مودی سرکار کا تیسرا”فالس فلیگ آپریشن“ اور ہم!

آج یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے، مگر پاک بھارت جنگی جنون سر پر ہے، ہمارے وزیر اطلاعات کہہ رہے ہیں کہ 24سے 48گھنٹوں میں بھارت حملہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی طرف سے وہاں موجود پاکستانیوں کے نکل جانے کی ڈیڈ لائن بھی ختم ہوگئی ہے،،، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ دونوں طرف کے 80فیصد عوام چین کی نیند سو رہے ہیں، اُنہیں نہ تو کہیں anxietyہے کہ پاک بھارت جنگ ہوئی تو کیا بنے گا اور نہ وہ ذہنی دباﺅ کا شکا ر ہیں کہ جنگ میں کس کا کتنا نقصان ہوگا۔ شاید وہ یہ جانتے ہیں کہ آج کے دور میں جنگ آسان نہیں، اور خاص طور پر جب دو دشمنوں کا آپسی جوڑ برابر ہو۔ جنہوں نے ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کے لیے اسلحے کے ڈھیر لگا دیے ہوں،،،جنہوں نے علاقے میں ڈیٹیرنس (توازن) قائم رکھنے کے لیے ہزاروں میل دور وار کرنے والے میزائیلوں کے تجربات کر رکھے ہوں،،، جنہوں نے اپنی فضائیہ اور بحریہ کو بھی برابری کی سطح پر رکھا ہو،،، بلکہ یہ وہ پرانے دشمن ہیں کہ اگر ایک دشمن خاص ٹیکنالوجی حاصل کر لے تو دوسرا بے چین ہو جاتا ہے اور اس سے اگلی وار ٹیکنالوجی حاصل کرکے اعلان کردیتا ہے۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ مودی سرکار جو اپنے عوام کو رام کرنے کے لیے ہلکا پھلکا آپریشن کرے گی، جبکہ جواب میں پاک آرمی بھی بالکل تیار بیٹھی ہے،،، لہٰذااللہ کرے کہ ایسی نوبت نہ آئے اور سعودی عرب، چین یا امریکہ درمیان میں ثالثی کا کردار ادا کر جائیں۔ اور یہ خطہ کسی بڑے نقصان سے بچ جائے۔ لیکن ایک بات قابل غور ہے کہ بی جے پی کی جب جب حکومت آئی ہے سرحدی تنازعات میں ہمیشہ اضافہ ہوا ہے،،،اور بین الاقوامی جریدے کے مطابق وہ ایسا اس لیے بھی کر رہی ہے کہ بھارتی ریاستی الیکشن قریب ہیں۔ کیوں کہ دنیا جانتی ہے کہ سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بی جے پی دور میں جھوٹا پراپیگنڈا کرنے کے لیے دہشتگردانہ واقعات رونما کروانے کی لمبی تاریخ ہے۔1999 میں کندھار میں ہوائی جہاز اغوا کا واقعہ ہوا،اس وقت بھی بھاری میں بی جے پی کی حکومت تھی جبکہ 2001میں بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ بھی بی جے پی کے دور میں ہوا۔2002میں اکشردھام مندر پرحملہ کے وقت بھی بی جے پی ہی برسراقتدار تھی اور اسی سال امر ناتھ یاترا پر حملہ ہوا تھا۔اُس وقت بھی بی جے پی سرکار تھی۔ علاوہ ازیں 2016میں پٹھان کوٹ حملہ بھی بی جے پی سرکار کے دوران ہوا، اسی سال اڑی دہشتگردی حملہ ہوا۔ 2017میں ایک بار پھر امر ناتھ یاترا پر حملہ ہوا جبکہ 2019 پلوامہ دہشگردی کے واقعہ کے وقت بھی بی جے پی اقتدار کے مزے لوٹ رہی تھی۔اب 2025 میں پہلگام دہشتگردی واقعہ بھی بی جے پی کے نریندر مودی کی سرکار میں ہوا، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ حملے بی جے پی سرکار کے دور میں اتفاقیہ نہیں ہے۔اور پھر یہی نہیں جب جب امریکی عہدیداران بھارت کا دورہ کرتے ہیں مودی سرکار ایسا ڈرامہ ضرور رچاتی ہے۔ سال 2010 میں جب امریکی صدر نے ہندوستان کا دورہ کیا تب کشمیر میں 36 سکھوں کو قتل کردیا گیا تھا، پچھلے دور میں جب ٹرمپ ہندوستان آئے تو دہلی فسادات میں درجنوں لوگ مارے گئے ،،،اب امریکی نائب صدر ڈی جے وینس کے بھارت دورہ پر آئے تو پہلگام میں دہشت گردانہ واقعہ پیش آگیا،،، اصل میں نیندر مودی گزشتہ بہت عرصے سے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے اس طرح کے فالس فلیگ آپریشن ترتیب دیتے رہتے ہیں ۔ یہاں قارئین کی معلومات کے لیے ”فالس فلیگ آپریشن“کے بارے میں بتاتا چلوں کہ” فالس فلیگ آپریشن“ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس میں ریاست یا کوئی ادارہ ایسے حملے کی منصوبہ بندی کرتا ہے جس کا الزام دشمن یا مخالف پر لگایا جائے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حکمت عملی 17ویں صدی میں بحری قزاقوں کے ذریعے سامنے آئی جو بحری جہازوں کو لوٹنے کیلئے اپنی کشتیوں پر غیر جانبدار اور دوست ممالک کے جھنڈے لہراتے تھے جس کا مقصد قزاقوں کا اپنی شناخت چھپانا اور بحری جہازوں کو دھوکہ دے کر انہیں لوٹنا ہوتا تھا،،،یہیں سے اس کا نام ”فالس فلیگ آپریشن“ پڑا۔ بعد ازاں بحری قزاقوں کی یہ حکمت عملی کئی ممالک کی جنگی حکمت عملی بن گئی جسے بھارت نے بھی اپنایا اور پہلگام واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ بھارت اس سے قبل پٹھانکوٹ اور پلوامہ حملے میں بھی یہی حکمت عملی اختیار کرچکا ہے جسے پاکستان نے پہلے دن سے ہی ”فالس فلیگ آپریشن“ قرار دیا تھا۔ بہرحال بی جے پی نے ابھی تک جتنے بھی الیکشن جیتے وہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر ہی جیتے۔ ابھی بھی رواں سال بہار جیسی اہم ریاست میں الیکشن ہیں تو بی جے پی کی پوزیشن بھی کمزور ہے،،، تو وہ پہلگام حملے کو آنے والے بہار انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تبھی عالمی میڈیا بھی اس واقعے کو فالس فلیگ آپریشن کے ساتھ جوڑ رہا ہے کہ پہلگام واقعہ کے چند ہی منٹوں بعد اس کا تمام ملبہ پاکستان پر ڈال دینا بھارتی حکومت کی فالس فلیگ حکمت عملی کا حصہ تھا جسکا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے عالمی اداروں کی توجہ ہٹانا، پاکستان کو پہلگام واقعہ کا ذمہ دار ٹھہراکر اسے ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا اور پاکستان کے خلاف آبی جنگ کا جواز پیدا کرنا تھا۔ سندھ طاس معاہدہ نریندر مودی کی آنکھوں میں شروع دن سے ہی کھٹک رہا ہے اور وہ جلسے جلوسوں اور اپنے بیانات میں کئی بار اس کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ ”بھارت، پاکستان کی جانب بہنے والے اپنے دریاﺅں کے پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دے گا۔“ یہی وجہ ہے کہ اس مذموم مقصد کو پورا کرنے کیلئے پہلگام واقعہ کا ڈرامہ رچاکر سندھ طاس معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا گیا۔ واقعہ کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1965اور 1971کی جنگ کے دوران بھی بھارت نے سندھ طاس معاہدہ توڑنے اور پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی نہیں دی تھی۔ پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک درجن سے زائد عالمی رہنماﺅں سے فون پر گفتگو اور 100سے زائد غیر ملکی سفارتکاروں کو بریفنگ میں پہلگام حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے چکے ہیں تاکہ انہیں اپنا ہمنوا بناکر پاکستان پر حملے کا گراﺅنڈ تیار کیا جا سکے۔ ”نیویارک ٹائمز“ میں شائع حالیہ رپورٹ سے بھی نریندر مودی کے مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ”بھارت اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے گراﺅنڈ تیار کر رہا ہے۔