عید الاضحی : قربانی کا ”سینٹرلائزڈ “سسٹم قائم کیا جائے!

عید الاضحی قریب آتے ہی، سب سے پہلے ہمیں حکومت کی یاد ستاتی ہے کہ اس عظیم تہوار کے لیے حکومت کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے،،، ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 90لاکھ سے زائد جانور قربان کیے جاتے ہیں،،، جبکہ ملک بھر میں اربوں روپے کی لین دین کا کاروبار ہوتا ہے،،، اب اتنے بڑے اور عظیم الشان تہوار کے لیے سرکار دو چار دن پہلے چند ایک اقدامات کرتی ہے،،، کہیں کہیں ”چونا“ وغیرہ پھینکتی ہے اور کہیں کہیں کیمپ لگا کر خانہ پری کرتی ہے، مگر عید کے بعد جہاں سے گزریں الائشوں کے ڈھیر پوری آب و ہوا میں پھیلے ہوتے ہیں،،، حالانکہ پاکستان کے برعکس دنیا بھر میں اس حوالے سے بہترین انتظامات کیے جاتے ہیں،،، جبکہ پاکستان جیسی بدنظمی دنیا بھر میں نہیں دیکھی جاتی ،،، اگر اس حوالے سے سعودی عرب کو دیکھیں تو دنیا میں سب سے زیادہ جانور سعودی عرب میں حج کے بعد قربان کیے جاتے ہیں مگر جانوروں کو مذبح کرنے کا ایسا شاندار انتظام موجود ہوتا ہے کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے، نہ کہیں تعفن، نہ کہیں الائشیں اور نہ ہی کہیں گلی گلی قربان گاہیں آپ کو نظر آئیں گی۔ ہمارے ہاں بھی حکمران ہر سال ایسے اقدامات کرتے ہیں، جن کا وقتی فائدہ ہوتا ہے مگر وہ دیرپا نہیں ہوتے،،، جیسے پنجاب حکومت نے اس مرتبہ الائشیں باہر پھینکنے پر پابندی اور 50ہزار جرمانے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ یہ بات تو وقتی نہیں ہونی چاہیے ، مگر یہ قانون کا حصہ ضرور ہونی چاہیے،،، اور یہ انہیں بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا، لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب ان کے سر پر پڑتا ہے تو ان کو ہوش آتا ہے، بلکہ یوں لگتا ہے جیسے قربانی اچانک آئی ہے؟ حالانکہ اس کی پلاننگ پہلے کرنی چاہیے تھی،،، اب آپ لاہور ہی کو دیکھ لیں، صرف نمایاں علاقوں میں ستھرا پنجاب کے ورکرز الائشیں اُٹھائیں گے، کیمپ لگائیں گے، شاپر تقسیم کریں گے،، مگر گردو نواح میں آپ کو سرکار کہیں نظر نہیں آئے گی،،، وہاں کے لوگ الائشوں کا کیا کریں؟ کیوں کہ آپ جیسے ہی لاہور سے باہر نکلتے ہیں،،، یا کسی بھی شہر سے باہر نکلتے ہیں تو آپ کو تعفن زدہ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پورے پاکستان میں اس حوالے سے یکساں نظام ہونا چاہیے تھا،،،اور اس کے دو طریقے ہیں، کہ سعودی عرب میں قربانی کا سسٹم سینٹرلائزڈ ہے، گورنمنٹ اس حوالے سے ایک ریٹ نکالتی ہے، اُسی ریٹ کے مطابق بڑی یا چھوٹی قربانی کی جاتی ہے،،، اس حوالے سے وہاں پورا ایک ڈیپارٹمنٹ کام کرتا ہے،،، ہمارے ہاں بھی ایسا ہی سسٹم بننا چاہیے تھا،،، لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں عوام نے سرکار پر اعتماد نہیں کرنا تھا،،، اور نہ ہی حکومت کو پیسے دینے تھے،،، کہ سرکار نے نہ جانے جانور ذبح بھی کیسے ہیں یا نہیں،،،بلکہ یہاں بھی بلیک میلنگ شروع ہو جانی تھی،،،سرکار کے لوگوں نے ہی دو چار ہزار روپے لے کر بتانا تھا کہ ایسے نہیں ایسے کر لو،،، جیسے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے لوگ کاروباری حضرات کو بتاتے ہیں کہ ٹیکس کیسے چوری کیا جا سکتا ہے،، اور اگر یہی نہیں تو پھر جہاں عوام سے اتنے ٹیکس لیے جا رہے ہیں، وہیں ایک ہزار روپے فی جانور ٹیکس لے لیا جاتا اور سرکار بدلے میں ایک ٹوکن نمبر دے دیتی،،، کہ جب قربانی کرنے والا شخص ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنا ٹوکن نمبر بتائے تو نمائندہ اُسی وقت الائشیں اُٹھانے کے لیے حاضر ہو جائے،،، لیکن اس کے لیے محنت درکار تھی،،، جو نہ تو ہمارے بیوروکریٹس نے کرنی ہے اور نہ ہی سرکار نے ۔ لیکن سرکار نے اب کیا کرنا ہے، عوام کو الائشیں پھینکنے دیں گے،،، اور پھر جرمانے ہوں گے،،،ا ور جب تعفن پھیل جائے گا تو پھر،،، 10، 12کروڑ روپے کا عرق گلاب پھینکا جائے گا،،، جس کا نہ کوئی آڈٹ ہوگا اور نہ ہی کوئی پوچھ گچھ۔ اور پھر یہاں مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب سر پرآن پڑتی ہے تو پھر نئے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں، نئے رہنما اصول بھی مقرر کر دیے جاتے ہیں،،، آپ عید کو چھوڑیں آگے محرم آرہا ہے، اُس کو دیکھ لیں، ،، جیسے ہی محرم کا چاند نظر آئے گا،،، ادارے متحرک ہوں گے،،، اور یوم عاشور سے ایک دو دن پہلے ایک بڑی میٹنگ بلائی جائے گی،،، اور اس میں ”رہنما“ فیصلے کیے جائیں گے،،، اور پھر اُس وقت تک دہشت گرد یا ملک دشمن عناصر اپنا کام کر چکے ہوں گے،،، بہرحال میرے خیال میں عید قربان کا ”سینٹرل“ سسٹم ہونا چاہیے، گورنمنٹ قربانی کو اپنے ہاتھ میں لے، بالکل اُسی طرح جس طرح سعودی عرب میں قربانی کا اہتمام سرکار کے زیر اہتمام کیا جاتا ہے، آپ کو ایپ پر پیغام وصول ہوجاتا ہے کہ آپ کی قربانی ادا کر دی گئی ہے، ایسا کرنے سے یقینا نہ کہیں تعفن پھیلتا ہے، نہ گلی گلی میں خون پھیلتا ہے، نہ جانوروں کو اذیت دی جاتی ہے، بلکہ بڑے ڈسپلن انداز میں قربانی ہو جاتی ہے، اور غرباءمیں گوشت بھی تقسیم ہو جاتا ہے۔ لیکن مجھے علم ہے کہ حکومت ایسا نہیں کرے گی، کیوں کہ اُس کے اپنے مفادات ہیں، وہ ان چیزوں پر کبھی عمل درآمد نہیں کرے گی، جن چیزوں سے عوام الناس کا فائدہ ہوتا ہو۔ جن چیزوں سے صحت عامہ کے مسائل حل ہوتے ہوں۔ آپ اس حوالے سے دنیا بھر میں بھی قربانی کا اہتمام ہوتا دیکھ لیں،،،وہاں منظم انتظام کیا جاتا ہے۔ اگر بات ترکی کی کی جائے تو وہاں قربانی کرنے کے منظم طریقہ اور جدید سہولیات سے استفادہ کیا جاتا ہے.... آپ کہیں گلی محلے میں جانور کو ذبح وغیرہ نہیں کرسکتے....برطانیہ میں ان دنوں زیادہ مقبول طریقہ یہ ہے کہ اکثر حلال میٹ کی دوکانیں آپ کی طرف سے قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی سہولت فراہم کر دیتی ہیں۔پورے یورپ میں عید کے موقع پر عارضی ذبح خانے قائم کر دئیے جاتے ہیں جہاں لوگ قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، بلکہ اس مرتبہ تو یورپ کے بعض ملکوں میں عارضی موبائل ذبح خانوں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے قربانی دی.... آپ بھارت کی مثال لے لیں وہاں گائے کی قربانی کی تو ممانعت ہے مگر ہر ریاست کی جانب سے سرعام جانور کو ذبح کرنے پر بھی پابندی عائد ہے، آپ ریاست کی جانب سے مختص کیے گئے مذبح خانوں کے علاوہ کہیں جانور کو ذبح نہیں کر سکتے.... آپ اپنے ملک کے پرانے مشرقی پاکستان( بنگلہ دیش) کی مثال لے لیں وہاں ہر شہر کی انتظامیہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنے کے لیے باقاعدہ کچھ جگہوں کا انتظام کرتی ہے ۔ تاکہ لوگ مخصوص جگہوں کے علاوہ کہیں قربانی نہ کریں ۔ وہاں بھی حکومت کی طرف سے رائج کردہ قربانی کا آن لائن نظام عوام میں مقبولیت اختیار کر رہا ہے ، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ عوام کو سسٹم پر اعتبار آنا شروع ہوگیا ہے۔ خیر یہ تو ایک الگ بحث ہے ،مگر ایک اور چیز جو ہمارے ہاں دیکھی گئی ہے وہ ہے قربانی کا مقصد۔