سانحہ گل پلازہ:اب بھی سزا کسی کو نہیں ہوگی!

سانحہ گل پلازہ ایسا واقعہ ہے،،، جسے دہائیوں نہیں بھلایا جاسکتا ،،، یہ سانحہ محض ایک عمارت کا حادثہ نہیں، بلکہ یہ ہماری حکمرانی، شہری منصوبہ بندی اور ریگولیٹری نظام کی اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد حکومتی اعلانات، انکوائری کمیٹیاں اور وقتی معطلیاں تو سامنے آتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا پالیسی سازی کے بنیادی نقائص کو دور کیا جاتا ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔شہری علاقوں میں پلازوں کی تعمیر کے لیے جو قوانین موجود ہیں، وہ کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں۔ نقشہ منظوری، فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس، پارکنگ اور بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت جیسے بنیادی تقاضے یا تو نظرانداز ہوتے ہیں یا محض رشوت کے سہارے ”پورے“ کر لیے جاتے ہیں۔ گل پلازہ جیسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومتی ادارے نہ صرف کمزور نگرانی کرتے ہیں بلکہ ذمہ داری کا تعین بھی واضح نہیں ہوتا۔یہ سانحہ ہماری بے حسی، ناقص حفاظتی انتظامات اور کمزور حکومتی نگرانی کو بے نقاب کرتا ہے جس کے باعث منٹوں میں بھڑکنے والی آگ نے نہ صرف 26 قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ درجنوں خاندانوں کو عمر بھر کا صدمہ دے گئی اور 76افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پلازہ میں لگنے والی آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ عمارت میں موجود سینکڑوں افراد کو نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا جسکی وجہ خارجی راستے کی بندش بتائی جاتی ہے۔ فائر الارم، ایمرجنسی خارجی راستے، فائر فائٹنگ آلات اور تربیت یافتہ عملہ یہ سب وہ بنیادی سہولتیں ہیں جو کسی بھی کمرشل عمارت کیلئے ناگزیر ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے گل پلازہ میں یہ سہولتیں یا تو موجود ہی نہ تھیں یا محض کاغذی کارروائی تک محدود تھیں۔ گل پلازہ کراچی میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کیلئے خریداری کا معروف مرکز تھا۔ ابتدا میں یہ عمارت 3 منزلوں پر مشتمل تھی تاہم انتظامیہ کی ملی بھگت سے عمارت میں غیر قانونی طور پر چوتھی منزل کا اضافہ کرکے 180 سے زائد دکانیں تعمیر کی گئیں جبکہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں تعمیر کردی گئیں جو لوگوں کی اموات کا بڑا سبب بنیں۔ بہرحال گل پلازہ کا سانحہ محض ایک عمارت کا حادثہ نہیں، بلکہ یہ ہماری حکمرانی، شہری منصوبہ بندی اور ریگولیٹری نظام کی اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد حکومتی اعلانات، انکوائری کمیٹیاں اور وقتی معطلیاں تو سامنے آتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا پالیسی سازی کے بنیادی نقائص کو دور کیا جاتا ہے؟ بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔شہری علاقوں میں پلازوں کی تعمیر کے لیے جو قوانین موجود ہیں، وہ کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں۔ نقشہ منظوری، فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس، پارکنگ اور بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت جیسے بنیادی تقاضے یا تو نظرانداز ہوتے ہیں یا محض رشوت کے سہارے”پورے“ کر لیے جاتے ہیں۔ گل پلازہ جیسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومتی ادارے نہ صرف کمزور نگرانی کرتے ہیں بلکہ ذمہ داری کا تعین بھی واضح نہیں ہوتا۔ حکومت کی ناقص پالیسی کا ایک بڑا پہلو ادارہ جاتی بکھراو¿ ہے۔ بلدیاتی ادارے، ترقیاتی اتھارٹیز، فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ، سب کے اختیارات ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں، مگر جواب دہی کسی کی نہیں۔ جب حادثہ ہوتا ہے تو فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک گھومتی ہیں اور وقت کے ساتھ معاملہ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے کراچی کا ہی سانحہ بلدیہ ٹاﺅن ہے،،، جہاں ایک فیکٹری کو بھی اس سے پہلے بہت کچھ ہو چکا ،،، 300لوگوں کو شہید کر دیا گیا،،، وجہ صرف بھتہ نہ دینا تھی،،، اور پھر اگر کوئی بھتہ نہیں دے رہا تھا،،، تو پھر اُس مالک کو مار دیا جاتا ،،، نہ کہ پورے فیکٹری ورکرز کو ہی جلا دیا جاتا،،، اب بھی اگر کچھ ایسے شواہد ملے اور تو پھر سرکار بتا دے کہ یہ ملک کیسے چلے گا،،، جہاں انسانوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ لیا گیاہے،،، بقول حبیب جالب کے،،، اس درد کی دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتے یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں مر کیوں نہیں جاتے دراصل کراچی کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ وہاں عوام کی حکومت نہیں بلکہ فارم 47یعنی پیپلزپارٹی کی حکومت ہے،،، یعنی میئر پیپلزپارٹی کے بارے میں سب کو علم ہے کہ انہیں میئر شپ کیسے ملی،،، اور پھر گزشتہ کئی سالوں سے سندھ میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، تو وہاں یا تو ایم کیو ایم کا میئر رہا یا کسی اور جماعت کا ،،، جس کی وجہ سے کراچی ہمیشہ انتظامیہ کے حوالے سے لاوارث ہی رہا،،، حالانکہ کراچی پاکستان کا معاشی حب اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے جو ملک کے مجموعی ریونیو کا 46فیصد سے زائد ٹیکس ادا کرتا ہے اور 2024-25 میں کراچی نے 3.5 کھرب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ کراچی کے شہری حکومت سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اُن کا دیا گیا کھربوں روپے کا ٹیکس کہاں خرچ کیا جارہا ہے اور کراچی کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی کے شہر کیلئے صرف 28 فائر اسٹیشنز ہیں جبکہ آبادی کے لحاظ سے کم از کم 200 فائر اسٹیشنز ہونے چاہئیں، ہمارا فائر فائٹنگ سسٹم ابھی تک دقیانوسی ہے اور جدید طرز کے تقاضوں کے ہم آہنگ نہیں، کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس اور کلفٹن میں کچھ شاپنگ مالز میں فائر فائٹنگ سسٹم، اسپرنگر اور اسموگ ڈکیٹرز کا موثر نظام موجود ہے تاہم شہر کے بیشتر شاپنگ سینٹرز اور بلند و بالا عمارتوں میں فائر سیفٹی معیار پر عملدرآمد نہیں ہورہا، اس طرح شہر قائد میں فائر سیفٹی کا بحران سنگین صورت اختیار کرگیا ہے جہاں 80 فیصد عمارتوں اور شاپنگ سینٹرز میں آتشزدگی سے بچاﺅ کا کوئی موثر نظام موجود نہیں جبکہ 90 فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی خارجی راستے تک نہیں جس کے باعث لاکھوں شہری روزانہ خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مزید برآں، پالیسی میں انسانی جان کی قیمت کا تصور ثانوی ہے۔ کاروباری مفادات، کمرشلائزیشن اور ٹیکس آمدن کو ترجیح دے کر حفاظتی معیارات پر سمجھوتا کیا جاتا ہے۔ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے افراد کے لیے وقتی امداد تو دی جاتی ہے، مگر متاثرین کی بحالی، طویل المدتی علاج اور قانونی انصاف کے واضح لائحہ عمل کا فقدان رہتا ہے۔حل کیا ہے؟ سب سے پہلے تعمیراتی قوانین پر بلاامتیاز عملدرآمد، آزاد اور بااختیار انسپیکشن سسٹم، اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے شفافیت ضروری ہے۔ دوم، حادثات پر محض انکوائری نہیں بلکہ فوجداری ذمہ داری کا تعین ہو، چاہے وہ افسر ہو یا بلڈر۔ سوم، شہری منصوبہ بندی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دی جائے، نہ کہ محض تجارتی فائدے کو۔گل پلازہ ہمیں ایک کڑا سبق دیتا ہے: جب پالیسی کمزور، عملدرآمد ڈھیلا اور احتساب غائب ہو تو عمارتیں ہی نہیں، اعتماد بھی منہدم ہوتا ہے۔ اگر حکومت نے اس سانحے کو محض ایک اور خبر بننے دیا تو آنے والے دنوں میں ایسے سانحات کی فہرست طویل ہوتی چلی جائے گی۔ اب فیصلہ پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے، کیا وہ واقعی سیکھنا چاہتے ہیں، یا پھر صرف وقت گزرنے کا انتظار؟ بہرکیف سانحہ گل پلازہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے، قیمتی جانوں کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں اور تجارتی مراکز کا نام نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہ لائی اور سانحہ گل پلازہ سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے سانحات ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے اور یہ آگ کل کسی اور پلازہ، کسی اور فیکٹری اور کسی اور گھر کا رخ کرسکتی ہے۔سارے مسائل ایک جگہ مگر سوال یہ ہے کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں جن کو کسی نہ کسی پردے میں چھپایاجارہا ہے۔ حکمران اور بیوروکریسی عوام کے ساتھ اعدادوشمار کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے قربانی دیں‘ بجلی مہنگی ہے‘ گیس مہنگی ہے‘ آٹا مہنگا ہے‘ علاج مہنگا ہے مگر حکمرانوں کی قربانی کہاں ہے؟ کیا ان کے گھروں کی تزئین و آرائش رکی؟ پروٹوکول کم ہوا؟ بیرونِ ملک دورے کم ہوئے؟کیا ان کی زندگی سادہ ہوئی؟ ان کے خاندانوں کے مفادات محدود ہوئے؟ یا لوٹ مار کے پیسے کو مزید محفوظ بنانے کے انتظامات ہوتے رہے؟ ایسے لگتا ہے کہ نظامِ عدل بھی اپنی سوچ کے تحت فیصلے کرتا ہے، ادارے اپنی سہولت کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور سیاستدان اپنی مرضی کے مطابق اصول بدلتے ہیں۔ مگر عوام؟ عوام ہر جگہ بے سہارا ہیں۔ وہ صرف مرنے کے بعد یاد آتے ہیں‘ وہ بھی چند دن کے لیے‘ پھر وہی سیاستدان اور وہی مفادات کا کھیل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہر سانحے کے بعد انکوائری ہوتی ہے مگر وہ انکوائریاں سچ کو دفن کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ذمہ داروں تک بات پہنچنے سے پہلے فائلیں دب جاتی ہیں‘ نام مٹ جاتے ہیں اور وقت سب کچھ دھندلا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن بار بار جنم لیتی ہے کیونکہ کرپٹ عناصر کو یہ معلوم ہے کہ سزا نہیں ملے گی۔ یہ مسئلہ کسی ایک شہر‘ کسی ایک صوبے یا کسی ایک حکومت تک محدود نہیں عوام ہر جگہ فراموش کر دیے گئے ہیں۔ مسائل کی نشاندہی ہر جگہ ہوتی ہے مگر حل کہیں نہیں۔ ہر جگہ نمائش زیادہ ہے عمل کم‘ ہر جگہ کیمرہ پہلے آتا ہے‘ اصلاح کے نام پر منصوبوں کے اعلانات ہوتے ہیں اور پھر وہی کاروبار شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر وہی تماشا لگا رہتا ہے۔اس لیے سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے بھی میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس کی بھی انکوائری نہیں ہوگی اگر ہوگی تو یقینا یہ بھی فائلوں تک محدود ہوگی اور کسی ایک فرد یا ذمہ دار کو بھی سزا نہیں ہوگی،،، باقی ہم سب کا اللہ مالک