اور شدید بحث وتمحیص کے بعد آئینی ترمیم کا بل 2010ءمیں متفقہ طور پہ منظور کیا گیا۔ لیکن اس کے برعکس چند دنوں، چند گھنٹوں میں جن لوگوں نے 27ویں آئینی ترمیم کو ”اوکے“ کر دیا تو یہ منتخب لوگوں کے شایان شان نہیں ہوسکتا؟ لہٰذاقارئین! اب سمجھ آرہی ہے کہ مقتدرہ کو فارم 47کی ضرورت کیوں تھی؟ اب تو یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سیاسی نظام فارم 47 کے تابع‘ مخصوص معیار پر جو پورا اترے مختلف حکومتوں میں ان کی بھرتی ہو گئی۔ حکومتوں اور پارلیمان کی فرمانبرداری میں کوئی کمی محسوس ہو رہی ہے؟ عدلیہ کے ساتھ جو کچھ ہو ا اس کو بھی کیا دہرانا۔ بے توقیری ایک بے معنی لفظ ہوکر رہ گیا ہے۔ اختیارات کا ایسا ارتکاز تو کبھی نہ دیکھا تھا، وہ ہو رہا ہے،،، بقول شاعر اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے تو ایسی صورت حال میں کیا عوام اس نتیجے پر نہیں پہنچ چکے کہ موجودہ ”فیصلہ کرنے والی قوتوں“ کے سربراہان کو آمریت کا مکمل شوق ہے،،، اور ان کے جسم میں کسی بادشاہ کی روح ہے، جو کسی بھی سامنے آنے والی چیز کو روند دینا چاہتا ہے، خواہ اُسے طاقت سے روندا جائے، پارلیمنٹ سے روندا جائے، عدلیہ سے روندا جائے یا الیکشن کمیشن کے ذریعے ۔ لیکن وہ چیز بچ نہیں سکتی۔ میں حیران ہوں کہ کسی کو اس قدر اقتدار کی خواہش کیسے ہوسکتی ہے کہ یہ بھی میرے پاس ہوناچاہیے، وہ بھی ہونا چاہیے، اُس سے چھین لو، اس کو مار کر یہ چیز حاصل کر لو،،،لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں جس بندے نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے، وہ خود تو تباہ ہوا ہی ہے، ساتھ ملک کو بھی لے ڈوبا ہے، ،، یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی کو ہوس اقتدار ہو اور وہ ملک کے لیے مفید ہو۔ آپ یقین مانیں کہ تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں، اتنی اقتدار کی ہوس ، مشرف ، ضیاء، ایوب کسی کو بھی نہیں تھی۔ جتنی موجودہ ”حکمرانوں“ کو ہے۔ بلکہ میرے ایک دوست اکثر کہا کرتے ہیں کہ موجودہ فیصلہ کرنے والوں کے اندر اورنگ زیب عالمگیر کی روح ہے،،، جس نے تخت کے لیے بھائیوں کے خلاف جنگیںکیں،،، اُس نے تخت حاصل کرنے کے لیے اپنے تین بھائیوں (دارا شکوہ، شجاع اور مراد) کے خلاف خونریز جنگیں لڑی تھیں، اور آخرکار دارا شکوہ کو قتل کرایا ، جسے اکثر مورخین اقتدار کی شدید خواہش کی علامت سمجھتے ہیں۔پھر اُس نے اپنے والد شاہ جہاں کو آگرہ کے قلعے میں نظر بند کر دیا، تاکہ اقتدار اس کے ہاتھ میں رہے۔ یہ اقدام بھی اقتدار کی ہوس کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔وہ تقریباً 49 سال تک حکومت میں رہا اور اپنے مخالفین یا خطرہ بننے والے ہر شخص کو راستے سے ہٹایا۔کیا موجودہ اسٹیبشلمنٹ بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے،،، کہ آئین کا اصل مقصد ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ بہرحال ان بہت ہی خوبصورت ترامیم کے بعد قوم کو یہ جاننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ موجودہ آئین کو 73ءکا آئین کہنا ایک تکلف ہی رہ گیا ہے۔ اس بے چارے آئین کے ساتھ پہلے ہی بہت ہو چکا ہے لیکن چھبیسویں ترمیم اور پھر اس ترمیم کے بعد اس ترمیم نے کچھ اور حلیہ ہی اختیار کر لیا ہے۔ ہمارے آئین مرتب کرنے والے بڑے بھولے اور سادہ ثابت ہوئے ہیں۔ آئین میں اُنہوں نے جو فصیلیں کھڑی کی تھیں وہ الفاظ پر مبنی تھیں۔ یعنی شق 6جو آئین سے غداری اور اُس پر سزا کے بارے میں ہے، ڈال کر آئین بنانے والوں نے یہ سمجھا کہ اُنہوں نے بڑا تیر مار لیا ہے اور اس شق کے ہوتے ہوئے آئین اور آئینی حکمرانی سے کھلواڑ کرنے کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ہے۔ جنرل ضیا الحق نے 5جولائی 1977ءکو جب آئین پر چڑھائی کی تویقین سے کہا جاسکتا ہے کہ شق 6پڑھنے کی زحمت ا±نہوں نے گوارا نہ کی ہوگی۔ ایک دفعہ آئین کے بارے میں کسی نے سوال اٹھایا تواُنہوں نے وہ نہ بھولنے والے الفاظ ادا کیے کہ آئین چند صفحات کا کتابچہ ہے جسے جب چاہوں پھاڑ سکتاہوں۔ اپنی دورِ حکمرانی میں اُنہوں نے کچھ ایسا ہی ثابت کیا۔ بہرحال قصہ مختصر کہ جب تک نظریہ ضرورت اس ملک میں سے ختم نہیں ہوگا،،، سب کچھ روند کر طاقتور آگے نکلتا رہے گا،،،ا ور اگر کوئی عمران خان جیسا سیاسی لیڈر سامنے آگیا تو اُسے راستے سے ہٹانے کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر وہ قدم اُٹھایا جائے جو نظریہ ضرورت کے تحت ہو،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بھٹو کو راستے سے ہٹانا ضروری تھا اس لیے نہیں کہ کسی کا انہوں نے قتل کرایا تھا بلکہ اس لیے کہ وہ سیاسی خطرہ بن گئے تھے۔ مقدمے میں جو ہیرپھیر ہو سکتا تھا وہ کیا گیا کیونکہ فیصلہ بھٹو کے خلاف لانا ضروری تھا۔ ہماری عدلیہ کو بھی دیکھیں‘ پینتالیس سال بعد فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ مقدمہ ٹھیک طریقے سے نہیں چلایا گیا تھا۔ بنیادی نکتہ قوم کے سامنے ہے‘ذوالفقار علی بھٹو جیسے شخص کے لیے کوئی معافی نہیں اور جنہوں نے طالبان کو ایک طاقت کے طور پر کھڑا کیا‘ انہیں دودھ پلایا‘ ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ دہرا معیار نہیں کہنا چاہیے‘ بس اتنا کافی ہے کہ یہاں کا دستور یہی ہے۔ اس لیے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے خدا کے لیے ملک پر رحم کریں،،، 25کروڑ عوام پر رحم کریں،،، اُن پر اتنا ظلم نہ کریں کہ وہ آپ پر حملہ کردیں،،، اور پھر آپ کی تعداد بھی بہت تھوڑی ہے،،، اگر یہ گلے پڑ گئے تو آپ کا کچھ نہیں بچے گا۔ کیوں کہ اگر آپ بلی کو بھی کمرے میں بند کرکے ماریں گے، تو وہ بھی آپ کے گلے پڑ جائے گی، ،،آپ عوام کا ہر راستہ روک رہے ہیں،،، تو خدا کے لیے آپ عوام کو اُس انتہا تک نہ لے جائیں،،، جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ کیوں کہ اس وقت عوام کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ اب تھانوں کچہریوں میں بھی جانے کا کوئی فائدہ نہیں، چیف سیکرٹری ، ہو م سیکرٹری ، یا الیکشن کمیشن کے پاس جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں، توپھر عوام کے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ اب لڑا جائے، چھین لیا جائے،،، اور اگر اب موت بھی آتی ہے تو کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ اور عوام اس نہج پر آچکے ہیں۔ یہ پنجاب کو بھی فرنٹیئر اور قبائلی علاقہ بنانا چاہ رہے ہیں،،، جس کے بعد مجھے ولی خان کی وہ بات یاد آگئی کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آخری جنگ پنجاب سے لڑی جائے گی۔۔۔ اور یہ وہ لگتا ہے کہ آن پہنچا ہے،،، کیوں کہ جب آپ کسی کے لیے کوئی راستہ چھوڑ ہی نہیں رہے،،، تو پھر پیچھے کیا بچتا ہے؟ آپ نے ابھی تک جہاں بھی تجربات کیے ہیں، وہ آپ کے گلے ہی پڑے ہیں،،، آپ بلوچستان کو ابھی تک ٹھیک نہیں کر سکے، وہاں پر آج بھی سفر کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے، آپ کے پی کے میں حالات خراب کر رہے ہیں، وہاں بھی رات میں سفر نہیں کر سکتے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ 1971کے تجربات سے کچھ سیکھتے بھی نہیں، بلوچستان کے 50سال سے کچھ سیکھتے بھی نہیں ، یہ افغان جنگ سے بھی کچھ نہیں سیکھ رہے۔ بہرکیف سیاسی لوگوں کی نفسیاتی کیفیت کی یہ حالت ہے کہ وہ بس انگوٹھا چھاپ رہ گئے ہیں،،، اور اس وقت پاکستان کے تمام سیاسی نظام کا بنیادی اصول ”فرمانبرداری“ ہے۔ لہٰذا التماس ہے کہ جب ہر طرف مرضی چل رہی ہو تو مزید قانونی اور آئینی ضمانتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔لہٰذاانہی من مرضیوں کی بدولت آپ قانون کا جو دراز میں بند کر رہے ہیں،،،اُس سے جمہوریت دفن ہو رہی ہے،،، اور اُس کے انتہائی خطرناک نتائج بھی ہو سکتے ہیں!