پاک سعودیہ معاہدہ : 40ممالک کی فوج کے بعد نئی فخریہ پیشکش !

گزرے بدھ کے روز پاکستان اور سعودیہ کے درمیان اہم دو طرفہ معاہدے کی صورت میں ڈیفنس ڈیل ہوئی۔ اس معاہدے کی تخلیق کا بڑا باعث اسرائیل کی جانب سے توسیع پسندانہ جارحیت بنی، یمن کے حوثی قبائل بنے یا نفسیاتی برتری بنی،،،، اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،،، لیکن اس وقت دنیا جانتی ہے کہ عرب دنیا اس وقت کمزور ترین اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے،،، اسرائیلی جارحیت کا حوصلہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ عین اس دن، جب عرب اور مسلم ممالک تازہ اسرائیلی جارحیت کا تازہ شکار ہونے والے ملک قطر میں جمع تھے‘ نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ مجھے کسی کی پروا نہیں، جب چاہوں گا پھر حملہ کر دوں گا۔ قطر کے اجتماع کا نتیجہ روٹین والا مایوس کن اعلامیہ تھا۔ ایسا اعلامیہ جو اسرائیل کے سرپرست مغربی دنیا کے ممالک میں مذاق‘ طنز اور ٹھٹھے سے کم نہیں۔ جس کا تاریخی واقعہ 1982ءمیں سامنے آیا۔ جب برطانیہ کی پرائم منسٹر مارگریٹ تھیچر کو یہ پریشان کن اطلاع دی گئی کہ ارجنٹائن کی فوجی حکومت نے برٹش کنٹرول والے جزیرے فاک آئی لینڈ پر حملہ کردیا ہے۔ مارگریٹ تھیچر نے فوراً ان لفظوں میں بیان دیا We will go to war at once، عسکری قیادت بھاگتی ہوئی 10ڈاﺅننگ سٹریٹ پہنچی۔ وزیراعظم تھیچر سے درخواست کی کہ ہمیں پہلے یو این سکیورٹی کونسل میں ارجنٹینا کے خلاف تحریری شکایت داخل کرنی چاہیے۔ جواب میں مارگریٹ تھیچر نے حکم دیا: وار کونسل کا اجلاس فوراً بلاﺅ۔ میں کوئی عرب لیڈر نہیں!خیر قطر پر حملے کا بھرپور زبانی جواب تو جا چکا لیکن اسرائیل زبان کا اثر کہاں لیتا ہے؟ اس نے کئی بار ٹیسٹر لگائے ہیں‘ ہر ٹیسٹ کا نتیجہ اس کی توقعات اور یقین کے مطابق ہی نکلا ہے۔ وہ سبھی کو جانتا ہے کہ: نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں اب تازہ معاہدے کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ آپ عربوں سے ،،، ایسے معاہدے دیکھ کر ہمیں خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ شاید ہم بھی یہود و ہنود کے تسلط سے نکل سکیں ،،، یا شاید ہم بھی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوسکیں،،، مگر پھر چند ماہ یا ایک سال بعد وہ دھوں بن کر اُڑ جاتا ہے،،، جیسے آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے 40ممالک کی ایک فوج بھی تیار کی تھی جس کی سربراہی جنرل راحیل شریف کر رہے تھے،،، اس وقت غزہ جنگ کو دو سال مکمل ہونے کو ہیں،،، اسرائیل نے فلسطین کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ، مگر مجال ہے کہ یہ فوج ہمیں کہیں نظر آئی ہو،،، وہ علی اعلان ہر ملک پر اپنی دہشت پھیلا رہا ہے ،،، اب تو قطر تک پر اُس نے حملہ کر دیا ہے ،،، مگر مجال ہے کہ کہیں اس فوج نے سر اُٹھایا ہو۔ اگر تو یہ معاہدہ بھی ایسا ہی ہے تو پھر اللہ اللہ خیر صلا۔ اور پھر یہ بھی ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ اتحاد کس کے خلاف ہے؟ کیا یہ امریکا کے خلاف ہے، اسرائیل کے خلاف ہے، چین ، روس، یورپ یا پھر بھارت کے خلاف ہے؟ کیا جب انڈیا کے خلاف ہماری جنگ ہوگی تو سعودی عرب ہمارا ساتھ دے گا،،،کیا وہ ہمیں اپنا سسٹم دے گا؟کیا اُس کی افواج ہمارے ساتھ وطن کے دفاع کے لیے پاکستان اُترے گی؟ کیوں کہ سعودیہ کے حکام نے تو گزشتہ روز ہی ایک بیان میں کہا ہے کہ خطے میں بھارت ہمارا بہترین پارٹنر رہے گا۔ یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ جیسے ہی اس معاہدے کی شقیں سامنے آئیں تو درمیان میں سے کہانی ہی کوچھ اور نکل آئے کہ جیسے ہمیں ماضی میں جب امریکا ایف 16یا دوسرے جنگی ہتھیار فروخت کرتا تھا تو ساتھ یہ بھی شرط لگا دیتا تھا، کہ آپ انہیں بھارت کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔ بندہ پوچھے اور اسلحہ ہم کس ملک کے لیے خرید رہے ہیں؟ یہ شقیں یقینا کسی کمزور ملک کے خلاف استعمال ہوں گی،،، یعنی ان میں یمن بھی ہوسکتا ہے،،، اصل میں عشروں سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی ناک میں دم کر رکھا ہے ، پہلے بھی سعودی عرب حوثیوں کی سر کوبی کے لیے پاکستان کی مدد مانگ کے کر چکا ہے۔ تب میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے، میاں صاحب نے یہ ذمہ داری اسمبلی پر ڈال دی ، اسمبلی نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہمارا معاہدہ صرف مقدس مکامات یعنی دو مسجدوں کے دفاع تک ہے۔ اس سے تعلقات میں کچھ بد مزگی پیدا ہوئی، امارات کے ایک شہزادے نے تو یہ دھمکی بھی دی کہ وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کو نکال بھی سکتے ہیں۔ اب اس معاہدے کے بعد پاکستان کے لیے انکار کرنا مشکل ہو گا اور امکان غالب ہے کہ باغیوں کی سرکوبی کے لیے فوج کو جانا ہو گا ،، ایسی صورت میں ایران کو کیسے مطمئن کیا جائے گا؟ یا پاکستان کے عوام کو کیسے مطمئن کیا جائے گا؟یا لگتا ہے کہ یہ بھی اسی طرح کا معاہدہ ہوگیا جس طرح پاکستان میں بار بار اجازت لینے کے بجائے ایک ہی قانون بنا دیا جاتا ہے، تاکہ یہ جھنجٹ ہی ختم ہو۔ جیسے فکس جج لگا دیے گئے ہیں تاکہ روز روز چیفس کے بدلنے کا مسئلہ ہی ختم ہو جائے۔ اور رہی بات امریکا کی تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ امریکا سے 2،2سو ارب ڈالر معاہدے کرنے والا سعودی عرب اپنا ایک سٹریٹجک پارٹنر بنانے جا رہا ہے اور امریکا کو اس بات کا علم ہی نہ ہو؟ امریکا تو وہ ملک ہے جو ماضی میں للکارتا رہا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے بغیر ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔ اور سعودی عرب کے حکمران امریکہ کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے، یعنی سعودی عرب اور اسکے شاہی حکمران امریکہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ تو درکنار روٹین کے تعلقات بھی نہیں رکھ سکتے، اور حالیہ پاک سعودی ایگریمنٹ بھی امریکہ کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ سعودی عرب کے ایران کیساتھ تعلقات میں بہت حد تک بہتری آئی ہے ،،،اور پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ پاکستان امریکا کا متبادل ملک ہو سکتا ہے،،، اور پھر سعودی عرب کو اسرائیل سے بھی خطرہ نہیں ہے،،، ایران کے ساتھ بھی بڑے گہرے تعلقات قائم ہیں،،، جبکہ پیچھے تو پھر وہی یمن ہی بچتا ہے،،، جس کے خلاف ہماری فوج سعودی عرب کے شانہ بشانہ لڑے گی۔ اگر پھر یمن سعودیہ کا دشمن ہے تو وہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کا دشمن بھی ہوگا،،، جبکہ یمن اور ایران کے گہرے مراسم ہیں،،، پھر کیا ہم ایران کے ساتھ دشمنی مول لیں گے؟ اور کیا ہمارے ہمسایہ ممالک میں بھارت، افغانستان چھوٹے دشمن تھے، جو ہم ایران کے ساتھ بھی بگاڑ لیں،،، جس پر ہمیں بعد میں پچھتا نا پڑے۔ چلیں اگر ایسا کر بھی لیں تو کیا سعودی عرب بلوچستان یا کے پی کے میں طالبان سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجے گا؟ اگر ایسا ہے تو پھر ست بسمہ اللہ ،،، ورنہ اگر یہ معاہدہ یک طرفہ ہے تو پھر ہمیں اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لانا چاہیے تھا۔ بہرحال ہم مان لیتے ہیں کہ پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ (SDMA) دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کا پیش خیمہ ہو گا، اور فوری طور پر جو چند اقدامات متوقع ہیں ان میں مشترکہ فوجی مشقوں سمیت پاکستانی فوج اور ایئرفورس ماضی کی طرح سعودی عرب میں تعینات ہو سکتی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا ، پاکستانی لیبر کو ملازمتوں کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں ، اسکے علاوہ آسان شرطوں یا ڈیفر پیمنٹ پر تیل کی فراہمی ممکن ہو سکے گی ، اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کے اسٹریٹجک رول کو بھی تقویت ملے گی۔ تیسرا اس بات کا بھی امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ جو قطر پر اسرائیل کی طرف سے حالیہ حملہ ہوا ہے، اس حوالے سے شاید سعودی عرب اسرائیل پر نفسیاتی دباﺅ بڑھانا چاہ رہا ہے ، اس لیے اُسے ایسے معاہدے کی ضرورت پیش آئی،،، اگر یہ ایسا ہے تو پھر اس معاہدے کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ بہرحال اگر آپ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ امریکا نے سعودی عرب اور پاکستان کو ایک کر دیا ہو تاکہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو سکے تو یقین مانیں اس میں بھی غریب کے لیے کچھ نہیں بچے گا،،، سب کچھ اوپر اوپر ہی تقسیم ہو جائے گا،،، پھر اس معاہدے کے بعد ہمارے امیر لوگ مزید امیر اور غریب لوگ مزید غریب تر ہو جائیں گے،،، اوپری سطح پر اچھی خاصی دہاڑیاں لگیں گی،،، اور ملک کمزور ہوتا جائے گا۔ بہرکیف یہ جو معاہدہ ہوا ہے،،، اس کی شنید کئی دنوں سے مبہم انداز میں سنی جا رہی تھی،،، حکومتی ٹک ٹاکرز خاصے متحرک ہو گئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تیار ہوجاو¿ تیار ہوجاو¿، آرہا ہے آرہا ہے ،بہت بڑا آرہا ہے،دعا کرو وہ آجائے وہ ہوجائے اور پھر خبر آگئی ....ویسے تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ ایک پروقار تقریب ہوتی اور سب کو اعتماد میں لیکر یہ کام کیا جاتا،،، جانے سے پہلے خودساختہ کابینہ کا اجلاس ہوتا سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہی بلا لیا ہوتا ،،، چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی پاک بحریہ پاک فضائیہ کے سربراہان کو ہی ساتھ لے جاتے ،،، پیپلزپارٹی کو ہی بتادیا ہوتا ،،، بلاول کو ہی ساتھ لے جاتے ،،،جعلی فارم 47 کے کسی اور اتحادی کو ہی جہاز کی خالی سیٹ پر بٹھا لیتے ،،، لیکن نہیں۔۔۔۔۔۔اس بار بھی صرف دو خاندانوں کے چہرے نظر آئے اور اس معاہدے کو بھی بند کمرے تک محدود رکھا گیا ۔ پھر جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر منفی بحث شروع کرائی گئی جس کا نتیجہ سامنے ہے۔ خیر جو لوگ حالیہ پاک سعودی معائدے کو پاکستان سے سعودی عرب کا فوجی اشتراک اسرائیل اور مغرب کیخلاف ستون بن کر کھڑا ہو گا، تو انکو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔کیوں کہ ہم نے 40ممالک کی افواج کا جو حال دیکھا ہے،،، وہ بھی سب کے سامنے ہے!