آئی پی پیز اور ہمارے ”معصوم“ سیاستدان !

اس وقت عوام تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری ، بے یقینی اور امن امان کی بگڑتی صورتحال نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ اوپر سے آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے بعد تو اس وقت یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وطن عزیز کا مستقبل کیا ہے؟ حکمران ایسے مسلط کر دیے گئے ہیں کہ یہ عوام کو ریلیف دینے نہیں چاہتے، بلکہ رعایا حکمرانوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ اور رعایا کا حال دیکھیں کہ جو عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، عوام بھی اُنہیں سے اُمید لگا کر بیٹھے ہیں۔ ہمارے سیاستدان ہی اصل آئی پی پیز کے مالکان ہیں۔ اور ایسے ایسے معاہدے کیے بیٹھے ہیں کہ بجلی بنے نہ بنے آپ نے انہیں ڈالرز میں ادائیگی کرنی ہے، خیر اس پر تو بعد میں تفصیلی بات کرتے ہیں مگر اس وقت آپ دیکھیں کہ نہ تو اس پر سپریم کورٹ ہی سوموٹو ایکشن لے رہی ہے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا کرہی ہے۔لیکن جو چیز بظاہر نظر آرہی ہے وہ یہی ہے کہ پیپلزپارٹی ، ن لیگ اور اسٹیبشلمنٹ تینوں اس کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن یہ معصوم بن رہے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ پانی سر سے گزرنے کے بعد بھی یہ کچھ نہیں کررہے ۔ خیر اگر بات کریں آئی پی پیز کی تو اس وقت پاکستان میں کم و بیش 25ہزارمیگا واٹ بجلی بن رہی ہے، جن میں سے پانی سے بجلی 8ہزار میگا واٹ، سرکاری تھرمل پاور پلانٹ سے 3600میگاواٹ جبکہ آئی پی پیز13500میگا واٹ بجلی بنا رہے ہیں، جبکہ آئی پی پیز کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 18104میگا واٹ ہے۔انڈیپنڈینٹ پاور پروڈیوسرز جنہیں عرف عام میں آئی پی پیز کہا جاتا ہے ۔ یہ درحقیقت نجی سطح پر بجلی بنانے والی کمپنیاں ہوتی ہیں، جنہیں 1993 میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ہم پر مسلط کیا گیا تھا، بلکہ وہیں سے پاکستان کی معیشت کے ”گینگ ریپ“ کا آغاز ہوا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوںروپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا، بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے، ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی اور اب تو انتہا ہی ہوگئی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا ہے کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔ خیر بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔لیکن 1997میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے اس شعبے میں چمک دیکھی تو سب سے پہلے انہوں نے احتساب سیل کا سربراہ سیف الرحمن کو بنایا جو اسلام آباد میں دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے، ہر سیاستدان، صحافی اور بیوروکریٹ اُن کے نشانے پر تھا۔ انہوں نے آئی پی پیز کو بھی عدالتوں میں گھسیٹا، جس کا مطلب صاف ظاہر تھا کہ پیسے بٹورنا یا اپنی یا حکمرانوں کی مزید کمپنیوں کی سرمایہ کاری کروانا۔ خیر بے رحم احتساب کیا ہونا تھا حالات مزید بگڑگئے اور ادائیگیاں زیادہ ہونے لگیں۔الغرض اس منصوبے پر مجموعی طور پر 17 آئی پی پیز نے 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی جو چند سالوں میں415 ارب روپے منافع اور 310 ارب روپے کا ڈیوڈنٹ حاصل کرچکی تھیں۔ پھر 12اکتوبر 1999کے بعد توقع ہوئی کہ اب صحیح احتساب ہوگا۔ لیکن جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہوئے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ 2002ءمیں اصل پاور پالیسی کو تبدیل کرکے آئی پی پیز کو مزید اضافی مراعات دی گئیں۔ مرے کو سو درے ۔ کہ پالیسی کے تحت ٹیرف کے نرخ روپے کے بجائے ڈالر میں کرنے سے آئی پی پیز کا طے شدہ منافع (IRR) 17 فیصد کے بجائے 27 فیصد تک پہنچ گیا جس میں روپے کی ڈی ویلوایڈیشن بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ بجلی نہ لینے کی صورت میں بھی آئی پی پیز کو 60 فیصد کیپسٹی سرچارج کی ادائیگی اور فیول کی مد میں اربوں روپے اضافی دیے گئے جن سے اِن کمپنیوں کا منافع 50سے 70 فیصد تک پہنچ گیا اور سرکولر ڈیٹ بڑھتے بڑھتے 1400 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ آئی پی پیز کی اضافی ادائیگیوں کی وجہ سے نیپرا کو بجلی کے نرخ بار بار بڑھانے پڑے اور اس طرح ہماری صنعت کو دی جانے والی بجلی خطے میں سب سے مہنگی ہوگئی جس کی وجہ سے ہماری پیداواری لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ہم عالمی منڈیوں میں غیر مقابلاتی ہوتے گئے اورپاکستان کی ایکسپورٹس غیر مقابلاتی ہونے کی وجہ سے بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں۔ یہ سلسلہ پھر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اگلے ادوار میں بھی چلتا رہا اور بڑھتی بڑھتی ان آئی پی پیز کمپنیوں کی تعداد 106ہوگئی۔ مگر یہاں اہم بات یہ تھی کہ آئی پی پیز میں شامل اکثر کمپنیاںمقامی ہیں لیکن حد تو یہ ہے کہ یہ ثالثی کے لیے بین الاقوامی فورم کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں۔ایک وقت تھا کہ 20 سے زائد کمپنیوں نے بیک وقت لندن کورٹ آف آربیٹریشن سے رجوع کیا۔ ان میں سے صرف تین مقدمات کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر پاکستان کے حق میں آیا ہے، جبکہ باقی تمام مقدمات میں پاکستان کو نہ صرف بنیادی رقم ادا کرنے کا کہا گیا ہے بلکہ سود در سود کی رقم اور مقدمہ بازی کے اخراجات ادا کرنے کے احکامات بھی دیے گئے۔صرف 2017 میں نو پاور کمپنیوں نے پاکستان کے خلاف 11 ارب روپے کے مقدمات جیتے اور عدالت نے تین ارب روپے سود ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عدالت نے مقدمات پر آنے والے اخراجات بھی حکومت پاکستان کو ادا کرنے کا حکم دیا جو 60 کروڑ روپے بنتے تھے۔ حد تو یہ تھی کہ ہمارے حکمران پھر بھی باز نہ آئے اور پھر نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش ر±با منافع خوری سامنے آئی ۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔قصہ مختصر کہ خان صاحب کی حکومت آنے تک حالات یہ تھے کہ ہم ان آئی پی پیز کے ہاتھوں دیوالیہ ہونے والے تھے، جس پر عمران خان حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی جس نے اپنی ایک رپورٹ مرتب کی ۔ رپورٹ کے مطابق 13برسوںمیں قومی خزانے کو4ہزار802 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ بہرکیف اس حوالے سے سابقہ حکومت تحریک انصاف کی کارکردگی قابل ستائش رہی کہ اُس نے جیسے تیسے کر کے ان آئی پی پیز کو ادائیگی ڈالرز کے بجائے مقامی روپوں میں کرنے کا معاہدہ کیا جس سے حالات قدرے سنبھل گئے لیکن اس سے پہلے اور اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ خیر ماضی میںجو ہونا تھا ،سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ آہستہ آہستہ ان کمپنیوں سے جان چھڑائی جائے، لیکن اس سے پہلے اپنے ڈیمز کو مکمل کیا جائے، کیوں کہ ہم ان آئی پی پیز کے اس قدر محتاج ہو چکے ہیں کہ ان کے بغیر ملک اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ لہٰذاہمیں اس حوالے سے لانگ ٹرم پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ان کے چنگل سے نکل سکیں ورنہ حالات یہی رہے تو یہ آئی پی پیز اس خطے کی ایسٹ انڈیا کمپنیز بننے میں دیر نہیں لگائیں گی!