ہم بہترین ثالث ! مگر ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر!

یقین جانیے یہ رپورٹ پڑھ کر دل خون کے آنسو رویا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباََ ڈھائی کروڑ سے زائدبچے سکول سے باہر ہیں،،، یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ڈھائی کروڑ غیرمحفوظ مستقبل اور ایسے شہری ہیں جو ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داریوں سے محروم ہیں،،، یہ رپورٹ کسی باہر کے ادارے نے نہیں بلکہ پاکستان کی سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے تیار کی گئی ہے،،،جس نے ایک بار پھر قوم کو ایک ایسی تلخ حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔بلکہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دو برس قبل قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آ سکی۔آپ کو یہ سُن کر بھی حیرت ہو گی کہ ہم اتنے پسماندہ ہو چکے ہیں کہ یہ تعداد پاکستان کو دنیا میں تعلیمی محرومی کا شکار دوسرا بڑا ملک بنا چکی ہے۔ اس سے بڑھ کر ناکامی کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25اے کے تحت ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی ضمانت آج بھی لاکھوں خاندانوں کے لیے محض ایک وعدہ ہے۔ یہ اس قدر خطرناک صورتحال ہے کہ آپ اندازہ لگائیں کہ اس وقت ملک کی آبادی 25کروڑ ہے، اور سکول جانے والے بچوں (5سے16سال تک) کی تعداد 6.5کروڑ ہے، جن میں 2.6کروڑ بچے یعنی 40فیصد بچے سرے سے سکول ہی نہیں جاتے،، اور باقی رہ جانے والوں میں سے بھی آدھے بچے کالج کی تعلیم تک نہیں پہنچ پاتے،،، اور کالج کی تعلیم تک پہنچنے والے 60سے 70فیصد بچے یونیورسٹیوں تک بھی نہیں پہنچ پاتے اور 25کروڑ آبادی میں سے محض چند لاکھ بچے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرکے ملک کے لیے کارآمد شہری بنتے ہیں،،، حالانکہ ہمسایہ ملک بھارت کو دیکھ لیں جس کی آبادی ہم سے 6گنا زیادہ ہے، وہاں یونیسکو کے تخمینوں کے مطابق 21کروڑ بچے سکول جانے کی عمر کے ہیں،،، جن میں سے محض ایک یا دو فیصد یعنی 20یا 30لاکھ بچے سکول جانے سے محروم رہتے ہیں،،، جبکہ محض ایک فیصد بچے ہی کالج کی تعلیم سے محروم رہتے ہیں،،، بھارت میں ابتدائی تعلیم میں نسبتاً زیادہ داخلے اور ریاستی سطح پر تعلیمی پروگرام ہیں۔ جو کامیابی سے جاری ہیں،،، اور پھر یہ بھی اس قدر تکلیف دہ پہلو ہے کہ پاکستان صرف ترقی یافتہ ممالک سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی غریب ممالک سے بھی تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔افریقہ کا ملک روانڈا اس کی بہترین مثال ہے۔ 1994ءمیں نسل کشی کے نتیجے میں لاکھوں افراد مارے گئے، پورا ملک تباہ ہوگیا، معیشت برباد ہوگئی لیکن آج روانڈا نے پرائمری تعلیم میں داخلے کی شرح تقریباً سو فیصد تک پہنچا دی ہے۔ حکومت نے تعلیم کو قومی بقا کا مسئلہ بنایا، بجٹ میں اضافہ کیا، ہر بچے کی رجسٹریشن یقینی بنائی اور اساتذہ کی تربیت پر مسلسل سرمایہ کاری کی۔پھر افریقی ملک ایتھوپیا نے بھی گزشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں نئے سرکاری اسکول قائم کیے، دیہی علاقوں میں تعلیم کو وسعت دی اور لاکھوں بچوں کو پہلی مرتبہ اسکولوں تک پہنچایا۔ اگرچہ وہاں بھی مسائل موجود ہیں لیکن حکومتی تسلسل نے واضح نتائج پیدا کیے۔اسی طرح ویتنام، جو کبھی جنگ اور غربت کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں شمار ہونے لگا ہے۔ وہاں کے طلبہ بین الاقوامی امتحانات میں ترقی یافتہ ممالک کے طلبہ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ویتنام نے تعلیم کو قومی ترقی کی بنیاد بنایا، اساتذہ کے معیار کو بہتر کیا، نصاب کو جدید بنایا اور سیاسی تبدیلیوں کے باوجود تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا۔