2025دفاعی کامیابی ،،، مگربدترین سیاسی سال !

پاکستان کی تاریخ میں کچھ سال شور و غوغا کے ہوتے ہیں اور کچھ خاموشی سے اپنی کہانی لکھ جاتے ہیں۔2025 ءبہت سی سفاکیوں اور بے یقینیوں کے ساتھ رخصت ہو رہا ہے۔ اس سال کو ہم قطعاََ مثالی سال نہیں کہہ سکتے،،، نہ سیاسی اعتبار سے نہ سماجی اور نہ ہی اقتصادی اعتبار سے ،،،، بلکہ ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں،، کہ اس سال بے روزگاری میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا،،، نوجوان ملک سے بھاگتے ہوئے پائے گئے،،،اور مزید 8لاکھ ہنر مند افراد نے پاکستان کو خیر آباد کہہ دیا۔ جبکہ فاعی اعتبار سے مئی میں پاکستان کو اپنے ازلی دشمن بھارت کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے بہت مسرت نصیب ہوئی۔دنیا نے ہماری دفاعی برتری کو تسلیم کیا۔ اسی وجہ سے بری فوج کے سربراہ کو فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی تفویض کیا گیا۔پھر ایک آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں کمانڈر آف ڈیفنس فورسز بھی پانچ سال کیلئے بنا دیا اور آئندہ کسی احتساب سے استثنیٰ بھی دے دیا۔لیکن ہم دفاعی کامیابی کے باوجوداپنے حریف بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر عمل دارآمد نہ کرواسکے،،، جس کا خمیازہ ہمیں اگلے کئی سال تک بھگتنا پڑے گا،،، اگر ہم سال 2025ءکو عوام کی نظر میں دیکھیں تو یہ سال بھی ایک آزمائش بن کر گزرا۔ مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں کا بوجھ، بجلی کے بل، گیس، پیٹرول، سب کچھ تھا، بس ریاستی ریلیف نہیں تھا۔حکومت نے سال کا آغاز “استحکام” کے نعرے سے کیا تھا، مگر عام آدمی کے لیے استحکام کا مطلب صرف یہ نکلا کہ اس کی آمدن منجمد رہی، جبکہ اخراجات آسمان پر چلے گئے۔صنعتیں بند ہوئیں، چھوٹے کاروبار ٹوٹے، نوجوانوں نے ہوائی اڈوں کو آخری امید بنا لیا۔ 80فیصد پاکستانیوں نے موجودہ حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا،،، اور 70فیصد نے حکومت سے نفرت کا اظہار کیا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ریاست پر عدم اعتماد کی ووٹنگ تھی۔جبکہ اس کے برعکس حکومت بار بار کہتی رہی کہ ”ہم نے معیشت کو سنبھال لیا ہے“، مگر اگر معیشت واقعی سنبھل گئی ہوتی تو عوام بھی اس بات کی تائید کرتے،،، مگر ایسا کچھ نہیں دیکھا گیا،،، روپے کی قدر، شرحِ سود، ٹیکس اور بجلی کی قیمتیں ،،، یہ سب ایسے تھے جیسے ریاست نے عوام پر تجربہ گاہ بنا رکھی ہو۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ حکومت نے اصلاحات کے بجائے فروخت کا راستہ چنا۔ سرکاری ادارے ٹھیک کرنے کے بجائے نیلامی کی میز پر رکھ دیے گئے۔ قومی اثاثے بیچ کر قرض اتارنے کو کامیابی کہا گیا، حالانکہ یہ آنے والی نسلوں کی آمدن گروی رکھنے کے مترادف ہے۔ سیاسی طور پر 2025 جبر کا سال تھا۔ پارلیمنٹ کمزور، میڈیا دباو¿ میں، اپوزیشن بکھری ہوئی اور عوام بے زبان نظر آئی ۔ حالانکہ یہ وہ ماحول ہوتا ہے جس میں غلط فیصلے سب سے آسان ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان پر سوال پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ خارجہ محاذ پر حکومت نے خود کو”کامیاب“ ثابت کیا، مگر ایک روپے کی بیرونی سرمایہ کاری لانے سے کاقاصر رہے،،، لیکن یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ حکومت کے ساتھ اصل مسئلہ نیت نہیں، بلکہ ترجیح ہے۔ ریاست نے بینکوں، اشرافیہ اور قرض دینے والوں کو تو مطمئن رکھا، مگر شہریوں کو بھلا دیا۔