سیاستدانوں کی زمینوں کو بچاتے ہوئے عوام کو ڈبونے والا ہمارا ”خطہ پاکستان“

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان دنوں پاکستان میں سیلاب میں ڈوبنے والی ہزاروں آبادیوں کی بڑی وجہ کیا ہے؟ جی ہاں ! ان دریاﺅں پر بنے ریزوٹ، بنگلے اور کارخانوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے مختلف غریب آبادیوں کے بند توڑے گئے،،، اس پر آگے چل کر مزید تفصیل میں بات کرتے ہیں مگر اس وقت پاکستان میں سیلاب کے حوالے سے اگلے چند روز انتہائی اہم ہیں،،، کیوں کہ تمام دریاﺅں کے تباہی مچانے کے بعد پانی اب سندھ میں داخل ہو رہا ہے،،، جہاں کے ہزاروں دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،،، اس سیلابی پانی کے حوالے سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ بھارتی آبی جارحیت ہے،،، کچھ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کے اپنے کئی بند ٹوٹے ہیں اور پورا بھارتی پنجاب اس وقت ڈوبا ہوا ہے،، کچھ کہہ رہے ہیں کہ اس سیلابی پانی کے آگے اگر ڈیم بنا دیے جائیں تو ہم پانی کو ضائع ہونے کے بجائے اسے کارآمد بنا سکتے ہیں،،، جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ میدانی علاقوں میں ڈیم بنایا جائے،،، کچھ کہہ رہے ہیں کہ راوی کنارے جھیل بنا کر پانی کو زمین کے نیچے بھیجا جا سکتا ہے، تاکہ لاہور کے رہائشی اسے دوبارہ کارآمد بنا سکیں،،، لیکن کچھ کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے،،، کیوں کہ ہمیں پانی کے زیر زمین راستوں بارے علم نہیں ہے،،، کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ موسمیاتی تبدیلی ہے،،،جبکہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہماری ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہے،،، کچھ کا خیال ہے کہ ہم ہر سال 10سے 12ارب ڈالر کا پانی ضائع کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ”لوئیر ممالک“ یعنی جو نیچے والے ممالک ہیں وہ محض پانی کے لیے گزر گاہ کا کام کرتے ہیں،،، کچھ کہتے ہیں کہ پاکستان کا نہری نظام دنیا کا بہترین نہری نظام ہے،،، جبکہ اکثر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ انگریز دور کا بنایا ہوا ہے،،، جس میں شدت کے ساتھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہی مخمصوں سے نکلنے کے لیے ہم (لیڈر میڈیا گروپ ) نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان ”سیلاب سے اجڑتا ،خشک ساحلی سے سسکتا پاکستان کدھر…“تھا،،، اس میں ہم نے ایکسپرٹس کو مدعو کیا تاکہ ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ سب سے پہلے گفتگو کا آغاز سینئر صحافی ذوالفقار علی مہتو نے کیا،،، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت تین طرح کے خطرات درپیش ہیں۔سب سے پہلے ہم نے موجودہ بحران سے نکلنا کیسے ہے۔اس کے بعد دوسرا مسئلہ کہ پہلے ہمارے صوبے خشک ساحلی کا شکار تھے۔اب سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔بھارت کی مودی سرکار نے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنا چاہا ،کیونکہ وہ ہمیں دہشت گرد سمجھتا اور کہتا ہے۔لہٰذا اس کی سوچ کے مطابق ،خون و پانی کو اکٹھا نہیں کیا جاسکتا ہے۔لہٰذا پاکستان کو اس ایشو پر ڈرنے کے بجائے اس ایشو کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔اسی موضوع پر سابق فیڈرل سیکرٹری سلیمان غنی نے اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہا کہ انڈس بیسن جس میں ہم رہتے ہیں۔یہاں اونچے اونچے پہاڑ ہیں،،، جن میں کے۔ٹو وغیرہ شامل ہیں۔ان گلیشئیرز سے دریا بنتے ہیں۔کچھ دریاﺅں کی ابدی حیثیت ہے،جو کہ پہلے موجود تھے مگر اب نہیں ہیں۔دریاﺅں کی اپنی زندگی ہوتی ہے۔دریاﺅں کی زندگی سے مداخلت کرنے سے انسانی ،حیوانی و نباتاتی حیات کو نقصان پہنچتا ہے۔سیلاب کو کوئی آفت نہیں سمجھنا چاہیے۔ہم نے اور ہمارے آباو اجداد نے دریاﺅں کے ساتھ کچھ زیادتیاں کی ہیں۔پاکستان کے دریا،دنیا کے دریاﺅں سے مختلف ہیں۔ہمارے دریا مون سون دریا ہیں۔لہٰذا یہ دریا اپنا راستہ بدلتے رہتے ہیں۔ہیر رانجھا پڑھیں،انیسویں صدی میں انگریز کے دور میں ہم نے دریاﺅں کے ساتھ بہت چھیڑ چھاڑ کی ہے۔اس دور میں دریاﺅں کی زندگی میں بہت فرق پڑا ہے۔انڈس ٹریٹی کے بعد سے کچھ آبادی بھی بڑھ چکی ہے۔ہم اوپر کی جابب بڑھنے کے بجائے چوڑائی کے اعتبار سے حجم میں بڑھتے گئے۔جب فطرت کے قانون میں دخل اندازی ہوگی،جب ہم دریاﺅں کا راستہ روکیں گے۔تو پھر پانی کے پھیلاﺅ میں یقینا فرق پڑے گا۔ماضی میں 1970میں ہم نے دریاﺅں پر بند بھی بنائے۔یہاں یہ بھی کہوںگا کہ کالا باغ ڈیم ایک الگ ایشو ہے۔ڈیمز بنانے سے سیلاب کنٹرول نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ہمیں دریاﺅں کو کلیئر کرتے ہوئے ان کو راستہ دینا ہوگا۔میں یہ بھی کہوں گا کہ یہ بھارت کی آبی جارحیت نہیں بلکہ ہماری آبی جہالت ہے۔یہ سیلاب صرف کلائمنٹ چینج کی وجہ سے نہیں ہیں،میَں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ ہم گاڑیاں فروخت کرکے کشتیاں خرید لیں۔مغرب میں سیلاب کو تسلیم کیا گیا ہے۔جبکہ ہم سیلاب کو ایک قدرتی آفت کہتے ہیں۔انڈس بیسن ہمارا ایک ہے جبکہ بھارت کے الگ ہیں۔چند ماہ قبل پاکستان نے بھارت کے اٹیک میں بھارت کے انتہائی جدید رافیل طیارے مار گرائے ،وہ اس کے حملے کا جواب تھا۔انڈس ٹریٹی معاہدہ کو اگر بھارت معطل کرتا ہے تو ہمیں ہاتھ پہ ہاتھ رکھے سیلاب میں بہہ جانے کے بجائے ،ہمیں اس کو صحیح طور پر ٹریٹ کرنا چاہیے۔بھارت و پاکستان کبھی بھی آپس میں بھائی ،بھائی نہیں بن سکتے ہیں۔البتہ ہم دونوں ممالک کو پانی کے ایشو پراچھے پڑوسی ضرور بننا ہوگا۔کیونکہ یہ ہمارا مشترکہ انٹرسٹ ہے۔ ماہر آبی وسائل انجینئر محمد شفیق ماہر آبی وسائل نے اپنی گفتگو میں زمینی،فضائی و سرحدی حقائق بیان کئے۔واٹر مینجمنٹ اشد ضروری ہے۔1988کے بعد موجودہ سیلاب ایک بڑا سیلاب ہے۔جب دریاﺅں کی زمینوں پر آبادکاری ہوگی ،جب دریائی زمینوں پر ناجائز قبضے ہونگے ،دریاﺅں کو سکیڑ دیا جائے گا تو پھر سیلاب کی صورت میں پانی اوور فلو ہوگا۔بدقسمتی سے ہمارے سیاست دان اس کارخیر میں پیش پیش ہیں،،، وہ کہتے ہیں کہ جب وہ رحیم یار خان میں عہدے پر فائز تھے، تو اُس وقت کے گورنر نے اپنی زمین بچانے کے لیے رحیم یار خان اور خان پور کو ڈبو دیا تھا،،، اب بھی ہم یہی سن رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے فارم ہاﺅسز بچانے کے لیے غریب علاقوں کو ڈبو دیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ میٹھا پانی زیر زمین جانا بہت ضروری ہے۔