ملک احمد خان : بڑھتا ہوا سیاسی قد پارٹیوں کو نامنظور !

پاکستان میں سیاست کرنا اس وقت سب سے مشکل ترین کام ہے، کیوں کہ اگر آپ سیاستدان ہیں اور ”جی حضوری“ سے کام لے رہے ہیں تو سب اچھا ہے،،، لیکن اگر کہیں آپ نے ”اپنی سوچ “ کا استعمال کرتے ہوئے ملک، عوام، پسے ہوئے طبقے، یا مخالفین کے ساتھ ذرا سی بھی ہمدردی دکھا دی تو پھر آپ کا جینا محال ہو جائے گا۔ پھر یا تو آپ منظر عام سے ہٹا دیے جائیں گے، یا آپ کے پیچھے بیوروکریسی لگا دی جائے گی، یا عدالتیں ، یا پولیس آپ کے پیچھے پیچھے ہو گی اور اگر اس سے بھی کام نہ چلا تو پھر اداروں کو آپ پر نظر رکھنے کے لیے ٹاسک دے دیا جائے گا،،، پھر آپ عوام کی خدمت کے بجائے اپنے Survivalکی جنگ میں ایسا اُلجھیںگے کہ دوبارہ عوامی خدمت جیسا جذبہ آپ کے قریب سے بھی نہیں گزرے گا! خیریہی کچھ آج کل اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کے ساتھ ہو رہا ہے،،، ویسے تو یہ بات زمانہ جانتا ہے کہ وہ ایک پڑھے لکھے، مدبر ، زیرک اور balancedشخصیت کے مالک ہیں،،، اور وہ یقینا تاریخ کے اُن اسپیکر حضرات کی طرح نہیں ہیں جو اپنی پارٹی کی آواز پر ہر غلط اور صحیح بات پر لبیک کہنے کے عادی ہواکرتے تھے،،، لیکن اس کے برعکس ملک احمد خان جس طرح پنجاب اسمبلی کو آج کل چلا رہے ہیں وہ یقینا قابل ستائش اور قابل تعریف ہے،،، حالانکہ مجھے کبھی ن لیگ کی پالیسیوں نے متاثر نہیں کیا، لیکن ملک احمد خان نے گزشتہ چند ماہ میں اور خاص طور پر بجٹ کے دنوں میں جس طرح ایوان چلایا ،،، اُس کے بار ے میں اگر جاننا ہوتو آپ حکومتی وزراءکی چیخ و پکار اور طنزیہ جملوں کو ملاحظہ فرما لیں،،، آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ سب اچھا نہیں ہے! مطلب! ہمارے ایوانوں کا آج کل حال یہ ہے کہ ”کڑوا کڑوا تھو، میٹھا میٹھا ہپ“یعنی اگر آپ ان کے مطلب کی بات کرتے رہیں گے یا اپوزیشن کی بات نہیں سنیں گے،،، تو آپ انہیں ہر طرح سے قبول ہیں،،، لیکن ان سے اختلاف یا ان کے دیے گئے ”روڈ میپ“سے ذرا سا بھی ہٹ کر چلیں گے تو یہ آپ کے بخیے ادھیڑ دیں گے۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی ملک احمد خان کی تو جیسے ہی سرکار کو لگا کہ وہ اب ”راہ راست“ سے ہٹ رہے ہیں اور سیدھے سیدھے عوام کی بات کر رہے ہیں ، کسانوں کی بات کر رہے ہیں، تو سب سے پہلے اُنہوں نے ڈی پی او قصور کو ملک احمد خان کے پیچھے لگا دیا،،،اور ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کے بارے میں اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ موصوف ایک ڈیڑھ ماہ قبل لاہور ہائیکورٹ میں غلط رپورٹ جمع کروانے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم سے معافی مانگ چکے ہیں اور یہ وہی شخصیت ہیں جو گزشتہ ن لیگ کے دور میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے وقت موصوف ڈی ایس پی تھے اور گواہان کے مطابق دستی ڈنڈے سے لاٹھی چارج، فائرنگ اور حملے کرتے رہے۔ جبکہ ان کے بارے میں مزید سیاسی وابستگی کی تفصیلات سے بھی آپ یقینا آگاہ ہوں گے،،،اور ویسے بھی کسی ملزم کو سیاستدان کے کھاتے میں ڈالنا سب سے آسان کام ہوتا ہے،،، کیوں کہ اُن کے پاس روزانہ سینکڑوں کی تعدا د میں اُن کے سپورٹر ، ووٹر اپنے مسئلے لے کر ضرور آتے ہیں،،، جن کے وہ مسئلے بھی حل کرواتے ہیں،،، اور اکثر لوگ اُن کے پاس آتے ہیں تو ساتھ ہی اُن کا پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ ”آپ کے ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔“ اور اگر یہ بات سن کر ملک احمد خان کسی متعلقہ افسر سے کہہ دیتے ہیں کہ بھائی! کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو، انصاف کرنا ، اور بے قصور کے ساتھ کھڑے ہونا،، وغیرہ تو اس میں کیا ہی برا ہے،،، لیکن کیا کریں جب اوپر سے ٹاسک دیا گیا ہو تو پھر بیوروکریٹس بھی صاف کہہ دیتے ہیں ،،، ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں،،، اوپر سے آرڈر ہیں وغیرہ،،، ! خیر میں یہ کالم اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ملک احمد خان سے اسپیکر شپ چھینی جا رہی ہے یا وہ میرے حلقے کے ایم پی اے ہیں،،، یا مجھے اُن سے کوئی ذاتی مطلب ہوگا،،، بلکہ خالصتاََ صرف اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ن لیگ کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ کسی سیاستدان کو اپنی ”سوچ“ کے ساتھ کام نہیں کرنے دیتی،،، بلکہ اگر ان کی صفوں میں کوئی اچھا سیاستدان آہی جاتا ہے، تو یہ بات نہ تو اوپر کی قیادت کو ایک آنکھ بھاتی ہے اور نہ ہی ہماری بیوروکریسی کو۔ بلکہ بیوروکریسی کا قصور تو بعد میں گنا جاتا ہے،،، کیوں کہ ہمارے پاس ایسے بہت سے بیوروکریٹ کی کھپت موجود ہے جو کسی اشارے کے ہمیشہ منتظر رہتے ہیں،،،خیر بات سیاستدانوں کی ہورہی ہے تو تو آپ ن لیگی رہنما چوہدری نثار علی خان کو دیکھ لیں،،، اُنہوں نے تھوڑا سا اختلاف کیا تو انہیں اُن کو سائیڈ لائن کرنے کا بہانہ مل گیا۔۔۔ پھر آپ سعد رفیق کو دیکھ لیں،،، اُنکی پارٹی کے لیے خدمات دیکھ لیں، وہ طلبہ یونین سے لے کر آج تک اس پارٹی کے ساتھ جڑے رہے،،، انہوں نے ہمیشہ اپنے حلقے کے عوام کی بات کی،،، اور پھر سعد رفیق وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے 8فروری 2024ءکے الیکشن میں سب سے پہلے شکست تسلیم کی اور کہا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ تبھی قیادت کو بھی غصہ آیا کہ سعد رفیق کو مخالفین کی تعریف نہیں کرنی چاہیے تھی،،، اسی لیے آج وہ پیچھے ہے،،، بلکہ اُنہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے،،، پھر آپ مصدق ملک کو دیکھ لیں،،، آپ ضعیم قادری کو دیکھ لیں،،، بیچارہ کس قدر حوصلہ ہار گیا کہ وہ دنیا ہی چھوڑ گیا۔پیپلزپارٹی میں چوہدری منظور ، قمر الزمان کائرہ وغیرہ کو دیکھ لیں جن کی خدمات کے عوض اُنہیں وہ عہدے نہیں ملے جس کے وہ مستحق تھے،،، اور یہ صرف اس لیے ہوا کہ ان کی اپنی سوچ ”جوان“ ہو رہی تھی۔۔۔ اور رہی بات موجودہ حالات میں ملک احمد خان کی تو یہاں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ جب ن لیگ پر سختی کا دور تھا اوراُس دور میں جب ن لیگ کا کہیں 5سو کا جلسہ بھی نہیں ہورہا تھا، تو اُس وقت ملک احمد خان نے ایک چھوٹے سے شہر کھڈیاں میں جس کی آبادی 50ہزار کے قریب ہے، وہاں پر 25ہزار سے زائد افراد کا جلسہ کرکے سب کو حیران کر دیا تھا،،، اور مردہ ن لیگ میں جان ڈالی تھی،،، حتیٰ کہ ن لیگی مرکزی قیادت 2024ءالیکشن میں اپنا آخری جلسہ پورا پاکستان چھوڑ کر ملک احمد خان کے حلقہ کھڈیاں میں رکھنے پر مجبور ہو گئی تھی،،، اُس وقت میں نے ملک احمد خان سے کہا بھی تھا کہ جناب! آپ کی یہ مقبولیت آپ کے گلے پڑ جائے گی،،، اور دیکھ لیں،،، آج یہی ہوا ہے،،، یعنی اس ملک میں ایسے بندے کو برداشت ہی نہیں کیا جاسکتا، جس کی اپنی سوچ ہے، ،، جو ایماندار ہے،،،اور جس پر کرپشن کا ایک بھی الزام نہ ہو۔ بہرحال یہ بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں قیادت ایسے لوگوں کو پسند ہی نہیں کرتی جو اپنے حلقے میں قیادت سے زیادہ مشہور و معروف ہوں،،، یا جو سیاستدان عوام میں مقبولیت اختیار کر رہاہو،،، یا جو اپوزیشن کی بات کر رہا ہو،،، اور ویسے بھی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر الزام ہے کہ وہ اپوزیشن کی زیادہ سائیڈ لیتے ہیں،،، وہ اُنہیں تقاریر کرنے کا زیادہ وقت دیتے ہیں،، وہ اُن کی بات سنتے ہیں، وہ اُن کے مسائل کو ایوان کے مسائل سمجھتے ہیں ،،، اور وہ کہتے ہیں کہ اگر میں ان کی بات نہیں سنوں گا تو کون سنے گا؟ اُن کے خیال میں اسمبلی کی ”سپر میسی“ قائم نہیں رہے گی،،، تو پھر کچھ نہیں بچے گا! لیکن یہ بات نہ تو ہماری سیاسی جماعتوں کی صف اول کی قیادت کو ایک آنکھ بھاتی ہے، اور نہ ہی ارباب اختیار کو ۔ اسی لیے وہ اسپیکر کی تبدیلی کی باتیں کر کے اس عہدے پر موجود شخص کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں،،، لیکن اس پر ملک احمد خان آن دی فلور یہ بات کہہ چکے ہیں کہ جب اُنہیں لگا کہ وہ اس عہدے پر بوجھ ہیں تو وہ یہ عہدہ 2منٹ میں چھوڑ دیں گے،،، یقین مانیں ہم نے پنجاب کے بہت سے اسپیکر زکا ادوار دیکھا ہے،،، لیکن اپوزیشن کو جتنی آزادی ان کے دور میں ملی اُس سے انکار نہیں کیا جاسکتا،،، اُن کا قصور یہی ہے کہ وہ ”جی حضوری“سے گریز کرتے ہیں، وہ ہاﺅس کو چلانے کے لیے کاسہ لیسی سے کام نہیں لیتے،،، بلکہ میرٹ پر بات کرتے ہیں،،، جہاں اپوزیشن اراکین کی سرزنش کرنی ہو، وہ وہاں بھی پیچھے نہیں ہٹتے اور جہاں حکومتی وزراءکو اُن کے رویوں پر آئینہ دکھانا ہووہ وہاں پر بھی پیچھے نہیں ہٹتے،،، جیسے حالیہ بجٹ میں آپ دیکھ لیں کہ ملک احمد خان کس طرح نیوٹرل رہے اور اپوزیشن و حکومتی اراکین کو برابر موقع فراہم کیا،،، اور میرے خیال میںیہی بات ارباب اختیار کو بھلی نہیںلگی۔ بہرکیف ملک احمد خان ضلع قصور میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ والے سیاستدان ہیں،،، وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ہیں،،، اور اسپیکر کی سیٹ کا یہ تقاضا بھی ہے کہ وہ بیلنس ہو کر چلیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں اور سب کی بات سنیں۔ الغرض یہی بات اُن کے گلے پڑھ رہی ہے،،، وہ کہتے ہیں کہ پنجاب میں پانی کا ڈیڈ لیول کم ہو رہا ہے، اُس کی کسی کو فکر نہیں،،، وہ کہتے ہیں کہ سیاستدان اس کے ذمہ دار ہیں،،، وہ کہتے ہیں کہ بغیر کسی منصوبے کے پورا صوبہ چلایا جارہا ہے،،، وہ کسان کے حقوق کی بات کرتے ہیں،،، وہ کہتے ہیں کہ سیلاب میں کسان کو جتنا نقصان ہوا، سرکار کو اُس کے عوض ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے،،، مجھے لگتا ہے کہ ایسی باتیں کرنا اُن کو ایک دن اس عہدے سے ہٹانے کے لیے شاید کافی ہوگا،،، جس کانقصان اس ملک کو ہوگا،، عوام کو ہوگا،،، اور سب سے بڑھ کر ”سیاسی “ ڈیپارٹمنٹ کو نقصان ہوگا جو پہلے ہی بہترین سیاستدان اور اعلیٰ پائے کی قیادت پیدا کرنے میں ناکام ہے،،، اس لیے اُمید ہے کہ ارباب اختیار ملک میں جمہوریت قائم کرنے کے لیے ملک احمد خان جیسے سیاستدانوں کو اُن کی سوچ کے مطابق کام کرنے دیں گے،،، ورنہ آج ہمارا جمہوری ملکوں میں 124واں نمبر ہے تو یہ کل کلاں ڈیڑھ سو سے بھی اوپر چلا جائے گا اور دنیا ہم پر ہارڈاسٹیٹ، رانگ اسٹیٹ یا ڈکٹیٹر اسٹیٹ جیسے جملے کسے گی اور ہم بے بس ہوں گے!