کیوں کہ مقصد جتناعظیم ہوتاہے قربانی بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ لیکن اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے قربانی کا پیغام دیا تھا ہم اس سے کس قدر کنارہ کش ہو چکے ہیں، دوسروں کے حقوق چھین کر اور جھوٹ بول کر ”قربانی“ دینے سے یا محض قرب و جوار میں اپنا سٹیٹس سمبل بحال رکھنے کے لیے نہ تو ثواب ملتا ہے اور نہ قربانی کے اصل مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ کہ پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے یہاں کی 60فیصد آبادی غریب ترین ہے، عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 70 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ غربت کی لکیر کے لیے عالمی پیمانہ دو امریکی ڈالر روزانہ آمدنی ہے، یعنی تقریباً 6سو پاکستانی روپے۔اس رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی 21 فیصد آبادی میں لوگوں کی روزانہ آمدنی 1.25 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔ 30فیصد جو خط غربت سے اوپر زندگی گزار رہے ہیں ان کا معیار زندگی بھی دیکھ لیں.... ان میں سے ایک فیصد شاہانہ زندگی گزار رہا ہے 20فیصد تنخواہ دار طبقہ ہے اور 9فیصد چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والے لوگ ہیں، اب ایسے حالات میں آپ مجھے بتائیں کہ ان میں سے کتنے فیصد لوگ اپنی ”ناک“ رکھنے کی خاطر قربانی دے رہے ہیں اور کتنے فیصد خالص اللہ کی رضا کے لیے؟ حالیہ عیدِ بقر میں 80ہزار سے تین لاکھ روپے تک کا بکرا، سوا لاکھ سے 10لاکھ روپے تک گائے اور اونٹوں کے ریٹ اس سے بھی زیادہ ہیں اور میں حیران ہوں کہ ایک عام تنخواہ دار شخص یہ جانور خرید کیسے سکتا ہے؟ اپنے گلی محلے سے آپ کا گزر ہوا ہو گا تو یقیناََ آپ کو ہر دوسرے گھر میں ”قربانی“ بندھی ہوئی نظر آئی ہوگی۔ کیا غریب، کیا امیر، کیا سفید پوش، کیا سرخ پوش، کیا تاجر، کیا سرکاری ملازم، کیا دوکاندار، کیا بینکار، کیا سبزی فروش، الغرض سبھی قربانی جیسے فریضے کو ادا کرنے کی ”استطاعت“ رکھتے ہیں۔ میں حیران اس لیے نہیں ہوں کہ اللہ کی راہ میں زیادہ جانور قربان کیوں کیے جارہے ہیں؟ حالانکہ میں کون ہوتا ہوں قصائیوں و نیم قصائیوں قربانی سے منع کرنے والا۔ لیکن میں ورط حیرت میں ضرور اس لیے بھی ہوں کہ ایک عام تنخواہ دار شخص رزق حلال سے کیسے قربانی کا جانور خرید سکتا ہے؟ اور پھر اگر آپ کی قربانی میں ایک پائی بھی حرام پیسوں کی شامل ہوگئی تو کس بات کی قربانی؟ ہمارے حالات تو بقول شاعر یہ ہیں کہ وہ جن کا شجرِ انا آندھیوں میں بھی نہ گرا بابِ ہوس کھلا تو ٹکڑوں پہ پل پڑے حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اس معاشرے میں جہاں ہزاروں بچیاں غربت کی بنا پر اپنے ہاتھوں کے پیلے ہونے کی منتظر رہتی ہیں وہاں کئی کئی لاکھ کے پلے پلائے اور سجے سجائے جانور قربانی کے لئے خرید کر ٹی وی چینل کی بریکنگ نیوز کا درجہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ یوں بھی فربہ پلے پلائے اور بھاری بھرکم سینگوں والا بکرا خریدنے کیلئے بندے کا اپنا بھی بھاری بھرکم اور جیب کا بھاری ہونا ضروری ہے۔ بہرکیف ہم سب نے مل کر اس ملک کے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے ، قربانی کو کو سینٹرلائزڈ کرنا ہے، تاکہ ہم بہت سی قباحتوں سے بچ سکیں۔ دکھاوے سے بچ سکیں، لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ اگلے سال کی قربانی کے لیے اگر ابھی سے کام شروع کریں گے تو پھر کہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اور قربانی جیسا فریضہ بھی سنت کے مطابق ادا کر سکیں گے!