پانی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ہمیں اس کو ضائع ہونے سے بچانا چاہیے۔ہم نے راستوں کو صاف رکھنا ہے اور نکاس ،بہاﺅ ،ڈرینج،کو کلیئر رکھنا ہے۔ماہر قانون دان ،وآبی وسائل اور ماحولیات :احمد رافع عالم نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں عمومی تاثر یہ ہے کہ اگر پاکستان میں حکومتیں اچھی ہوتی تو یقینا ہمیں آج آبی مسائل سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔جب ہم زمین سے نکال کر کچھ جلاتے ہیں تو فضا میں گرین ہاوس گیسز پیدا ہوتی ہیں۔جس سے زمین کا درحہ حرارت بڑھتا ہے۔گلوبل وارمنگ کے پیش نظر اب ہمارے ماحول کو عدم استحکام لاحق ہوچکا ہے۔پوری دنیا میں مختلف طرز کے درجہ حرارت پائے جاتے ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک میں غذائی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔اس کی ایک وجہ ہیٹ ویوز بھی ہیں۔پاکستان اکیلا ہی اس کلائمنٹ چینج کے ایشو سے دو چار نہیں ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سارے نئے ممالک بنے،جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔جن ممالک نے گرین گیسز پیدا کی ہیں۔ان گیسوں کو کم کرنے کے حوالے سے 1992ءمیں معاہدہ کیا تھا۔جس کے تحت وہ ممالک ماحولیاتی استحکام کے حوالے سے پیسے دینے اور ان گیسوں کو کم کرنے فضا کو سازگار بنانے کے پابند ہیں۔2022کے سیلاب کا سبب بلوچستان میں معمول سے شدید زیادہ بارشوں کا ہونا ہے۔جو کہ کلائمنٹ کی تبدیلی کی وجہ سے ہوئیں۔جس سے پاکستان کو 45ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔لیکن موجودہ سیلاب کلائمنٹ چینج کی وجہ سے نہیں ہے۔بلکہ یہ سیلاب مین پاور پالیسی کی وجہ سے آیا ہے۔اس سال جون ،جولائی میں گلگت بلتستان ،کے۔پی۔کے میں شدید بارشیں ہوئیں۔یہ فلیش فلڈ نہیں ہے۔اس طرح کے سیلابوں کی شدت وہاں ہوتی ہے جہاں درخت زیادہ کاٹے جاتے ہیں۔آئندہ بھی اگر درخت کاٹے جاتے رہیں گے تو سیلاب کا خطرہ شدت اختیار کرتا رہے گا۔لاہور،قصور،نارووال،مقبوضہ کشمیر میں جو بارش ہوئی ہیں وہ تاریخی ہیں۔بھارت کے پنجاب میں بھی شدید طغیانی ہے۔پہلی بار ستلج و بیاس میں بھی سیلاب ہے۔ہماری حکومتوں کو اپنی پالیساں درست کرنا ہوگی۔انڈس ٹریٹی کے مطابق ہندوستان نے دو ماہ قبل آگاہ کردیا تھا۔مگر ہماری حکومت نے سوائے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے کے کچھ بھی نہیں کیا۔1960میں اس معاہدہ کے حوالے سے جو قانون سازی کی گئی تھی کہ بھارت سندھ طاس سے ہٹے گا نہیں،لیکن اگر وہ اس کی خلاف ورزی بھی کرسکتا ہے۔ہمیں اس وہم میں نہیں رہنا چاہئے کہ جی بھارت نے ہمیں آگاہ نہیں کیا۔۔ہمیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے بجائے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ امتیاز عالم نے کہا کہ میَں نے آج اس نشست میں یہ دیکھا کہ پاکستان میں آبی ماہرین بھی موجود ہیں۔