ذاتی کردار کشی ،اسکرپٹ رائیٹرزہی بدل لیں!

جیسے ہی نام نہاد اور طاقت کا رُخ تبدیل کرنے والی 27ویں ترمیم پاس ہوئی.... مختصر مگر دبی ہوئی ، منتشر اور سہمی ہوئی اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا اعلان ہوا، ججز بھی مستعفی ہو رہے تھے،،، ان کے اپنے میڈیائی دانشور سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے،،، اور پھر سوشل میڈیا پر بھی کافی لے دے ہو رہی تھی تو ایسے میں ہفتے کے روز جب میں نے ٹی وی آن کیا تو خبریں چل رہی تھیں کہ برطانوی جریدے ”دی اکانومسٹ“ نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ شائع کی ہے کہ جس میں تہلکہ خیر انکشافات کیے گئے ہیں کہ بشریٰ بی بی حساس ادارے سے معلومات لے کر عمران خان کو دیتی تھیں،،، عمران خان اپنی اہلیہ کی بات زیادہ سنتے ہیں،،،بشریٰ بی بی جادو ٹونے کرتیں، گھر میں عجیب و غریب رسومات کرتیں، جیسے کہ عمران خان کے سر کے گرد کچے گوشت کو گھمانا، لال مرچیں جلانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھنکواناوغیرہ،،، رپورٹ میں مزید ”انکشاف“ کیا گیا کہ عون چوہدری بھی اسی وجہ سے زیرِ عتاب آئے، عمران خان نے اِنہیں حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا.... وغیرہ وغیرہ ۔ چلیں مان لیا کہ یہ ساری باتیں درست ہیں،،، لیکن کیا کوئی یہ بتا سکتاہے؟ کہ اس میں نیا کیا ہے؟ اگر یہ ساری باتیں ہم نے سُن رکھی ہیں تو پھر پورے میڈیا میں اس خبر کو اتنی زیادہ ہائپ کیوں ملی؟ اُس دن پاکستان میں اگر 100چینل ہیں تو سبھی چھوٹے بڑے چینلز پر بریکنگ چلائی جا رہی تھیں،،، بار بار چلائی جا رہی تھیں،،، بلکہ 24گھنٹے تک ہر نیوز چینل کے بلیٹن میں اس خبر کو شامل کیا گیا،،، بلکہ 24گھنٹوں تک اس خبر کو ”پہلی“ ہیڈ لائن کے طور پر پیش کیا گیا،،، یہی نہیں بلکہ تمام متعلقہ میڈیا پلیٹ فارمز کے ویب پیجز پر بھی اس خبر کو ہیڈلائنز کے طور پر لگایا گیا۔ اب میں پہلے آنکھیں میچ کر دوبارہ کھولوں ،پھر میچ لوں، پھر کھول لوں،،، اس پریکٹس کے بعد میں نے تاریخ دیکھی تو یہ نومبر2025ہی چل رہا تھا،،، ورنہ مجھے شک تھا کہ میں کہیں 2022-23میں واپس تو نہیں چلا گیا،،، کہ جب موصوفہ کی کردار کشی عروج پر تھی،،، تب نکاح کا کیس بھی چل رہا تھا،،، اور اسلامی درسگاہ کا کیس بھی چل رہا تھا،،، اور خاور مانیکا بھی میدان میں تھے۔ پھر میں نے کافی سوچا کہ آخر کار ایک بار پھر ان باتوں کی ضرورت کیوں کر پیش آئی ؟کیا یہ ”پراپیگنڈا جرنلزم“ نہیں ہے؟ کیا یہ اُس قسم کے ہتھکنڈے نہیں ہیں کہ جب امریکا عراق جنگ شروع ہونے والی تھی تو امریکا نے میڈیائی پراپیگنڈہ کیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیارتھے، بڑے چینلز بار بار یہ دعویٰ دہراتے رہے کہ عراق کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار (WMDs) موجود ہیں، حالانکہ بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔کیا اس بشریٰ بی بی کیس میں بھی میڈیا کو مخصوص ہدایات نہیں کی گئیں ہوں گی جس میں اُن کی ذاتی زندگی کی جھوٹی خبریں، مالی بے ضابطگیوں کے درست سچ غلط ملانے، سیاق و سباق توڑ کر بیانات چلانے کا سہارالیا گیا ہے،،، اور پھر کیا ماضی میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا آیا؟کہ حب الوطنی کے نام پر جانبدار رپورٹنگ کروائی جاتی رہی ہو،،، بلکہ عوام کے جذبات ابھارنے کے لیے اپوزیشن کی ہر بات کو غداری سے جوڑ دینا بھی پراپیگنڈہ صحافت کی مثال ہے۔ اور پھر کسی ایک ہی واقعے کو مختلف زاویے سے دکھا کر ناظرین کے ذہن میں خاص رائے بنائی جاتی ہے۔