2026کو ”سیاسی امن“ کا سال بنائیں!

آج ایک اور نئے سال 2026ءکا سورج طلوع ہوچکا ہے۔ نہ سورج، چاند، زمین کی گردش میں کبھی ایک لمحہ کا فرق آیا۔ نہ ماہ وشب کا سلسلہ کبھی رُکا، زندگی نے ساتھ دیا تو ہم اگلے سال بھی یونہی نئے سال کی خوشیاں منا رہے ہوں گے،،، کہ ہمیں ایک اور نیا سال منانے کی قدرت نے مہلت دی ہے،،، نئے سال کے آغاز میں ہمیشہ دعائیں مانگی جاتی ہیں،،، کہ یا اللہ تعالیٰ یہ سال ہمارے لیے، ہمارے خاندان کے لیے ، دوستوں کے لیے اور سب سے بڑھ کر ملک کے لیے برکتوں والا سال ہو،،، بقول شاعر بھر نیا سال نئی صبح نئی اُمیدیں!!!! اے خدا خیر کی خبروں کے اُجالے رکھنا خیر اُمید کی جا سکتی ہے کہ 2025کے برعکس 2026 پاکستان کے لیے نیک شگون سال ہو،،،کیوں کہ عوام اس سال میں خوشحالی چاہتے ہیں،،، امن چاہتے ہیں،،، رواداری چاہتے ہیں۔اور یہ کوئی انقلابی مطالبات نہیں۔ یہ کسی باغی گروہ کی پکار نہیں۔بلکہ یہ ایک تھکے ہوئے معاشرے کی آہ ہے جو کئی برسوں سے تصادم، انتقام اور غیر یقینی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ پاکستان کے عوام اب یہ نہیں پوچھ رہے کہ اقتدار کس کے پاس ہے، وہ صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ یہ اقتدار ملک کے لیے کب استعمال ہوگا؟آج کی حقیقت یہ ہے کہ طاقت کے تمام ستون ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔پارلیمنٹ فیصلے کرنے والوں کے مطابق ہے۔عدالتیں ان کے تابع ہو چکی ہیں۔آئین میں مرضی کی ترامیم ہو چکی ہیں۔الیکشن کمیشن انہی کے زیرِ اثر ہے۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی جیسی جماعت، جو خود کو کبھی اسٹیبلشمنٹ مخالف کہتی تھی، اب اسی نظام کا حصہ ہے۔انہیں تاحیات قانونی استثنیٰ حاصل ہو چکا ہے ،،، تحفظ، ،،مراعات سب حاصل ہو چکے ہیں تو ڈر کس بات کا ہے؟ یعنی اگر آپ جیت چکے ہیں، تو پھر یہ مسلسل کریک ڈاو¿ن کیوں؟ یہ گرفتاریوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کیوں؟ یہ سیاسی کارکنوں پر مقدمات کیوں؟ یہ عورتوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کو جیلوں میں کیوں ڈال رکھا ہے؟ کیا انتقام جیتا ہوا نظام عام طور پر طاقت نہیں دکھاتا، اعتماد دکھاتا ہے۔فاتح اپنے مخالفین کو کچلتا نہیں، ا±نہیں معاف کرتا ہے۔آپ خود کہتے ہیں کہ آپ نے 2024 اور 2025 میں فیصلہ کن فتوحات حاصل کر لی ہیں۔آپ کے مطابق آپ نے نظام کو ”مستحکم“ کر دیا ہے۔آپ کے مطابق آپ نے ریاست کو ”کنٹرول“ میں لے لیا ہے۔تو پھر ایشو کیا ہے؟ کیوں روزانہ اڈیالہ کے باہر تماشہ لگایا ہوتا ہے،،، اڈیالہ کے رہائشیوں کی زندگی کیوں اجیرن کر رکھی ہے؟ کیوں ایک قیدی کا قانونی استحقاق اُسے نہیں دیا جا رہا ہے؟ دنیا جانتی ہے کہ 2024 اور 2025 میں کیا ہوا۔عالمی میڈیا جانتا ہے۔عالمی سرمایہ جانتا ہے۔سفارت کار جانتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر پاکستانی نوجوان جانتے ہیں۔کہ آپ نے ملک کو ”ہارڈ اسٹیٹ“ کیوں بنا رکھا ہے؟ تبھی آپ کو پورا زور لگانے کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری نہیں آرہی ،،، اس لیے آپ کو 2026میں اپنی روش بدلنے کی ضرورت ہے،،، آپ کو اپنی پوری توانائیاں ایک جماعت کو دبانے میں صرف کرنے کے بجائے ملک میں ٹیکنالوجی کو لانے،،، نئی Inovationsکرنے کو ترجیح دینے میں اپنی توانائیاں صرف کریں،،، تاکہ ملک میں معیشت کا پہیہ چل سکے۔۔۔ قصہ مختصر کہ آپ جیتے ہوئے ہیں،،،ا ور جیتا ہوا بندہ ہمیشہ رواداری دکھاتا ہے،،، اور گرے ہووﺅں کو اُٹھاتا ہے،،، انصاف پسندی دکھاتا ہے، اور یہ دکھاتا ہے کہ دنیا میں اُس سے زیادہ مصلحت پسند کوئی نہیں ہے،،، چلیں ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ تحریک انصاف کے جیلوں میں بند سیاسی کارکنان کو رہاکردیں،،، عورتیں اندر ہیں،، بوڑھے اندر ہیں،،، نوجوان جو پاکستان کا مستقبل ہیں،،، وہ اندر ہیں،،، ہمیں اُمید ہے کہ وہ سیاسی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں گے،،، اور اگلے الیکشن تک خاموش رہیں گے،،، لیکن اگر آپ کوپھر بھی ڈر ہے کہ وہ سڑکوں پر آئیں گے، احتجاج کریں گے تو عدالتیں،،، پولیس ،،، سکیورٹی ادارے سب کچھ آپ کا ہی ہے،،، آپ اُنہیں دوبارہ بند کر دیں،،، اس میں مسئلہ کیا ہے؟ بلکہ آپ نے تو عدالتوں کی اچھی طرح ”صفائی“ بھی کر لی ہے، ”جعلی ڈگری“ والے ججز بھی نکال دیے ہیں،،، چند ناپسند استعفیٰ دے گئے ہیں،،،تو اب مسئلہ کہاں اٹکا ہوا ہے؟ رہا کریں ان کو، سارے معاملات خود حل ہو جائیں گے،،، بہرحال ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ سال 2026ءمیں بہت کچھ کریں ،،، مگر یہ ضرور کریں کہ ہمارا اثاثہ ہمارے نوجوان مایوسی سے باہر نکل آئیں،،، قوم کا مورال جو اس وقت خاصی حد تک ڈاﺅن ہو چکا ہے،،، وہ ”اپ“ ہو جائے،،، کیوں کہ اس وقت نوجوان مایوس ہیں۔ہنرمند باہر جا رہے ہیں۔کاروباری سرمایہ باہر منتقل کر رہے ہیں۔ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹس ،،،سب ویزا لائنوں میں کھڑے ہیں۔یہ کسی سیاسی پارٹی کی شکست نہیں ، یہ ریاست کی شکست ہے۔آپ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف خطرہ ہے۔لیکن اگر وہ واقعی کمزور، غیر مقبول اور غیر مو¿ثر ہے تو پھر اسے جیلوں میں بند رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟میں پھر کہوں گا کہ عورتیں اندر ہیں۔بوڑھے اندر ہیں۔نوجوان اندر ہیں وہ نوجوان جو پاکستان کا مستقبل ہیں۔آپ کو خوف ہے کہ وہ نکل کر احتجاج کریں گے۔لیکن اگر آپ اتنے طاقتور ہیں تو احتجاج سے کیا خطرہ؟بہرحال سچ یہ ہے کہ طاقت کا سب سے بڑا دشمن اخلاقی خلا ہوتا ہے۔اور یہی خلا آج ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔نیا سال ہمیں ایک موقع دے رہا ہے،،، شاید آخری موقع کہ ہم سیاست کو انتقام سے نکال کر معاشی بقا کی طرف لے آئیں۔ملک کو دشمنوں سے نہیں،ملک کو بیروزگاری سے خطرہ ہے۔ملک کو مہنگائی سے خطرہ ہے۔ملک کو نوجوانوں کی ہجرت سے خطرہ ہے۔اور یہ سب اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک سیاسی درجہ حرارت نیچے نہیں آئے گا۔اسے نیچے لانے کے لیے اقدامات اُٹھائیں،،، نئے سال میں،پاکستان کے بارے میں سوچیں ، سیاست سے پہلے۔ہم اس سال خوشحالی، امن ، رواداری چاہتے ہیں، اب تو یہ چیزیں قائم کرنے میں مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہیے،،، بہرکیف پاکستان ایک بار پھر نیا سال ایک بھاری دل کے ساتھ شروع کر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ادارہ جاتی بحران اور سیاسی بے یقینی — یہ سب مل کر ایک ایسی فضا بنا چکے ہیں جہاں سب سے قیمتی شے اعتماد ناپید ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر 2026 واقعی کچھ بدلنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے سیاسی کشیدگی کم کرنے کا سال بننا ہوگا۔ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاست تصادم کی طرف گئی، ریاست کمزور ہوئی۔ 