ایک ”جنگ بندی“ عوام کے لیے بھی!

کل ایک کام کے سلسلے میں میرا اردو بازا ر جانا ہوا،وہاں ایک دوکاندار سے گپ شپ ہوئی، میں نے اُس سے پوچھا کہ مارکیٹ کے کیا حالات ہیں، ظاہر ہے،،، سب کو نظر آرہا ہے کہ مارکیٹ کے کیا حالات ہیں، اس لیے میں نے متوقع جواب ہی کی اُمید کی،،، لیکن اُس نے کہا بس ٹھیک ہیں،،، میں نے کہا کہ سیزن آﺅٹ ہے اس لیے ”ویلے“ بیٹھے ہیں، یا کوئی اور وجہ ہے،،، اُس نے کہا کہ ڈھلوں صاحب! آپ پوری مارکیٹ گزر کر آئے ہیں،،، تو آپ کو کتنے گاہک نظر آئے؟ میں نے کہا ویسی ریل پیل نہیں ہے، جیسی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ ،،، تو دوکاندار نے کہا کہ بس سمجھ لیجئے کہ سیزن ہو یا نہ ہو،،، اس سے کیا فرق پڑتا ہے،،، فرق صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ لوگوں میں خریدنے کی سکت کتنی ہے؟ اگر لوگوں میں قوت خرید ہی نہ ہوگی تو پھر آپ جتنی مرضی کتابیں چھاپ لیں، جتنی مرضی اسٹیشنری بنا لیں،،، اس کا کیا فائدہ۔ پھر انہوں نے ایک اور ہوشربا انکشاف کیا کہ اس مہنگائی کی وجہ سے 20سے 30فیصد سفید پوش طبقے نے بچوں کو سکول سے ہی ہٹا لیا ہے،،، کہ اُن کے گھر کے اخراجات ہی پورے نہیں ہو رہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ کام ویسے ہی نہیں ہے، اوپر سے صفائی ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، سیلز ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، انکم ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس اور نہ جانے کون کون سے ٹیکس دینے پڑ رہے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اب تو جس تاجر کے پاس 5،7کروڑ روپے ہیں، وہ یہاں کاروبار کرنے کے بجائے باہر جانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور لوگ موقع ملتے ہی، اپنا کاروبار چھوڑ کر اپنے بچوں کی خاطر بیرون ملک جا بھی رہے ہیں۔ بہرحال یہ باتیں تو اب ہر چھوٹے بڑے کاروباری ، بلکہ عام عوام کیں ہیں،، جو پہلے ہی پسے ہوئے تھے، مگر اب ایران امریکا جنگ کے بعد تو وہ سڑک پر آنے کو تیار ہیں،،، جو پٹرول ، ڈیزل اُنہیں جنگ سے پہلے ڈھائی سو روپے میں دستیاب تھا اب وہ 400روپے میں مل رہا ہے، پھریہی نہیں بلکہ ان قیمتوں میں اضافے کے بعد ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے۔ یعنی یکم فروری 2026ءسے لے کر اب تک پٹرول کی قیمت میں 56فیصداضافہ ہوا ہے۔ دوسری سائنس یہ سمجھائی گئی کہ ہم نے پٹرول کی قیمت چار سو روپے فی لٹر ہونے سے روک کر دکھا دی۔ ڈالر والی سائنس کی طرح یہ سائنسی فارمولہ بھی درست ثابت ہوا۔ 25کروڑ لوگوں کے وسیع عوامی مفاد میں اب پٹرول 399.8روپے فی لٹر میں بِک رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی گاڑیاں اور اربوں روپے کے جہازوں میں مفت کا پٹرول انجوائے کرنے والوں نے چار سو روپے لٹر پٹرول پر 14پیسے فی لٹر کے حساب سے قوم کو ریلیفِ عظیم دیا۔ ڈیزل میں بھی ہائبرڈ نظام نے ڈنڈی نہیں ماری وہ بھی چار سو روپے فی لٹر پر پہنچنے سے پہلے اسے 399.58روپے پر قابو کر لیا گیا۔ اب اس میں عوام کو کہا جا رہا ہے کہ یہاں عالمی منڈیوں کا قصور ہے،،، یعنی سرکاری بیانیے کے مطابق چونکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے بعد تیل کی عالمی منڈیوں میں گڑبڑ ہوئی اس لیے پٹرول‘ ڈیزل‘ مٹی کا تیل مہنگا کرنے میں حکومت کا کوئی قصور نہیں۔ اس بے بنیاد دعوے کی تردید کے لیے ایک بار پھر رپورٹ شدہ حقائق دیکھ لینا بہتر ہو گا۔آئیے پہلے چلتے ہیں لاہور سے 235میل دور بھارت کے دارلحکومت دہلی‘ جہاں پٹرولیم کی قیمتیں 278پاکستانی روپے فی لٹر پر برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ عالمی یا امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے ہمارے کوئی آفیشل ٹریڈ تعلقات نہیں ہیں۔ ہمارے مقابلے میں بھارت چا بہار سمیت ایران کا ٹریڈ پارٹنر تھا اور ہے۔ بھارت ایرانی تیل خرید کر استعمال کرتا ہے۔ دہلی سے آگے ڈھاکہ میں صرف 19فیصد اضافے کے ساتھ پٹرولیم کی قیمتیں 306روپے پاکستانی تک پہنچی ہیں۔ سادہ گنتی بتاتی ہے کہ دہلی میں پٹرول 122روپے اور ڈھاکہ میں 94روپے فی لٹر پاکستان سے سستا ہے۔ان تینوں قیمتوں میں فرق صرف پٹرولیم لیوی کا نہیں بلکہ اس ٹیکس کا ہے جو پاکستانی عوام ادا کر رہے ہیں۔ شہرِ اقتدار کے مقتدر ابھی اس ٹیکس میں مزید اضافہ کریں گے۔ لیویز مزید بڑھانے کا اعلان ہائبرڈ نظام پہلے کر چکا۔ اگلے تیس دن کے دوران مراحل میں پٹرول کی قیمت کئی صد روپے مزید بڑھائی جائے گی۔ وہ بھی قسطوں میں۔یعنی اصل مسئلہ ملک میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم اور طبقاتی سماج میں دراڑیں ہیں۔ ریاست کے پاس عوام پر ٹیکسیشن کے علاوہ کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ منیجرز کا مسئلہ نہ سستا پٹرول ہے نہ روٹی نہ عوام۔ تبھی اب تو عوام گڑگڑا کر کہنے لگے ہیں کہ حکومت سے کہیے کہ پٹرول کی قیمت کم کرے اس سے پہلے کہ لوگوں کا کچومر نکل جائے۔ وزیراعظم اور ان کے رفقا کا پٹرول مفت ہے۔ انہیں اس اذیت کا اندازہ ہی نہیں کہ عوام پر کتنا بڑا پہاڑ گرایا جا رہا ہے۔ کسی اور ملک نے‘ مبینہ طور پر پٹرول کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں کیا جتنا پاکستان میں کیا گیا ہے۔ عوام تو اب اس حد تک آ گئے ہیں کہ وہ کہہ رہے ہیں ”ہم آپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ اس معاملے میں بھی قیمت کا اضافہ رکوا کر اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی بنوا دیجیے“۔ بہرحال میں پھر یہی کہوں گا کہ بات یہ نہیں ہے کہ جنگ کی وجہ سے حالات ایسے ہوئے،،، بلکہ ہمارے عوام کے تو صدا سے ہی حالات ایسے ہیں۔ چلیں اگر مان لیا جائے کہ یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے،،، تو ہم نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ امورِ ریاست میں فضول خرچی ضرور کرنی ہے اور ریاست کی فضول عیاشیوں میں کوئی کمی نہیں لانی۔ ابھی بھی دیکھ لیں کسی سیاسی رہنما نے اپنے پروٹوکول میں کمی نہیں کی،،، کہیں پر سرکار کی عیاشیاں کم نہیں ہوئیں،، بلکہ آنے والے بجٹ میں بھی غیر ترقیاتی بجٹ اُتنا ہی رکھا گیا ہے جتنا پچھلے بجٹ میں رکھا گیا تھا،،، بلکہ اُس سے بھی زیادہ رکھا جا رہا ہے۔۔۔ اور سنا ہے کہ پنجاب کے بجٹ میں صحتِ عامہ اور تعلیم عامہ کو ملکی امور میں ترجیح نہیں دی گئی اور بجٹ میں مزید کٹوتی کی جارہی ہے،،، حالانکہ جہاں جنگ لگی ہے وہاں کے حالات ہم سے بہتر ہیں،،، آپ یران کی مثال لے لیں، ان کا تعلیمی نظام اور اس نظام کی بدولت ان کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہم سے کہیں آگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال امریکی پابندیوں کے باوجود وہ اتنا موثر میزائل اور ڈرون نظام قائم کر سکے۔ ان کے سارے میزائل سسٹم اپنے ہیں۔ کہاں پہاڑوں کے نیچے انہوں نے میزائل اور ڈرون تنصیبات قائم کیں‘ اتنے مضبوط اور گہرے کہ وحشیانہ اسرائیلی اور امریکی بمباری وہاں تک اثر نہ دکھا سکی۔ ایران کی تباہی بہت ہوئی ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں لیکن کھڑے تو ہیں، جیسے اسرائیلی اور امریکی توقع رکھ رہے تھے ٹوٹے تو نہیں۔ اور جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ برابری کی سطح پر کر رہے ہیں اور کوشش ان کی یہی ہے کہ ان مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے وقت کہا گیا تھا کہ پاکستان میں تیل کا کوئی بحران نہیں ہو گا‘ ہم محفوظ ہیں۔ پورے خطے میں تیل کی قیمت میں کہیں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا‘مگر پاکستانی حکومت نے عام پاکستانیوں پر تیل لیوی کی صورت میں 22 فیصد جنگی جرمانہ عائد کر دیاگیاہے ‘اور عوام 56فیصد زائد قیمت ادا کر رہے ہیں،،، یعنی موجودہ نظام معیشت کو گڑھے سے اٹھانے میں ناکام ہوتا ہے تو بربادی سے توجہ ہٹانے کے لیے عوام پر پٹرول بم پھینک دیتا ہے۔ ہماری تاریخ ہے کہ عام آدمی نے ہمیشہ قربانی دی۔ اب اشرافیہ کا مفت پٹرول‘ بابوﺅں کی دو دو گاڑیاں‘ وزیروں کے لمبے پروٹوکول فوراً بند کریں۔ موجودہ نظام نے عوام کی نیندیں ا±ڑا دیں۔ لہٰذاجہاں سرکار اتنی سرعت کے ساتھ عالمی سطح پر جنگ بندی کروانے میں مصروف ہے،،، امریکا و اسرائیل جیسے ضدی ممالک کو جنگ بندی پر تادم تحریر راضی کیا ہوا ہے،،، وہیں ان سے گزارش ہے کہ خدارا! عوام کے لیے بھی ”جنگ بندی“ کا اہتمام کریں،،، ورنہ اس جنگ کی آڑ میں غریبوں کا مذاق نہ بنائیں،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے گزرے مغل بادشاہ یادغریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا کرتے تھے،،، اب بھی یقینا وہی دور ہے،،، جس سے ہم گزر رہے ہیں،،، لیکن مغل بادشاہوں کے زمانے تو چلے گئے، جو اپنے دور کے غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا کرتے تھے مگر اُن کی جگہ اب شغلیہ بادشاہوں نے لے لی ہے۔ جو محبت کے بجائے سیدھے سیدھے غریبوں کا مذاق اُ±ڑاتے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام کی بھد بھی اُڑا رہے ہیں جس کا تازہ ثبوت آپ کے سامنے ہے،،، الغرض ہمارے ادارے قوم کو ایران کی جنگ میں اُلجھا کر عوام کا بھرکس نکال رہے ہیں،،، اور حدتو یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے،،، کسی نے صحیح کہا تھا کہ پاکستان میں رہنا ”ہائی رسک“ ہے،،، کیوں کہ یہاں کی عدالتیں، پولیس، سرکاری ادارے، میڈیا سبھی ایک طاقت کے گرد گھومتے ہیں،،، اور وہ طاقت اتنی طاقتور ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتی ہے،،، اس لیے میری حکمرانوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ اس ہائی رسک کو کم کریں اور کم از کم Lowرسک پر لے آئیں تاکہ ہم اور ہمارا پاکستان بچ جائے ،،، ورنہ کچھ نہیں بچے گا!