جیسے بشریٰ بی بی کے کیس کو دیکھ لیں،،، حالانکہ دی اکانومسٹ شریف خاندان کی کرپشن کے حوالے سے بھی کئی خبریں شائع کر چکی ہے، مگر مجال ہے کہ کسی میڈیاچینل نے اُن کو اتنی بار دہرایا ہو۔ آپ کی یاددہانی کے لیے بتاتا چلوں کہ نواز شریف جب 2023میں ایک بار پھر خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس آئے تو اکانومسٹ نے اُن کے کرپشن کے مقدمات پر ایک مضمون شائع کیا تھا،،، جبکہ ایک اور آرٹیکل میں ایک اور آرٹیکل میں ان کے لندن میں پارک لین فلیٹس کی خریداری اور بدعنوانی کے الزامات کا ذکر کیا تھا،،، اُن کے بارے میں میڈیا مکمل خاموش ہے۔ بلکہ 2017ءمیں ایک مفصل رپورٹ شائع کی، جس میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف عدالت کی طرف سے شائع شدہ 275 صفحاتی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ، جس میں ان کی مالی بدعنوانی کی تحقیقات کا ذکر ہے۔ بلکہ یہ جریدہ اکثر و بیشتر پاکستان کے طویل عرصے سے جاری کرپشن کے نظام پر روشنی ڈالتا رہتا ہے اور بتاتا ہے کہ کرپشن کس حد تک ریاستی اداروں میں سرائیت کر چکی ہے۔ چلیں آپ دور نہ جائیں ،،، اور 27مارچ 2024ءکو شائع ہونے والے ایک تجزیاتی آرٹیکل میں بیان کیاکہ پاکستان میں ادارہ جاتی کمزوریاں، سیاسی غیر استحکام اور کرپشن مل کر ملکی ترقی کو روکتی ہیں۔ یہ خبر موجودہ سیٹ اپ کے بارے میں تھی مگر حرام ہو اگر اس خبر کا ایک نکتہ بھی کسی چینل میں ہیڈلائن بنا ہو، یا اخبار میں شائع کیا گیا ہو۔ پھر آپ دور نہ جائیں بلکہ اسی جریدے نے فروری 2024ءکے الیکشن پر مفصل رپورٹ جاری کی تھی جس میں بدعنوانیوں کی لمبی داستان تھی،،، وہ بھی کہیں شائع نہیں ہوئی۔ لیکن اس پرانی خبر کے لیے سینکڑوں چینلز پر 24گھنٹے کوریج دلوانے سے ناظرین کے ذہنوں میں یہ سوال نہیں اُٹھتے ہوں گے کہ یہ سب کس کے ایماءپر ہو رہا ہے؟ ضرور اُٹھتے ہیں،،، عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوال اُٹھتے ہیں،،، اور اُٹھ رہے ہیں،،، اس لیے خدا کانام لیں،،، اور اپنے ”سکرپٹ رائیٹرز“ بدل لیں،،، کیوں کہ 78سالوں سے ہم یہی کہانیاں سنتے آرہے ہیں۔ جیسے پاکستان بننے کے فوری بعد آناً فاناً خان عبدالغفار خان ، جی ایم سید ، حسین شہید سہروردی اور عبدالصمد اچکزئی غدار قرار پائے۔اُن کے خلاف اُس دور کا ”بہترین“ پراپیگنڈہ کیا گیا۔ پھر وزیراعظم لیاقت علی خان نے ایک تقریر میں بنگال کے سابق وزیراعلیٰ اور تحریک آزادی کے سرکردہ رہنما حسین شہید سہروردی کو ہندوستان کا بھیجا ہوا ایجنٹ قرار دے دیا۔۔۔ پرنٹ میڈیا میں اس حوالے سے خوب خبریں لگوائی گئیں ۔پھر’پاکستان‘کے لفظ کے خالق چودھری رحمت علی پاکستان تشریف لائے تو ان کے لیے یہاں ٹھہرنا ناممکن بنا دیا گیا ، خوب مہم چلائی ، حتیٰ کہ ریڈیو پاکستان بھی استعمال ہوا،،، اور وہ واپس انگلستان چلے گئے۔پھر ہم نے فاطمہ جناح کے ساتھ کیا کچھ نہیںکیا؟کہاں کہاں پراپیگنڈہ نہیں کیا؟ایوب خان اور اُن کی انتظامیہ کے پاس ان کی کردار کشی کے لیے کتنا زیادہ وقت تھا،،، پھر پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی والدہ پر جماعت اسلامی کے ہم خیال ایک جریدے نے انتہائی قابلِ اعتراض الزام لگائے ،،، اس حوالے سے کس قدر بھیانک پراپیگنڈہ کیا گیا۔ اُن پر اداکاراﺅں کے ساتھ تعلقات کے گھناﺅنے الزامات لگا کر پراپیگنڈہ کیا گیا۔ پھر محترمہ بے نظیر کے بارے میں کیا کیا باتیں نہیں سننے کو ملیں؟ ایک مذہبی پس منظر رکھنے والے رسالے نے بے نظیر کے ایک جلوس کی تصویر سرورق پر شایع کی جس میں وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر تالیاں بجارہی تھیں۔