امریکا کا بڑا ہتھیار ”رجیم چینج“ ،،، حکمران بھی ہوشیار رہیں!

وینزویلا میں کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی اور امریکا نے وہاں کے صدر مادورو کو راتوں رات اغوا کرکے ”رجیم چینج“ کر دیا،،، اور ساتھ ہی ”فتح“ کا اعلان بھی کر دیا ،،، کہا جا رہا ہے کہ یہ ملک امریکا کے لیے سب سے آسان ٹارگٹ ثابت ہوا جہاں رجیم چینج کے لیے اُسے ناتو اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑے اور نہ ہی کئی جانیں ضائع کرنا پڑیں۔ آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ ”رجیم چینج“ جیسی اصطلاح دراصل ایسے موقع پر استعمال کی جاتی ہے ، جب کسی ریاست میں اقتدار ایک قیادت سے نکل کر کسی دوسری قیادت کے ہاتھ میں چلا جائے۔ یہ تبدیلی جمہوری بھی ہو سکتی ہے اور غیر جمہوری بھی۔ یعنی اگر عوام اپنے ووٹ کے ذریعے حکومت بدل دیں تو اسے پرامن یا آئینی رجیم چینج کہا جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس، اگر حکومت احتجاج، فوجی مداخلت یا کسی بیرونی دباو¿ کے نتیجے میں بدلی جائے تو یہ عمل متنازع ”رجیم چینج “سمجھا جاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں رجیم چینج مختلف انداز سے ہوئی۔ کہیں عوامی تحریکوں نے آمریت کا خاتمہ کیا، تو کہیں فوجی بغاوت نے منتخب حکومتوں کو ہٹا دیا۔ بعض مواقع پر طاقتور ممالک نے اپنے مفادات کے تحت کمزور ریاستوں میں حکومتی تبدیلی کی حمایت یا مخالفت کی، جس نے اس اصطلاح کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔اس کی تازہ مثال پاکستان میں ”سائفر“ کے ذریعے 2022میں تبدیل کی جانے والی تحریک انصاف کی حکومت ہے ،،، جس کا بعد میں ذکر کروں گا کہ امریکا نے پاکستان کی حکومت کی کمان کیوں تبدیل کی؟ بہرحال بات ہورہی تھی وینزویلا کی تو وہاں ماہرین کے مطابق رجیم چینج آپریشن کا خطرہ سب کو نظر آرہا تھا لیکن وینزویلا کے صدر نکولس مادوروکو نظر نہیں آ رہا تھا۔ موصوف نے اپنے ملک کی نوبل انعام یافتہ اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا مچادو کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگا رکھی تھی لیکن دسمبر 2025 ءمیں ماریہ سمندر کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس ڈرامائی فرار کا مطلب یہ تھا کہ اب صدر مادوروکی خیر نہیں،، لیکن وہ ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار تھے۔ وہ بھول چکے تھے کہ 1989 ءمیں پانامہ کے ڈکٹیٹر جنرل نوریگا کو بھی امریکا نے ایک فوجی آپریشن کے ذریعے گرفتار کیا اور میامی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر اُسے سزا دی تھی۔ نوریگا کسی زمانے میں سی آئی اے کیلئے کام کرتا تھا۔ جب وہ خودسر اور ضدی ہو گیا تو اسے سزا دینے کیلئے امریکا نے اپنے دو درجن فوجیوں کی قربانی دیدی۔ پھر امریکا نے عراق کے صدر صدام حسن کو کئی سال تک ایران کے خلاف استعمال کیا اور پھر اُس پر جھوٹے الزامات لگا کر 2003 ءمیں ایک رجیم چینج آپریشن میں فارغ کر دیا۔ 2011 ءمیں لیبیا کے صدر معمر قذافی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،،، اُس کا حال سب نے لائیو نشریات میں دیکھا۔ پھر آپ نے وینزویلا کے صدر کو ”لائیو“ دیکھا کہ اُن کا امریکا بدمعاش کی طرف سے کیا حال کیا جا رہا ہے،،، اس کا قصور یہ بھی تھا کہ وہ امریکا کے پڑوس میں رہتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہاتھا ،،، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے جنگ کے بعد وینزویلا نے ایرانی میزائیلوں میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ وینزویلا اور ایران میں بڑھتا ہوا فوجی تعاون امریکا کے لئے خطرہ تھا کیونکہ وینزویلا اور امریکا میں زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ صدر مادورو کے ایران سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بعد امریکی میڈیا میں اُن کے ڈرگ مافیا کے ساتھ روابط کے قصے سامنے آئے اور 2025 ءمیں اُن کی گرفتاری پر انعام کی رقم کو 25 ملین ڈالر سے بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دیا گیا۔ اب ذرا سو چئے کہ جس شخص کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر تھی اُسے امریکی کتنی آسانی اس کے صدارتی محل سے اُٹھا کر لے گئے۔ اُسامہ بن لادن کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر تھی۔ امریکی فوج اُسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے اُٹھا کر لے گئی تھی جبکہ صدر مادورو کا خیال تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اُن کے خلاف ویسا آپریشن نہیں کر سکتا جیسا آپریشن پانامہ میں جنرل نوریگا یا ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے خلاف ہوا۔ اب سنا جا رہا ہے کہ امریکا ایسا ہی ایک اور آپریشن ایران میں بھی کرنا چاہتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایسے ہی ایک آپریشن کا منصوبہ افغانستان کیلئے بھی بنا رکھا ہے لیکن یہ آپریشن ایران میں کامیابی کے بعد ہو گا۔اور ایران میں کامیابی کے ماہرین کے مطابق 50فیصد سے زائد چانسز لگ رہے ہیں،،، ایسا کیوں ہے یہ بھی سب جانتے ہیں،،، کیوں کہ اسرائیل کی جارحیت کے بعد بہت سے ممالک ”ایکسپوز“ ہوئے ہیں جن میں عرب ممالک سرفہرست ہیں جن میں سے بعض کی قیادت کو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا تھا،،،اور ویسے بھی ایران کے خلاف امریکا کے آپریشن میں اسرائیل بھی شامل ہو گا۔ روس اور چین اس صورتحال میں خاموش نہیں رہیں گے اور دنیا ایک بڑی جنگ کے خطرے سے دوچار رہے گی۔ پاکستان کیلئے تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں بیک وقت امریکا اور چین کو خوش رکھنا بہت مشکل ہو گا۔ بہرحال بات وینزویلا کی ہو رہی تھی تو وہاں رجیم چینج کے بعد تیل کے ذخائر امریکا کی آئل کمپنیوں کی دسترس میں آچکے ہیں۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا بہادر نے اسی قسم کے آپریشن ”رجیم چینج“ پاکستان میں بھی کیے مگر اُن کا طریقہ واردات ذرا مختلف رہا ہے ،،، جیسے امریکہ نے ہمارے پہلے وزیراعظم شہیدِ ملت لیاقت علی خان کو خفیہ آپریشن کے ذریعے منظر سے ہٹایا۔ جبکہ ون مین ون ووٹ سے برسرِ اقتدار آنے والے دوسرے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کھل کر جنرل ضیاءالحق کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا،،،لیاقت علی خان کے قتل کے بارے میں امریکہ نے خود اپنے کاغذات پبلک کیے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں دھمکی آمیزخط کا کتابی اعتراف کیا۔۔۔ پھر قیدی نمبر 804 وزیراعظم عمران خان کی پاپولر ووٹ سے برسر اقتدار آنے والی حکومت کو سائفر سے برسرِ عام شکار کیا۔آج سے تقریباً چار سال پہلے، 8 مارچ 2022ءکو عمران خان کے خلاف اویں ای عدم اعتماد کی تحریک آ گئی، سپریم کورٹ بالکل اویں ای آدھی رات کو کھل گئی، یہ رجیم چینج نہیں تھی؟ جبکہ رجیم چینج کے تین بڑے کرداروں میں سے ایک مولانا فضل الرحمن نے ٹی وی انٹرویو میں کہا: ہمیں جنرل باجوہ نے بلا کر عمران خان کی حکومت کے خلاف رجیم چینج پر مجبور کیا تھا۔