“ بہرکیف تادم تحریک دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور موجودہ حالات میں دونوں ممالک کی افواج آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہیں۔ بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ اُس کا مخالف نہ ہی غزہ ہے اور نہ حماس ہے۔بھارت بڑا ملک ہے، وسائل زیادہ ہیں، معیشت بہت آگے لیکن فوجی طاقت کا توازن ایسا نہیں کہ بھارت اپنی مرضی کر سکے اور پاکستان پر یکطرفہ جنگ مسلط کر سکے۔ بھارت چاہتا ضرور ہو گا لیکن خواہش رکھنا ایک بات ہے اور کچھ کر دکھانا مختلف چیز ہے۔لہٰذامیں یہ بھی کہوں گا کہ بھارت کے ساتھ بگڑتی ہوئی صورتحال پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ جان کر کہ بھارت اپنی مرضی نہیں کر سکتا پاکستان کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ اس جانکاری سے پاکستان کے حوصلے بڑھتے ہیں‘ لیکن کتنا اچھا ہو کہ ایسے موقع پر ہم یہ کہہ سکیں کہ دفاعی تیاریوں کے ساتھ اندرونی طور پر بھی ہماری صفیں مضبوط ہیں۔ صرف بیرونی محاذ ہو پھر تو بات اور ہے لیکن داخلی سطح پر ایسی کھینچا تانیاں بھی ہیں جن کے نہ ہونے سے ملک وقوم کی حیثیت زیادہ بہتر لگے۔ جہاں ہندوستانی ارادوں پر ضرور نظر رکھنی چاہیے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اندرونی سیاسی استحکام کی گنجائش پیدا کی جائے۔ سیاسی محاذ آرائی ختم ہو اور ہر چیز قانون اور آئین کے دائرے میں لائی جائے تو اُس سے نہ صرف داخلی اطمینان بڑھے بلکہ قومی وحدت زیادہ نمایاں نظر آنے لگے۔سندھ میں شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ کیوں نہیں ختم ہو رہا؟ نہروں کے مسئلے پر وفاقی حکومت کا اور مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ آچکا ہے لیکن ایک حتمی قسم کا نوٹیفکیشن جاری کیوں نہیں ہوتا تاکہ سندھی عوام کی تشویش کا ازالہ ہو سکے اور احتجاج کے دروازے بند ہوں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا یہ دیکھے کہ اس دیس میں قطعاً کوئی نفاق نہیں اور بیرونی خطرے کے سامنے ایک مضبوط دیوار کی مانند قوم متحد ہے۔ مسلح افواج نے تو اپنا کام کرنا ہے لیکن سیاسی اور قومی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قومی معاملات، جو بھی ہوں‘ بطریق احسن حل ہوں اور قوم ایک آواز سے بولے۔ 1940ءمیں جب جرمنی نے فرانس پر حملہ کیا تھا تو برطانیہ کا وزیراعظم نیول چیمبرلین تھا۔ جنگ سے پہلے چیمبرلین کا قدکاٹھ بہت تھا لیکن جنگ کے دوران جب فرانسیسی اور برطانوی افواج کی پسپائی ہوئی تو اس احساس نے شدت اختیار کر لی کہ قیادت کیلئے چیمبرلین موزوں نہیں۔ ونسٹن چرچل کو سیاسی اعتبار سے بہت سے حلقوں میں اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن جنگ چھڑی تو باقی اعتراضات کو بالائے طاق رکھ کر برطانوی قوم کی قیادت چرچل کے سر سونپی گئی۔ ہرگز یہ مدعا نہیں کہ یہاں کوئی چرچل ہے یا یہاں ایسے فیصلے ہونے چاہئیں۔ لیکن سیاسی محاذ آرائی کا باب ختم ہو تو اس میں قوم کی بہتری ہے۔ اور رہی بات بی جے پی کی تو وہ یقینا فالس فلیگ آپریشن کی ماہر صحیح مگر ہمیں بھی کل وقتی وزیر خارجہ کے ذریعے دنیا بھر میں بھارت کے اس جھوٹے آپریشن کے بارے میں دنیا کو بتانا چاہیے،،، دنیا کو بھارت کی نیت کے بارے میں بھی بتانا چاہیے،،، دنیا کو بتانا چاہیے کہ کس طرح بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کرکے سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بھارت پاکستان سے کم از کم اعصاب اور سفارتکاری کی جنگ جیت جائے گا!