کرسمس پر سیمینار”جو مختلف ہیں وہی حسنِ چمن“

کسی بھی ملک کی اصل پہچان اس کے طاقتور طبقے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور اقلیتی شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اقلیتیں ہر معاشرے کا وہ آئینہ ہوتی ہیں جس میں ریاست کا اصل چہرہ نظر آتا ہے۔ پاکستان بھی اسی امتحان سے گزر رہا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ملک کسی ایک مذہب یا طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر کہا تھا کہ ریاست کا شہریوں کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ مگر عملی طور پر ہم نے اس نظریے کو فراموش کر دیا۔ آج اقلیتی شہریوں کو نوکری، تعلیم، انصاف اور تحفظ کے میدان میں امتیازی رویوں کا سامنا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں محض انفرادی جرائم نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت ہیں۔ جب کسی مسیحی، ہندو یا سکھ خاندان کو اپنی عبادت گاہ یا شناخت کے باعث خوف میں جینا پڑے تو یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ ریاست کی ساکھ پر سوال بن جاتا ہے۔ یہ بات بھی تلخ حقیقت ہے کہ بعض عناصر مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا کر معاشرے کو تقسیم کرتے ہیں۔ ایسے میں خاموش اکثریت کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر اچھے لوگ خاموش رہیں تو برے لوگ تاریخ لکھ دیتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات ہمیں اقلیتوں کے احترام، تحفظ اور انصاف کا حکم دیتی ہیں۔ میثاقِ مدینہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ غیر مسلم شہریوں کو برابر کا شہری سمجھتا ہے، نہ کہ دوسرے درجے کا۔آج پاکستان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ قومی ہم آہنگی ہے۔ اقلیتوں کو شک کی نگاہ سے نہیں بلکہ اپنی طاقت سمجھا جائے۔ کیونکہ جو ملک اپنے کمزور شہریوں کو ساتھ لے کر نہیں چلتا، وہ کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتا۔ اسی سوچ کو سامنے رکھ کر ”لیڈر گروپ“ نے گزشتہ دنوں اقلیتوں کی دلجوئی کیلئے کرسمس کے موضوع پر ایک سیمینار اور محفل موسیقی کا انعقاد کیا، جس میں کرسچن کمیونٹی کے معززین سمیت دیگر مذاہب کے رہنماﺅں نے شرکت کی۔ یہ سیمینار لاہور پریس کلب میں ہوا،،، جس میں سینئر صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنے کثیر تعداد میں کی۔اس موقع پر راقم سمیت، سینئر تجزیہ کار و کا لم نگارامتیاز عالم ،سینئر تجزیہ کار محسن گورائیہ، ڈاکٹر اشرف نظامی، جیکو لین ٹریسلر سابقہ مائنوریٹی ایڈوائزر گورنر پنجاب،سرداردرشن سنگھ پرائیڈ آف پرفارمنس حکومت پاکستان، صدر چراغ یونین واساجوزف جوئیہ،میڈم فاخرہ سلطانہ، پاسٹر عمر مسیح، پاسٹر شمعوں مشتاق ،ڈائریکٹرآئزک ٹی وی پاسٹر منیر بھٹی،ڈی ایم ڈی آپریشن واسا عبدالطیف،ایڈیٹر روزنامہ لیڈر خرم پاشا ،میاں عمران، علی اصغر، طاہر عنایت، میاں عرفان،قیصر عباس، چوہدری اسلم،طارق ہدایت،حمیربائیکر،سارہ ،مایہ ناز گلو کار شبانہ عباس، عمران شوکت علی و دیگر نے شرکت کی ، سٹیج سیکریٹری کے فرائض سینئر صحافی علامہ صدیق اظہر اور خاور بیگ نے سر انجام دئیے۔ تقریب کا آغاز کلام پاک سے کیا گیاجس کے بعد پاسٹر عمر معراج مسیح نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور موجود مہمانوں کے لئے امن ، سلامتی اور خوشحالی کی دعا دی۔ اس موقع پر جیکو لین ٹریسلر نے کہا کہ ہماری نئی نسل دوسرے ممالک جانے کی کو شش کرتی نظر آتی ہے،،، ہمارے پاس ابھی بھی جتنے مواقع موجود ہیں شاید ہی کسی کے پاس ہوں،،، لیکن میرا پاکستان کو چھوڑنے کاکبھی بھی ارادہ نہیںبنا ، انہوں نے کہا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق برابر ہیں،،، مزید کہا کہ جب سب سے پہلے میں بین المذاہب ہم آہنگی قومی امن کمیٹی بنی تھی تب اس کمیٹی میں میں واحد خاتون تھی۔