قوم بھکاری بن گئی؟ حالات ٹھیک نہیں ہیں!

الحمد اللہ! ایک خبر اس وقت میرے سامنے ہے، جس کے مطابق میرے 60ہزار ہم وطن پاکستانی بہن بھائیوں کو رواں سال دنیا بھر سے بھیک مانگنے کے الزام میں آف لوڈ کیا گیا ہے، ،، سوچ رہا ہوں کہ یہ لوگ مانگنے کو ”آسان“ کمائی کا ذریعہ کیوں سمجھتے ہیں،،، رٹے رٹائے جملے بول کر کمانے میں اگر کسی چیز کا نقصان ہوتا ہے تو وہ صرف ”عزت نفس“ کا ہے،،، لیکن ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ”جیسی روح ویسے فرشتے“ یعنی جیسے ہمارے حکمران بھائی ہیں ویسے ہی ماشاءاللہ ہماری رعایا بنتی جا رہی ہے،،، جب آپ دنیا بھر میں کشکول لے کر پھریں گے تو قوم سے کیا اُمیدیں لگائیں گے؟ ویسے بھی ہماری عزت تو اُسی دن تار تار ہوگئی تھی جب ہمارے قائد محترم نے عرب دوستوں سے کیمروں کے سامنے یہ کہا تھا کہ ہمیں خ±بز (روٹی) کی ضرورت ہے، پچھلے 75سال سے آپ مسلسل کرم نوازی کر رہے ہیں، تھوڑی اور مہربانی فرمائیں، میں وعدہ کرتا ہوں ہم محنت کر کے آپ کے پیسے واپس کر یں گے، یہ کہنا عالمی بھیک منگی نہیں تو اور کیا ہے؟اسی بیان کو سن کر تو میرے عزیز ہم وطن دنیا بھر میں پھیلوگ گئے کہ ”روٹی“ ملنی چاہیے ،،، غیرت تو آنی جانی شے ہے،،، بلکہ دنیا بھر میں ہی نہیں پھیلے بلکہ پاکستان بھر میں یہی کام سب سے افضل سمجھا جانے لگا ہے،،، تبھی ایک اور رپورٹ اور عالمی سروے کے مطابق ہم بھیک مانگنے میں ”فشٹ “ آئے ہیں،،، یعنی برازیل دس نمبری نکلا۔ جہاں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ 80ہزار لوگ گلیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں، جن کا گزارا بھیک مانگنے پر ہے۔ نویں نمبر پر فرانس آتا ہے جہاں تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کے پاس گھر نہیں۔ آٹھویں نمبر پر امریکہ بہادر ہے جہاں چھ لاکھ 50 ہزار لوگوں کے پاس رہائش نہیں، وہ گلیوں، پلوں اور مارکیٹوں کے تھڑوں پر زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ گزارا چیریٹی اور بھیک پر کرتے ہیں۔ بھکاری ممالک کے ساتویں نمبر پر سوڈان ہے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ زندگی گزارنے، بھوک کو مارنے کیلئے بھکاری بن چکے ہیں۔ چھٹے نمبر پر سب سے پرانی تہذیب کا گھر مصر ہے۔ پانچویں نمبر پر بنگلہ دیش ہے۔ چوتھے نمبر پر ڈیمو کریٹک رپبلک آف کانگو ہے، جہاں 53 لاکھ لوگ مسلسل قبائلی جنگوں کی وجہ سے بھیک پہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تیسرا نمبرشام کا ہے جہاں 67 لاکھ سے زیادہ لوگ غربت کا شکار ہیں اور بھیک مانگنے پر مجبور۔ نائیجیریا انتہائی غربت والے ممالک میں دوسرے نمبر پر آیا جہاں 70 لاکھ لوگ ملک کے طول و عرض میں بھیک پر گزارا کرتے ہیں۔ جس کے بعد اول نمبر پر ہمارے ملک کا نمبر آتا ہے،،، جہاں 80لاکھ افراد روزانہ بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں،،، خیر ابھی راقم نے گزشتہ دنوں اس موضوع پر کالم لکھا تھا کہ بیروزگاری بڑھتی بڑھتی 7فیصد تک پہنچ چکی ہے،،، یعنی ہر 100ہنر مند میں سے 7افراد کے پاس نوکریاں نہیں ہے،،، وہ ایک ماہ مانگ تانگ کر گزارہ کرے گا،،، دو ماہ کرے گا،،، لیکن آخر کار اُسے اپنا گھر چلانے کے لیے کہیں نہ کہیں ہاتھ پاﺅں مارنا پڑیں گے،،، پھر یا تو وہ جرائم کی دنیا میں آجائے گا،،، یا ”آسان کمائی“ کو ذریعہ معاش بنا لے گا،،، یقینا یہ دونوں راستے ہی ملک کے لیے تباہی کا باعث بن رہے ہیں،،، جبکہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکمران اس کے برعکس دعوے کر رہے ہیں کہ سب اچھا ہے،،، معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوچکی ہے،،، ملک اونچی پرواز کر رہا ہے،،، وغیرہ لیکن ایسا کچھ نہیں ہے،،، اللہ جانے وہ لوگ کہاں گئے جو کہتے تھے کہ 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری وطن عزیز میں آئے گی،،، عوام کی مشکلیں ختم ہوں گی،،، نہیں یاد تو یاد کرواتا چلوں کہ جب 2023 کی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل قائم کی گئی تھی تو امید کی گئی تھی کہ ایک واحد ادارہ تمام سرمایہ کاری سے متعلق رکاوٹیں دور کرے گا، بیوروکریٹک پیچیدگی کو کم کرے گا، کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنائے گا اور وفاقی و صوبائی کوششوں کو ہم آہنگ کر کے سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے گا۔مگر اللہ جانتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا،،، بلکہ حد تو یہ ہے کہ حالیہ میڈیا رپورٹس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب 13 فیصد سے کم ہو سکتا ہے کیونکہ ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری دونوں ایسے درجے تک گر جائیں گی جو دہائیوں میں نہیں دیکھے گئے۔ یہ پہلے ہی سرمایہ کی کمی سے دوچار معیشت کے لیے ایک نیا کم ترین ریکارڈ ہوگا۔یہ انتباہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ مالی سال 2024 میں یہ تناسب پہلے ہی 13.1 فیصد تک گر چکا تھا جو پچھلے 50 سال میں سب سے کم سطح تھی اور اس وقت وسیع پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ اگلے مالی سال میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، لیکن اب واضح ہو چکا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات مو¿ثر ثابت نہیں ہوئے۔ نہلے پر دہلا یہ ہے کہ ”قابل حکمران “شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں اور یہاں تک کہ مستحکم غیر ملکی کاروبار بھی بتدریج مارکیٹ چھوڑ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سرمایہ کاری کے تناسب میں ممکنہ طور پر مزید گراوٹ آرہی ہے، جس کے سنگین اثرات ترقی، روزگار اور طویل مدتی اقتصادی استحکام پر مرتب ہورہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات میں سیاسی عدم استحکام، اداروں کی بربادی اور رُول آف لاءکا نہ ہونا ہے۔۔۔اور پھر حکومت کے تمام دعووں کے برعکس حقائق یہ ہیں کہ حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی سخت شرائط عائد کی ہیں، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 64 ہوچکی ہے۔ ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سخت اصلاحاتی روڈ میپ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صوبائی افسران کے اثاثوں تک بینکوں کو مکمل رسائی دینے، مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی رکاوٹوں پر جامع مطالعہ کرنے اور کرپشن کے زیادہ خطرے والے 10 محکموں کے لیے ایکشن پلان شائع کرنے کی شرائط بھی شامل ہیں، جن میں ترسیلاتِ زر کے اخراجات اور رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لینا بھی شامل ہے۔ حکومت کے پاس کوئی واضح گروتھ پلان موجود نہیں، اور جو منصوبے ہیں وہ 25 کروڑ آبادی والے ملک کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دسمبر میں جاری کردہ ایک ایپسوس (Ipsos) پول کے مطابق تقریباً 70 فیصد لوگوں نے محسوس کیا کہ ملک غلط سمت میں جارہا ہے۔ اس پول سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ قلیل مدتی معاشی استحکام کے حوالے سے حکومتی دعوﺅں کے باوجود 82 فیصد جواب دہندگان کو معیشت پر اعتماد نہیں۔ اور پھر اس وقت ہمارے دو صوبوں میں غیر یقینی صورتحال ہے،،، حکومت اسے کنٹرول نہیں کر پا رہی۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ملزم کٹہرے میں لائیں گے۔ ہم کنٹرول کریں گے اور بدامنی کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ باتیں اب پرانی ہو گئی ہیں۔ بدامنی کے واقعات کے بعد حکومت کہتی ہے کہ سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ واقعات روکنے کیلئے سکیورٹی سخت کریں۔ اور اسی سکیورٹی سخت کرنے کے عمل کے بعد انڈسٹری کا ڈاﺅن فال، صنعتوں کی مسلسل بندش اور معاشی عدم استحکام کا عمل شروع ہو جاتا ہے،،، اور پھر 26ویں اور 27ویں ترمیم کے ذریعے مکمل کنٹرول ہونے کے باوجود سنسر شپ، دباﺅ! سوال یہ ہے کہ ٹھیک کیا ہوا ہے؟ کیا ہم میں سے کوئی کوئٹہ کی حنّا جھیل‘ زیارت کے چلغوزہ پہاڑ یا قائداعظم کی ریزیڈنسی جیسے ملکی مقامات میں سیاح کی حیثیت سے جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا یہ کہنا واقعاتی بددیانتی نہیں کہ ملک کے حالات سازگار ہیں۔ درحقیقت اس وقت سارا نظام رولر کوسٹر پر سوار ہے۔ مسافروں کی چیخوں والی آڈیو بند کرنے سے رولر کوسٹر کی رفتار کم نہیں کی جا سکتی۔ قصہ مختصر کہ حالیہ مہینوں میں نہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے نکل گئیں بلکہ پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل کردیں، یہ ادارے توانائی کی کمر توڑ قیمتوں جو شعبہ بجلی میں حکومت کی دائمی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں اور مسلسل بلند شرحِ سود کے دباو¿ کا شکار ہیں۔اس لیے میرے خیال میں بقول حکومت سب اچھا ہے،،، یہ تاثر سرے سے ہی غلط ہے،،، حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں رکاو¿ٹ دراصل گہری ساختی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، ایک ایسی معیشت جو طاقتور طبقات کے قبضے کے تحت ہے، ٹیکس نظام میں بگاڑ اور بے شمار نظامی کمزوریاں۔ ان سب کو درست کرنے کے لیے وسیع اصلاحات درکار ہیں جن میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا، توانائی کے مہنگے اخراجات کم کرنے کے لیے پاور سیکٹر کی مکمل اصلاح، اور حکمرانی اور سیاسی استحکام کے وسیع چیلنجز کو حل کرنا شامل ہیں، یہ اقدامات کسی ایک سرمایہ کاری سہولت کار کے دائرہ اختیار سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ جب تک حکمران سیاسی ارادہ اور صلاحیت پیدا نہیں کرتے کہ یہ وسیع اصلاحات نافذ کریں، سرمایہ کاری کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوئی امید محض ایک خواب ہی رہے گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے۔ خوش گمانی کے لیے حکومت کا یہ دعویٰ تسلیم کرلینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ خیال گہرے تجزیے کا متقاضی ہے۔ اگر واقعی حقائق یہی ہیں تو پھر ملک میں بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے؟ مہنگائی اور ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم کیوں نہیں ہورہا؟ ہر حکومت معاشی اصلاحات کا دعویٰ تو کرتی ہے، مگر عوام کے لیے ریلیف کی بات نہیں کی جاتی۔ اب بھی آئی ایم ایف کی ہدایات پر عام آدمی کے لیے دی جانے والی سبسڈیز بند کردی گئی ہیں اور خوشحالی صرف اشرافیہ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بہرحال اس وقت اصل ضرورت طویل المدتی اور غیر سیاسی معاشی حکمتِ عملی کی ہے۔ ایسی پالیسی جو حکومتوں کے بدلنے سے نہ بدلے۔ کفایت شعاری کا آغاز ایوانِ اقتدار سے ہونا چاہیے، غیر ضروری مراعات کا خاتمہ، اداروں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، معاشی اصلاحات محض کاغذی کارروائی رہیں گی۔لیکن یہ اُس وقت ہوگا جب ملک بھر میں میرٹ کا نظام قائم ہوگا،،، جب عوام کی منتخب حکومتیں اقتدار میں آکر عوام کو جواب دہ ہوں گی،،، لیکن فی الوقت ایسا نہیں لگ رہا ،،، کیوں کہ حالات کو جان بوجھ کر عوام کے حق میں نہیں کیا جا رہا ،،،تاکہ یہ خوشحال ہو کر غلامی سے نجات نہ پالیں!