کیا ن لیگ اور پی پی پی کے راستے الگ ہو رہے ہیں؟

جب ”عالمی خبروں“ کی اہمیت زیادہ ہوتو پھر ”قومی خبریں“ اہمیت کھو دیتی ہیں،،، یہی حال اس وقت پاکستان کا ہے کہ جہاں ایران امریکا جنگ کے بادل اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ قومی سطح پر کیا ہو رہا ہے؟ کسی کو کچھ علم نہیں،،، جبکہ جنگ ہے کہ فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہیں،،، حالانکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور حکومت نے اپنے تعیں بہت کوشش کی کہ دونوں فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں مگر لگتا ہے کہ یہ کام پاکستان کے بس کا نہیں ہے،،، کیوں کہ ثالث ہمیشہ تگڑا ہوتا ہے،،، اور اُس کا دبدبہ دونوں فریقین پر ہوتا ہے، اور جس کی بات پر فریقین پوری توجہ دیتے ہیں،،، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ایران کو تو جیسے تیسے کر کے رام کر لیتا ہے، مگر دوسری جانب امریکا اپنی شرائط سے ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اور امریکا صاف انداز میں کہہ دیتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہو، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول چھوڑ دے،،، تو امریکا کسی حتمی معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہے ،،، جبکہ دوسری جانب ایران کی بقاءہی مذکورہ بالا دونوں نکات پر ہے ،،، جبکہ اسی یورینیم کی افزودگی کو لے کر تو جنگ شروع ہوئی، ایران نے اپنے ہزاروں شہید قربان کیے،سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت سینکڑوں قائدین کو شہید کروا لیا تو اب اگر ایران پیچھے ہٹ جاتا ہے تو پھر وہ اپنی عوام کو جواب کیسے دے سکتا ہے،،، بہرحال کہنے کا مقصد ہے کہ ہوسکتا ہے میں غلط ہوں مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ جنگ طویل ہوگی اور آخر میں اس کے نتائج بھی بھیانک ہو سکتے ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی ہماری قومی سیاست کی تو ذرائع خبر دے رہیں کہ اس وقت ”سرکاری اتحاد“ خاص طور پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان خوب کھچڑی پک رہی ہے،،، کیوں کہ ”ثالثی“ کے اس دور میں ”کریڈٹ“ کے چکر میں ن لیگ نے پیپلزپارٹی کو یکسر پچھاڑ دیا ہے، کسی وفد میں کہیں کوئی پیپلزپارٹی کا رُکن، یا قائد شامل نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سب اچھا نہیں رہا! جبکہ دوسری جانب ذرائع یہ بھی خبر دے رہے ہیں کہ صدر زرداری اور یواے ای کے آپسی تعلقات بھی اچھے ہیں،،، کیوں کہ وہاں اُن کا اچھا خاصا کاروبار ہے،،، اور مبینہ طور پر کچھ ہوٹلز بھی ہیں جہاں سنا ہے جنگ سے پہلے بڑی تعداد میں امریکی فوجی اور غیر ملکی رہائش پذیر تھے،،، اور ایران اسرائیل و امریکا جنگ میں ایران نے کم و بیش 3ہزار سے زائد بیلسٹک میزائل فائر ، ڈرونز اور کروز میزائل فائر کیے،،، اس حوالے سے ایران کا کہنا تھا کہ اُن کا نشانہ کوئی ملک نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود امریکی اڈے ہیں جو ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اب جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ زرداری صاحب کے دوبئی میں مبینہ طور پر کاروبار ہیں جن کی نشاندہی مختلف ”لیکس“ اور رپورٹس میں بھی کی گئی ہے،،، تو ایسے میں زرداری صاحب نے اپنی حکومت سے گزارش کی کہ وہ ایران کو یو اے ای پر حملے کرنے سے روکے، جس پر اُنہیں مناسب جواب نہ ملا تو مبینہ طور پر پیپلزپارٹی کی جانب سے یو اے ای کو کہا گیا کہ وہ پاکستان سے اپنے پیسے (ساڑھے تین ارب ڈالر) مانگے،،، اس کے بعد پاکستان دباﺅ میں آئے گا اور پیسے واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا،،، تو وہ یقینا ایران سے Requestکرے گا کہ وہ یو اے ای پر حملے کرنے سے باز رہے ۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا، اور پاکستان کسی دباﺅ میں نہ آیا اور جیسے تیسے کر کے یو اے ای کو پیسے واپس کردیے اور پھر اس طرح پیپلزپارٹی کو ”کارنر“ کر دیا گیا۔ اب اس میں قصور زرداری صاحب کا ہے، ہماری حکومت کا ہے یا فیصلہ کرنے والوں کا ہے ،،، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،،، جو کوئی ”ثالثی“ پر اپنی زبان کھولے گا، اندر کی خبریں باہر آئیں گی یا کوئی اس پر کتاب لکھے گا،،، ورنہ تو ہوسکتا ہے،،،کہ اسی قسم کی چہ مگوئیاں جاری رہیں اور پھر مجھ جیسے خطاکار ہو سکتا ہے کہ غلط بھی ثابت ہوں! لیکن یہاں کہنے کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ پیپلز پارٹی کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے، یہ ایک سوچنے والا ذہن بخوبی محسوس کر سکتا ہے۔ حالانکہ یہ وہ جماعت ہے جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، ایک ایسا رہنما جس کا وژن صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرانداز ہوتا تھا۔ ان کے تعلقات شاہ فیصل جیسے رہنماو¿ں سے تھے، جبکہ معمر قذافی جیسے انقلابی لیڈرز ان کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔یہ وہی بھٹو تھے جنہوں نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک اور مایوس قوم سے وعدہ کیا کہ ”ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹمی طاقت حاصل کریں گے“، اور اسی عزم نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔آج جب ہم عالمی حالات، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تناظر میں، دیکھتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو عالمی سطح پر اس اہم بیانیے کا حصہ کیوں نہیں بنایا جا رہا؟ حالانکہ یہ ایک نظریاتی جماعت تھی،جو ایک حد تک سوشلسٹ نظریات کی نمائندگی کرتی رہی، اور پھر یہی وہ جماعت ہے جس کے کارکنوں نے جنرل ضیاءالحق کے دورِ جبر میں بھی ہمت نہیں ہاری اور کئی کارکنوں نے جلاوطنی اختیار کی، حتیٰ کہ کچھ نے لیبیا جیسے ممالک میں سیاسی پناہ لی۔ لہٰذا، اگر آج پیپلز پارٹی کو عالمی سیاست میں محدود کیا جا رہا ہے یا یہ اپنی غلطیوں سے ہو رہی ہے تو اس کی وجوہات کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے،،، اور رہی بات ان دونوں بڑی جماعتوں کے اتحاد کی تو میرے خیال میں یہ اتحاد صرف اور صرف تحریک انصاف کی مرہون منت بچا ہوا ہے،،، ورنہ یہ کب کے آپس میں دست و گریباں ہو چکے ہوتے۔۔۔ کیوں کہ انہیں علم ہے کہ اگر آج ان دونوں جماعتوں کی علیحدگی ہو گئی تو تحریک انصاف ان کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی،،، اور ویسے بھی پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں ہے مگر اس کی حمایت کے بغیر نہ تو شہباز حکومت قائم ہو سکتی تھی نہ ہی جاری رہ سکتی ہے، قومی اسمبلی میں اگر نمبر گیم کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس 125 نشستیں ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 74 نشستیں ہیں، ایم کیو ایم کے پاس 22 ، پاکستان مسلم لیگ کے پاس پانچ ، استحکام پاکستان پارٹی کے پاس چار جبکہ پاکستان مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پاس ایک ایک نشست ہے، اس طرح حکومتی بنچز کے تمام نمبر ملا کر 233 بنتے ہیں۔اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی 74 نشستوں کی حمایت ختم ہو جائے تو حکومت کے پاس صرف 159 کا نمبر بچتا ہے جبکہ اس کو حکومت بنانے یا قائم رکھنے کیلئے درکار نمبر 169 ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر (ن) لیگ حکومت نہیں چلا سکتی،،، لیکن پھر وہی بات سے بات کہ پیپلزپارٹی کی بھی مجبوری ہے کہ وہ ن لیگ کے ساتھ رہے ،،، کیوں کہ بانی تحریک انصاف نے ایک بار کہا تھا کہ جب یہ میرے خلاف ہوں گے یا جب میں ان کے سامنے ہوں گا ، تو سب ایک ہو جائیں گے۔ اور یہ تب تک ساتھ رہیں گے، جب تک انہیں تحریک انصاف کا ڈر رہے گا۔ یعنی آج اگر انہیں کہا جائے کہ تحریک انصاف کو سرے سے ختم کر دیا گیا ہے، تو یقین مانیں کی لڑائیاں اور آپسی چیخیں امریکا، برطانیہ، یورپ، افریقہ ، آسٹریلیا کی فضاﺅں تک سنی جائیں گی۔۔۔ نہیں یقین تو ماضی اُٹھا کر دیکھ لیں کہ یہ ایک دوسرے کے کس کس طرح کپڑے اُتارتے رہے ہیں۔ یعنی اس ضمن میں 1990ءکو دیکھ لیں،،، کہ یہ کس طرح ایک دوسرے کے خلاف شدید تنقید اور ذاتی جملے بازی پر مشتمل ”مہمات“کرتے تھے،،، اور پھر محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی پہلی وفاقی حکومت کو پہلے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی جب یہ کوشش ناکام رہی تو صدر غلام اسحاق نے آئین کی دفعہ 58(2)(B) کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ نئے انتخابات میں میاں نواز شریف کی پارٹی نے کامیابی حاصل کر لی مگر کچھ ہی عرصہ بعد صدر غلام اسحاق کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے حکومت سے الگ ہونا پڑا۔ پھر1993ءمیں نواز شریف اور صدر غلام اسحاق کے درمیان چپقلش میں پنجاب کے عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ تھیں۔ اگر اس موقع پر پیپلز پارٹی نواز شریف کی حمایت کرتی تو یہ نہ صرف پارلیمانی جمہوریت کے ایک اہم اصول کی پاسداری ہوتی بلکہ اس کی وجہ سے پارٹی پنجابیوں کے دل میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب ہو جاتی لیکن محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف صدر کا ساتھ دیا جس نے قبل ازیں آئین کی دفعہ 58(2)(B) کو استعمال کرکے اسمبلیاں تحلیل کر دی تھیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت بحال کر دی مگر غلام اسحاق خان اور نواز شریف کی لڑائی میں پیپلز پارٹی نے اول الذکر کا ساتھ دے کر پنجاب کے عوام کی نظروں میں اپنا مقام کھو دیا۔ یہ مقام ابھی تک بحال نہیں ہو سکا۔ البتہ 1988ءکے بعد پہلے 58(2)(B) اور بعد ازاں 1999ءمیں مقتدرہ کی براہِ راست مداخلت سے دونوں پارٹیوں کی قانونی اور منتخب حکومتوں کو جس طرح رخصت کیا گیا‘ اس سے ان دونوں پارٹیوں میں مقتدرہ کی چیرہ دستی کا مل کر مقابلہ کرنے کا احساس پیدا ہوا۔ پھرمئی 2006ءمیں بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی طرف سے چارٹر آف ڈیمو کریسی پر دستخط اسی احساس کا نتیجہ ہے۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد مرکز میں تشکیل پانے والی پیپلز پارٹی کی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی شرکت کا جمہوری حلقوں کی طرف سے خیرمقدم کیا گیا مگر چند ماہ بعد مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے ملکی سیاست کو ایک دفعہ پھر 1990ءکی دہائی کی طرف دھکیل دیا۔ جبکہ اس کے بعد پھر تحریک انصاف کا دور آیا تو یہ پھر ایک دوسرے سے جدا نہ ہوسکیں،،، اور ابھی بھی انہیں اگر مقتدرہ نے یہ کہہ دیا کہ تحریک انصاف کا مکمل صفایا ہو گیا ہے تو یقین مانیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا اور یہ دونوں جماعتیں ایک بار پھر ایک دوسرے کے گریبان پکڑ رہی ہوں گی! کہ فیصلہ کرنے والوں کو اللہ ہوش دلائے اور ان سے ہماری جان چھڑوائے،،، ورنہ عوام کا جو حال ہے اُس کا ذکر تو میں پچھلے کالم میں کر ہی چکا ہوں!