میں خوشگوار حیر ت ہورہی ہے کہ پاکستان میں واٹر ریسرچر بھی موجود ہیں۔البتہ ہم ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بن جائے گا تو یقینا پانی کے مسائل حل ہوجائیں گے۔آج یہاں اس فکری نشست ،جو کہ علی احمد ڈھلوں صاحب نے منعقد کی ہے ،یہاں معتبر و آبی ماہرین کی گفتگو سن کر یہ سمجھ میں آیا ہے کہ صرف ڈیمز ہی بن جانا سیلاب کو روکنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔میرا یہ خیال ہے کہ لیڈر میڈیا کی طرح دیگر ذرائع ابلاغ کو بھی واٹر ایکسپرٹس بلا کر اصل حقائق و معلومات اور آگاہی عوام تک پہنچانی چاہیے۔ہمارے جو دریا آج سیلاب زدہ ہیں ،کالا باغ ڈیم ان دونوں دریاﺅں سے سینکڑوں میل دور ہے۔یہ وقت گزر گیا تو نہ ہی کسی حکومتی حلقے میں اس پر بات ہونی ہے ،نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی جانی ہے،المیہ یہ ہے کہ آئندہ سال کے حوالے سے بھی کوئی حکمت عملی نہیں اختیار کی جانی ہے۔میرا یہ سوال ہے کہ پانی اگر سمندر میں نہ پھینکا جائے تو پھر کدھر جائے؟قدرت نے ہمیں پہاڑ و دریا عطا کئے ہیں مگر ہم نے پہاڑ کاٹ کر روڈا کھڑا کردیا ہے۔پاکستان میں سب سے بڑا تجارتی حلقہ،بزنس ٹائیکون ملک ریاض نہیں بلکہ ہماری اسٹبلیشمنٹ ہے۔مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ میرا پورا ملک ہی پراپرٹی ڈیلرز کا ملکیت بن کر رہ گیا ہے۔کہیں عسکری ہاوسنگ سوسائٹی ہے،کہیں وکلاءکیمونٹی ہاﺅسنگ سوسائٹی ہے،کہیں جرنلسٹ ہاﺅسنگ سوسائٹی ہے۔کیا یہ لاہور شہر رہنے کے قابل رہ گیا ہے۔میں نے میاں نواز شریف کو فون کیا جب وہ وزیراعظم تھے کہ یہ لاہور کا حال دیکھیں آب وہوا سموگ زدہ ہوتی جارہی ہے۔ہم نے راوی کو گندا نالہ بنا دیا ہے۔حیرت انگیز طورپر وزیراعظم نے فرمایا کہ سموگ کیا ہوتی ہے؟ بہرحال راقم نے وہاں اپنے ذاتی خیالات کا بھی اظہار کیا کہ ماحول میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔انسان ہی ان تبدیلیوں کو سہتا اور حل نکالتا آیا ہے۔اگست کی ابتدا ءمیں ہی سیلاب آچکا تھا۔اس صورت حال میں کیا ہمیں یوم آزادی پر اتنا پیسہ خرچ کرنا چاہیے تھا؟کل بارہ ربیع الاول ہے۔اللہ کے حبیب اور ہمارے پیار ے نبی خاتم النبین کا یوم ولادت ہے۔نبی کریم نے خود بھی سادہ ترین زندگی گزاری اور انہوں نے اپنی امت کو بھی اس کی ترغیب دی ہے۔سیلاب زدگان کے لئے ہمارے حکمران اپنی جیبوں سے ان کی امداد کیوں نہیں کرتے ہیں؟عوام سے فلاحی امدادی مہم چلانے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیلوں کے بجائے ،یہ برائے نام حکمران اب خود اپنا حصہ ڈالیں۔بہرکیف تقریب کے آخر میں جن چند نکات پر اتفاق ہوا اُن میں سرفہرست یہ تھا یہاں تباہی اس لیے ہوتی ہے کہ ہم دریا کو اُس کے راستے پر نہیں جانے دیتے ، بلکہ اُس کا رُخ موڑ کر اپنے مفادات کے لیے اس کی زمینوں کو استعمال کرتے ہیں۔ جس سے ہمیں باز آنا چاہیے۔ ان بے اختیار رویوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ بھارت آپ کو پانی چھوڑنے کے حوالے سے باخبر رکھتا ہے یا نہیں اس سے قطعی نظر ہمیں اپنے دریاﺅں کی ”مینجمنٹ “ بہتر بنانے کی ضرورت ہے،،، ورنہ یہ پانی ہر سال آئے گا اور نئی سے نئی تباہی کا باعث بنے گا!