پانچ سال کیلئے قومی حکومت بنا دیں!

اس وقت ریاستِ پاکستان مشکل میں ہے، بلکہ سخت مشکل میں ہے، اس وقت پورا ملک ”کنٹینرستان“ بنا ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کی ”فائنل کال“ ہے، اسی سلسلے میں پشاور سے ایک بڑا عوامی جلوس بانی تحریک انصاف کو جیل سے چھڑوانے کے لیے اسلام آباد میں داخل ہو چکا ہے، پولیس اور سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں، جس کے بعد مبینہ طور پر انتظامیہ کی مظاہرین کو روکنے کی حکمت عملی ناکام نظر آرہی ہے، اب آگے کیا ہوتا ہے، تادم تحریر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ کیوں کہ فی الوقت تو کسی سٹیک ہولڈر کی طرف سے ”فیس سیونگ“ کے لیے کوششیں سامنے نہیں آئیں، اور نہ ہی اپنی بات پر کوئی لچک دکھانے کو تیار ہے۔ لیکن اس سارے آسیب زدہ ماحول میں کون پس رہا ہے؟ عوام اور ریاست؟۔ لیکن نہ تو یہاں کسی کو عوام کی فکر ہے، نہ کسی کو ریاست کی پرواہ ہے۔ اگر دہشت گردی کا سامنا ہے تو وہ عوام کو۔ اور سیاسی دہشت گردی کا کوئی شکار ہے تو وہ بھی عوام ہیں۔ مطلب اس وقت تمام محاذ کھلے ہوئے ہیں۔ معیشت کا وہ حال ہے کہ آئی ایم ایف شرطیں منوائی جا رہا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام شروع نہیں ہو رہا۔ کرم کے سانحہ کا ذکر کیا کِیا جائے کیونکہ الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔وہاں تو بچے اپنے بڑوں سے پوچھ رہے ہیں کہ بابااُن کے کتنے مرے ہیں اور ہمارے کتنے شہید ہوئے ہیں؟ ۔ جس طرف نظر اٹھتی ہے بیڑہ غرق ہی نظرآتا ہے۔ سیاسی محاذ کی الجھنیں ایسی ہیں کہ فیصلہ سازوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کریں۔ مانگے تانگے کا حکومتی بندوبست ہے یعنی اپنے زور پر نہیں کھڑا‘ اسے ٹیک دے کر کھڑا کیا گیا ہے۔ ایسا طفیلی بندوبست کس مرض کی دوا ہو سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ وزیراعظم اور وزرا کی باتیں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا‘ ان کی باتوں پر کوئی دھیان بھی نہیں دیتا۔ انہوں نے پھر کیا کرنا ہے؟ کس کام کے یہ لوگ ہیں؟ بس قوم پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور دکھاوے اور نمائش کے ناٹک کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن ایک بات کی داد دینی پڑے گی‘ بے بسی اور لاچاری کے عالم میں بھی شرمندگی ان کے نزدیک سے بھی نہیں گزرتی۔دہشت گردی والا مسئلہ تو ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ایک دو جوانوں کی ہلاکت ہوتی تو بڑی خبر سمجھی جاتی۔ اب یہ حالت ہے کہ آٹھ‘ دس‘ بارہ شہادتیں ہوتی ہیں اور جتنا کہرام مچنا چاہیے اتنا نہیں ہوتا کیونکہ یہ تقریباً روزمرہ کی روٹین بنتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کا عالم اتنی سنگینی اختیار کر چکا ہے کہ ریاست کا تمام زور‘ ریاست کے تمام وسائل‘ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے لگائے جائیں پھر بھی ناکافی ہوں۔ لیکن یہاں ایک دہشت گردی کا سامنا نہیں‘ خیبرپختونخوا میں اس کی نوعیت اور ہے اور بلوچستان میں اور۔ آئے روز حملے ہو رہے ہیں‘ خیبرپختونخوا کے جنوب کے اضلاع میں شام ڈھلے دہشت گردوں کا زور نمایاں ہو جاتا ہے۔ مزید فکر کی بات یہ بن چکی ہے کہ ا±ن علاقوں کے عوام جہاں دہشت گردی کا شکار ہیں وہاں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے آپریشنوں سے بھی خائف ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی تحریک انصاف کی حالیہ ”فائنل کال“کی۔ تو اس وقت یہ جو اندرونی خلفشار ہے، یہ ہمیں لے کر بیٹھ گیا ہے۔ اسلام آباد میں مختلف ممالک کے سفارت خانے ہمارے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہوں گے؟ پی ٹی آئی کی طرف سے ایک اعلان ہوتا ہے تو پورا شہر کیا خیبرپختونخوا اور پنجاب کی تمام سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ ہر جگہ کنٹینروں کو لگا دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ باہر کی کوئی فوج آرہی ہے اور اس خطرے کے پیش نظر دارالحکومت نے اپنے آپ کو محصور کر لیا ہے۔ کسی اور ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ اور ملکوں میں بھی پرامن احتجاج ہوتے ہیں لیکن حکومتوں کا ردعمل ایسا نہیں ہوتا جو جہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہماری حکومتوں کے پاﺅں مضبوط نہیں اور جب کوئی معمولی سا خطرہ بھی ا±ٹھتا ہے تو حکومتیں ڈر جاتی ہیں۔ وہ جو انگریزی کا لفظ ہے‘ Panic۔ ا±س کیفیت میں آ جاتی ہیں اور پھر سوائے کنٹینروں کی دیواریں کھڑی کرنے کے ان کیلئے اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ایسا جب ہوتا ہے تو احتجاجی جماعت کا مقصد احتجاج کیے بغیر ہی پورا ہو جاتا ہے۔ کنٹینر لگ جائیں‘ ہزاروں اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہو جائیں‘ کیفیت وہ ہو جائے جو شاید بغداد کی تھی جب ہلاکو خان کی فوج اس طرف آ رہی تھی تو احتجاج کرنے والی جماعت کا اور مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ سرکار کو اس کیفیت کا کچھ ادراک نہیں؟ جو پچھلے دو سال یا اس سے کچھ زائد عرصے سے ترکیبیں آزمائی جا رہی ہیں ان کا مقصد تو بڑا واضح تھا کہ ایک جماعت اور اس کے لیڈر کو نہ صرف دبانا ہے بلکہ بطور ایک سیاسی حقیقت کے اسے ختم کرنا ہے۔ کیا یہ مقصد پورا ہو گیا ہے؟ اڈیالہ جیل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک شخص بند ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ اسے کتنی سہولیات میسر ہیں‘ اس بات سے تو انکار ممکن نہیں کہ وہ شخص‘ جسے سیاسی طور پر ختم کرنے کیلئے اتنا کچھ کیا جا چکا ہے‘ ایک کال دیتا ہے تو صرف حکومت نہیں ملک مفلوج ہوکے رہ جاتا ہے۔ بازار یا انجمنِ تاجران ہڑتال کی کال نہیں دیتے‘ ملکی ٹرانسپورٹ کی طرف سے بند ہونے کا اعلان نہیں ہوتا۔ لیکن ایک کال ا±س کوٹھڑی سے آتی ہے اور وہ بھی بذریعہ چند وکلا تو کیفیت ایسی پیدا ہوتی ہے کہ حکومتی نظام کو بخارچڑھ جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی جو حالت ہے وہ ہم جانتے ہیں‘ کھل کے بات نہیں کی جا سکتی۔ گھما پھرا کے مفہوم بیان کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذااس ساری صورتحال کا حل صرف یہ ہے کہ اگر کوئی اسٹیک ہولڈر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تو خدا کے لیے اس ملک میں پانچ سال کے لیے قومی حکومت قائم بنا دی جائے۔ ایسی حکومت جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے عہدیداران شامل ہوں، ہر سیاسی جماعت کو اُس کی صوبائی اور نیشنل نمائندگی کے حساب سے حکومت میں حصہ دیا جائے۔ ساتھ ٹینکنو کریٹس اور کاروباری شخصیات میں سے چند افراد کو حکومت کا حصہ بنا لیں۔ کیوں کہ 8 فروری 2024 یعنی عام انتخابات کے بعد بے اطمینانی، بے چینی، بے یقینی، اظطراب ، افراتفری، عدم استحکام، لڑکھڑاتی معیشت، مہنگائی، بدعنوانی، کمزور حکمرانی، جرات مندانہ فیصلوںکا فقدان، اقربا پروری، کفایت شعاری کے بجائے شاہ خرچیاں، قومی اداروں میں لوٹ مار، اہل پر نااہل کو ترجیح دینے کی جو رسومات تھیں اب ان میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔پہلے وزیر اعظم شہباز شریف جو نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے کہ وہ معیشت کو یہ کردیں گے وہ کردیں گے، مگر لگتا ہے کہ اب وہ بھی تھک چکے ہیں۔ یا اُنہیں سمجھ آچکی ہے کہ اب اُن سے کچھ نہیں ہونے والا۔ کیوں کہ وزیراعظم ہوںیا وزرا سب ہی عمران فوبیا کا شکار ہیں جو انہیں دن میں سکون دے رہا ہے اور نہ ہی رات میں راحت، سونے پہ سہاگا اس دوران یہ لوگ عمران خان کے بیانیے کا توڑ یعنی جوابی بیانیا بھی ترتیب نہ دے سکے۔ ڈیجیٹل میڈیا پر سرکاری اور نجی ٹیموںکی بھرمار کے باوجود پی ٹی آئی کے بیانیے کا توڑ تو دور کی بات اس کے قریب بھی نہیںپہنچ سکے جس کا انہیں قومی حکومت یا کسی اور نظام کی صورت میں سنگین اور ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔تمام وزارتوں کا پہلے سے بھی برا حال ہے۔شہباز شریف کی موجودہ ٹیم میں بھی ٹی 20 ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کے لیے کئی ٹیکنوکریٹ شامل کرائے گئے ہیں، اس کے باوجود ہم آگے بڑھنے کے بجائے مسلسل پیچھے جارہے ہیں، ایک زمانے میں متوسط کہلایا جانے والا طبقہ صفحہ ہستی سے مٹ رہا ہے۔ دولت مند مزید دولت حاصل کر رہا ہے اور غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔ بہرحال قومی حکومت کی ضرورت ناگزیر ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ یہ جو ہر حکومت اقتدار میں آکر 10سالہ پلان ترتیب دیتی ہے، اور اس کے لیے مختلف آئینی ترامیم جیسی حرکات کرتی نظر آتی ہیں، یہ سلسلہ رُک جائے گا،اور سب سے بڑھ کر ملک میں سیاسی استحکام آئے گا، بیرونی سرمایہ کاری آئے گی، دہشت گردی کو روکنے میں سکیورٹی ادارے اپنا سارا دھیان اُدھر لگائیں گے، بیرون ملک میں رہنے والے پاکستانی بے دھڑک اور بغیر کسی خوف کے اپنی رقوم پاکستان میں بھیجیں گے، یہاں کے تاجروں کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ نہ کہیں ملک بند ہوگا، نہ کہیں کنٹینر ہوں گے اور نہ ہی کہیں جلاﺅ گھیراﺅ۔ پی ٹی آئی دور میں بھی 10 سال سے بھی زیادہ اقتدار کے حصول کا منصوبہ تیار ہوا جو اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اقتدار میں مناسب حصہ داری پر اختلاف کی نظر ہو گیا یہاں یہ بھی ذکر کردوں کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کی وجہ صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنا ہی تھی۔آپ کو یاد ہوگا ماضی میں شہباز شریف بھی پانچ سال کے لیے قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ لیکن اب کی بار جب اقتدار ان ظالموں کے ہاتھ میں ہے، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ماحول اتنی آسانی سے سازگار نہیں ہوگا، اس کے لیے ریاست کے چاروں ستون انتظامیہ (حکومت)، پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ ساتھ اداروں کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ورنہ سب کچھ ملیا میٹ کردیا جائے گا، اور دوبارہ ہم کئی سال کے لیے مارشل کی زد میں بھی آسکتے ہیں!