کیا وفاق سہیل آفریدی سے وزارت اعلیٰ چھین کر دم لے گا؟

اس وقت ملک میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، طاقتور کمزور کو پٹخ رہا ہے اور کمزور اپنی تمام تر آس اُمیدوں کو اللہ پر چھوڑ چکا ہے،،، کیوں کہ ویسے بھی قرآن پاک کی سورة التین کی آیات نمبر4اور 5کا ترجمہ ہے کہ ”ہم نے انسان کو بہترین ساخت ( احسن التقویم ) پر قائم کیا، اور وہ ہے کہ گراوٹ کی انتہا تک پہنچ گیا ( اسفل سفلین )“۔ اندازہ لگائیں کہ آج سے 15سو سال قبل بھی انسان ایسا ہی تھا، اور آج بھی ایسا ہی ہے،،، بلکہ ہزاروں سال سے ایسا ہی ہے کہ جب اُس کے پاس طاقت ہوتی ہے تو اُس سے بڑا درندہ اس دھرتی پر کوئی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مخالفین کو اس طریقے سے روندتا ہے کہ پھر اُس کی وحشت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ لیکن جب اُس کے پاس طاقت نہیں رہتی تو وہ دھرتی کا مظلوم ترین فرد بن جاتا ہے،،، وطن عزیز کی تاریخ بھی ایسی ہی کہانیوں سے اٹی پڑی ہے، جن نے بھی آج تک طاقتور مخالف بیانیہ اپنایا ، وہ یا تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پایا گیا، یا منوں مٹی تلے دبا دیا گیا۔ لیکن جس نے ہر لمحہ طاقتور کے سامنے ”آمین“ کہا وہ اقتدارکا ہمہ سر پر سجائے حکمران بن گیا۔ آپ ماضی کو چھوڑیں حالیہ ”تاریخ“ کو دیکھ لیں ،،، کہ ایک شخص جس نے طاقتور شخصیات کے حکم کو ماننے سے انکار کیا،،، اور قانون کی بالادستی کی بات کی وہ سلاخوں کے پیچھے ہے،،، جبکہ ”جی حضوری“ کرنے والے آج اقتدار میں ہیں۔ اور پھر یہی برسرا قتدار مافیا کٹھ پتلی بن کرعوام پر ایسے ظلم ڈھاتا ہے، کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی،،، کیوں کہ اُسے علم ہوتا ہے کہ وہ کونسا ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آیاکہ عوام کو وہ جواب دہ ہوگا۔ آپ گزشتہ دو تین سال دیکھ لیں،،، کہ فارم 47کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے والی حکومت اپنے مخالفین پر ایسے ایسے مظالم ڈھا رہی ہے کہ تاریخ یاد رکھے گی۔ آج مخالف سیاسی قائدین سے لے کر سیاسی سیاست کے ادنیٰ کارکنوں تک یا تو جیلوں میں سڑ رہے ہیں یا مختلف جھوٹے مقدمات میں عدالتی ٹرائل ہو رہے ہیں۔ آپ بانی تحریک انصاف کو دیکھ لیں جس پر 300 مقدمے بنائے گئے ،،، لیکن تف ہے کہ وہ احتساب سے ڈر کر نہ ہسپتال گیا‘ نہ سودے بازی پر راضی ہوا اور نہ ہی آلِ شریف اور دوسرے سیاست کاروں کی طرح خوش خرید جلاوطنی قبول کی۔ بانی تحریک انصاف سے آپ کے ہزار اختلاف ہوں گے، اُن کی گورننس کو لے کر آپ سو اختلاف کر سکتے ہیں مگر آج کے موجودسیاستدانوں میں سے خاص طور پر جن کے پاس اختیار ہے، اقتدار ہے، طاقت ہے وہ قیدی نمبر 804 جتنا حوصلہ تو دکھائیں۔ خیر طاقت کے اسی محور کو آپ وزیر اعلیٰ کے پی کے پر آزماتا ہوا دیکھ لیں،،، وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو منتخب ہوئے دو ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے ،،، لیکن مجال ہے کہ اُس کی ملاقات اپنے قائد عمران خان سے کروائی گئی ہو،،، وہ ہر ملاقات کے دن اڈیالہ جیل کے باہر ہوتا ہے ، وہ عدالتی احکامات لے کر بھی وہاں پہنچتا ہے، وہ بطور صوبائی چیف ایگزیکٹو وہاں پر موجود ہوتا ہے،،، مگر خدا کی پناہ کہ حکمران اپنی ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹے ہوں؟ اور پھر یہی نہیں بلکہ جب سے کے پی کے کی کمان تبدیل ہوئی ہے آپ خود دیکھ لیں کہ سب سے پہلے گورنر کے پی کے نے حلف لینے سے انکار کیا، پھر عدالت نے واضح حکم نامہ جاری کیا اور حلف برداری کی تقریب ممکن بنائی۔ پھر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے اسلام آباد میں سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ،،، جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر”جھوٹے، گمراہ کن، توہین آمیز“ بیانات جاری کیے جو ریاستی اور سیکورٹی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسی بنا پر سہیل آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دی؛ عدالت نے عارضی طور پر ان کے خلاف گرفتاری سے تحفظ دیا اور کہا کہ متعلقہ حکام تمام درج شدہ مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش کریں۔ اور پھر رہی سہی کسر گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے سوموٹو ایکشن نے نکال دی جس میں سہیل آفریدی کے این اے-18 ہری پور ضمنی انتخاب سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لیا گیا۔سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ”پاکستان میں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ ہری پور میں 23 نومبر کو ووٹ تبدیل کرنے والے صبح کی روشنی نہیں دیکھیں گے۔اور پھر شکوہ بھی کیا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے باوجود ایک منتخب وزیراعلیٰ کو اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جارہا۔ اب ایک ہی راستہ بچتا ہے اور ہم اُس کو ضرور اپنائیں گے۔ اگر دیوار سے لگایا گیا تو ہم ببرشیر ہیں۔ پنجہ ماریں گئے اور شکار بھی کریں گے۔“ بتایا جائے کہ کیا جلسے جلوسوں میں ایسی باتیں نہیں ہوتیں؟ مجھے ن لیگ کے جلسوں کی تقریریں نکال کر دکھائی جائیں کہ 2018ءسے 2022ءتک ہونے والے ضمنی انتخابات میں ن لیگی اُمیدواروں اور اُن کے قائدین نے کیا کیا نہیں کہا۔ ووٹ کو عزت دو سے لے کر ریاسی اداروں پر الزام تراشی تک سب کچھ کہاگیا۔ لیکن نشانہ صرف تحریک انصاف کو بنانا ہے،،،اور اس وزیر اعلیٰ نے تو صرف ریاستی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بارے میں ہی کہا تھا،،، کہ ملک ایک بڑے سیاسی موڑ کے دہانے پر کھڑا ہے اور ملک میں انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے اور جمہوری اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔سہیل آفریدی نے ریاستی اداروں سے آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ لیکن وفاق چاہتا ہے کہ وہ شخص کے پی کے کا وزیرا علیٰ بنے جو وفاق اور فیصلہ کرنے والوں کے سامنے ”جی حضوری“ کرے۔ اس لیے وفاق اور طاقتور ادارے ایسے وزیر اعلیٰ کو کبھی وزارت اعلیٰ میں نہیں دیکھنا چاہیں گے، جو اُن کے برعکس کام کرے،،، اور جب تک یہ اُن کی ”بات“ نہیں مان لیتا، اس کی کبھی خان سے ملاقات نہیں کروائی جائے گی۔ اور پھر سہیل آفریدی وفاق کو اس لیے بھی کھٹک رہا ہے کہ اُس نے وفاق کے ذمے اپنے صوبے کے 850ارب روپے مانگ لیے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اس لیے بھی نہیں بھاتا کہ بقول اس کے کہ ”بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے“۔ اس کے علاوہ صوبوں اور مرکز کا اختلاف محض مالی معاملات پر نہیں بلکہ انتظامی جھگڑے اور آئینی دائرے میں بھی اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تبھی وفاق سہیل آفریدی کو بطور ضدی اور امیچور وزیر اعلیٰ کے دیکھ رہا ہے ،،، اور اسی لیے وہ سہیل آفریدی پر طرح طرح کے قدغن لگا رہا ہے۔ بہرحال حکام بالا سے دست بستہ گزارش ہے کہ اُتنا ظلم کریں جتنا لوگ سہہ لیں، لوگوں کو مجبور نہ کریں کہ وہ پھر یہ کہہ کر سر پر کفن باندھ لیں کہ اب جو کچھ ہوتا ہے وہ ہونے دو، ہر چیزکی ایک لمٹ ہوتی ہے،،، جب چیزیں حدد سے تجاوز کر جائیں تو پھر بات سڑکوں پر ہوتی ہے۔ جب قانون میں ہے کہ ہر رکن پارلیمنٹ کا استحقاق ہے کہ وہ جیل کا وزٹ کر سکتا ہے، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو اپنے قائد سے ملنے ہی نہیں دیا جا رہا ،،،وہ عدالتی حکم نامہ بھی لے کر جاتا ہے، مگر پھر بھی اُسے ملنے نہیں دیا جاتا،،، پھر آپ کس قانون کی بات کر رہے ہیں،،، یا تو قانون سب کے لیے ایک ہی رکھیں،،، لیکن یہ کیا بدتمیزی ہے کہ آپ اپنے لیے کوئی اور قوانین رکھیں اور مخالفین کے لیے کوئی اور ۔ اور مخالفین کے لیے ایسے حالات پیدا کردیں کہ وہ دل برداشتہ ہو جائے ،،، بلکہ ملاقات نہ کروانے کے معاملے پر تو وزیر اعلیٰ کے پی کے نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو خط بھی لکھا ہے،،، جس میں واضح طور پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کو عدالتی اجازت کے باوجود ملاقات سے روکنا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔خط میں عدالتی احکامات پر فوری عمل اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سہیل آفریدی نے خط میں مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ملاقاتوں کے لیے باوقار اور قانونی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے، امید ہے پنجاب حکومت قانون کی بالادستی اور انسانی وقار یقینی بنائے گی۔الغرض سہیل آفریدی خطوط لکھ رہا ہے، التجائیں کر رہا ہے،، عدلیہ کا دروازہ کھٹکٹا رہا ہے ، اس کے علاوہ اور وہ کیا کرے؟ کیا اُسے مجبورنہیں کیا جا رہا کہ وہ ایک بار پھر پشاور سے قافلہ لے کر نکلے اور اسلام آباد کا پڑاﺅ کرے۔ بہرکیف آپ وفاق کی خرمستیاں چیک کریں،،، کہ وہ کس طرح ایک منتخب وزیراعلیٰ کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے،،، پھر یہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا حال دیکھ لیں،،، ایک طرف پنجاب میں ضمنی الیکشن میں ساری مشینری حکومتی جماعت کو سپورٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے،،، جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن سوموٹو ایکشن لے کر سماعت کے لیے طلب کر لیتا ہے،،،، یہ تو بالکل ایسے ہی لگ رہا ہے ، جیسے سرکار وزیر اعلیٰ کے پی کے کو کسی نہ کسی طرح ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے،،، کبھی اُسے 9مئی کے کیسز میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی پیکا ایکٹ لگایا جاتا ہے،،، لہٰذا میری ایک بار پھر دست بستہ گزارش ہے کہ انتہا کو چھونے سے گریز کریں،،، کیوں کہ انتہا کو چھونے سے بہت برا حال ہوتا ہے۔ اور رہی بات اداروں کی تو کون بنے گا سپریم ‘اس کا فیصلہ صرف ووٹ سے ہو سکتا ہے۔ کسی کاغذی ترمیم سے نہیں!اس لیے یہ بات مان لیں کہ سپریم اس وقت صرف عوام ہے اور کوئی نہیں!