حکمران بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ ہیں!

وطن عزیز میں بلدیاتی انتخابات کروانا اس وقت مسئلہ کشمیر حل کرنے سے بھی بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے،،، کیوں کہ کچھ عرصہ قبل الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ کوئٹہ، اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے،،، لیکن زمینی صورتحال یہ ہے کہ کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات متعلقہ صوبائی حکومت مختلف سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ملتوی کر چکی ہے، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کو وفاقی کابینہ نے ملتوی کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے بقول اسلام آباد میں ایک وفاقی کونسل تشکیل دی جائے گی جس کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، اس قانون سازی کے بعد ہی اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ الیکشن رواں برس مارچ یا اپریل میں منعقد کیے جائیں گے لیکن صوبے کے سیاسی حالات کے پیش نظر دکھائی دیتا ہے کہ یہاں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کوئی آسان کام نہ ہو گا۔ کوئٹہ اور اسلام آباد کے بعد اگر پنجاب میں بھی طے شدہ شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے تو یہ الیکشن کمیشن کی بہت بڑی ناکامی ہو گی۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کی اہمیت پر بیانات کی حد تک تو بہت زیادہ زور دیتی ہیں لیکن عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کرتیں۔ کیوں کہ بنیادی طور پر یہ حکمران غیر جمہوری ہیں،،، کیوں کہ یہ جمہوریت پسند نہیں بلکہ اقتدار پسند ہیں،،، اور پھر سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بلدیاتی انتخابات ہوں گے،،، تواُس میں ”شیئرنگ “تو ہوگی، جو یہ اقتدار والی پارٹیاں کبھی پسند نہیں کریں گی،،، یہ اس لیے بھی پسند نہیں کریں گی،،، یہ اقتدار میں آئے ہی جنرل ضیاءالحق کے غیر جماعتی الیکشن سے اقتدار میں ہیں۔۔۔ اور سمجھ لیں کہ معذرت کے ساتھ یہ گند بھی انہوں نے ہی ڈالا ہوا ہے،،، اگر نہیں یاد تو بتاتا چلوں کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کو اقتدار سے فارغ کرنے کے لیے اُس وقت کے غیر جمہوری اراکین اسمبلی کو رشوت دینے کے لیے ترقیاتی فنڈز دیے ،،، جو بعد میں ان اراکین اسمبلی نے اسے اپنا حق سمجھ لیا ،،، حالانکہ یہ دراصل بلدیاتی نمائندوں کا استحقاق ہے،،، بلکہ پوری دنیا میں اراکین اسمبلی کا ترقیاتی فنڈز سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا کام قانون سازی ہے،،، جبکہ اس کے برعکس بلدیاتی اداروں کا ترقیاتی فنڈز سے براہ راست تعلق ہوتا ہے، ،، لیکن چونکہ یہ عادت اراکین اسمبلی نے ڈالی ہے، تو اس لیے یہ کبھی بھی اس کو دوسرے کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے،،، اور اسی چیز نے ہماری پارلیمنٹ کو کرپشن زدہ کر دیا، ،، لہٰذااس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب پارلیمانی اراکین کو فنڈز ملے،،، تو انہوں نے پھر کرپشن کی ،،، اور پھر ان کی ”فائلیں“ بن گئیں اور پھر یہ لوگ فیصلہ کرنے والی قوتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے لگے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ اسی ترقیاتی فنڈزنے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کو کرپٹ کیا،،، کیوں کہ اراکین اسمبلی کو فنڈز کھانے کے لیے ان کے ساتھ اور ٹھیکیداروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنا پڑتا ہے،،، بلکہ اسی چیزنے پوری قوم کو کرپٹ کردیا ،،، بہرحال یہ تلخ حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ کا کام کوئی نہیں رہ گیا،،، ماسوائے ترقیاتی فنڈز میں سے خورد برد کرنے کے،،، یا تنخواہ لینے کے لیے یا حاضری لگوانے کے لیے ،،، حالانکہ ان کا کام قانون سازی کرنا ہے،،، لیکن الحمد اللہ یہ کبھی نہ تو مسودے پڑھتے ہیں،،، نہ کسی بحث میں حصہ لیتے ہیں،،، اور نہ ہی کوئی تجاویز دیتے ہیں،،، بلکہ سال 2025میں کم و بیش 50فیصد اراکین اسمبلی نے کسی قسم کی بحث میں کوئی حصہ نہیں لیا ،،، اس لیے جب تک یہ غیر جمہوری حکمران ہم پر مسلط رہیں گے،،، یہ بلدیاتی الیکشن نہیں ہونے دیں گے،،، اور اس لیے بھی یہ نہیں ہونے دیں گے،،، کیوں کہ یہ اقتدار میں بٹوارہ پسند نہیں کرتے،،، بہرحال جس طرح کہا جاتا ہے کہ فوج اپنی بیرکوں میں واپس جائے،،، اسی طرح میرے خیال میں سیاستدانوں کو بھی ترقیاتی فنڈز چھوڑ کر اپنی ”بیرکوں“ یعنی اسمبلی میں قانون سازی کے لیے واپس جانا چاہیے،،، اگر ان کو قانون سازی نہیں آتی تو انہیں سیکھنے کی ضرورت ہے،،، لیکن انہوں نے کبھی اس طرف غور ہی نہیں کیا نہ ہی انہوں نے کبھی اس بارے میں سوچا،،، اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک بلدیاتی الیکشن نہیں ہوں گے،،، اُس وقت تک ملک میں کبھی خالص جمہوریت نہیں آسکے گی،،، خالص جمہوریت اسی لیے کہہ رہا ہوں کیوں کہ بلدیاتی انتخابات میں جمہوریت کی نرسری کہلائے جاتے ہیں،،، جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ عوام کی شمولیت، نمائندگی اور احتساب کا ایک زندہ نظام ہے۔ اس نظام کی جڑیں جتنی مضبوط ہوں گی، درخت اتنا ہی تناور ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بلدیاتی انتخابات کو “جمہوریت کی نرسری” کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں سے وہ سیاسی پودے ا±گتے ہیں جو آگے چل کر قومی سیاست کے درخت بنتے ہیں۔ بہرکیف بلدیاتی نظام عوام اور ریاست کے درمیان سب سے پہلا اور قریبی رابطہ ہوتا ہے۔ گلی، محلہ، یونین کونسل اور ٹاو¿ن کی سطح پر منتخب نمائندے عوام کے روزمرہ مسائل، صفائی، پانی، سڑک، اسکول، ڈسپنسری کو براہِ راست دیکھتے اور حل کرتے ہیں۔ یہ وہ سیاسی تربیت گاہ ہے جہاں ایک عام شہری پہلی بار اقتدار، ذمہ داری اور جوابدہی کو عملی طور پر سیکھتا ہے۔ یہی عمل مستقبل کے سیاست دانوں کو بیان بازی کے بجائے خدمت کی سیاست سکھاتا ہے۔ بلدیاتی ادارے قیادت سازی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ جو شخص محلے کے مسائل حل کرنا سیکھ لیتا ہے، وہی کل ضلع، صوبہ اور ملک چلانے کی اہلیت پیدا کرتا ہے۔ دنیا کے بڑے رہنماو¿ں،،، چاہے وہ برطانیہ ہو یا ترکی، بھارت ہو یا جرمنی نے سیاست کا آغاز بلدیاتی سطح سے ہی کیا۔ یہی نرسری انہیں عوامی مزاج، بیوروکریسی کے ساتھ کام کرنے اور بجٹ چلانے کا عملی ہنر دیتی ہے۔آپ اس کی مثال لے لیں،،،میئر نیویارک ظہران ممدانی بلدیاتی انتخابات سے اوپر آئے ہیں،،، طیب اردگان ترکی کے صدر بننے سے پہلے استنبول کے میئر تھے،،، لندن کے میئر صادق خان بھی بلدیاتی انتخابات سے اوپر آئے ،،، پاکستان میں بھی بہت سے سیاستدان سعد رفیق، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی جو ضلع کونسل (ڈسٹرکٹ کونسل) کے چیئرمین رہے،،، سید فخر امام انہوں نے ضلع کونسل، ملتان سے اپنی سیاسی زندگی شروع کی۔