خیر یہ بات موجودہ حکمران تو نہیں مان رہے ،، مگر آج نہیں تو کل ضرور یہ بات کھلے گی کہ امریکا نے کن کن مواقعوں پر تحریک انصاف کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں،،، اور پاکستان میں کمان تبدیل کروائی۔۔۔ اور پھر یہ بات بھی ہمیں مان لینی چاہیے کہ آج دنیا کا ”بادشاہ “ امریکا ہے،،، جو ماسوائے چند ممالک کے جہاں چاہتا ہے اپنے بندوں کو اقتدار میں لے آتا ہے،،، پھر وہاں پر موجود معدنیات سمیت تیل کے ذخائر پر اُسی کا قبضہ ہوتا ہے،،، بہرکیف اس وقت ہمارے خطے کو خود مختاری کے تہہ در تہہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایشیا میں تنازعات کا تسلسل چل نکلا ہے،،، تھائی لینڈ کمبوڈیا جنگ‘ بنگلہ دیش انڈیا کشیدگی‘ پاک افغان لڑائیاں اور اب سعودی عرب اور یو اے ای ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ ایران امریکہ کشیدگی خدا کرے کسی جنگ کی شکل نہ اختیار کرے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ پاکستان کے دروازے پر نئی جنگ کے لیے صف آرائی اور زمین کی گرمی آخری نقطہ چھو رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اندر تہہ در تہہ سیاسی اور عوامی عدم استحکام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔جبکہ فارم 47 سرکار ہر روز عمران خان سے بات کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ اسے پانچ بڑوں کے ڈائیلاگ کا نام دیا گیا۔ ان میں سے سیاست کا سب سے بڑا کھلاڑی اڈیالہ جیل میں ہے اور چابیاں چار بڑوں کی جیب میں۔ استحکام لانے کے لیے نیت درست ہے تو شہرِ اقتدار سے تھوڑا دور ہی وہ قید ہے،،، اُسے منا لیں اور ملک میں سیاسی استحکام لے آئیں ورنہ ہوشیار رہیں اور یہ بات یاد رکھیں کہ امریکا کسی کا دوست نہیں وہ بدمعاش ہے اور بدمعاش اپنی طاقت کا تسلسل چاہتا ہے،،، پھر اُس کے لیے ضروری یہ نہیں ہوتا کہ گھی ٹیڑھی انگلی سے نکلے یا سیدھی سے ،،، اُس کے لیے سب سے ضروری یہ بات ہوتی ہے کہ اُس کی بدمعاشی قائم رہے،،، لہٰذاپاکستان کے لیے آگے بہت سے چیلنجز ہیں جن میں غزہ میں فوج بھیجنے کے لیے ایک طرف عوام ہے اور دوسری طرف امریکا،،، اب دیکھتے ہیں کہ موجودہ فیصلے کرنے والی قوتیں کس کو ناراض کرتی ہیں اور کس کو ساتھ لے کر چلتی ہیں،،، اور پھر دوسری طرف ایران کے خلاف رجیم چینج آپریشن میں بھی پاکستان بہت اہم ہو گا۔ پاکستان کو ایسے کسی بھی ایڈونچر سے دور رہنا ہوگا جو پاکستان میں نفرتوں کی آگ بھڑکانے کا باعث بنے۔ پاکستان ٹرمپ کے ایڈونچرز کا حصہ بننے سے انکار کرئیگا تو پاکستان کے خلاف نئی سازشیں بھی شروع ہو سکتی ہیں۔ اسی لئے پاکستان کو اپنے داخلی استحکام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں سیاسی نفرتیں اور تقسیم خطرے کی تمام ریڈ لائنز کو پار کر چکی ہیں اور حکومت کے مخالفین میں سے کسی کیلئے کسی ماریہ کورینا مچادو کو تلاش کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ ان حالات میں رانا ثناءاللہ نے پاکستان کے پانچ بڑوں میں اعتماد سازی کیلئے اقدامات کی تجویز دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اُنکی اس تجویز کے حامی ہیں لیکن بعض اطلاعات کے مطابق ایسا نہیں ہے،،، اور وہ کہتے ہیں صدر زرداری فی الحال عمران خان کے ساتھ مفاہمت یر تیار نہیں اور خود خان صاحب بھی صدر اور وزیراعظم سے مفاہمت پر تیار نہیں۔لیکن جو بھی ہے،،، حکمران ہوشیار رہیں اور اپنا قبلہ درست کریں ورنہ رجیم چینج اُن کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے،،، کیوں کہ وہ مسائل اور Comitmentsکی دلدل میں بری طرح پھنس چکے ہیں!