چلیں! ہم دور نہیں جاتے،،، آپ اپنے برادر ملک بنگلہ دیش کو دیکھ لیں، جو کبھی پاکستان سے کہیں زیادہ غریب سمجھا جاتا تھا، آج تعلیم کے میدان میں پاکستان سے نمایاں طور پر آگے ہے۔ بنگلہ دیش نے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی، مفت کتابیں فراہم کیں، طالبات کے لیے وظائف متعارف کرائے، دیہی علاقوں میں ہزاروں نئے اسکول قائم کیے اور نجی شعبے کو بھی تعلیمی ترقی میں شریک کیا۔ آج وہاں پرائمری سطح پر داخلے کی شرح پاکستان سے کہیں بہتر ہے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم میں بھی وہ جنوبی ایشیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔آپ نیپال کی مثال لے لیں،،، پہاڑی جغرافیہ، محدود وسائل اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود نیپال نے مقامی حکومتوں کو اختیارات دیے، کمیونٹی اسکولوں کو مضبوط کیا اور تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ آج نیپال کی شرح خواندگی پاکستان سے زیادہ ہے۔پھر سری لنکا کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اگرچہ اس ملک کو حالیہ برسوں میں شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا، لیکن کئی دہائیوں سے مفت اور معیاری تعلیم کی پالیسی نے اسے جنوبی ایشیا میں اعلیٰ شرح خواندگی والے ممالک میں شامل رکھا۔ وہاں تعلیم کو کبھی سیاسی ترجیح سے محروم نہیں ہونے دیا گیا۔ لیکن ان سب کے برعکس آخر ان ممالک نے ایسا کیاکیا جو پاکستان نہ کر سکا؟اس کا جواب صرف زیادہ پیسہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی ہے۔ ان ممالک نے تعلیم کو انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ریاستی ترجیح بنایا۔ منصوبے تبدیل نہیں کیے بلکہ انہیں مسلسل جاری رکھا۔ بجٹ میں اضافہ کیا، ہر بچے کا ریکارڈ رکھا، معذرت کے ساتھ یہاں تو کسی کا ریکارڈ بھی شاید نہ ہو،،، یہاں تعلیمی بجٹ مسلسل کم ہوتا گیا۔ اقوام متحدہ کی سفارش ہے کہ ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا کم از کم چار فیصد تعلیم پر خرچ کریں جبکہ پاکستان کئی برسوں سے تقریباً ایک سے دو فیصد کے درمیان محدود رہا ہے۔ اتنی کم سرمایہ کاری کے ساتھ کسی تعلیمی انقلاب کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔دوسرا بڑا مسئلہ آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ ہر سال لاکھوں نئے بچے اسکول جانے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں لیکن نہ اتنے نئے اسکول بنتے ہیں، نہ نئے اساتذہ بھرتی ہوتے ہیں اور نہ ہی موجودہ انفراسٹرکچر میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت چند لاکھ نئے بچوں کو داخلہ دلاتی ہے لیکن اسی دوران اس سے کہیں زیادہ نئے بچے اسکول سے باہر رہ جاتے ہیں۔ کیا اس طرف ہمارے ادارے توجہ دینے سے قاصر ہیں؟ کیا ہم اسی پر خوش ہیں کہ ہم نے ایران امریکا جنگ میں ثالثی کا کردار نبھایا ہے، بلکہ وہ بھی شاید صحیح نہیں نبھا سکے اور وہ دوبارہ لڑ پڑے ہیں،،، بہرحال اگر مذکورہ رپورٹ کی بات کی جائے تو بہت واضح انداز میں نشاندہی کی ہے کہ ناکافی فنڈنگ، کمزور طرزِ حکمرانی، غیر مربوط نظام، ناقص ڈیٹا، صوبوں کی مختلف صلاحیتیں اور انتظامی کمزوریاں اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ پنجاب میں تقریباً ایک کروڑ، سندھ میں لاکھوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ وفاقی علاقوں میں بھی عدم مساوات برقرار ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم اس مقام تک کیسے پہنچے جہاں آئین کا آرٹیکل 25اے بھی کروڑوں بچوں کو تعلیم نہ دلا سکا؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا تعلیمی بحران آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ آبادی بڑھتی رہی لیکن اسکول نہیں بنے، اساتذہ کی کمی پوری نہ کی گئی، بجٹ مسلسل کم ہوتا گیا، تعلیمی اصلاحات سیاسی نعروں تک محدود رہیں اور ہر نئی حکومت نے سابقہ منصوبوں کو ترک کرکے نئے منصوبوں کا اعلان کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر حکومت نے کامیابی کے دعوے کیے لیکن اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی گئی۔ قصہ مختصر کہ جو قومیں اپنے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ لگاتی ہیں، وہ آنے والے برسوں میں معاشی خوش حالی، سماجی استحکام اور سائنسی ترقی کی صورت میں اس کا کئی گنا منافع حاصل کرتی ہیں۔ پاکستان بدقسمتی سے دوسرے راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب، جو آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، سب سے زیادہ تعلیمی بوجھ بھی اٹھا رہا ہے۔ یہاں سکول سے باہر بچوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے چونسٹھ لاکھ ایسے بچے ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا، جبکہ اکتیس لاکھ سے زائد بچے ابتدائی یا مڈل تعلیم کے بعد نظامِ تعلیم سے باہر ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف داخلوں کا نہیں بلکہ بچوں کو سکول میں روکے رکھنے کا بھی ہے۔ جب ایک بچہ غربت، کم عمری کی مزدوری، سماجی دباﺅ، ناکافی سہولیات یا ناقص تدریسی معیار کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتا ہے تو ریاست نہ صرف ایک طالب علم بلکہ ایک ممکنہ ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد یا ہنرمند شہری سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر سال تعلیم کے فروغ کے بلند بانگ دعوے کرتی ہیں، لیکن بجٹ کی ترجیحات ان دعوﺅں کی نفی کرتی ہیں۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ دیہی علاقوں، کچی آبادیوں، پسماندہ اضلاع، دور دراز پہاڑی علاقوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچے آج بھی بنیادی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اُنہیں اسکول مہیا کیے جائیں، اُنہیں سہولتیں دیں، بلکہ بہت سے سکول ایسے ہیں جہاں چار دیواری، پینے کا صاف پانی، بجلی، فرنیچر، بیت الخلا اور تربیت یافتہ اساتذہ تک دستیاب نہیں۔ بچیوں کی تعلیم کی صورت حال تو اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے، کیونکہ غربت، سماجی رویے اور سفری مشکلات انہیں تعلیم سے مزید دور کر دیتے ہیں۔ اگر معاشرے کے کمزور طبقات کو معیاری تعلیم فراہم نہ کی گئی تو معاشی اور سماجی عدم مساوات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگرچہ نجی شعبے نے لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کی ہے، لیکن مہنگی فیسیں کم آمدنی والے طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ تعلیم کا معیار مالی استطاعت سے مشروط ہو جائے تو مساوی مواقع کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں کو اس معیار تک لے جائے جہاں والدین مجبوری کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کو داخل کرا سکیں۔اب وقت محض اعلانات، کانفرنسوں اور تقریبات کا نہیں بلکہ عملی فیصلوں کا ہے۔ وفاق اور صوبوں کو تعلیم کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، سکول سے باہر بچوں کی ضلع وار نشاندہی کر کے ان کے لیے خصوصی حکمت عملی بنانا ہوگی، اساتذہ کی تربیت اور احتساب کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل کا حصہ بنانا ہوگا اور غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے وظائف، مفت کتب، ٹرانسپورٹ اور غذائی معاونت جیسے اقدامات کو وسعت دینا ہوگی۔ اور پھر قومی تعلیمی ایمرجنسی کا اصل مطلب محض ایک اعلان نہیں بلکہ ایسا مستقل، غیر سیاسی اور قابلِ احتساب قومی عزم ہے جو ہر بچے کو اس کا آئینی حق دلانے تک جاری رہے۔ یہی وہ سرمایہ کاری ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، باصلاحیت اور خوش حال ریاست بنا سکتی ہے۔ورنہ دنیا ہمیں شاید بہترین ثالث کے تو یاد رکھے گی ، مگر ساتھ ہی بدترین قوم کے طور پر بھی یاد رکھے گی!