میں بطور پاکستانی فخر محسوس کرتی ہوں،،، کیوں کہ میری پہچان ہی پاکستان سے ہے،،، ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ کرسمس صرف ایک تہوار کا نام نہیں ہے بلکہ انسانیت کا نام ہے۔ انہوں نے کہا آج کا دن انسانیت کی مبارکباد کا دن ہے، میرا تعلق میڈیکل سے ہے، آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب اپنے چھوڑ جاتے ہیں تو ایسے مریض کو سنبھالنا، تو اُس وقت جو لوگ اُن کی خدمت کرتے ہیں اُنہیں میڈیکل پروفیشنل کہتے ہیں،،، اور ہماری میڈیکل ایسوسی ایشن اقلیتوں کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں،،، اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں ہونے والے حملوں کی مسیحی برادری نے پرزور مذمت کی۔ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر واسا آپریشن عبد الطیف نے کہا کہ لیڈر میڈیا گروپ کی طرف سے کرسمس گالا کا اہتمام کرنا اقلیتوں سے محبت کی نشانی ہے اور میں ان کی کاوشوں کو سراہتا ہوں یہ دن ہمیں قوت بر داشت کا درس دیتا ہے۔ سینئر تجزیہ کار و کا لم نگارامتیاز عالم نے کہا کہ پہلے پہل کرسمس کو صرف مسیحی برادری عقیدت و احترام سے مناتی تھی ،،، لیکن اب یہ یونیورسل ایونٹ بن چکا ہے سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک نقصان کو ابھی تک پورا کرنے کی کو شش کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے پورے ہندوستان میںاقلیتی برادری سے ناروا سلوک تھا۔ اس کی بڑی وجہ اور مثال یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی مسیح صدر نہیں بن سکتا۔ ہمیں قانون سازی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔سینئر صحافی اور سابق صدر لاہور پریس کلب محسن گورایئہ نے کہا کہ میں بہت سے ممالک گھوم چکا ہوں لیکن پاکستان میں مسیحی برادری کو جتنا پیار اور محبت ملی ہے میں وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں دیکھی۔فاخرہ سلطانہ نے کہا کہ پورے دنیا کی تاریخ مسیحی برادری کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔اسلام بھی ہمیں رواداری اور برابری کا درس دیتا ہے۔اسلام ہمیں رواداری سکھاتا ہے،،، تمام مذاہب کی بنیادیں ایک جیسی ہیں،،، مگر اسلام اور عیسائیت میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہیں،،، کہ ہمارے آقا نے فرمایا تھا کہ اہل کتاب بھائی بھائی ہیں۔ سرداردرشن سنگھ (پرائیڈ آف پرفارمنس حکومت پاکستان) نے اقلیتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پوری دنیا گھوما ہوں جتنی عزت مجھے پاکستان میں ملی ہے کہیں اور نہیں ملی اس پورے پاکستان سات ہزار کے لگ بھگ سکھ رہائش پذیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان میں جو شہرت ملی وہ صرف اسی لیے ملی کہ ہم نے یہاں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ اس کے علاوہ ہمیں اس حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں،،، انہوں نے کہا موجودہ تقریب ایک گلدستہ ہے، جہاں مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی سبھی مذاہب کو اکٹھا کیا ہے،،، تقریب کے اختتام پر راقم نے تمام معزز مہمانوں، سنیئر صحافیوں اور سیا سی و سماجی شخصیات کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ جتنا نقصان ہمیں اپنوں نے پہنچایا ہے کسی غیر نے نہیں پہنچایا بھٹو کو پھانسی مسیحی نے تو نہیں دی تھی ، بے نظیر کو شہید کرنے والے کیا مسلمان نہیں تھے۔ اصل میں مذہب کو پیشواﺅں نے کاروبار بنا دیا ہے۔اور اپنی اپنی دوکانداری کھول رکھی ہے اور سب کی یہی کو شش ہوتی ہے کہ دوسری دوکان بند ہو جائے اور ہماری دوکان پر رش لگا رہے ہمیں اس حوالے سے بھی غور و فکر کی ضرورت ہے۔