ایران جنگ : پہلے ایک ”چودھری“ تھا اب سارے ہیں!

ایران امریکا و اسرائیل جنگ سے پہلے دنیا کی واحد سپر پاور امریکا تھا، جس کا اثر ان دو چار مہینوں میں خاصا زائل ہوگیا، اور پھر صورتحال یہ ہوگئی کہ اب ہر جنگ میں شریک ملک یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ ”سپر پاور“ ہے،جیسے چین، روس نے ایران کا ساتھ دے کر اپنی برتری ظاہر کر دی ہے، انہی ممالک کے بل بوتے پر ایران اپنے آپ کو فاتح قرار دے رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان الائنس نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہوا ہے اور یہ دونوں ممالک اپنے الائنس میں قطر، ترکی اور دیگر ممالک کو شامل کرکے دنیا کا طاقتور اتحاد بنانا چاہتے ہیں، اور رہی بات اسرائیل و یواے ای کی تو اس وقت اسرائیل بھی اپنے تئیں جنگ کا فاتح بنا ہوا ہے،،، یعنی اس صورتحال کو آپ یوں کہہ لیں کہ 28فروری سے پہلے تک صرف امریکا اپنے آپ کو سپر پاور کہتا تھا، لیکن اب ہر ملک اپنے تئیں دنیا اور خطے کا چودھری بنا ہوا ہے،،، میرے خیال میں یہ صورتحال زیادہ تشویشناک ہے، کیوں کہ اس وقت ہر کوئی اپنی من مانی کر رہاہے، ایران آبنائے ہرمز پر ٹیکس لگانا چاہتا ہے، جبکہ امریکا و اتحادی اس کے سخت ترین مخالف ہیں،،، پھر مصالحت کروانے والے ممالک چاہتے ہیں کہ ایران کسی ہمسایہ ملک پر حملہ نہ کرے،لیکن ایران پر جب امریکی حملہ ہوتا ہے تو ایران جواب میں ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے،،، جس سے اسرائیل جیسے ممالک کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ ایران کبھی باز نہیں آئے گا،،،اور اب تو نیٹو ممالک بھی ایران کے خلاف صف آراءہو رہے ہیں، لیکن اس چیز کا ابھی واضح اعلان نہیں کیا جارہا،،، وغیرہ ،،، جیسے چند نکات ہیں جن کی وجہ سے دنیا ایک بار پھر غیر مستحکم ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن یہ یقینا ایک تکلیف دہ اور مشکل صورتحال ہے، کیوں کہ دنیا نے ابھی چند ہفتے قبل ہی یہ امید باندھی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی شاید کسی پائیدار مفاہمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سفارتی رابطوں، ثالثی کی کوششوں اور اسلام آباد میں ہونے والی پیش رفت نے یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے مذاکرات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا سفر اب بھی انتہائی نازک، پیچیدہ اور غیر یقینی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 18 جون کو جب ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے فریم ورک (ایم او یو) پر دونوں ملکوں کے سربراہان اور ثالثوں کے دستخط ہوئے تو اسی وقت اس پر عمل درآمد کے بارے میں راقم نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کیونکہ یہ فریم ورک کئی لحاظ سے نامکمل اور خامیوں سے بھرا پڑا تھا۔ سب سے اہم خرابی یہ تھی کہ اس فریم ورک معاہدے میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نہ صرف اسے مسترد کر دیا بلکہ لبنان اور غزہ میں وہ جارحیت کا مسلسل ارتکاب کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امید تھی کہ مشکلات کے باوجود فریم ورک کو ایک حتمی معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن گزشتہ دنوں فریم ورک کی دفعات کے بالکل برعکس امریکہ کی طرف سے ایران کی عسکری تنصیبات پر جو بمباری کی گئی ہے‘ اس نے اس فریم ورک معاہدے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔اور اس دفعہ امریکہ نے ایران کی بندرگاہ بندر عباس کے علاوہ چابہار اور بوشہر کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اپنے بیان کے مطابق نوجولائی کو صبح سویرے امریکی بمباری میں جن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان میں ایران کا ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک‘ ساحل پر نصب ریڈار‘ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل اڈے اور ایران کے انقلابی گارڈز کے استعمال میں آنے والی ساٹھ سے زیادہ کشتیاں بھی شامل ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ کے تازہ ترین حملوں میں ایران کے آٹھ فوجی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ سینٹرل کمانڈ کے اعلان میں ایران کے شمالی علاقوں میں ایک ریلوے پل کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ لہٰذااب میرے خیال میں اگر جنگی کارروائیاں دوبارہ شدت اختیار کرتی ہیں تو یہ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن پر مرتب ہوں گے۔