”جین زی“ کو سنبھالیں! ورنہ ، کہیں یہ گلے نہ پڑ جائیں!

گزشتہ ایک ہفتے سے سوشل میڈیا، سرکاری پلیٹ فارمز اور مین اسٹریم میڈیا پر نوجوانوں کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے،،، وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک نوجوان نے ایک اخبار میں آرٹیکل لکھا جس میں اُس نے ”سرکار“ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”اقتدار میں بیٹھے ہوئے عمر رسیدہ ٹولے کیلئے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل وہ سب کچھ خریدنے کو تیار نہیں جو آپ انہیں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نوجوان ذہن، یعنی جنریشن زی اور الفا، بخوبی جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ عمر رسیدہ لوگوں (Boomers) کیلئے اب سب ختم ہو چکا ہے۔ انکا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ نظام کے درمیان ایک بہت بڑا خلا نظر آتا ہے۔ یہاں کوئی درمیانی راستہ نہیں۔ جنریشن زی تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، جبکہ اقتدار میں بیٹھے لوگ مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زی سستے اسمارٹ فونز چاہتی ہے، بوڑھے لوگ اسمارٹ فونز پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زی فری لانسنگ پر پابندیوں میں نرمی چاہتی ہے، بوڑھے لوگ فری لانسنگ پر ضابطے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انکے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی نسل ہار چکی ہے۔ آپ جتنی چاہیں جنگیں چھیڑ لیں، جنریشن زی انکا مذاق (Memes) بنا دے گی۔ تمام مین اسٹریم میڈیا پر پابندی لگا دیں، ”جنریشن زی“ اپنی رائے کے اظہار کیلئے رمبل (Rumble)، یوٹیوب اور ڈسکارڈ جیسے پلیٹ فارمز پر چلی جائے گی۔ آپ کی کوششوں کی بدولت ہمیں جو معیشت وراثت میں ملی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود، ہم کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں سکون تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ان دھندلے پانیوں میں راستہ بنا رہے ہیں۔ ہم آپ کو ٹی وی پر نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر اوقات آپ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ ہذیانی (Hysterical) ہوتا ہے۔ ہمارے پاس اس کیلئے اسٹینڈ اپ کامیڈی موجود ہے، تو مین اسٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟ وقت بدل رہا ہے اور آپ جتنا جلد اسے سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن آپ کو پروا بھی نہیں۔ آپ کے بچے بیرون ملک ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ بے لگام طاقت کا لطف اٹھا رہے ہیں، آپ بہترین کھانے کھاتے ہیں اور صاف ترین پانی پیتے ہیں، تو آپ کو کیوں پروا ہوگی؟ آپ کو تب احساس ہوگا جب آپ کو معلوم ہوگا کہ اب کوئی آپ کو نہیں سن رہا۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ جنریشن زی نے اپنے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور ان کا اسپاٹی فائی (Spotify) پیڈ ہے، اگر حالات ناقابل برداشت ہو گئے تو آدھے لوگوں کے پاس چھوڑ کر جانے کے وسائل ہوں گے، اور باقی آدھے لوگ آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے، اور وہ بھی اچھے طریقے سے نہیں“۔