1950 کی دہائی سے لے کر آج تک، ہر سیاسی بحران نے معیشت کو پیچھے دھکیلا، سرمایہ کاری روکی، اور عوام کو مزید غربت میں دھکیلا۔ طاقت کے مراکز کے درمیان جنگ میں ہمیشہ عوام ہارتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے سیاست کو مسئلہ حل کرنے کے بجائے مسئلہ بنانے کا فن سیکھ لیا ہے۔اور پھر حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں نے ایک دوسرے کو کچلنے کو کامیابی سمجھ لیا ہے۔ ایک فریق طاقت کے سہارے حکومت چلاتا ہے، دوسرا سڑکوں یا بیانیوں کے ذریعے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کشمکش میں نہ اصلاحات ہوتی ہیں، نہ معیشت سنبھلتی ہے، نہ ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔پاکستان کے اصل مسائل سیاسی نہیں، معاشی اور انتظامی ہیں ، مگر سیاسی لڑائیاں ان سب پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ جب پارلیمنٹ بحث کے بجائے گالی کا میدان بن جائے، جب عدالتیں سیاست کا مرکز بن جائیں، اور جب میڈیا فریق بن جائے تو ریاست کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ نیا سال ہمیں یہ یاد دلا رہا ہے کہ ہم مزید انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ملک پہلے ہی قرض، بیروزگاری اور نوجوانوں کی ہجرت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر سیاست دان بھی جنگی مورچوں میں بیٹھے رہیں گے تو یہ ریاست نہیں، صرف ایک تنازعہ رہ جائے گی۔سیاسی کشیدگی کم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف ختم ہو جائے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے۔ مگر اختلاف کو دشمنی اور غداری میں بدل دینا جمہوریت کا قتل ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ حکومت کو گرانا سیاست نہیں، حکمرانی کو بہتر بنانا سیاست ہے۔نیا سال ایک موقع ہے کہ حکومت طاقت کے نشے سے نکلے، اور اپوزیشن انتقام کی سیاست چھوڑے۔ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، اور سیاست دان اپنی ذمہ داریوں میں۔ اگر ہم یہ کر لیں تو شاید معیشت کو سانس ملے، سرمایہ کار کو اعتماد ملے، اور عوام کو سکون۔ یہ سال پاکستان سے صرف ایک سوال پوچھ رہا ہے:کیا ہم لڑتے رہیں گے، یا مل کر جئیں گے؟اگر ہم نے لڑائی کو ہی اپنا مقدر بنائے رکھا، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی آنے والی نسلیں۔اس لیے دعا ہے کہ یہ سال ہمارے لیے کامیابی کا سال بنے،،، ملک میں استحکام آئے،،، معاشی طور پر مضبوطی لائے،،، ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئے،،، سیاستدانوں کو اللہ سیدھی راہ دکھائے،،، عدالتیں میرٹ پر کام کریں،،، ملک میں تبدیلی لانے والا ادارہ الیکشن کمیشن اپنی صحیح سمت کا تعین کرے،،، ملک میں امن و امان قائم ہو،،، بلوچستان کے حالات سازگار ہوں، وہاں بھارت کی ایما پر دہشت گردی پھیلانے والی تنظیمیں بے نقاب ہوں، اللہ کے پی کے کو محفوظ رکھے،،، وہاں افغانستان کی دراندازی کو ختم کرے،،، افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتری کی طرف ہوں،،، آج بنگلہ دیش میں بھارت کے وزیر خارجہ اور ہمارے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے،،، اُمید ہے دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلے گی،،، اور حالات نارمل ہوں گے،،، انہی نئی اُمیدوں کئی امنگوں، نئے خوابوں اور نئے رنگوں کیساتھ ہر موسم بہار کی طرح آپکی زندگی میں بھی بہار آئے۔ آپ سب کو نیا سال مبارک۔