اس تصویر کے نیچے سرخی لگائی گئی تھی’ٹھمکے پہ ٹھمکہ‘۔ اُسی زمانے میں ایک اور لفظ ہماری لغت میں شامل ہوا اور وہ تھا’سیکیورٹی رِسک‘۔ بے نظیر بھٹو سیکیورٹی رِسک قرار پائیں۔گویا اب وہ ملک دشمن بھی تھیں۔اُن کے خلاف نازیبا قسم کے اشتہارات ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھنکوائے گئے۔۔۔ ادلے کے بدلے کے طور پر اس گھیراﺅ میں نواز شریف خود بھی نہ بچ سکے اور اُن پر بھی طاہرہ سید ، فیروز خان کی بہن سمیت دیگر خواتین کے ساتھ تعلق کے الزامات لگے،،اور پھر یہ جو کچھ آج ہورہا ہے،،، کل کو یہ لوگ غدار ثابت نہیں ہوں گے؟ انہوں نے تو آئین میں ایسی ایسی ترامیم کر دی ہیں کہ آئین کا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے،،، تو کیا یہ لوگ کل کو غدار نہیں کہلائے جائیں گے؟ اگر یہ بات درست ہے تو پھر آپ ہی بتائیں کہ اس وقت قومی سیاست میں کیا چل رہا ہے؟ مطلب ! کیا یہ رہ گئی ہے پاکستان کی سیاست؟کہ بشریٰ بی بی سیاست میں یہ کرتی رہی یا وہ کرتی رہیں،،، کیا تبادلے کروانا کرپشن ہوتی ہے؟ اصل کرپشن تو یہ لوگ کرتے ہیں کہ جس میں کمیشن بیرون ملک پہنچائی جاتی ہیں،،، جہاں سے دنیا بھر میں جائیدادیں خریدی جاتی ہیں،،، ہمیں اخلاقیات اور ہماری تربیت یہ درس دیتی ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے،، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ ہمارے لیے، قوم کے لیے، ملک کے لیے کتنا سود مند ہے،،، اور پھر ہماری ترقی بھی اُس وقت ہوگی یا ہم اُس وقت قوم بنیں گے، جب ہم دوسروں کی لائف میں تانک جھانک بند کردیں گے،،، اب سے کوئی ڈھائی ہزار سال قبل یونان کے مشہور فلسفی افلاطون نے کہا تھا کہ”ریاستیں، شاہ بلوط کی لکڑی سے نہیں بنتیں۔ریاستیں انسان کے کردار سے بنتی ہیں“۔ صدیاں گزر چکی ہیں ،اس قول کو ادا کیے ہوئے لیکن ہر زمانے میں سیاست اور ریاست سے اخلاق و کردار کے تعلق کو تسلیم کیا گیا ہے۔اس عرصے میں ریاست سازی کے لاکھوں تجربات ہوچکے ہیں۔ لہٰذاہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ باتیں درست ہیں کہ نہیںاور اس سے بھی غرض نہیں کہ ان باتوں سے خان کی ساکھ کو کوئی فرق پڑے گا یا نہیں؟ مگر یہ ٹائم لائن چیک کر لیں،،، کہ یہ سب کچھ 27ویں ترمیم کے دباﺅ کو کم کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی اخلاقیات کے زوال کے اس رجحان کے آگے بند کس طرح سے باندھا جائے اور اپنی نئی اور آنے والی نسلوں کو یہ کیونکر باور کرایا جائے کہ سیاست ایک مقدس عمل ہے اور انسان کی انفرادی نشوونما اور معاشرے کے ارتقا کے لیے سیاست ناگزیر چیز ہے۔سیاست اور ریاست کے حقیقی مفہوم کو اجاگر کرنے کے لیے اور سیاسی جماعتوں کے حقیقی جمہوری کردار کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اول تو موجودہ سیاسی جماعتوں کے سنجیدہ اور مخلص رہنما اور کارکن اپنی جماعتوں کی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی اہمیت کو سمجھیں۔اس لیے ہمیں ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ ہم کبھی ایک قوم نہیں بن سکیں گے! اور رہی بات بشریٰ بی بی کے طرز عمل کی تو یہ اُن کا ذاتی فعل ہے،،، صدقے دینا، یا اپنے شوہر کے لیے فکر مند ہونا ، ہماری مشرقی خواتین کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے،،، وہ اگر اپنے شوہر کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھیں تو اس میں کردار کشی کیسی؟ لہٰذاباز رہیں اور نئی دنیا میں قدم رکھ لیں،،، تاکہ افاقہ ہو!