محسن صحافت: الطاف حسن قریشی

سینئر صحافی اور دانشور الطاف حسن قریشی 94 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ قریشی صاحب جتنے بڑے صحافی تھے، اُتنے ہی بڑے انسان تھے،،، انہی کو دیکھ کر ہم بڑے ہوئے ہیں، ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا،،، وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور پاکستان میں ”ڈائجسٹ صحافت“ کے بانی تھے،،، مجھے وہ زیادہ اس لیے بھی بہترین لگتے تھے ،،، کہ وہ ہر جمہوری و غیر جمہوری دور میں مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے رہے، اور ہر چند مہینوں یا سال بعد اُنہیں گرفتار کیا جاتا رہا،،،قریشی صاحب کو ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت نے بھی گرفتار کیا اور جنرل ضیاءالحق کی فوجی حکومت نے بھی گرفتار کیا۔ بھٹو جب الطاف حسن قریشی کو ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں متعدد بار ریاستی دباو¿، سنسرشپ اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی بنیادی وجہ ا±ن کی تنقیدی صحافت، نظریاتی مو¿قف، اور حکومت کی بعض پالیسیوں پر کھلی تنقید تھی۔بھٹو دور خصوصاً 1972 سے 1977 تک سیاسی طور پر بہت ہنگامہ خیز تھا۔ اس زمانے میں حکومت پر یہ الزام لگتا رہا کہ وہ اختلافی آوازوں کو برداشت نہیں کرتی تھی۔ الطاف حسن قریشی اُس وقت معروف جریدے”اردو ڈائجسٹ“ اور بعد ازاں ”ہفت روزہ زندگی“ کے ذریعے ایسے مضامین شائع کرتے تھے جن میں حکومتی پالیسیوں، سوشلسٹ رجحانات، سیاسی گرفتاریوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں پر تنقید کی جاتی تھی۔اسی وجہ سے اُن کے رسائل پر بار بار پابندیاں لگائی گئیں، اشاعت روکی گئی، اور اُنہیں حراست میں لیا گیا۔ مختلف ادوار میں اُنہیں ”ڈیفنس آف پاکستان رولز “اور دیگر سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا۔ بعض مواقع پر اُن پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اُن کی تحریریں حکومت مخالف فضا پیدا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر 1974ءاور 1975ءکے دوران، جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھی، صحافیوں اور دانشوروں کے خلاف کارروائیاں تیز ہوئیں۔ الطاف حسن قریشی اُن صحافیوں میں شامل تھے جو حکومتی دباو¿ کے باوجود اپنے مو¿قف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اُن کی گرفتاریوں کا مقصد ناقدین کے مطابق صرف ایک فرد کو خاموش کرانا نہیں بلکہ ایک خاص فکری حلقے کو دبانا بھی تھا۔الطاف حسن قریشی نے بعد میں اپنی یادداشتوں اور انٹرویوز میں بتایا کہ جیل، سنسرشپ اور دباو¿ کے باوجود انہوں نے صحافت کو “قومی ذمہ داری” سمجھ کر جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں پاکستان میں نظریاتی اور مزاحمتی صحافت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ الطاف حسن قریشی کے بھٹو حکومت کے ساتھ شدید اختلافات رہے،،، لیکن جب بھٹوجیل گئے تو الطاف قریشی اینٹی ضیاءہوگئے،،، اور انہوں نے بھٹو کا ساتھ دیا، اس حوالے سے تاریخ میں ایک دلچسپ واقعہ تحریر ہے کہ 1966ءمیں ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے۔ تاشقند معاہدے پر فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کیساتھ بھٹو کا اختلاف ہو گیا۔ ایک دفعہ ہوائی جہاز میں کراچی سے اسلام راولپنڈی آتے ہوئے وزیر خارجہ کی قریشی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ بھٹو صاحب نے انہیں بتایا کہ تاشقند معاہدے پراُنکے کیا تحفظات ہیں، قریشی صاحب نے بھٹو کیساتھ گفتگو اُردو ڈائجسٹ میں شائع کردی جس پرفیلڈ مارشل اپنے وزیر خارجہ سے ناراض ہو گئے۔ بھٹو صاحب نے الطاف حسن قریشی سے تقاضا کیا کہ آپ میری تردید شائع کر دیں۔ اس سے قبل کہ تردید شائع ہوتی بھٹو صاحب کو وزارت خارجہ سے نکال دیا گیا۔ پھر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ کچھ سال کے بعد بھٹو صاحب کی حکومت ختم کر کے جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو الطاف حسن قریشی نے جنرل ضیاءالحق کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اُردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا تو فوجی ڈکٹیٹر بھی اُن سے ناراض ہو گیا کیونکہ قریشی صاحب کے کچھ سوالات اور اُن کے جواب سے جنرل ضیاءکا بھٹو سے ذاتی عناد سامنے آ رہا تھا۔ 20اکتوبر 1977ءکو الطاف حسن قریشی کو گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں بند کر دیا گیا جہاں بھٹو صاحب پہلے سے قید تھے۔ الطاف حسن قریشی صاحب نے 2017ءمیں عطاءالحق قاسمی کو پی ٹی وی پر انٹرویو میں بتایا کہ ایک دفعہ بھٹو صاحب نے جیل میں اپنے مشقتی کے ذریعے مجھ سے اُردو ڈائجسٹ کا وہ شمارہ مانگا جس میں جنرل ضیاءکا انٹرویو شائع ہوا تھا۔ قریشی صاحب نے کسی نہ کسی طریقے سے یہ شمارہ بھٹو صاحب کو فراہم کر دیا اور پھر بھٹو صاحب نے اس انٹرویو کا ذکر اپنی کتاب ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا“ میں کیا جو انہوں نے جیل میں لکھی تھی۔ یہ الطاف حسن قریشی کی اعلیٰ ظرفی وصحافتی دیانت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں ا±نہیں اور اُن کے بھائی اعجاز حسن قریشی کو ایک دفعہ نہیں بار بار گرفتارکیا لیکن الطاف حسن قریشی نے بھٹو کیساتھ اختلاف کو ذاتی دشمنی نہیں بنایا بلکہ جیل میں بھی انکے ساتھ تعاون کیا۔ خیر جنرل ضیاءہی کے دور میں اُنہیں ایک بار پھر گرفتار کیا گیا، اُس وقت جنرل ضیاءنے صحافیوں کا اتحاد توڑنے کیلئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس میں ایک نیا گروپ کھڑا کر دیا اس گروپ بندی نے صحافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ وہ مارشل لاکے سخت خلاف تھے۔ پھر اُنہیں بادی النظر میں مشرف کے مارشل کے وقت بھی گرفتار کرنے حکم نامہ جاری ہوا مگر مبینہ طور پر لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول جو اُس وقت کور کمانڈر لاہور تھے، اور اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل احسان الحق نے بھی قریشی صاحب کی گرفتاری کیخلاف رائے دی اور پھر مشرف نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ جب جنرل پرویز مشرف اپنے اقتدار کے جوبن پر تھے توان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھوت سوار ہوا۔ الطاف حسن قریشی ان صحافیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی۔ ویسے میں چند بار ہی ان سے مل سکا۔ بلکہ خبریں کے دور میں ہی اُن سے جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں، اُس کے بعد اُن سے ملاقات نہ ہوسکی،،، لیکن میں نوجوانی میں ہی اُن کے مضمون پڑھا کرتا تھا ،،، جس میں حب الوطنی اچھی خاصی جھلکتی تھی،،، بلکہ مشرقی پاکستان کے آخری ایام میں الطاف صاحب ان محبِ وطن لوگوں میں شامل تھے جو پاکستان کو متحد رکھنے کے شدید خواہشمند تھے۔ وہ فطری طور پر اس گروہ کے مخالف تھے جو حقوق کے نام پر پاکستان کو دولخت کرنے پر آمادہ تھا۔ اس کے باوجود، انہوں نے ریاست کو یہی مشورہ دیا کہ وہ طاقت کے بجائے مکالمے کا انتخاب کرے۔ ”محبت کا زمزم بہہ رہا ہے“ کے عنوان سے لکھے گئے سلسلہ مضامین کے آخر میں انہوں نے مفاہمت ہی کے لیے تجاویز پیش کیں۔ بطور صحافی انہوں نے بحران کے دنوں میں بارہا مشرقی پاکستان کا سفر کیا تاکہ حالات کا مشاہدہ کریں اور کوئی رائے قائم کریں۔ ایسے ہنگامہ خیز ماحول میں افراط وتفریط کا شکار ہو جانا فطری ہے۔ تاہم ان کے بعض تجزیوں سے اتفاق وعدم اتفاق سے قطع نظر‘ اس میں کچھ کلام نہیں کہ اردو صحافت میں ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ ان کا نقش اتنا گہرا ہے کہ تادیر مٹ نہیں سکے گا۔ بہرحال الطاف قریشی متعدد کتابوں کے مصنف اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر اعلیٰ تھے۔اُن کی تصنیفات میں ملاقاتیں، مقابل ہے آئینہ، چھ نکات کی سچی تصویر، نوکِ زباں، مشرقی پاکستان اور مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا سمیت دیگر کتابیں شامل ہیں۔ الطاف حسن قریشی کا نام پاکستانی صحافت میں اُس نسل کی نمائندگی کرتا ہے جس نے قیامِ پاکستان کے بعد کے ہنگامہ خیز ادوار کو قریب سے دیکھا اور انہیں قلم بند کیا۔ اُن کی صحافت محض روزمرہ سیاست کے گرد نہیں گھومتی تھی بلکہ ا±س میں تہذیبی اور نظریاتی بنیادوں پر قوم کی رہنمائی کا جذبہ بھی شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں آج بھی نئی نسل کے لیے مطالعے اور غور و فکر کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔پاکستانی صحافت میں ا±ن کا سب سے نمایاں کردار یہ تھا کہ انہوں نے اختلافِ رائے کو شائستگی اور دلیل کے ساتھ پیش کرنے کی روایت قائم کی۔ آج کے دور میں جہاں ٹی وی مباحث اکثر شور شرابے اور الزام تراشی کا منظر پیش کرتے ہیں، وہاں الطاف حسن قریشی کی تحریریں سنجیدگی، تحمل اور فکری گہرائی کی مثال محسوس ہوتی ہیں۔ ا±ن کی زبان میں شائستگی تھی مگر مو¿قف میں مضبوطی بھی موجود تھی۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ الطاف حسن قریشی نے اپنی زندگی میں پاکستان کے کئی بڑے سیاسی بحران دیکھے۔ سقوطِ ڈھاکہ، مارشل لا کے ادوار، افغان جنگ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست،،، ان تمام موضوعات پر ا±ن کی گہری نظر تھی۔ وہ ہر واقعے کو محض سیاسی عینک سے نہیں بلکہ قومی سلامتی اور تہذیبی تناظر میں دیکھتے تھے۔ یہی اُن کی تحریروں کو دوسرے صحافیوں سے ممتاز بناتا ہے۔الطاف حسن قریشی کی خاصیت یہ بھی تھی کہ وہ گرفتار صحافیوں کے لیے آواز اُٹھاتے،،، وہ ہر فورم پر صحافیوں کے حقوق کے لیے متحرک نظر آتے،،، حتیٰ کہ کسی صحافی کے شہید ہونے یا زخمی ہونے پر بھی حکام بالا سے شکایات کے انبار لگا دیتے، کالم لکھتے، اپنی تحریروں سے حکومت کو ضرب پہنچانے کی کوشش کرتے،،، آخر میں ان کی ایک غزل کے دو اشعار سنیے! قحطِ آشفتہ سراں ہے یارو شہر میں امن و اماں ہے یارو ہائے‘ اربابِ وفا بھی یہ کہیں اب جنوں کارِ زیاں ہے یارو پاکستان کو آج بھی ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو قومی یکجہتی کو فروغ دے، نوجوان نسل کو مثبت سوچ دے اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرے۔ الطاف حسن قریشی کی خدمات اسی روشن روایت کی علامت ہیں۔ اُن کا قلم آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا رہے گا کہ صحافت اگر اصول، علم اور قومی شعور کے ساتھ کی جائے تو وہ محض پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی خدمت بن جاتی ہے۔