امریکی قرارداد ،،، ہم میں کوئی تو مسئلہ ہے!

25جون کو امریکہ کے ایوان نمائندگان نے پاکستان میں جمہوریت کی حمایت میں ایک قرار داد منظور کی ہے ، جس کے مطابق 8فروری کے الیکشن میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ بے ضابطگی یا مداخلت کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں، جمہوریت کی حمایت کے علاوہ، انسانی حقوق، آزادی اظہار کا تحفظ اور جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانا شامل ہے۔اس قرار داد کو امریکی ایوان نمائندگان کے 368 ارکان نے حق میں جبکہ سات ارکان نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔اور اسے ”قرارداد 901 “ کہا گیا۔ آگے چلنے سے پہلے میں یہ بتاتا چلوں کہ امریکی کانگریس ،،، ریاست امریکا کی وفاقی پارلیمان کو کہتے ہیں، جس کے دو قانون ساز ایوان ہیں : ایوان نمائندگان اور ایوان بالا یا سینٹ۔ دونوں ایوان براہ راست انتخابات سے مکمل ہوتے ہیں۔ یہ وفاقی قوانین بناتے ہےں، اعلان جنگ کرتے ہے، معاہدوں کی منظوری دیتی ہیں اور اسے مواخذے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ایوانِ نمائندگان( ہاو¿س آف رپریزنٹیٹوز) کے ارکان کی تعداد 435 ہے، ہر ایک الگ ضلعے کی نمائندگی دو سال کے لیے کرتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کی شرح سے سیٹوں کی تعداد ملتی ہے۔ آبادی کا تعین ہر دس سال بعد از سر نوءکیا جاتا ہے۔ ہر ریاست کو کم از کم ایک نمائندے کی اجازت ہوتی ہے: سات ریاستوں کے ایک ایک نمائندے ہیں، کیلیفورنیا کے نمائندگان کی تعداد سب سے زیادہ 53 ہے، جبکہ یہاں کی آبادی جو کہ 4کروڑ ہے، وہ بھی تمام ریاستوں سے زیادہ ہے۔ ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو ریاستی سطح پر چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ ایک تہائی سینیٹ کے انتخابات ہر دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔سینیٹ کے معاملے میں ہمارا نظام امریکا سے میل کھاتا ہے۔ اور رہی بات قرار داد کی تو قرارداد اُسے کہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ جو کسی خاص گروپ یا تنظیم کی جانب سے بذریعہ ووٹنگ منظور کیا گیا ہو اُسے قرار داد کہا جاتا ہے،،، ویسے تو ہر دوسرے روز امریکی ایوان نمائندگان میں قرار داد منظور ہوتی ہے، مگر پاکستان کے خلاف ایسی قرار داد کبھی کبھی ہی آتی ہے،،، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ دباﺅ بڑھانا ہوتا ہے۔ اور پھر یہی مطالبہ ناصرف یورپی یونین اور برطانیہ کی طرف سے بھی آچکا ہے بلکہ پاکستانی اداروں فافین اور پلڈاٹ کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بھی 8 فروری کے انتخابات میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ طویل عرصے کے بعد یورپی یونین کا الیکشن آبزرور گروپ 8فروری کے انتخابات کی مانیٹرنگ کیلئے نہیں آیا اور اسی لئے 2024ءکے انتخابات کو عالمی مبصرین شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اب آپ جتنا مرضی یہ کہہ لیں کہ عمران خان اپنے دور حکومت میں خود امریکی سازش کا شکار رہے ہیں، اور خود بانی تحریک انصاف کہتے رہے ہیں کہ اُن کی حکومت گرانے میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ یا یہ کہیں کہ جب جوبائیڈن الیکشن جیتا تھا تو تب اُس نے عمران خان کو فون نہیں کیا تھا بلکہ ہمسایہ ملک انڈیا کو فون کر دیا تھا۔ یعنی آپ امریکی حکومت کی پالیسیوں سے کتنا ہی اختلاف کریں لیکن پاکستان کے الیکشن کے بارے میں امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیا جا سکتا۔ چلیں آپ یہ بھی کہہ لیں کہ امریکا میں موجود پی ٹی آئی کی لابنگ کام کر گئی یا وہاں موجود پاکستانی نژاد کمیونٹی نے راستے ہموار کردیے لیکن چار سو سے زائد اراکین کے ایوان میں آپ زیادہ سے زیادہ 50فیصد اراکین کو راضی کر سکتے ہیں،،، سب کو تو نہیں ”خرید“ سکتے؟ جبکہ 90فیصد اراکین کا قرارداد کے حق میں بات کرنا ،،،کیا آپ کو نہیں لگتا کہ مسئلہ ہوا ہے اور یہ Openlyہوا ہے۔ اور پھر آخر یہ مسئلہ ہوتا ہی کیوں ہے؟ ہم ایسے مواقع کیوں فراہم کرتے ہیں؟ ہم لوگوں کو جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیوں کرتے ہیں؟ 2018ءمیں بھی یہی رولا تھا، 2013ءمیں بھی یہی رولا تھا، 1997ءکے الیکشن میں بھی یہی مسئلہ تھا۔ اُس سے پہلے بھی یہی رولے تھے۔ بلکہ 1964ءکے الیکشن سے شروع ہو جائیں جب محترمہ فاطمہ جناح کو ہروایا گیا اور اُنہیں غدار قرار دیا گیا۔ اُس وقت بھی کھلی دھاندلی ہوئی تھی،،، جس میں محترمہ کو غدار قراردینے کے بعد تو یہ رسم ایسے چلی کہ ہر اختلاف رائے رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیت و ادبی شخصیت کو غدار قرار دیا جانے لگا۔ جبکہ میرے خیال میں پاکستان میں کوئی بھی غدار نہیں ہے، ولی خان سے لے کر نوازشریف ، بے نظیر، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن ،، ان سب میں سے کوئی بھی غدار نہیں ہے،،، پہلے تو قومی اسمبلی میں یہ قرار داد پاس کروائی جائے کہ ملک سے غدار کا لفظ ہی ختم کر دیا جائے،،،مجھے تو یہ خدشہ ہے کہ کل کلاں ہمارے بھی کسی کالم کی بنیاد پر ہمیں بھی کہیں غدار قرار نہ دے دیا جائے۔ اور خاص طور پر سیاستدانوں اور اختلاف رائے قائم کرنے والوں کے لیے یہ لفظ تو ممنوع قراردیا جانا چاہیے۔ خیر بات ہو رہی تھی امریکی قرار داد کی تو یقینا اس سے کم از کم یہ بات تو کلیئر ہوئی کہ ہمارے حکمرانوں کو دنیا بھر سے 8فروری کے حوالے سے کسی صورت کلین چٹ نہیں ملی۔ بلکہ میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ 2023-24ءمیں جن جن ممالک میں الیکشن کروائے گئے اُن میں سے سب سے زیادہ دھاندلی کے الزاما ت پاکستان میں لگے۔میں پھر وہی بات کروں گا کہ آخر کار ایسا ہوتا کیوں ہے؟ اور ہم اس سے کب نکلیں گے؟ انڈیا کے الیکشن ہوئے ، بنگلہ دیش کے الیکشن ہوئے مگر اس لیول کا وہاں تو کوئی الزام نہیں لگا۔ بلکہ بادی النظر میں جہاں کچھ ہوتا ہے وہیں الزام لگتا ہے۔ جہاں آگ لگتی ہے، دھواں بھی وہیں سے نکلتا ہے۔ اس لیے آپ 8فروری کے الیکشن کی شفاف تحقیقات کروا لیں،،، دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ورنہ کل کلاں تو انڈیا بھی ہمارے خلاف قرار داد پاس کرے گا کہ ہمسایہ ملک میں الیکشن ٹھیک نہیں کروائے گئے، جس کی وجہ سے وہاں پر شفاف قیادت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں خطرات لاحق ہیں۔ لہٰذاعوامی نمائندگان کو پارلیمنٹ میں لایا جائے تاکہ ہمسایہ ممالک کے لیے مسائل پیدا نہ ہوں! اور ویسے بھی الیکشن کمیشن کا سربراہ میرے خیال میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج ہونا چاہیے،،، کیوں کہ ہوتا یہ ہے کہ ہم بیوروکریسی میں سے کسی کو الیکشن کمیشن کا سربراہ لگا دیتے ہیں،،، اُس کا عوام سے نہ تو کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی وہ عوام کے لیے کوئی ہمدردی رکھتا ہے،،، اس لیے وہ الیکشن بھی ایسا کرواتا ہے کہ اگلے کئی سال تو رولا ہی ختم نہیں ہوتا۔ اس لیے جہاں اس وقت سپریم کورٹ میں 17ججز ہیں،،، وہیں ایک دو ججز اور تعینات کردیں جو ان معاملات کو دیکھیں،،، ورنہ تو ملک میں کوئی ادارہ ایسا نہیں بچا جس پر اعتبار کیا جاسکے۔ بہرکیف بظاہر مذکورہ قرارداد میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا نام استعمال کیا گیا ہے اور الیکشن پر انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ درست کہ پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے کئی سنگین سوالات موجود ہیں اور تحقیقات کا مطالبہ پی ٹی آئی بھی کر رہی ہے اور اس کی الیکشن دھاندلی کے حوالے سے شکایات جائز بھی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی بڑی تعداد میں امریکہ میں ایکٹو ہیں، وہ ماضی میں بھی حکومت کے خلاف امریکی کانگریس اور سینیٹ میں موثر لابنگ اور موجودہ حکومت اور مقتدر فورسز کیلئے خاصی پشیمانی اور شرمندگی کا سامان پیدا کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ کانگریس کے 368اراکین کی جانب سے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے کو پی ٹی آئی کی امریکہ میں کامیاب لابنگ سے منسوب کر رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ پی ٹی آئی سے اوپر کے لیول کا کام ہے۔ شاید ہوا کا رُخ بھی بدل رہا ہے،،، تبھی تحریک انصاف کی قیادت نے صلح کی میز پر بیٹھنے کو اپنی جماعت کے قائدین کی رہائی سے منسوب کر دیا ہے۔ اور پھر امریکی ایوان نمائندگان کی قراردادمنظور ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد وزیر اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں تشریف لائے۔ اپوزیشن رہنماﺅں کی نشستوں پر جاکر ان سے مصافحہ کیا اور بعدازاں اپنی نشست سے کھڑے ہوکر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی۔ ان کے اس عمل کو سراہنے کے بجائے جھکی افراد کی اکثریت نے فی الفور یہ محسوس کیا کہ وہ امریکی ایوان نمائندگان سے پاس ہوئی قرارداد کے ”دباﺅ“ میں آگئے ہیں۔ میں بطور صحافی ایسا تو نہیں کہہ سکتا، لیکن اس بات کو رد بھی نہیں کر سکتا۔ اسی لیے میں اکثر کہتا ہوں کہ بقول شاعر آپ ہی اپنی اداو¿ں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی