پاک افغان مسئلہ جلد حل کیا جائے!

پاکستان نے ایک بار پھر اپنی دھرتی میں ہونے والے خود کش حملوں کے جواب میں افغانستان میں 7مقامات پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے،،، جس میں افغان میڈیا کے مطابق کم و بیش 80افرادجن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جاں بحق اور اتنی ہی تعداد میں زحمی ہوئے ہیں،،، جبکہ ہمارے سکیورٹی اداروں کے بقول پاک افغان سرحد پر 7دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کیاگیا ہے،جن میں وطن عزیز میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا گیا ہے،،، اگر دیکھا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ تشویشناک صورتحال نہیں ہو سکتی،کیوں کہ اس وقت بھی دونوں ممالک کے عوام انگشت بدندناں ہیں کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ کہیں کوئی تیسرا فریق تو اس سے فائدہ نہیں اُٹھا رہا؟ اور پھر عوام پریشان اس لیے بھی ہیں کہ دونوں اطراف میں کلمہ پڑھنے والے ایک دوسرے کی وجہ سے لاشیں اُٹھا رہے ہیں،،، اور دونوں اطراف سے حملہ کرنے والے ایک دوسرے پر نعرہ تکبیر کہہ کر حملے کررہے ہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ کوئی بھی فریق اس وقت مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار بھی نہیں ہے،،، پاکستان افغان حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ یہ سب کچھ اُس کی ایماءپر کیا جا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان ہماری حدود میں داخل ہوکر کارروائیاں کر رہا ہے۔ ۔۔ خیر پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ ہمیں اس وقت تک علم بھی نہیں ہے، کہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟کب تک ہم ایک دوسرے کی ماﺅں کی گودیں اُجاڑتے رہیں گے، یا بچوں کو یتیم کرتے رہیں گے،،، یا خواتین کو بیواہ کرتے رہیں گے،،،اور پھر اہم بات یہ ہے کہ اس وقت دونوں اطراف حفاظ کرام سربراہ افواج ہیں،،، تو کیا ایسے میں ہمیں خود نہیں سوچنا چاہیے کہ آخر دونوں ممالک کر کیا رہے ہیں؟ کیا اسلام میں ہمیں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کو ترجیح نہیں دی گئی؟ کیا ضروری نہیں ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو چاہیے کہ آپسی تنازعات مل بیٹھ کر حل کریں،،، کیوں کہ یہ دونوں ممالک اسلامی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک بھی ہیں،،، اور کیا کبھی ہمسائے ایک دوسرے سے جدا ہوسکتے ہیں؟ یقینا کبھی نہیں! اور پھر دونوں صدیوں سے اکٹھے رہتے آئے ہیں،،، دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔ اس لیے اس کو جتنی جلدی ممکن ہو حل کیا جائے،،، ویسے تو ہماری طرف سے کئی بار اس حوالے سے کوششیں بھی کی گئی ہیں،،،کہ مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے،،، اور افغانستان کے علما بھی اس کو ناجائز قرار دے چکے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔ اس کے باوجود، حملے رکنے کو نہیں آ رہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے اپنے طور پر وہاں کی حکومت سے بارہا رابطہ کیا۔ یہی نہیں‘ ترکیہ اور چین جیسے دوستوں کو بھی بطور ثالث اس عمل میں شریک کیا۔ انہوں نے بھی طالبان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن یہ سب کوششیں ناکام ہو چکیں ہیں،،، اس لیے طالبان حکومت کو اس حوالے سے آگے آنا چاہیے اور پاکستان کے الزامات کا سدباب کر نا چاہیے تاکہ مسائل خوش اسلوبی سے حل ہوں،،، کیوں کہ دونوں ممالک یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ مسائل کبھی طاقت سے حل نہیںہوتے بلکہ مذاکرات سے حل ہوتے ہیں،،، ہاں وقتی طور پر مسائل رُک ضرور جاتے ہیںمگر یہ دیرپا حل نہیں ہوتا۔ نہیں یقین تو تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کہ پورا یورپ پہلی دوسری جنگ عظیم لڑ لڑ کر آخر کار ٹیبل پر آبیٹھا اور مذاکرات ہی کے ذریعے مسائل حل کیے گئے۔ لہٰذادونوں ممالک کے مسائل بھی میرے خیال سے اتنے ہی پرانے ہیں جتنے یورپی ممالک کے آپسی مسائل تھے،،، جیسے 14 اگست 1947 کو جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا،،، ستمبر 1947 میں جب پاکستان کی رکنیت کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں پیش ہوا تو افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ ایک علامتی مگر معنی خیز اقدام تھا، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کا تعین کر دیا۔اس مخالفت کی جڑیں محض 1947 میں نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے پیوست تھیں۔ اصل تنازع 1893 کے اُس معاہدے سے جڑا تھا جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ یہ سرحد برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان قائم کی گئی تھی۔ افغانستان کا مو¿قف یہ تھا کہ چونکہ یہ معاہدہ برطانوی حکومت کے ساتھ ہوا تھا، لہٰذا برطانوی راج کے خاتمے کے بعد اس کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ کابل کا استدلال تھا کہ سرحدی علاقوں کے عوام کو خود ارادیت کا نیا حق ملنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب پاکستان کا مو¿قف واضح تھا کہ برطانوی ہند کے تمام بین الاقوامی معاہدے قانونی طور پر نئی ریاست پاکستان کو منتقل ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں 1947 کا ریفرنڈم ہو چکا تھا جس میں اکثریت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ یوں اسلام آباد کے نزدیک سرحد کا مسئلہ قانونی طور پر طے شدہ تھا۔