بانی کی نازک صحت اور بیچار ہ عبدالغفور انجم !

پاکستان کی سیاست میں اس سے زیادہ خوفناک اور سینہ چاک کردینے والی خبر ہو ہی نہیں سکتی کہ سابق وزیر اعظم اور بانی تحریک انصاف کی ایک آنکھ ضائع ہونے کے قریب ہے،،، ویسے تو اس حوالے سے کافی دنوں سے خبریں گردش کر رہی تھی کہ سابق وزیر اعظم کو جیل سے باہر ہسپتال میں چیک اپ کے لیے لایا گیا ہے، مگر اس میں تشویش اس وقت بڑھ گئی جب لوگوں کو یہ پتا چلا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی خیریت جاننے کیلئے جو وکیل بھیجا اس نے خان صاحب سے ملاقات کے بعد جو رپورٹ جمع کرائی ہے اس میں سب سے پریشان کن بات ان کی بینائی کے بارے ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ جیل حکام کو مسلسل بتاتے رہے لیکن کسی نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ اب یہ کس نے سنجیدہ نہیں لیا اس پر مکمل تحقیقات ہونی چاہیے،،، کیوں کہ اب میرے خیال میں اگر بات واقعی سنجیدہ حد تک بڑھ گئی تو اس میں سابق جیل سپریٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کو قربانی کا بکرہ بنایا جائے گا۔۔۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے،،، کیوں کہ جیل کا نظام ایک فرد نہیں چلاتا۔ وہاں سپرنٹنڈنٹ، محکمہ داخلہ، صوبائی حکومت، میڈیکل بورڈ، اور بالآخر عدالتیں سب شریک ہوتی ہیں۔ اور پھر پاکستان کی تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے کہ فیصلہ کرنے والوں کی سب سے زیادہ Involvementرہی ہے۔ اور ویسے بھی راقم نے 20سال سے زیادہ عرصہ جیل کی رپورٹنگ (بیٹ )کی ہے،،، میں جیل حکام کو اچھی طرح جانتا ہوں،،، اُن میں تو اتنی Courageہوتی ہی نہیں ہے،،، کہ وہ کورٹس کے آرڈرز کی حکم عدولی کرے۔ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ خان صاحب کی خرابی صحت کے حوالے سے اعلیٰ حکام کو مطلع نہ کیا گیا ہو، اور یہ اسٹاف اپنے تئیں فیصلے کر رہا ہے،،، ان اسٹاف ممبرز کی تو اتنی جرا¿ت ہی نہیں ہوتی کہ وہ ہائی پروفائل قیدیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں۔ ان کو تو اوپر سے احکامات آتے ہیں،،، جن پر عملدرآمد کروانے کے پابند ہوتے ہیں،،، جیل میں خواہ نواز شریف ہو، زرداری ہو، شہباز شریف ہو یا عمران خان ،،، ان سب کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جا رہا ہوتا ہے،،، اور پھر یہ بات میں ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اکتوبر میں عمران خان نے اسپریٹنڈنٹ جیل سے کہا ہو کہ میری آنکھ خراب ہے، تو اُس نے متعلقہ حکام تک بات ہی نہ پہنچائی ہو۔۔۔ کیا اس پر تحقیق نہیں بنتی کہ کس نے علاج سے روکا؟ کیا دنیا نہیں جانتی کہ اس وقت جیل کو کہاں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے،،، میں پھر یہی کہوں گا کہ جیل حکام میں تو اتنی ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس کے احکامات کو نظر انداز کر دے،،، اور ویسے بھی اگر کوئی سپریٹنڈنٹ جیل کسی عدالت کی بات نہیں مانتا تو پھر عدالت اُسی وقت اُسے معطل کر دیتی ہے۔ یا عدالت اُسے نوکری سے نکال کر ہتھکڑیاں لگانے کی بھی مجاز ہوتی ہے۔ لیکن اگر موصوف تمام احکامات نظر انداز کرکے اپنی سیٹ پر موجود رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جناب کو بڑی ”سرکار“ کا آشیرباد حاصل تھا۔ اور پھر جیل اسٹاف کا خان صاحب سے ذاتی مسئلہ تو کوئی نہیں ہے،،، اس لیے ان کا کیا قصور کہ انہوں نے خان صاحب کا بروقت علاج نہیں کروایا۔ لہٰذااس گھمبیر جرم کو جیل حکام کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے اپنی صفوں کی صفائی کریں اور کھل کر بتائیں کہ ہم نے یہ کیا ہے۔ اور فیصلہ کرنے والوں نے یہ کام کیا ہے۔ اور ذمہ دار کون ہے؟ اور میرے خیال میں یہ بڑی غلط روایت ڈال دی گئی ہے،،، جو آنے والے دنوں میں سب کے لیے نقصان دہ ہوگی۔۔۔ حالانکہ اس کے برعکس آپ کو یاد ہو گا کہ جب تحریک انصاف کے دور میں میاں نواز شریف بیمار تھے تو خان صاحب کو پتا چلا کہ میاں صاحب کی میڈیکل رپورٹس ٹھیک نہیں آئیں۔ نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے عمران خان حکومت کے لیت و لعل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج نے خبردار کیا تھا کہ اگر کل کلاں میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ پی ٹی آئی حکومت نواز شریف سے بیرونِ ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت دینے پر پانچ ارب روپے کی بینک گارنٹی مانگ رہی تھی لیکن عدالت نے پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دے دی۔ عمران خان کو ا±س وقت جھٹکا لگا جب میاں نواز شریف خود جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر اس میں سوار ہوئے۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ نواز شریف کی حالت اتنی خراب ہے کہ انہیں ہسپتال سے سٹریچر پر ڈال کر جہاز میں سوار کیا جائے گا لیکن نواز شریف بھی چار دہائیوں سے سیاست میں ہیں‘ انہیں علم تھا کہ اگر سٹریچر پر سے ان کی تصویریں یا وڈیوز بن گئیں تو مخالفین ساری عمر یہ تصویریں دکھا کر طنز کے تیر چلاتے رہیں گے۔ اگرچہ اس وقت سب ڈر گئے تھے کہ اگر نواز شریف کو جیل میں کچھ ہو گیا تو سب کا وہی حشر ہو گا جو بھٹو صاحب کا ہوا تھا۔ یوں عمران خان کے علاوہ جنرل باجوہ‘ جنرل فیض اور دیگر اہم لوگ وہ بھاری پتھر اٹھانے کو تیار نہ تھے کہ اگر کچھ ہو گیا تو ساری عمر اُن پر یہ کیس چلتا رہے گا۔ ان کی سمجھداری کہیں یا خوف یا پھر شریف فیملی اور جنرل باجوہ کی تین سالہ مدتِ ملازمت میں توسیع کے بدلے ڈیل کہیں‘ بہرحال نواز شریف لندن پہنچ گئے اور پھر اس وقت تک پاکستان واپس نہ آئے جب تک ان کی مرضی کے مطابق سب معاملات طے نہ ہو گئے۔ اب اگر عمران خان کو بھی اسی طرح رہا نہ کیا گیا جس طرح نواز شریف کو کیا گیاتھا تو میرے خیال میں معذرت کے ساتھ جیل کے اندر سیاسی قیدیوں کے خاتمے کی ایسی روایت قائم ہوگی جو سب کو ایک ساتھ لے ڈوبے گی۔ لہٰذابقول دوست صحافی حامد میر کے دو غلط مل کر کبھی ایک صحیح نہیں بنتے ۔اس لیے اگر ایک غلط کر رہا ہے تو دوسرے کو ایڈوائس کرنا چاہیے کہ ٹھیک کیا ہے؟ لیکن اگر دونوں ہی ایک نہج پر پہنچ جائیں گے تو میرے خیال میں کچھ نہیں بچے گا،،، اس لیے حکمران ہوش کے ناخن لیں،،، اورپاکستان کے لیے مزید جگ ہنسائی کا سامان پیدا نہ کریں،،،کیوں کہ اب تو اقوام متحدہ تک نے کہہ دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں ایسے حالات میں رکھا جا رہا ہے جو غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آتےہیں،اور پھر اقوام متحدہ کی عہدیدار ایلس جِل ایڈورڈز نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ 73 سالہ عمران خان حراست کے حالات سے متعلق ملنے والی رپورٹس پر فوری اور موثر کارروائی کرے۔