تعلیم کا بجٹ بالکل ختم کردیں: تاکہ قوم غلام درغلام بنے !

5جون 2026کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ سامنے آچکی ہے، جس میں پتہ چلے گا کہ اگلے مالی سال میں عوام پر کیا کیا ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور کن کن چیزوں پر ٹیکس بڑھا کر عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے،،، اب 5جون کو حسب روایت بجٹ پیش کیا جائے گا، معیشت، ترقیاتی منصوبوں، محصولات اور مہنگائی پر طویل بحث ہوگی، حکومت اپنی کامیابیاں بیان کرے گی، جبکہ اپوزیشن حسب موقع کبھی گلے پھاڑے گی، کبھی بجٹ کاپیاں پھاڑے گی تو کبھی ہو سکتا ہے اپنے گریبان بھی خود ہی چاک کریں،،، کیوں کہ یہ برائے نام اپوزیشن رہ گئی ہے کہ اس لیے یہ اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟۔ جبکہ عوام ٹی سکرینوں پر بیٹھ کر وزراءکی طرف سے بیان کیے گئے اعداد و شمار دیکھ کر حیران بھی ہو رہے ہوں گے، اور انگشت بدندان بھی ہوں گے کہ اب اگلا سال نہ جانے اُن کے ساتھ کیا کیا ہوگا؟ مگر اس سارے شور میں ایک سوال کی طرف کسی کا دھیان نہیں جائے گا۔ ”کیا تعلیم اس معاشرے کا حصہ رہ گیاہے؟“۔ شاید حکومت اور اپوزیشن کیلئے اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں مگر یہ سوال ہماری قومی ترقی کی اساس ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کی شاہراہوں‘ میٹرو منصوبوں یا بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے سکولوں اور کلاس رومز میں تشکیل پاتا ہے۔ جو ممالک تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں وہی مضبوط معیشت اور بہتر سماجی ڈھانچہ قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تعلیمی تاریخ اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہر حکومت نے صرف زبانی کلامی تعلیم کو قومی ترجیح قرار دیا۔ بلند بانگ دعوے کیے گئے‘ مختلف تعلیمی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا‘ ان پالیسیوں اور اصلاحاتی منصوبوں میں بڑے بڑے اہداف مقرر کیے گئے۔ کبھی شرحِ خواندگی بڑھانے کی بات ہوئی‘ کبھی ”تعلیم سب کے لیے“ کا دلکش نعرہ لگایا گیا اور کبھی علم پر مبنی معیشت کے خواب دکھائے گئے۔ مگر تلخ زمینی حقیقت یہی ہے کہ تعلیم کبھی وفاقی بجٹ کی ترجیحات میں اہم نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان بنیادی تعلیمی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ہمارے سکولوں کی اکثریت میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ گرمیوں میں کلاس رومز تپ رہے ہوتے ہیں اور شدید سردیوں میں کلاس رومز میں سردی سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ اکثر سکولوں کی عمارتیں خستہ ہیں۔ ایک ہی کمرے میں مختلف جماعتوں کے بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔ نہ بجلی‘ نہ پنکھا‘ نہ پانی۔ ان حالات میں استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پوری تندہی سے پڑھائے اور طلبہ ذوق وشوق سے تعلیمی عمل کا حصہ بنیں۔ سرکاری سکولوں کی اکثریت کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کاش بجٹ بنانے اور بجٹ پر بحث کرنے والے ان سکولوں کی خستہ حالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کس قدر ضروری ہے۔ لیکن پالیسی سازوں کے اپنے بچے ایلیٹ سکولوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں‘ لہٰذا قوم کے بچوں سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔آج پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان بچوں اور ان کے والدین کے بھی کچھ خواب تھے لیکن مالی وسائل کی کمی نے ان کے خواب گلی کوچوں میں بکھیر دیے۔ ان بچوں کی اکثریت دیہی علاقوں‘ اندرونِ سندھ‘ جنوبی پنجاب‘ بلوچستان اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ غربت‘ بچوں سے مشقت‘ کمزور انفراسٹرکچر‘ طویل فاصلے اور صنفی رکاوٹیں انہیں تعلیم سے دور رکھتی ہیں۔ لڑکیوں کی صورتحال اور بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بہت سی بچیاں صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں کہ سکول میں بنیادی سہولتیں یا خواتین اساتذہ دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسا نہیں کہ ان بچوں میں ذہانت کی کمی تھی یا انہیں پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ذہین تھے اور پڑھنا بھی چاہتے تھے لیکن ان کا واحد قصور ان کی غربت تھی‘ جو ان کے راستے کی دیوار بن گئی۔ جبکہ سرکار ہے کہ اُن پر توجہ دینے سے قاصر ہے،،، اور پھر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ نہ جانے حکمران کیوں چاہتے ہیں کہ وہ ان پڑھ رہیں، میلے ٹھیلوں میں خوش رہیں، ملک کی کاسمیٹکس سرجری سے متاثر ہوتے رہیں، اور غلامی کرتے رہیں،،، اور حکمرانوں کی عیاشیاں دیکھ کر افسردہ نہ ہوں بلکہ خوش ہوں کہ اُن کے ”باس“ کو دیکھو اللہ نے کتنا نوازا ہے،،، یا نواز رہا ہے،،، بلکہ یہ عوام کو اس لیے بھی جاہل اور ان پڑھ رکھنا چاہ رہے ہیں کہ عوام خود کو” شودر“ سمجھتے رہیں اور جبکہ حکمرانوں کو ”سپیرئیر“۔ ایسا تو تبھی ممکن ہے جب عوام میں شعور نہ ہونے کے برابر ہو۔ بلکہ آپ اس قوم کو یوں سمجھیں کہ ایک طرف ہم شودر پیدا کر رہے ہیں اور دوسری طرف اعلیٰ درجے کی قوم یعنی ”سپیرئیر “ قوم۔ اور ایسا ہر جمہوری و ڈکٹیٹر شپ کے دور میں ہوتا رہا ہے،،، حتیٰ کہ عمران خان کے دور میں بھی ہم نے ایسا ہی دیکھا،،، کہ جب ہم نے ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی پر تنقید کی تو میرے اخبار (روزنامہ لیڈر) کو اُس وقت کے وزیر تعلیم شفقت محمود نے اسمبلی میں لہرایا تھا اور ہمارے اشتہارات بند کروا دیے تھے،،، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تعلیم کا بجٹ کم کیوں کرتے ہیں،،، اور جو سکول پہلے سے سرکار کے زیراہتمام تعلیم دے رہے ہیں،،، اُنہیں بھی پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے،،، اور پہلے ہی پاکستان تعلیم کو لے کر دنیا کے 194ممالک کی فہرست میں 168ویں نمبر پر ہے،،، جبکہ دنیا کی ٹاپ 500یونیورسٹیوں میں ہماری ایک دو جامعات بمشکل آتی ہیں،،، جبکہ ہمسایہ ملک بھارت کی 10سے زائد یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی 500یونیورسٹیوں میں آتی ہیں،،، اگر تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ پھر آپ دنیا کا مقابلہ تو دور کی بات ہم اپنے ہمسایہ ممالک کا مقابلہ کرنے سے بھی قاصر ہیں،،، اور پھر یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پاکستان کا تعلیمی بحران صرف رسائی تک محدود نہیں۔ جو بچے سکول پہنچ جاتے ہیں ان میں سے بھی 53 فیصد آٹھویں جماعت میں پہنچنے تک ڈراپ آﺅٹ ہو جاتے ہیں۔ جو خوش قسمت سکول میں باقی رہ جاتے ہیں‘ ان میں سے بڑی تعداد سیکھنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم رہتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دس سال کی عمر کے تقریباً 80 فیصد بچے ایک سادہ عبارت روانی سے نہیں پڑھ سکتے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارا مسئلہ صرف سکول تک رسائی کا نہیں بلکہ تعلیمی معیار کا بھی ہے۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی 63 فیصد تک ہے‘ یعنی آج بھی تقریباً چالیس فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔ یہ بحران صرف تعلیم کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے منفی اثرات معاشرے اور معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں ایک بڑا طبقہ بنیادی تعلیم سے محروم ہو وہاں جمہوری شعور‘ تنقیدی فکر اور سماجی شرکت بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب ہم سرکاری سطح پر تعلیمی اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا چار فیصد خرچ کرنے کا وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ 2009ءکی تعلیمی پالیسی میں تو یہ نوید بھی دی گئی کہ اگلے چند برسوں میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا سات فیصد تعلیم کیلئے مختص کیا جائے گا۔ مگر افسوس یہ ہدف کبھی حاصل نہ ہو سکا۔ ستم ظریفی یہ کہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ کے بجائے ہر سال کمی ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ 2024-25میں تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد رہ گئے۔ یہ شرح نہ صرف عالمی معیار سے بہت کم ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے بھی پیچھے ہے۔ کم بجٹ کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور جاری اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں‘ لائبریریوں‘ لیبارٹریوں‘ ٹیکنالوجی اور تدریسی وسائل کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سکول آج بھی بجلی‘ پانی‘ بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اور اس پر نہلے پر دہلا یہ کہ ہم تعلیم کے بجٹ میں اضافہ نہیں کر رہے ،،، بلکہ مزید کٹوتیاں کر رہے ہیں،،، اور یہ کٹوتیاں صرف وفاق تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ صوبوں تک بھی بڑھ چکی ہیں،،، صوبے بھی اب تعلیم کو اہمیت دینے سے گریزاں ہیں،،، جبکہ خبر یہ بھی ہے کہ دفاع کے بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ہائیر ایجوکیشن جو وفاق کے زیر انتظام ہے ، کے بجٹ میں مزید کٹوتی کی جارہی ہے اور صوبے بھی تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کٹوتیاں کر نے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ حالانکہ میرے خیال میں جہاں دفاع کے لیے 2ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ رکھنے کی تیاری ہو رہی ہے وہیںہمیں ایجوکیشن اور ہیلتھ کے لیے بجٹ بڑھانا چاہیے۔بہرکیف یہ درست ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اصلاحات کا محتاج ہے۔مگر یہ اصلاحات کس نے کرنی ہیں؟ لیکن یہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ فی الوقت یہاں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، مہنگائی نے ہر طبقے کو متاثر کر رکھا ہے،فیصلہ کرنے والی قوتوں اور صاحب اقتدار لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔مہنگائی سے عوام پر 100فیصد اضافی بوجھ پڑاہے۔تو ایسے میں تعلیم کہاں رہ جاتی ہے؟ خیر آپ مانیں یا نہ مانیں یہ پاکستان کے خلاف سب سے بڑی سازش ہو رہی کہ یہاں کے عوام کو ایجوکیٹ ہونے سے روکا جائے اور یہ سازش کون کر رہا ہے؟ اس حوالے سے مقتدرہ قوتوں کو پتہ لگانا ہوگاکہ کیا بیرونی قوتیں اس کار خیر میں حصہ دار ہیں؟ یا یہ سازشیں پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہیں،کیا اس کام میں ہمارے اپنے لوگ ملوث ہیں؟ جو ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک کے عوام پڑھ لکھ جائیں،خوشحال ہو جائیں، عقل مند کہتے آئے ہیں کہ چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانے چاہئیں‘ مگر ہمارے حکمرانوں کے کانوں تک یہ نصیحت ابھی تک نہیں پہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل سے منہ پھیر کر کچھ اور معاملات کو اپنی ترجیحات بنا لیا۔ اس سے ہمارا ملک سیاسی ‘ معاشی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار ہوا اور یہی ہمارے تمام مسائل کی اصل وجہ ہے۔ میرے خیال میں لگژری آئیٹمز پر پیسے بڑھا کر تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے ، اسی طرح ملک میں کم سے کم تیس لاکھ ایسے صاحب ِحیثیت لوگ ہیں جنہیں انکم ٹیکس دینا چاہیے لیکن وہ ادا نہیں کرتے۔ اتنے ہی لوگ ہیں جو اصل کا نصف یا اس سے بھی کم انکم اور سیلزٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایف بی آر کی تنظیم نو کریں ، کرپشن کا خاتمہ کریں اور تعلیم و صحت پر خاص توجہ دیں ۔ لیکن یہ ساری باتیں آپ لاکھ مرتبہ لکھ لیں، یا یاد کر لیں مگر کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ حکمران خود چاہتے ہیں کہ عوام میں اگر پڑھ لکھ کر شعور آگیا تو وہ سب سے پہلا شکار انہی حکمرانوں کو کریں گے،،، جن کی وجہ آج پاکستان کی یہ حالت ہے،،، کیوں کہ یہی طفل تسلیوں کے ذریعے پاکستان کا آج تک بیڑہ غرق کرتے آئے ہیں،،، بقول شاعر جب کہتے ہیں ہم کرتے ہو کیوں وعدہ خلافی فرماتے ہیں ہنس کر یہ نئی بات نہیں ہے