وادی تیراہ کے مصائب اور اشرافیہ کی شادیوں کی تقاریب!

”پاکستان“ ایک ہی ملک ہے، ایک ہی پرچم، ایک ہی آئین....مگر یہاں زندگی کے دو بالکل مختلف منظرنامے ہیں۔ ایک طرف وادی تیراہ ہے، جہاں لوگ اپنی جان، عزت اور چھت بچانے کے لیے پہاڑوں سے اترنے پر مجبور ہیں،،، یا کراچی کا گل پلازہ جیسی کئی جگہیں ہیں جہاں درجنوں جانیں انتظامیہ کی غفلت کا شکار ہو رہی ہیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہورہا اور جبکہ دوسری طرف اشرافیہ کی شادیوں کی تقاریب ہیں جہاں خوشیوں کا شور اتنا بلند ہے کہ قوم کے دکھ سنائی ہی نہیں دیتے۔جی ہاں! آجکل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی دوسری شادی کی تقریبات منعقد ہورہی ہیں،،،اور وہ بھی پہلی شادی سے زیادہ دھوم دھام سے منائی جا رہی ہیں کہ قوم کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے،،،(یہاں بتاتا چلوں کہ اُن کی پہلی شادی دو سال قبل اکتوبر2023ءمیں ختم ہوگئی تھی،،،)خیر شادی کی تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور ان تصاویر کے ساتھ ساتھ فنکشن کے مینو کی تصاویر بھی سامنے آرہی ہیں، جن سے واضح طور پر یہ تاثر ملا کہ ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کی گئی اور مہمانوں کو مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے گئے ،،، اب ان حالات میں یہ چیزیں ہمارے پسے ہوئے طبقے کو یقینا منہ چڑھا رہی ہیں،،، اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب پنجاب حکومت عوام پر ہر حوالے سے خاصی سختی کر رہی ہے،،، جیسے پولیس کو خاصا متحرک کیا ہوا ہے،،، پیرا فورسز کسی غریب کو نہیں چھوڑ رہی،،، ٹریفک چالان کی شکل میں عوام پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں،،، اور پرچے کاٹے جا رہیں،،، پھر شادی ہال ہوں یا کہیں اور ،،، ہر جگہ رات کو دس بجے تقریب ختم کر دی جاتی ہے،،، اور ون ڈش کی بھی خاصی حد تک پابندی کروائی جا رہی ہے،،، پابندی پر عمل نہ کرنے والے ہال مالکان کو جرمانے کیے جا رہے ہیں،،، اور ہال بھی سیل کیے جا رہے ہیں،،، لیکن وطن عزیز میں ”دو قومی نظریہ“ نہ ہو،،، یہ کیسے ممکن ہے؟ جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے کی شادی میں ہر قسم کے قوانین کی دھجیاں اُڑا کر یہ بتایا گیا کہ بھائی! یہ قوانین آپ کے لیے ہیں،،، اور ہم ہر چیز سے مبراءہیں،،، اور پھر ایک اور اہم بات کہ تقریب میں شریک افراد جن میں خاص طور پر خواتین وزراءکے ملبوسات بھی عوامی بحث کا موضوع بنے۔ مریم نواز، ان کی صاحبزادیوں اور جنید صفدر نے جو ملبوسات زیب تن کیے ان کی قیمتیں لاکھوں، کروڑوں روپے تھیں۔ کیا ایسے مواقعوں پر ہماری اشرافیہ کا اپنا آپ دکھانا ضروری ہوتا ہے؟ کیا عوام کی منتخب وزیرا علیٰ کو یہ چیز زیب دیتی ہے کہ وہ اپنے صوبے کے عوام کا یوں مذاق بنائیں؟ کیا یہ ذہنی بیمارہونے کی علامت نہیں؟ اگر ذہنی بیماری نہیں ہے تو پھر آپ بھی سادگی سے شادی کی تقاریب کا اہتمام کرکے ایک مثال بن جاتیں،،، بالکل ایسے ہی جیسے آپ ہی کی پارٹی کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے بیٹے کی تقریب وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی سادگی سے منائی،،، یعنی انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی نے کراچی میں نکاح کیا اور پھر ولیمہ پروگرام اسلام آباد میں وزیراعظم ہاو¿س کی لان میں سادہ انداز میں منعقد کیا ۔ولیمہ کوئی بڑی شاہکاری تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک پرائیویٹ، محدود اور کم خرچ تقریب تھی جس میں صرف قریبی رشتہ دار، خاندان کے لوگ اور چند دوست شامل تھے۔ولیمہ میں صرف ایک ہی ڈش مہمانوں کو پیش کی گئی، تاکہ فضول خرچی سے بچا جائے اور سادگی کا پیغام دیا جائے۔ تقریب میں حکومتی اہلکاروں اور وزیراعظم ہاو¿س کے عملے کو شامل نہیں کیا گیا، اس لیے یہ روایتی سیاسی و سرکاری نمائش سے دور رہی۔پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی کراچی میں شادی کی سادہ سی تقاریب رکھی گئیں،،، میں محترمہ کی شادی میں بذات خود شریک رہا،،،جس میں پارٹی ورکرز ہی نظر آئے،،، وہ شادی سادگی کی ایک مثال تھی،،، لیکن جنید صفدر کی شادی میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل جنہیں وادی تیراہ میں ہونا چاہیے تھا،،، وہاں موجود پائے گئے،،،پھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی عمران خان کی تینوں شادیاں مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں،،، جمائمہ گولڈ اسمتھ سے نکاح سادگی سے ہوا،،، ریحام خان سے شادی نہایت محدود تقریب میں ہوئی،،، بشریٰ بی بی سے نکاح خالصتاً مذہبی اور سادہ انداز میں انجام پایا،،، ان تقریبات میں نہ بھاری جہیز تھا اور نہ سیاسی شو آف۔مگر یہ شادیاں اور خاص طور پر شریف خاندان کی شادیوں کی تقاریب کوئی نفسیاتی مسئلہ لگتا ہے! جس میں دکھاوا اور غریب کا مذاق بنانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا! بہرحال ہمارے معاشرے میں ہر فرد کو اپنی خوشی منانے کا حق حاصل ہے، اور شادی ایک ذاتی معاملہ بھی ہے، لیکن جب کوئی شخصیت عوام کی منتخب نمائندہ ہو، صوبے کی وزیراعلیٰ ہو اور خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کی بات کرتی ہو تو اسکی ذاتی تقریبات بھی عوامی پیغام بن جاتی ہیں۔لہٰذااب وزیر اعلیٰ پنجاب دوبارہ آفس آکر کس منہ سے سادگی کی بات کریں گی؟ کس منہ سے وہ شادی کی تقریبات میں ون ڈش پر پابندی کروائیں گی؟ کس منہ سے نمود و نمائش پر پابندی لگوائیں گی؟ چلیں ! یہ ساری باتیں ایک طرف مگر کیا حکمرانوں کو ہمسایہ صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں جلنے والے عام پاکستانیوں کی فکر ہے؟ جہاں تادم تحریر 20افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ،،، اور 60سے زائد ابھی بھی لاپتہ ہیں،،، چلیں اُن کو چھوڑیں کیا ان حکمرانوں کو وادی تیراہ کے مکینوں کے بارے میں علم ہے؟ کہ وہ کس حال میں نکل مکانی کر رہے ہیں؟ وہاں گزشتہ کئی مہینوں سے خوف کا راج ہے۔ نقل مکانی، بند اسکول، ویران گھر، بیمار بوڑھے اور روتے بچے،،، یہ سب کسی فلم کا منظر نہیں بلکہ پاکستان کے ایک حقیقی خطے کی کہانی ہے۔ اطلاعات یہ بھی آرہی ہیں کہ وادی تیراہ کے علاقے میدان میں کئی جگہوں پر مکمل کرفیو نافذ ہے۔ باغ میدان، دوہ توئی، حیدر کنڈا، ارہانگہ ،سری کنڈا، پیر میلہ بازار، بر باغ بازار، لر باغ بازار اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے،،، تمام بازار بند ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے عوام کو گھروں میں رہنے، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق اب تک تقریبا دس سے پندرہ ہزار خاندان علاقہ چھوڑ چکے ہیں جبکہ یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں متاثرین کی آواز سب سے زیادہ دردناک ہے۔ اطلا عات کے مطابق نقل مکانی وہی کر پا رہے ہیں جن کے پاس پشاور، باڑہ یا دیگر علاقوں میں رہائش کا بندوبست ہے جبکہ غریب اور بے وسیلہ لوگ آج بھی بے بسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ نقل مکانی کے دوران شدید سردی کے باعث ایک کم سن بچے کی ہلاکت اور مویشیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ نہ طبی سہولیات موجود ہیں اور نہ کھانے پینے کا کوئی مناسب انتظام ہے۔نقل مکانی اور ممکنہ آپریشن کے حوالے سے سب سے بڑا سوال ابہام کا ہے۔ درحقیقت وادی تیراہ کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں کے عوام پہلے بھی کئی بار نہ صرف کئی آپریشن بھگت چکے ہیں بلکہ کئی بار نقل مکانی بھی کر چکے ہیں۔ 