یعنی اقوام متحدہ بار بار کہہ رہا ہے کہ 26 ستمبر 2023 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقلی کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا، انہیں جیل سیل میں دن میں 23 گھنٹے تک قید رکھا جاتا ہے اور بیرونی دنیا تک انتہائی محدود رسائی کے ساتھ ان کے سیل کی مبینہ طور پر کیمرے سے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ ویسے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک شخص کو آپ پابند سلاسل کر دیا،اُس سے اقتدار چھین لیا، اُس سے اُس کی پارٹی چھین لی، اور اُس سے اُس کی فیملی چھین لی،،،آپ نے اُس سے ملاقاتوں پر بھی پابندی لگا دی ہے، تو اب کیا کرنا ہے؟ اُس کے ساتھ؟ کیا اب بادی النظر میں آپ اُسے خاکم بدہن دنیا سے رخصت کرنا چاہ رہے ہیں؟ تو کیا آپ نے اس حوالے سے سوچا ہے کہ اس کے آفٹر ایفیکٹس کیا ہوں گے؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ فیصلہ کرنے والوں کے خراب ذہن کی عکاسی ہے کہ وہ اب بھی تحریک انصاف سے ڈرے ہوئے ہیں،،، کیا انہیں یہ علم نہیں جس چیز کو جتنا دبایا جائے وہ اُتنی ہی اپنے آپ سے باہر آتی ہے۔ اس لیے میں پھر یہی کہوں گا کہ حکام ہوش کے ناخن لیں، کیوں کہ اب یہ وہ دور نہیں ہے، کہ جب خبر دو چار مہینوں بعد دنیا میں پھیلتی تھی،،، اب سوشل میڈیا کا دور ہے، ،، پوری دنیا اس وقت جانتی ہے کہ ہم جیل میں اُس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں،،،اور ساری دنیا جانتی ہے کہ کروا بھی کون رہا ہے؟تو کیا ایسا کرنے سے پاکستان میں انویسٹرز آئیں گے؟ بلکہ کیا جو اس وقت پاکستان میں اپنا پیسہ لگا بیٹھے ہیں،،، کیا وہ بھی اس سے بھاگ نہیں جائیں گے؟ بہرحال بانی کی صحت کا معاملہ محض ایک فرد کی بیماری یا جسمانی کمزوری کا سوال نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست، حکمرانی اور ریاستی ذمہ داریوں کا امتحان بن چکا ہے۔ پاکستان کے قوانین اور جیل مینوئل واضح طور پر کہتے ہیں کہ زیرِ حراست فرد کی جان و صحت کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں۔ اگر کسی سابق وزیرِاعظم کی صحت کے حوالے سے بار بار تشویش سامنے آ رہی ہے تو اسے محض سیاسی بیان بازی کہہ کر رد کرنا مسئلے کو چھپانا تو ہو سکتا ہے، حل کرنا نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ عمران خان کون ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اپنے مخالفین کے ساتھ کس معیار کا سلوک کرتی ہے۔ بہرکیف پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی صحت ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ ماضی میں مختلف رہنماو¿ں نے جیلوں میں طبی سہولیات کی کمی کی شکایت کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی نظام کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی؟ یا ہر بار معاملہ صرف اس وقت زیرِ بحث آیا جب متاثرہ شخص بڑا سیاسی نام تھا؟ اگر عمران خان کی صحت کا معاملہ ہمیں جیل اصلاحات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ ایک مثبت پہلو ہو سکتا ہے۔اور رہی بات عبدالغفور انجم کے کردار کی تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انتظامی افسران اکثر سیاسی دباو¿ کے درمیان کام کرتے ہیں۔ اگر وہ مکمل خودمختار نہیں تھے تو ان پر سارا الزام ڈالنا انصاف نہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم بطور ریاست اور معاشرہ اپنے مخالفین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ کیا ہم اصولوں پر قائم ہیں یا شخصیات کے مطابق معیار بدلتے ہیں؟ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر مسئلہ کسی ایک عبدالغفور انجم کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر منصفانہ اور حقائق پر مبنی۔ کیونکہ صحت کا سوال سیاست سے بڑا ہوتا ہے، اور انسانی جان ہر اختلاف سے مقدم ہے!