چودھری نصیر علی خان نے راولپنڈی ضلع کونسل کے چیئرمین کے طور پر مقامی سیاست کی۔چوہدری شجاعت حسین ابتدائی طور پر مقامی سطح کے انتخابات میں حصہ لیا اور پھر پارلیمنٹ تک پہنچے۔ آپ نے سیاستدانوں کی نرسری بند کی ہوئی ہے،،، بدقسمتی سے پاکستان میں اس “نرسری” کو اکثر نظرانداز کیا گیا ہے۔ ہماری سیاست زیادہ تر اقتدار کے ایوانوں تک محدود رہی ہے، جبکہ گاو¿ں، محلہ اور شہر کی سطح پر جمہوریت کمزور رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قومی قیادت عوام سے کٹتی چلی گئی، اور سیاست اشرافیہ کے گرد گھومنے لگی۔ اگر بلدیاتی نظام مضبوط ہوتا تو آج ہمارے نوجوان جمہوریت کو کتابوں کے بجائے اپنے محلے میں دیکھ رہے ہوتے ووٹ، نمائندہ اور احتساب سب ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔اس کے علاوہ بلدیاتی انتخابات شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ جب نمائندہ آپ کے دروازے کے پاس رہتا ہو تو اس سے سوال کرنا آسان ہوتا ہے۔ یہ قربت کرپشن کو کم اور عوامی خدمت کو بڑھاتی ہے۔ یہی وہ تربیت ہے جو اوپر جا کر قومی سیاست کو بھی بہتر بناتی ہے۔ بہرکیف اس وقت ملک میں گورننس کا شدید بحران ہے اور عام آدمی کے حالات بہتر ہونے کے بجائے پہلے سے بدتر ہو رہے ہیں۔ صوبائی حکومتیں منتخب نمائندوں کے بجائے زیادہ تر بیوروکریسی کو مضبوط کرکے نظام کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ بظاہر ایسے لگتا ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اپنے نظام میں ایک بڑی رکاوٹ اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔ اس لیے جب بھی بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کی بات ہوتی ہے تو صوبائی حکومتیں ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے تاخیری حربے اختیار کرتی ہیں۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں یا بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ جن علاقوں میں بلدیاتی ادارے قائم ہیں وہاں بھی ان کی حیثیت محض کاغذی ہے‘ سارا نظام تو صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہے۔ صوبائی حکومتوں کے اس رویے اور نظام کی اسی خرابی کی وجہ سے اب ملک میں نئے صوبوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت نہ تو مقامی سطح پر مضبوط بلدیاتی نظام چاہتی ہے اور نہ خود عوامی مفادات کے تحت کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ ایسے میں لوگوں کو لگتا ہے کہ نئے صوبے ہی ان کے مسائل کا حل ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کی تشکیل بھی نہیں چاہتیں۔ بلاول بھٹوزرداری نئے صوبوں کے قیام کو صوبائی خود مختاری کے خلاف بغاوت قرار دے چکے ہیں۔ لیکن جب ان بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ اپنے اپنے صوبوں میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام تشکیل دینے میں ناکام کیوں رہے ہیں تو ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہوتا۔اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی نرسری ہیں۔ اگر ہم اس نرسری کو سوکھنے دیں گے تو جمہوریت کا درخت بھی کمزور ہوگا۔ پاکستان میں ایک مضبوط، بااختیار اور مسلسل بلدیاتی نظام ہی وہ راستہ ہے جس سے جمہوریت جڑ پکڑ سکتی ہے، نوجوان قیادت ابھر سکتی ہے اور عوامی حکمرانی کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