وغیرہ سوال یہ ہے کہ نوجوان اب ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟ شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ حکومت اُنہیں سننے سے گریزاں ہے،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ حکمران طبقہ اُنہیں کچھ سمجھتا ہی نہیں،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ اُن کے خوابوں کے قائد کو اس وقت جیل میں بند کیا ہوا ہے،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ اُن کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ ملک میں اُنہیں اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ اُنہیں ملک میں اب جاب سکیورٹی نہیں مل رہی،،، نہ ہی اُنہیں جاب گارنٹی مل رہی ہے،،، یعنی آج جاب ہے، کل نہیں ہوگی،،، شاید وہ اس لیے بھی سوچ رہے ہیں کہ اُن کا ملک ،،، اُن کے ساتھ آزاد ہونے والے باقی ملکوں سے پیچھے کیوں رہ گیا ہے،،، شاید وہ سخت مایوسی کا شکار ہیں یا شاید وہ بیرون ملک بھاگنے کی کوشش میں ہیں لیکن وہ بھاگ بھی نہیں پا رہے،،، خیر جوبھی ہے،،، سچ تو یہ ہے کہ ہم اُن کے ساتھ مکالمہ کر ہی نہیں رہے،،، اگر کسی مکالمے میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے نوجوان معیشت کے بارے میں سوال کرتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کو معیشت کا علم ہی نہیں ہے،،، حالانکہ اُنہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ سے مخاطب ہیں،،، اس لیے نوجوانوں میں مایوسی بڑھنا شاید فطری عمل ہے،،، لیکن جو بھی ہے،،، سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ نہیں کیا، ہم نے نئی نسل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، ہم نے نوجوانوں کو مایوس کیا، برسوں سے ایک نسل خود کو کوس رہی ہے۔ جبکہ سرکار اعتراضات کے جواب میں سزا یافتہ مجرم کی طر ح خاموش ہے۔اور ہر اُس بولنے والے کو اپنا دشمن سمجھتی ہے جو ”حق“ کی بات کرتا ہے،،، اور جو حق کی بات کرتا ہے اس کے بارے میں قیاس آرائیاں پیدا کی جاتی ہیں کہ یہ پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف ہیں،،، یا یہ ملک کے خلاف ہے، ،، میرے خیال میں یہ تاثر ختم ہونا چاہیے،،، اور پھر اگر ایک شخص کہتا ہے کہ ملک میں منصفانہ الیکشن ہونے چاہیے،،، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بندہ پی ٹی آئی کا ہے ،،، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے،،، بلکہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نوجوانی میں انسان کی جسمانی قوت اور جبلی تقاضے عروج پر ہوتے ہیں۔ ہر عہد کی نوجوان نسل ان کے زیرِ اثر ہوتی ہے۔ جبلی تقاضے اور فطری مطالبات اگر پورے نہ ہوں تو نوجوان نسل احتجاج کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ یہ احتجاج پرانی نسل کی عائد کردہ ان پابندیوں کے خلاف ہوتا ہے جو اسے گزشتہ نسل سے منتقل ہوتی ہیں اور وہ ان کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے۔ روایتی معاشروں میں یہی ہوتا ہے۔ روایت رسم ورواج اور مذہب کے نام پر خود کو منواتی ہے۔ اس لیے نوجوانی میں لوگ عام طور پر مذہب بیزار اور آزاد خیال ہوتے ہیں۔ لبرلزم اور اشتراکیت جیسے رومانوی نظریات کے لیے سب سے سازگار دور یہی ہوتا ہے۔یہی وہ عمر ہے جب لوگ مغربی ممالک کو جانے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کا سبب مغرب کا وہ تصور ہے جو لبرل اقدار سے عبارت ہے اور جس کی جھلکیاں انہیں فلموں میں دکھائی دیتی ہیں۔لیکن ہم نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ در حقیقت ”جین زی“ یا جنریشن زیڈ جنہیں زومرز (Zoomers) بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ بچے ہیں جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ بعض ماہرین عمرانیات کے مطابق 1997ءسے 2012ءکے دوران جنم لینے والے بچے اس جنریشن میں شمار ہوتے ہیں جبکہ کچھ ماہرین 1990ءمیں پیدا ہونے والوں کو بھی جنریشن زی میں شمار کرتے ہیں۔ یہ ہمارے عہد کے وہ چالاک بچے ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور گلوبلائزیشن کے زمانے میں آنکھ کھولی، ہاتھوں میں موبائل فون اور ٹیبلٹ لیکر پیدا ہوئے۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کے سمندر میں ہچکولے کھاتے پھرتے ہیں مگر علم کی پیاس نہیں بجھتی کیونکہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک حقیقت وہی ہے جو سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ہاں دنیا اس قدر سرعت سے تبدیل ہوئی ہے کہ اب وہ ہر وقت تغیر و تبدل کے منتظر رہتے ہیں۔ بہت جلد اُکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ انتظار کی کوفت سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذاہمیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے،،، آج پاکستانی معاشرے کو تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان جین زی نوجوانوں کا خیال کرے،،، انہیں Opportunitiesدے،،، اور یہ بھی ذہن میں رکھے کہ اس وقت پاکستان کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ آج Gen-Zپر مشتمل ہے، وہ نسل جو انٹرنیٹ کے ساتھ پلی بڑھی، دنیا کو قریب سے دیکھتی ہے اور سوال پوچھنے سے نہیں گھبراتی۔ لیکن یہی نسل آج سب سے زیادہ مایوسی، بے یقینی اور اضطراب کا شکار بھی ہے۔ یہ مایوسی کسی عیاشی سے نہیں، ٹوٹتے خوابوں سے پیدا ہوئی ہے۔جین زی نے آنکھ کھولی تو ملک قرضوں، سیاسی افراتفری اور معاشی بحران میں گھرا ہوا تھا۔ انہوں نے وعدے بہت سنے، نتائج کم دیکھے۔ تعلیم حاصل کی مگر روزگار نہ ملا۔ میرٹ پڑھا مگر سفارش دیکھی۔ انصاف کی کتابیں دیکھیں مگر انصاف کہیں اور بکتا ہوا پایا۔ بہرکیف ریاست کا پہلا فرض یہ ہے کہ نوجوان کو قابلِ بھروسا مستقبل دے۔ محض اسکیمیں نہیں، مستقل نظام۔ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر نوجوانوں کے لیے روزگار کی قومی پالیسی بنانی ہوگی۔ فری لانسنگ، آئی ٹی، گرین اکانومی، زرعی ٹیکنالوجی اور ہنر مند صنعتیں وہ شعبے ہیں جہاں لاکھوں نوکریاں پیدا کی جا سکتی ہیں، اگر حکومت رکاوٹ بننے کے بجائے سہولت کار بنے۔دوسرا اہم مسئلہ تعلیم کا ہے۔ آج کی تعلیم جین زی کو بیروزگاری کے لیے تیار کر رہی ہے، روزگار کے لیے نہیں۔ نصاب کو ڈگریوں سے نکال کر مہارتوں، تنقیدی سوچ اور ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنا ہوگا۔ ہر طالب علم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اسکول اور کالج اسے زندگی کے لیے تیار کر رہے ہیں، نہ کہ صرف امتحان کے لیے۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو ہے انصاف اور میرٹ۔ جین زی اس نظام سے سب سے زیادہ نفرت کرتی ہے جہاں اہل کو پیچھے اور بااثر کو آگے رکھا جاتا ہے۔ شفاف بھرتیاں، ڈیجیٹل سروسز، اور پولیس و عدلیہ کی اصلاحات نوجوانوں کا اعتماد بحال کر سکتی ہیں۔چوتھا پہلو اظہار کی آزادی ہے۔ نوجوان سوال کرتے ہیں، تنقید کرتے ہیں، اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہیں دبانے کے بجائے سننا ہوگا۔ ریاست جو نوجوان سے ڈرتی ہے، وہ اپنا مستقبل خود تباہ کرتی ہے۔اور آخر میں، جین زی کو صرف ووٹ بینک نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں شریک بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو پارلیمان، بلدیات، پالیسی بورڈز اور مقامی حکومتوں میں جگہ دینا ہوگی۔ کیونکہ جس نسل کے لیے فیصلے کیے جائیں، اسے میز پر بٹھانا ہی جمہوریت ہے۔جین زی کی مایوسی ختم کرنے کے لیے ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ملک صرف طاقتوروں کا نہیں بلکہ محنت کرنے والوں کا بھی ہے۔ جب نوجوان کو انصاف، روزگار اور عزت ملے گی تو یہی مایوس نسل پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گی۔اس لیے انہیں سنبھالیں ورنہ یہ آپ کے گلے پڑ جائیں گے!