مطلب! دونوں ممالک کے درمیان یہ مسئلہ بھی آج جوں کا توں ہی موجود ہے۔ اور اس کی وجہ سے ہی دونوں اطراف کے عوام خاص طور پر سرحدی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے،،، اس لیے یہ مسائل حل ہونے چاہیے،،، اور ان سب کا حل صرف اور صرف معاہدوں اور مذاکرات میں ہے۔ لیکن اگر ہم طاقت سے ان مسائل کو حل کرنا چاہیں گے تو ہم یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ آپ اُنہیں جنگ سے نہیں ہرا سکتے،،،کیوں کہ اگرجنگ سے ہرانا مقصود ہوتا تو پھر 20سال میں امریکا کھربوں ڈالر جھونک کر بھی افغانستان سے جنگ جیت جاتا،،، یا روس جیسا بڑا ملک اس وقت افغانستان پر فتح حاصل کرکے اُسے اپنا حصہ بنا چکا ہوتا،،، لہٰذا آپ اُن کے ساتھ صرف ڈائیلاگ کرکے ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔۔۔ چلیں! اب اگر آپ نے دباﺅ ڈال دیا،،، لیکن اب بھی آپ کو کسی تیسرے فریق کو ساتھ شامل رکھنا چاہیے جو ڈائیلاگ کو ترجیح دے،،، اس حوالے سے قطر سے آپ معاونت حاصل کر سکتے ہیں،،، یا کسی دوسرے ایسے ملک سے جس سے طالبان بھی کمفرٹ ہوں،،، جیسے ابھی حالیہ دنوں میں خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب کی ثالثی کے بعد افغانستان نے کچھ پاکستانی سپاہیوں کو آزاد کیا ہے،،،آپ اس حوالے سے سعودی عرب کو بھی ثالث بنا سکتے ہیں،،، کیونکہ پاک سعودیہ کے درمیان تو ویسے بھی معاہدہ موجود ہے کہ ”آپ کے مسئلے ہمارے مسئلے، اور ہمارے مسئلے آپ کے مسئلے ہوں گے“ اس لیے سعودی عرب کو اس حوالے سے خود آجانا چاہیے،،، لیکن اس وقت موجودہ صورتحال میں ہمیں یہ باتیں قطعاََ زیب نہیں دیتیں کہ ہم ایک دوسرے کے بندے مار کر خوش ہوں۔۔۔ اس حوالے سے تو قرآن پا ک کی تعلیمات بھی واضح ہیں کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنا سنگین ترین گناہوں میں سے ہے، اور اس پر خوشی منانا تو ایمان اور اخلاق دونوں کے خلاف ہے۔قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:”جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔“ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور جو شخص کسی مو¿من کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کرے گا۔“پھر احادیث نبوی دیکھ لیں، صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے فرمایا”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر (کے قریب) ہے۔“ایک اور حدیث میں ہے:”ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔“اسی طرح حضور نے یہ بھی فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم کے مستحق ہو سکتے ہیں (اگر نیت ظلم و فساد کی ہو)۔ یہ اس بات کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔ لہٰذایہ انتہائی غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویے ہیں،،، جن سے ہمیں جس قدر ہو سکے بچنا چاہیے،،، اور ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ خدانخواستہ اگر یہ جنگ بڑھ جائے تو کیا ہمیں کبھی تاریخ معاف کرے گی؟ روز ہم اپنے شہدا ءکو دیکھتے ہیں، روز ہم اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں،، تو کب تک ایسا رہے گا؟ اور یہ آج سے نہیں بلکہ اُس وقت سے برداشت کر رہے ہیں جب سے امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا،،،یعنی آج سے ڈھائی دہائیاں پہلے سے آج تک ہم ہر روز کہیں نہ کہیں شورش اور خرابی حالات ہی دیکھتے آئے ہیں،، اب مسلمانوں کی لاشیں اُٹھاتے اُٹھاتے ہمارے بازو شیل ہو چکے ہیں،، بلکہ اب تو نفرت کی آگ دونوں اطراف اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس کا مظاہرہ ہمیں کرکٹ میچز کے دوران دونوں ممالک کے تماشائیوں کو دیکھ کر ہوتا ہے،،، ایسے لگتا ہے کہ ٹیمیں اور تماشائی ایک دوسرے سے سخت نفرت کر تے ہیں،،، اور پھر اس کا مظاہرہ آپ سوشل میڈیا پر بھی دیکھ سکتے ہیں،،، لہٰذااس مسئلے کو جتنی جلدی ممکن ہو، حل کیا جائے،،، جو اس مسئلے کو حل کرے گا، وہی ہیرو ہوگا، طاقت کا استعمال کرنے والا کبھی ہیرو نہیں بنتا، بلکہ وہ ولن بن جاتا ہے،،، اس لیے خدارا اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھیں اور ہوش کے ناخن لیں ورنہ دونوں ممالک کے عوام اور ان کی آنے والی نسلیں آپ میں گتھم گتھا ہی ہوتی رہیں گی۔ اس حوالے سے آپ مولانا فضل الرحمن کی خدمات لے سکتے ہیں،، یا دیگر علمائے کرام کی یقینا افغان طالبان کے دل میں ان کی قدر ہو گی۔ اگر وہ ان کے ساتھ بات کریں اور پاکستان کی ریاست انہیں یہ مینڈیٹ دے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کے مثبت نتائج نکلیں۔ ویسے بھی مولانا ایک زیرک آدمی ہیں جو خارجہ تعلقات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں اور پاکستان کے مفادات کو بھی۔ اگروہ آمادہ ہوں تو میرا خیال ہے کہ ریاست کو اس بارے میں ضرور غور کرنا چاہیے!