جنگ ختم؟لیکن امن کب ہوگا؟

جنگیں بہت خطرناک ہوا کرتی ہیں، اس میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ جنگیں ہمیشہ اپنے پیچھے بربادی، یتیم بچے، بیوائیں اور ماﺅں کی اجڑی گود چھوڑ کر جاتی ہے۔جن ماﺅں سے کبھی پوچھ کر جنگیں نہیں ہوتیں، اُن کے بچے چھن جاتے ہیں، وہ اُن کا انتظار کرتی رہ جاتی ہیں،،، یہ جنگیں ہمیشہ مردوں کی انا اور ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے آتی ہیں،،، جن کی قیمت ہمیشہ مظلوم طبقے کو چکانا پڑتی ہے۔ آپ پاک بھارت جنگوں کو ہی دیکھ لیں،،، اس جنگ کے بعد جن کے شہید ہوئے اُن کا حال پوچھ لیں،،، بلکہ خاص طور پر کشمیریوں کا حال ضرور پوچھیں کہ اُن پر کیا بیتی؟ جموں کشمیر کے لوگوں کو کہ اُن پر کس طرح زندگی تنگ کر دی گئی،،، اُن کے لیے یہ دن قیامت کے دن تھے،،، جب لائن آف کنٹرول جو 740کلومیٹر لمبی ہے، کے دونوں اطراف سے روزانہ گولہ باری کی جاتی رہی،،، جس میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس گولہ باری کے نتیجے میں 528مکانات اور 26دکانیں تباہ ہوئیں، 45مویشی ہلاک ہوئے، جبکہ 1262خاندانوں کو جزوقتی ہجرت کرنا پڑی۔جبکہ بھارتی افواج کے آپریشن کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ اور سب سے اہم یہ بات کہ دونوں اطراف رہنے والے کشمیری جن کا گزر بسر یہاں کی سیاحت سے وابستہ ہے،،، وہ بے روزگار ہوچکے ہیں،،،ان علاقوں میں سفر کرنے والے سیاح جانتے ہیں کہ موسم گرما میں اُن کا ”سیزن“ ہوتا ہے، وہ پورا سال ان تین چار مہینوں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ پورے سال کے راشن کے پیسے اکٹھے کیے جا سکیں اورپھر ان متاثرین کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے۔ جبکہ ہزاروں کی تعداد میں گیسٹ ہاﺅس اور ہوٹل خالی پڑے ہیں،،، کیوں کہ ایک بار اگر جنگ یا دہشت گردی کا ماحول بن جائے تو حالات معمول پر آنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ اور پھر سرکاری سطح پر بھی دونوں ممالک کی طرف سے کشمیر کے 100سے زیادہ پوائنٹس پر جانے پر پابندی لگ چکی ہے۔ آپ جموں کشمیر کو چھوڑیں،،، آزاد کشمیر کو دیکھ لیں ،اس وادی میں گزشتہ سال 3ملین سیاحوں کی آمد ہوئی ، جبکہ صرف وادی نیلم میں گزشتہ سال 3لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد ہوئی۔لیکن اب حالات کب معمول پر آتے ہیں،،، کچھ علم نہیں ہے،،،کیوں کہ پہلے ہی خاصی مشکل سے پاکستان کی سیاحت کی صنعت نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی کی تھی۔ جبکہ اس مالی سال کے لیے حکومت نے پیش گوئی کی تھی کہ 2025کے اختتام تک پاکستانی معیشت کو ساڑھے تین ارب ڈالر یعنی کل جی ڈی پی کے 7فیصد تک لے جایا جائے گا۔ لیکن حالیہ کشیدگی دونوں ممالک کو کہاں تک لے جاتی ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ لیکن یہ ساری باتیں ایک طرف مگر حالات ہیں کہ دونوں ممالک خاص طور پر بھارت کسی صورت نہیں چاہتا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرے، یہی نہیں بلکہ دونوں اطراف میں ایک بار پھر جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ تبھی جنگ بندی کے مستقبل کے بارے میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے، کہ بھارت نے اس جنگ بندی کے بعد کسی غیرجانبدار مقام پر پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کیلئے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا ہے بلکہ ان کی طرف سے جو بیانات جاری کیے جا رہے ہیں ان کے مطابق ”آپریشن سندور“ ابھی جاری ہے اور پہلگام میں 26 افراد کے قاتلوں کو ہر قیمت پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جیسے اقدامات کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے،،، اور یہ اقدام پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ بھی ہے اور جب تک اسے واپس نہیں لیا جاتا پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی جاری رہے گی اور تصادم کا امکان موجود رہے گا۔ لہٰذادونوں ملکوں کو چاہیے کہ فیس سیونگ بھی ہوگئی، اور جنگ بندی بھی۔ اب اپنے ملک کے عوام پر توجہ دیں، تاکہ امن و امان قائم ہوسکے۔ کیوں کہ اب اگر دونوں ممالک دوبارہ آمنے سامنے آئے تو یقینا تباہی کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ اور باخبر ذرائع کے مطابق بھارت نے امریکا سے 6thجنریشن کے طیارے بھی منگوائے ہیں،،، جس میں یقینا وہ دوبارہ منہ کی کھائے گا،،،جبکہ اس کے جواب میں پاکستان میں اسلحہ مارکیٹ میں 6thجنریشن طیاروں کے سودے کرے گا۔ جس کے بعد اسلحے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ لہٰذابھارت کو سمجھ جانا چاہیے کہ اب اگر پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے تو یقینا وہ آئندہ اس سے بھی زیادہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اُترے گا،،، اور پہلے کی طرح جدید ترین خفیہ ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں آئے گا۔۔۔ اور یہ خفیہ ہتھیار رکھنا مسلمان ریاستوں کی ہمیشہ روایت رہی ہے۔ نہیں یقین تو تاریخ پڑھ لیں کہ جس کی ایک چھوٹی سی مثال دیتا چلوں کہ پانی پت کے میدان میں اپریل 1526ءمیں اُس وقت مغل حکمران ظہیرالدین بابر، جس کے پاس صرف 12ہزار سپاہی تھے, نے دلّی سلطنت کے بادشاہ ابراہیم لودھی کی سوا لاکھ فوج کو 3 چار گھنٹے میں شکست دے کر ہندوستان کی تاریخ بدل دی تھی, جس پر پوری دنیا حیران رہ گئی تھی کہ آخر 12ہزار کی فوج سوا لاکھ کی آرمی کو کیسے شکست دے سکتی ہے۔ یہ ناممکن کام تھا جو بابر نے ممکن کر دکھایا تھا۔ یہ دراصل بابر کی فوج سے زیادہ اس کے توپچیوں کا کمال تھا۔ بابر ترکوں سے بارود لایا تھا اور اس کا پہلی دفعہ استعمال اس نے پانی پت کی جنگ میں کیا،،، یہی وہ خفیہ ہتھیار تھا،،، جسے کسی پر ظاہر نہ کیا گیا۔ ہندوستان کیلئے یہ بالکل نئی اور خوفناک چیز تھی۔ ہندوستانی اب تک روایتی طریقوں سے جنگ لڑتے تھے۔ وہ دشمن کی فوج پر پہلے ہاتھیوں کی فوج لاتے تھے۔ ہاتھیوں کو شراب پلا کر انہیں نیزے چبھوتے تھے جس سے ہاتھی بلبلا کر دشمن کے طرف دوڑتے تھے اور دشمن کے فوجیوں کو کچل دیتے تھے۔ ہندوستانی اسی پرانی جنگی ڈگر پر چل رہا تھا کہ ہاتھیوں کو شراب پلا کر دشمن فوج پر چڑھا دو۔ بچے کچھے فوجیوں کو ہمارے فوجی سنبھال لیں گے۔لیکن اس دفعہ بابر کے توپچی تیار تھے۔ جونہی بابر کے توپچیوں نے بارود فائر کرنا شروع کیا تو اس کی آواز سے ہاتھی دبک گئے۔ پھر ان توپوں سے آگ کے شعلے لودھی کے فوجیوں پر گرے تو وہ بھی خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ یوں ابراہیم لودھی کی سوا لاکھ فوج تین چار گھنٹے میں شکست کھا چکی تھی اور ہندوستان مغلوں کے زیر تسلط آ چکا تھا۔ سلطنت ِدلّی پر خاندانِ غلاماں‘ غوری‘ تغلق اور لودھی خاندانوں کے تین سو سال سے جاری اقتدار کا خاتمہ ہوچکا تھا اور اب ہندوستان کو نئے حکمران مل گئے تھے۔اس جنگ میں لودھی کی شکست کی وجہ صرف بارود بنا تھا۔ بابر کی توپوں نے جنگ کا ر±خ بدل دیا تھا۔ پھر بارود نے مختلف شکلیں اختیار کر لیں‘ بندوقیں بن گئیں‘ میزائل بنے‘ جنگی جہاز سامنے آئے۔ تباہیوں کی نئی نئی داستانیں رقم ہوتی گئیں۔ خیر بات ہو رہی تھی پاک بھارت جنگ کے بعد امن کی تو یقینا اس کے بغیر دونوں ملکوں کا گزارا نہیں ہے، دونوں ممالک ہر صورت ایک دوسرے کے ساتھ مواصلاتی رابطہ قائم رکھیں، فضائی پابندیاں ختم کریں، تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دیگر مسائل خصوصاً کشمیر پر نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے مناسب ماحول پیدا ہو سکے۔ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت ابھر کر سامنے آئی ہے اور اب یہ بات بین الاقوامی سطح پر بھی کھل کر کی جا رہی ہے کہ جب تک ان دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں رہے گا۔ اس لیے وقتی جنگ بندی کو اگر خطے میں ایک مستقل امن میں ڈھالنا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسائل‘ جن میں سرفہرست کشمیر ہے‘ کو حل کرنا ہوگا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس وقت اس کے فوری حل کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن ہمیں بھارت کو مذاکرات کی میز پرلانے کے بین الاقوامی دباﺅ ڈالنے کی ضرورت ہے،،، اس کے لیے جز وقتی وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار جو کہ اس قابل تو نہیں ہے،،، (کیوں کہ ان کی خصوصیت محض محکمہ خزانہ کو دیکھنے کی رہی ہے اس لیے موصوف کو وزارت خارجہ محض ایڈجسٹ کرنے کے لیے دی گئی ہے) لیکن پھر بھی اُنہیں یا اُن کے ادارے کو اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جو آجکل عرب ممالک کے دورے پر ہیں،،، کی مدد سے بھارت پر مذاکرات کے لیے دباﺅ ڈلوا سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی موجودہ قیادت اس کے حل کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات پر آمادہ ہو جائے تب بھی اس پر مذاکرات کیلئے وقت درکار ہے کیونکہ بھارتی میڈیا نے اپنے عوام کے جذبات کو اس حد تک بھڑکا دیا ہے کہ بھارتی حکومت کو یہ قدم اٹھانے کیلئے ہیجانی کیفیت کے دور ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان بہترین تعلقات کے قیام کیلئے سب سے پہلے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اگلے اقدام کے طور پر ان روابط کی بحالی عمل میں آنی چاہیے جو گزشتہ تقریباً چھ سال سے معطل چلے آ رہے ہیں‘ تب جا کر موجودہ جنگ بندی سے ایک مستقل اور پائیدار امن کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کیلئے دونوں ملکوں کو اپنے طور پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ امریکہ یا بین الاقوامی برادری کا اس میں کردار بہت محدود ہوگا کیونکہ اس کا انحصار فریقین کی رضامندی پر ہے‘ جو اس وقت معدوم نظر آتی ہے۔بہرکیف یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں ہے،،، اس کے لیے ہمیں ایک مستقل لائحہ عمل کی ضرورت ہے،،، اگر لگے ہاتھ یہ کام بھی ہو جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں تاریخ 10مئی کوہمیشہ یاد رکھے گی، وہیں آج کے دور کی امن کے لیے کی گئی کوششوں کو بھی بہترین حکمت عملی کے طور بھی یاد رکھے گی!