2008، 2013، 2014 اور بعد ازاں مختلف ادوار میں کیے گئے آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، جن کی واپسی ہمیشہ تاخیر اور مشکلات کا شکار رہی اس ضمن میں کوکی خیل قبیلے کے ساتھ جو وعدے کیئے گئے تھے ان پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوا جس کے خلاف جمرود بازار میں بابِ خیبر کے سائے تلے طویل ترین احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا لیکن بار بار کے وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ حالیہ برسوں میں بھی تیراہ میں تشدد کے واقعات، فائرنگ، مبینہ فضائی حملوں اور مظاہروں کے دوران ہلاکتوں نے خوف کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ صوبے کے وزیر اعلی، جن کا اپنا تعلق بھی وادی تیراہ سے ہے، بھی بے بس نظر آرہے ہیں،،، انہوں نے وہاں کا دورہ بھی کیا ہے،،، مگر آپریشن رُکتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اور پھر اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ریاستی جبر اور ظلم کی سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کر رہا ہے۔وہ شہری جس کا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے جو صرف امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتا ہے۔ شیر خوار بچے، پردہ دار خواتین، بزرگ اور نوجوان شدید سردی میں بے سروسامانی کی حالت میں دربدرہو رہے ہیں۔ نہ سر چھپانے کی جگہ، نہ مناسب خوراک اور نہ طبی سہولیات، یہ وہ المیہ ہے جس سے آج اکیسویں صدی میں اپنے ہی وطن میں بے گھر کیئے جانے والے محب وطن شہری دوچار کیئے جا رہے ہیں۔دراصل یہی وہ ناقص پالیسیاں اور غیر انسانی فیصلے ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھاتے ہیں۔ بہرکیف اشرافیہ کا المیہ یہ نہیں کہ وہ خوشیاں مناتی ہے، المیہ یہ ہے کہ وہ بے خبر رہ کر مناتی ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں، یا معلوم ہو کر بھی اہم نہیں لگتا، کہ اسی وقت کسی ماں نے اپنا گھر چھوڑا ہے، کسی بچے نے اپنا اسکول، اور کسی بزرگ نے اپنی زمین، وہ زمین جس سے اس کی شناخت جڑی تھی۔ یہ تضاد صرف معاشی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ ایک ریاست اس وقت کمزور ہوتی ہے جب اس کے طاقتور طبقات قومی دکھ درد سے کٹ جائیں۔ جب وادی تیراہ کے متاثرین کے لیے امدادی کیمپ خبر نہیں بنتے مگر ایک شادی کا ولیمہ بریکنگ نیوز بن جائے، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف غربت کا نہیں، حساسیت کے فقدان کا ہے۔قومیں قربانیوں سے بنتی ہیں، اور اشرافیہ اگر واقعی قیادت کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے مثال بھی بننا ہوگا۔ شادی کی ایک تقریب سادہ ہو جائے، ایک فنکشن منسوخ ہو جائے، ایک کروڑ کسی بے گھر خاندان کے نام ہو جائے، یہ قربانی اشرافیہ کو غریب نہیں کر دے گی، مگر شاید قوم کو تھوڑا سا جوڑ دے۔وادی تیراہ صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ ایک امتحان ہے۔ یہ امتحان ریاست کا بھی ہے اور اشرافیہ کا بھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ میں کون صرف روشنیوں میں نظر آیا، اور کون اندھیروں میں بھی چراغ بن سکا۔لہٰذاہماری اشرافیہ اگر عوام کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کرنا چاہتی ہے،،، تو اُن کے زخموں کو کریدنے کے بجائے اُنہیں بھرنے کی کوشش کریں،، ورنہ انقلاب آتے دیر نہیں لگتی،،، اور ویسی بھی اس وقت دنیا بھر میں خاص طور پر ہمارے مسلم ممالک کے ستارے گردش میں ہیں،،، ایسا نہ ہو کہ یہاں کے حکمرانوں کے ستارے بھی گردش میں آجائیں اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،،، کیوں کہ قوم کو آج تقاریر سے زیادہ مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعرے نہیں، عملی رویے درکار ہیں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