پاکستان میں صرف اقلیتیں ہی نہیں پستی،، بلکہ ہر کمزور طبقہ پستا رہا ہے،، ، مسلمان ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو،،، یہاں کسی کے حقوق بھی سلب کرنا زیادتی ہے،،، ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں میں شمار ہونا چاہیے،،، ہمیں کوشش کرنی چاہیے، کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں اور یہ ملک اقلیتوں کے لیے جنت بن جائے،،، بہرحال ہم سب کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ دنیا ہمیں بہترین القابات سے پکارے،،، کیوں کہ وہ ہمیں شدت پسند، انتہا پسند، دقیق نظریے کے حامل لوگ، تنگ نظر لوگ، معتصب افراد، کم ہمت و کم حوصلے والے افراد، بیزار لوگ اور ناجانے کن کن القابات سے پکارتے ہیں۔ اور پھر تب انتہا ہو جاتی ہے جب ہمارے ہاں سے کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے کہ فلاں مذہب کے افراد کی پوری بستی کو آگ لگا دی گئی، فلاں غیر مسلم شخص کو جلا دیا گیا، فلاںخاتون کو مذہب کے فلاں مقدمے کے تحت گرفتار کر لیا گیا وغیرہ ۔ اور پھر ان افراد پر بغیر کسی سنجیدہ تفتیش کے عوامی دباﺅ کو مدنظر رکھ کر سخت سے سخت سزا کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ شاید اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے بھی یہ چیز معیوب نہ لگتی مگرجب میں بیرون ملک جاتا ہوں تو سب اس ”تنگ نظر“ قوم کے ایک ادنیٰ سے باشندے کو حیرت سے دیکھتے ہیں کہ جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آیا ہوں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم بیرون ملک بھی اقلیتوں کو لے کر اکثر آئیں بائیں شائیں کی باتیں مارتے ہیں، مگر وہ سارے اعداد و شمار ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ میرا بیٹا جو امریکا میں زیر تعلیم رہا ہے ، وہ حالات حاضرہ کے حوالے سے انتہائی سمجھدار ، اور مسائل کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتا ہے۔وہ بھی بسا اوقات اپنے دیگر ساتھیوں کے سامنے اس حوالے سے کئی بار خاموش رہا ہے کہ ہم بطور پاکستانی سب کو آزادی سے کیوں نہیں جینے دیتے؟ اُنہیں اُن کے حقوق سے محروم کیوں کرتے ہیں۔راقم نے اس پر ایک کتاب ”پاکستان کی روشن اقلتیں“ بھی لکھی ہے،،، جو تقریب کے آخر میں تقسیم بھی کی گئی تھی،،، یہ میں نے اسی لیے لکھی تھی تاکہ اقلیتوں کے بارے میں نئی نسل میں آگہی پیدا کی جائے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور پاکستان بننے کے خواب میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔جب میں نے اس کتاب کے لکھنے کے حوالے سے سوچا تو میرے ذہن میں چند شخصیات کے نام آئے جن میں جوگندر ناتھ منڈل جو پاکستان کے پہلے وزیر قانون تھے، سابق چیف جسٹس اے آر کارلینئس جن کے فیصلے پاکستان کی قانون کی کتابوں میں حوالے کے طور پر پڑھائے جاتے ہیں، سر وکٹر ایلفرڈ جنہوں نے پاکستان کا سول سروس کا سٹرکچر بنایا،ڈاکٹر رتھ فاﺅ جن کی پاکستان میں کوڑھ کے خلاف خدمات پڑھیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، ڈاکٹر عبدالسلام جن کے بعد آج تک کوئی نوبل پرائز نہ حاصل کر سکا، سیسل چوہدری جنہوں نے 1965اور 1971کی جنگوں میں بھارت کے خلاف پاکستان کے لشکر میں فرنٹ مین کا کردار ادا کیا، حالیہ تاریخ میں جسٹس بھگوان داس جنہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا، ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک جنہوں نے اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، دانش کنیریا جنہوں نے پاکستان کرکٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہر ہ کیا۔ ان شخصیات کے علاوہ میرا بہت سے ایسی شخصیات سے بھی تعارف ہوا جنہیں میں نہیں جانتا تھا، جیسے میجر جنرل جولین پیٹر، جنرل سرفرینک والٹر مزروی، سسٹر گرٹروڈے جیسی شخصیات کی خدمات عام آدمی جاننے سے قاصر ہے۔ لہٰذاہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بھی اقلیتوں کے حقوق کی بات کریں،،، اُن کی دلجوئی کے لیے ایسے اقدامات کریں کہ اُنہیں کبھی احساس کمتری نہ ہو،،، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہمیں انفرادی طور پر بھی ان اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ دنیا ہمیں اچھے لفظوں میں یاد رکھے ،،، بقول شاعر جو مختلف ہیں وہی حسنِ چمن ایک ہی رنگ سے بنتا نہیں گلشن