صحافیوں کے ”اغوا“ کیے جانے کا معاملہ!

گزشتہ دنوں لاہور میں ایک واقعہ سر زد ہوا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی میانوالی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے زبان پھسل گئی(حالانکہ ایسا ہونا ایک کسی بھی سیاستدان کے لیے معمولی با ت ہے) ،،، انہوں نے کہہ دیا کہ ”مریم نواز، نواز شریف کی طرح دعویٰ نہیں کرتی کام کرکے دکھاتی ہے۔“ تقریر کا یہ کلپ خاصا وائرل ہوگیا،،، لیکن حیرت اُس وقت ہوئی جب سنا گیا کہ اس کلپ کو ”شیئر“ کرنے والے لاہور کے ایک صحافی خرم اقبال کو اُس کی بہن کے گھر سے نامعلوم افراد نے حراست میں لے لیا گیا،،، جب اس پر خاصا شور ہوا تو پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمی بخاری نے ان الزامات پر کہا تھا کہ صحافی کو لاپتا نہیں کیا گیا بلکہ پیکا کے تحت فیک ویڈیو بنا کر ٹویٹ کرکے پھیلانے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس پر مذکورہ صحافی نے کہا کہ میں نے کئی مرتبہ تردید کی میں نے کلپ جیسا آیا ویسا ہی شیئر کیا ہے، اس میں کوئی ایڈیٹنگ نہیں کی۔ اگر کی ہے توآپ اسے کسی بھی قومی چینل حتیٰ کہ پی ٹی وی کی ریکارڈنگز سے چیک کروا لیں،،، پھر میں نے ویڈیو شیئر کرنے کے حوالے سے کہا کہ اگر مجھ سے اس حوالے سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو میں پھر بھی معذرت خواہ ہوں۔”مجرم صحافی“ کے بقول ،میرا تین سال کا بیٹا میرے پیچھے بھاگا، لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، مجھے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا گیا اور پورے خاندان اور محلے داروں کے سامنے مجھے لے جایا گیا، خرم نے مزید کہا کہ اُنھیں تقریباً آٹھ گھنٹے تک لاہور کی سڑکوں، سی سی ڈی کے دفتر، تھانہ اقبال ٹاون اور پھر ایف آئی اے کے دفتر لے جانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس واقعہ اور اس طرح کے کئی واقعات کے بعد یقین مانیں کہ دل چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت سے تو یقین مانیں دل اُٹھ گیا ہے،،،ایسا تو آمریتوں میں بھی نہیں ہوا۔ کل تک آپ پیکا کے خلاف ہمارے ساتھ سراپا احتجاج تھے آج آپ اُس قانون سے بھی بالاتر ہو کر صحافی لاپتہ کر رہے ہیں،،، کیا ن لیگ کو اس حوالے سے ڈسپلن کی ضرورت نہیں ہے؟ مریم نواز کی تقریر ملک تمام چینلز پر براہ راست دکھائی جاتی ہے،،، اگر 80سے زائد نیوز چینل ہیں تو سب پر ہی لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے،،، اور ان پر لاکھوں ناظرین باعث مجبوری یا شوق سے لائیو تقریریں دیکھتے اور سنتے ہیں،،، سبھی نے مذکورہ تقریر سنی اور دیکھی،،، کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا،،، لیکن جب حکومت نے ”اوور ری ایکٹ“ کیا تو میں بھی چوکنا ہوگیا، کہ دیکھوں آخر اس میں مریم صاحبہ نے کہا کیا ہے؟ پھر اسی طرح مزید لاکھوں لوگوں نے وہ کل دیکھا اور مزید جگ ہنسائی ہوگئی،،، تو کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ہم شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کے بجائے ایسے واقعات کو نظر انداز کردیں،،، یا اُسی وقت معذرت کر کے ”تصحیح “ کر لیں،،، جیسا خان صاحب بھی کیا کرتے تھے،،، یا بلاول بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں،،، لیکن اگر آپ نے ڈٹے رہنا ہے،، اور بضد رہنا ہے کہ تمام چینلز نے وہ کلپ غلط چلایا ہے تو پھر خدا کے لیے آپ صحافیوں کے بجائے تمام چینلز کو لاپتہ کردیں ،،، میرے خیال میں پیمراآپ کے پاس ہے،،، اس لیے یہ آپ کے لیے آسان بھی ہوگا! بہرحال میرے خیال میں مریم نواز کا یہ جملہ سلپ آف ٹنگ تھا اور یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی جس سے اُن کے والد کی کارکردگی پر کوئی حرف آتا ہو۔ میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں عظمی بخاری زیادہ حساس ہو گئیں، میرا نہیں خیال کہ مریم نواز نے اس حوالے سے کوئی ہدایت دی ہو گی۔اور ایسا ہونا خاص بھی نہیں ہے،،، ہمارے ہاں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے،،، آپ اس حوالے سے عدلیہ کی مثال بھی لے سکتے ہیں کہ کچھ تو آئینی ترامیم نے انہیں محدود کر دیا ہے، جبکہ کچھ تو خود بھی ڈرے ڈرے سے رہتے ہیں،،، اور دل چھوڑ گئے ہیں،،، اور مزاحمت بھی نہیں کرتے۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ کامن سینس سے کام بھی نہیں لیتے اور جی حضوری میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔۔۔ میرے خیال میں ہوتا یہ ہے کہ شاید100میں سے کسی ایک کیس کے حوالے سے اوپر سے ایک آدھ فون آتا ہے، کہ ایسے نہیں ایسے کر لو،،، لیکن 99فیصد کیسز میں یہ خود ہی ڈرے رہتے ہیں کہ ایسے نہیں ایسے کر لیتے ہیں ،،، اگر ایسے کیا تو یہ ہوجائے گا،،، اگر ایسے کیا تو وہ ہو جائے گا،،،، مطلب یہ خود ہی فرض کر لیتے ہیں کہ اس حوالے سے ”فون “ آسکتا ہے،،،اگر فون آرہا ہے تو آنے دو ، جب آئے گا تو دیکھی جائے گی،،، لیکن اُس سے پہلے میرٹ پر تو فیصلے کریں،،، یا خود سے جو بہتر لگتا ہے وہ فیصلہ تو درست کریں۔ یعنی اگر مریم صاحبہ سے غلطی ہوگئی ہے تو اُنہیں سمجھائیں کہ میڈم ایسا ہو جاتا ہے،،، لیکن ایسا تو نہ کریں کہ اگر میڈم نے غلطی کی ہے تو اسے اب جیسے تیسے کرکے پھیلنے سے روکا جائے،،، یا تو آپ لائیو ٹیلی کاسٹ ہی نہ کیا کریں،،،ا ور اگر کر رہی ہیں تو پھر بتائیں کہ اسے پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ بہرحال میں تو یہی کہوں گا کہ ریاست بالکل بھی ماں کا کردار ادا نہیں کر رہی،،، پہلی بات یہ ہے کہ چیک تو کر لیں، کہ ”رعایا“ سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہے یا نہیں،،،اگر ہوئی ہے تو دیکھیں کہ غلطی کی نوعیت کیا ہے؟ اور اُس حساب سے نرمی کے ساتھ پیش آئیں ،،، لیکن اگر نہیں ہوئی اور آپ نے زیادتی کی ہے تو پھر آپ کو اپنا احتساب کرنا چاہیے،،، یعنی اپنا کیا ہوا کسی دوسرے پر آپ مسلط کرکے اُسے بغیر تحقیق کے سزا دینے سے رعایا آپ سے باغی ہو جائے گی۔ اور پھر صحافیوں کو آپ نے سمجھ کیا لیا ہوا ہے؟ ایمانداری سے بتائیں کہ کیا ڈکٹیٹرز کے دور میں بھی ایسا کچھ ہوتا تھا؟ اایسی سختیاں کیا ڈکٹیٹر شپ میں بھی کبھی دیکھی گئی ہیں؟ اس حوالے سے اگر صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ زبان پھسل گئی ہے۔۔۔ تو لوگ شاید اسے نظر انداز کر دیتے،،، ہمارا تو سسٹم پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے، کسی اور کو کیا کہنا ہے، بندے بندے کے اندر کرپشن چھپی بیٹھی ہے،،، بلکہ ہمارے تو ہر ادارے میں ایسا ہونا اب تو فرض بنتا جا رہا ہے،،، مطلب! کسی بھی علاقے میں جب کوئی بیوروکریٹ ،جج، اے سی یا ڈی سی تعینات کیا جاتا ہے،،،(ویسے تو یہ سب عمومی طور پر رکن اسمبلی کے کہنے پر ہی تعینات کیے جاتے ہیں،،،) لیکن اگر کوئی میرٹ پر یا کسی وجہ سے آبھی جائے تو سب سے پہلے اُس کی اپنی خواہش ہوتی ہے، کہ وہ علاقے کے ایم این اے یا ایم پی اے یا سکیورٹی اداروں کے علاقائی سربراہوں سے ملاقات کر لے،،، تاکہ اُس کی خوشنودی حاصل کی جا سکے،، یا بسا اوقات کوئی اور فنانشل وجہ بھی ہوسکتی ہے،،، مطلب! یہ لوگ خود ہی دعوت دیتے ہیں کہ آئیں مل کر کچھ کریں! اس لیے اگر حالات ایسے ہیں تو آپ بجائے عوام کی درگت بنانے کے اُنہیں سہولیات فراہم کریں، اُن کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا کردار ادا کرنے کے بجائے حقیقی ماں کا کردار ادا کیا جائے،،، اور سب کو ساتھ لے کر چلے ایسا کرنے سے یقینا ملک میں مفاہمتی فضاءقائم ہوگی۔ اور پھر ایسا کب نہیں ہوا کہ صدق دل سے اقدامات کیے ہوں ۔ اور اُس کے بہتر نتائج نہ ملے ہوں؟ آپ تاریخ کو اُٹھا کر دیکھ لیںآپ کو ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بڑا دل رکھ کر اقدامات کیے جائیں تو اُس کے مثبت نتائج ہی ملتے ہیں۔ مثلاََ فتح مکہ کے واقعہ کو ہی لے لیجیے کہ جب آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے اور مفتوحین کے ساتھ کس قدر محبت شفقت اور معافی کا معاملہ فرمایا کہ جب مہاجرین مکہ دس ہزار لشکر جرار لے کر لشکر کفر و شرک پر چڑھائی کرتے ہیں اور فرطِ مسرت میں ڈوبے ہوئے اس عظیم اسلامی لشکر سے آواز آتی ہے کہ آج بدلے کا دن ہے اور خوب بدلہ لیں گے، آج ہم سمیعہؓ کی آہوں اور صہیبؓ کی سسکیوں کا بدلہ لیں گے۔ آج ہم حضرت بلال حبشیؓ کی چیخوں کا بھی بدلہ لیں گے۔ آج کوئی نہیں بچے گا۔ ہر کوئی اپنے انجام کو پہنچے گا۔ مگر ہمارے کریم آقا ﷺ نے سب پر نگاہِ رحمت ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”بولو! تم لوگوں کو کچھ معلوم ہے، آج میں (محمد ﷺ) تم لوگوں سے کیا سلوک کرنے والا ہوں؟“یہ سوال سن کر سب قیدی کانپ اُٹھے اور اُن پہ لرزہ طاری ہوگیا، کیوں کہ ماضی قریب میں آپ پر اپنے ہاتھوں اور زبان سے کیے ہوئے ظلم و ستم ایک ایک کرکے سب یاد آرہے تھے۔ سب کے سب بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں سر جھکا کر یک زبان ہو کر بولے: یارسول اللہ ﷺ! آپ کریم بھائی اور کریم باپ کے بیٹے ہیں۔ یہ جواب سُن کر رحمتِ عالم ﷺ نے اپنے دل نشین اور کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: ”آج میں وہ کہتا ہوں، جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ اسلام نے کہا تھا کہ آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں۔“آپ نے عفو عام کا اعلان فرما دیا،ان معافی پانے والوں میں کیسے کیسے لوگ تھے ذرا تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھیے۔انہی صحابہ ؓ کرام نے اگلی فتوحات کو انجام دیاتھا۔ بہرحال وقت کے حکمرانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ درگزر سے کام لیں،،، اور خاص طور پر عوامی نمائندوں، صحافیوں اور سوشل ورکرز پر ہاتھ ہولا رکھیں،،، ایسا نہ ہو کہ کل کو ان کی حکومت آئے اور ان کا ہاتھ آپ کے گریبانوں پر ہو۔۔۔ اس لیے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ریاست فیصلے کرے،،، اگر سرکار مخلص ہے اور اچھے کام کر رہی ہے تو پھر اُسے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی فکر ہی نہیں ہونی چاہیے،،، کیوں کہ جو واقعی کام کر رہا ہوتا ہے اُسے تو فرصت ہی نہیں ہوتی کہ وہ ان غلطیوں پر اپنے اور دوسروں کے کئی کئی گھنٹے ضائع کرے! ہاں! اگر کسی نے قومی سلامتی کے منافی کوئی بات کی ہے تو اس پر تو پیکا ایکٹ کا نفاذ ہو سکتا ہے، لیکن اتنی سی بات پر ایک صحافی کو نشانہ بنانا جلد بازی نہیں ہے؟ کیا اس سے میڈیا کے لیے کوئی اچھا پیغام گیا ہے؟ بہرحال مختصر بات یہ کہ وہ کلپ پوری د±نیا نے دیکھا ہے اور مریم نواز نے جو کہا، صحافی نے ا±سے شیئر کر دیا۔ اس پر اسے ٹارگٹ کرنا زیادتی تھی۔جس پر معافی مانگنی چاہیے،،، ورنہ تو ہم یہی سمجھیں گے کہ لگتا ہے کہ حکومتی برداشت جواب دے گئی ہے!