یعنی جب ریاست اپنے ہی لوگوں کو معاشی بوجھ سمجھنے لگے، تو وہ قوم نہیں رہتی ، وہ صرف اکاو¿نٹس بن جاتی ہے۔ 2025 تاریخ میں شاید ایک ”ٹرانزیشن ایئر“ کے طور پر لکھا جائے، مگر عوام کے لیے یہ ایک کھویا ہوا سال تھا۔اور کھوئے ہوئے سال قومیں نہیں بھولتیں۔ہم نے اس سال یہ بھی دیکھا کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوسکی،،، اور نہ ہی ملک کو امن و امان کا گہوارہ قرار دیا گیا۔ سرحدی علاقوں اور کچھ شہری مراکز میں دہشت گرد واقعات نے یاد دلایا کہ ریاست کو ابھی طویل لڑائی لڑنی ہے۔ 2025 کا ایک بڑا المیہ موسمیاتی بحران رہا۔ سیلاب، شدید بارشیں اور زرعی نقصانات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے محاذ پر سب سے زیادہ کمزور ملکوں میں شامل ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہر آفت کے بعد ہم وقتی امداد پر تو متحرک ہو جاتے ہیں، مگر طویل المدتی منصوبہ بندی، ڈیم، نکاسیِ آب، شہری منصوبہ بندی وغیرہ پھر فائلوں میں دب جاتی ہے۔ 2025 نے ہمیں یہ سخت سبق دیا کہ قدرت اب رعایت نہیں دے رہی۔ خیر آخر میں سوال یہ ہے کہ 2025 ہمیں کیا دے گیا؟درحقیقت یہ سال ہمیں سانس لینے کی مہلت دے گیا،،کہیں روزگار کے نئے دروازے نہیں کھل رہے۔ کوئی بڑے کارخانے نہیں لگ رہے۔ بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فی کس آمدنی فی کس ضروری اخراجات کا مقابلہ نہیں کر سکی۔پاکستانی روپے کو کوئی مضبوط سہارا نہیں مل رہا ہے۔ ایک ڈالر 280روپے تک پہنچا ہوا ہے۔ 1985ءسے پاکستان کو جو سیاسی قیادتیں میسر آ رہی ہیں وہ اب بھی حکومت میں اتحادی ہیں۔ 1985ءمیں ایک ڈالر 15 روپے کا تھا اب جبکہ 280 تک پہنچ گیا ہے،اس کے اثرات ہماری مجموعی معیشت پر بری طرح پڑرہے ہیں۔ بہرحال اسی لیے اس سال کو تاریخ میں ترامیم اور مخالفین کو دبانے کے سال کے حوالے سے یاد رکھا جائے ، اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اس سال” فیصلہ ساز“ گزشتہ 78سالوں میں اتنے ایکسپوز نہیں ہوئے جتنے اس سال ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی مثال بادی النظر میں ظالم ترین حکمران کی سی ہے،،، جیسے آپ حجاج بن یوسف کو دیکھ لیں،،، جو عراق کا گورنر تھا۔اُسکے اعمال نے اُسے ظلم و جبر کی علامت بنا دیا۔ ایک صحابی رسول حضرت عبداللّٰہ بن زبیرؓ نے عبد الملک بن مروان کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو مروان نے انکی سرکوبی کیلئے حجاج بن یوسف کو مکہ اور مدینہ بھیجا۔ حجاج بن یوسف نے مکہ کی ناکہ بندی کی اور سنگ باری کا حکم دیا۔مکہ اور مدینہ کے لوگ حضرت عبداللّٰہ بن زبیرؓ کی بڑی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے نواسے ، حضرت عائشہؓ کے بھانجے اورکئی نامور صحابہ کے شاگرد تھے۔ حجاج بن یوسف نے اس بزرگ صحابی کو شہید کرکے اُنکی لاش کو تین دن تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ حضرت عبداللّٰہ بن زبیرؓ کی والدہ حضرت اسماءنے بیٹے کی لاش سولی پر لٹکتی دیکھی تو بولی کہ شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا۔پھر حضرت سعید بن جبیرؓ ایک تابعی بزرگ تھے۔ انہوں نے ایک دن منبر پر کہہ دیا کہ حجاج ایک ظالم شخص ہے۔ حجاج کو خبر ملی کہ سعید بن جبیر نے اسے ظالم کہا ہے۔ اس بزرگ عالم دین کو گرفتار کر کے حجاج کے دربار میں پیش کیا گیا۔ جابر حکمران نے پوچھا کیا تم نے مجھے ظالم کہا ؟ تو انہوں نے جواب میں کہا ہاں تو ایک ظالم شخص ہے۔ یہ سن کر حجاج غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اُس نے سعید بن جبیرؓکے قتل کا حکم دیدیا۔ جب آپکو قتل کیلئے دربار سے باہرلیجانے لگے تو آپ مسکرا دیئے۔ حجاج نے پوچھا مسکراتے کیوں ہو؟ سعید بن جبیر ؓنے جواب میں کہا تیری بے وقوفی پر مسکراتا ہوں۔ اللّٰہ تجھے ڈھیل دے رہا ہے۔ حجاج نے فوری حکم دیا اسے میرے سامنے ذبح کرو۔ جب جلاد نے خنجر سعید بن جبیر کے گلے پر رکھا تو آپ نے چہرہ قبلہ کی طرف کیا اور کہا کہ اے اللہ! میرا چہرہ تیری طرف ہے میں تیری رضا پر راضی ہوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ہے نہ زندگی کا۔ اب کی دفعہ حجاج نے حکم دیا اسکا چہرہ پھیر دو۔جلاد نے چہرہ پھیر دیا تو سعید بن جبیر بولے یا اللہ! چہرے کا رخ جدھر بھی ہو تو ہر جگہ موجود ہے۔ مشرق و مغرب ہر طرف تیری حکمرانی ہے۔ انہوں نے کہا میری دعا ہے کہ میرا قتل اس ظالم کا آخری ظلم ہو ، اے اللہ میرے بعد اس ظالم کو کسی پر مسلط نہ فرمانا۔یہ جملہ ادا ہوتے ہی ایک حافظ قرآن حکمران حجاج بن یوسف کے حکم پر سعید بن جبیرؓ کو شہید کر دیا گیا۔ اُن کی شہادت کے چند دن بعد حجاج بن یوسف بیمار ہو گیا۔ وہ نفسیاتی مریض بن گیا۔ اُسے خواب میں سعید بن جبیرؓ نظر آتے تھے۔اسے بہت زیادہ سردی لگتی تھی۔ اسکے ارد گرد آگ جلائی جاتی لیکن وہ ٹھٹھرتا رہتا۔ حکماءنے بتایا وہ پیٹ کے سرطان کا شکار ہو چکا تھا۔ پھر اُس نے حضرت حسن بصری ؓکو دعا کیلئے بلایا۔ وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے کیونکہ وہ جیتے جی نشان عبرت بن چکا تھا۔ حجاج نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد میری قبر کا نشان مٹا دیا جائے کیونکہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت سعید بن جبیرؓ کی شہادت کے چالیس دن بعد حجاج کی موت واقع ہو گئی۔ حجاج بن یوسف کی اطاعت سے انکار کرنیوالے عالم دین سعید بن جبیرؓنے حضرت امام حسینؓ کی روایت کو آگے بڑھایا۔ لیکن جب کچھ علماءجابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بجائے اُسکی خوشامد شروع کر دیں تو پھر وہ علمائے حق نہیں علمائے سو کہلاتے ہیں۔خیر ڈر ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے مظلوم افراد میں سے کسی کی دعا اگر قبول ہوگئی تو پھر یہ لوگ بھی کہیں کے نہ رہیں گے،،، بہرکیف بات 2025کی ہو رہی تھی،،، توہم نے نا تو کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے کوئی ترقی کی اور نہ ہی انصاف دینے میں۔ بلکہ ہمارے ملک کے کرپٹ اداروں کے حوالے سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہے، اس کے بعد ٹھیکے دینے اور کٹریکٹ کرنے کا شعبہ اور پھر عدلیہ ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بالترتیب چوتھے اور پانچویں کرپٹ ترین شعبے ہیں۔ مقامی حکومتیں، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ کسٹم، ایکسائز اور انکم ٹیکس بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں کرپٹ ترین ادارے ہیں۔ پبلک سروس ڈیلیوری کی ٹرمز کے مطابق عدلیہ میں رشوت کا اوسط خرچ سب سے زیادہ 25 ہزار 846 روپے ہے۔اور پھر یہ سب ادارے دنیا بھر میں بھی پاکستانی سبکی کا سبب اُس وقت بنتے ہیں جب ہمارا ملک دنیا کے ایماندار ملکوں کی فہرست میں 144ویں نمبر پر دیکھا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ نئے سال میں ہم اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں گے،،، یا یہ سب کچھ ایسے ہی چلنے دیں گے،،، جیسے چل رہا ہے اور عوام بھی اسی پر اکتفا کیے رکھیں گے،،، کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے مقدر میں ہی یہی ہے!