اسلام آباد میں ہونے والے سفارتی رابطوں اور مفاہمتی کوششوں کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ فریقین ایک ایسے فریم ورک پر متفق ہوں جس کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکے، اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور مستقبل کے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اگرچہ اس پیش رفت کو ایک مثبت قدم قرار دیا گیا، لیکن ابتدا ہی سے یہ واضح تھا کہ اصل امتحان معاہدے پر دستخط نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کئی معاہدے کاغذ پر کامیاب دکھائی دیے، مگر میدانِ عمل میں وہ دیرپا ثابت نہ ہو سکے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف صرف کسی ایک واقعے، کسی ایک حکومت یا کسی ایک پالیسی کا نہیں۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی بداعتمادی، پابندیاں، سلامتی کے خدشات، علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش اور مختلف اتحادیوں کے مفادات کارفرما ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مذاکرات آگے بڑھتے ہیں، کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو دوبارہ تصادم کی راہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پورا مشرقِ وسطیٰ مسلسل جنگی ماحول کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ عراق، شام، یمن، غزہ، لبنان اور اب ایران سے متعلق کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بحران سے نکلنے سے پہلے دوسرے بحران میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جنگ اب ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلیں امن کو معمول اور جنگ کو استثنا کے بجائے جنگ کو معمول اور امن کو استثنا سمجھنے لگیں گی۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، خلیجی ممالک، چین اور امریکا سب کے ساتھ اہم تعلقات ہیں۔ کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں پاکستان پر سفارتی دباو¿ بڑھے گا، توانائی کی قیمتیں متاثر ہوں گی، تجارت میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بڑھنا براہِ راست پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار اور ترسیلاتِ زر بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی کوششوں کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اگر بنیادی تنازعات کو حل نہ کیا جائے تو جنگ بندی محض ایک وقفہ ثابت ہوتی ہے۔ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں نگرانی کا مو¿ثر نظام، اعتماد سازی کے عملی اقدامات، رابطے کے مستقل ذرائع اور تنازعات کے حل کا قابلِ قبول طریقہ کار موجود ہو۔ اگر ان پہلوو¿ں کو نظر انداز کیا جائے تو معمولی واقعات بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو علاقائی طاقتوں کا کردار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں۔ اس میں اسرائیل، خلیجی ممالک، ترکی، عراق، شام اور دیگر ریاستوں کے اپنے اپنے سلامتی کے خدشات اور مفادات ہیں۔ جب تک ایک وسیع علاقائی سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا جاتا، کسی ایک دوطرفہ معاہدے سے مکمل اور دیرپا امن کی توقع کرنا مشکل ہوگا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ہر نئی جنگ اپنے ساتھ بے گھر خاندان، تباہ شدہ معیشت، مہنگائی، خوراک کی قلت، نفسیاتی مسائل اور انسانی المیوں کی نئی داستانیں لے کر آتی ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن انہیں ختم کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے اب یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ اس تنازع کا مستقل حل کیا ہو سکتا ہے؟سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو بنیادی راستہ بنایا جائے۔ مذاکرات ہمیشہ سست ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کے نتائج جنگ کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں کے سلامتی کے خدشات کو یکساں اہمیت دی جائے۔ اگر کسی ایک فریق کو یہ احساس رہے کہ اس کے بنیادی مفادات نظر انداز کیے جا رہے ہیں، تو معاہدہ دیرپا ثابت نہیں ہوگا۔تیسری ضرورت علاقائی تعاون ہے۔ خلیجی ممالک، ایران، عراق، ترکی اور دیگر ریاستوں کے درمیان مستقل سیاسی مکالمے، اقتصادی تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات اس خطے کو کشیدگی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقتصادی روابط اکثر سیاسی تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ جب ممالک کے معاشی مفادات ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔چوتھی ضرورت یہ ہے کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ کو محض جغرافیائی سیاسی مقابلے کا میدان بنانے کے بجائے اسے استحکام دینے کی کوشش کریں۔ اگر ہر بحران عالمی طاقتوں کی پراکسی کشمکش میں تبدیل ہوتا رہے گا تو امن کی امید کمزور پڑتی رہے گی۔ پاکستان کے لیے بھی اس صورتحال میں دانشمندانہ اور متوازن خارجہ پالیسی ناگزیر ہے۔ پاکستان کو کسی محاذ آرائی کا حصہ بننے کے بجائے، جہاں ممکن ہو، مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ورنہ اگر خدانخواستہ ایران سعودی عرب میں موجود امریکی ٹھکانوں پر حملہ کردیتا ہے تو معاہدے کے تحت سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا تو ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایران کے ساتھ جنگ کرے گا؟ یہ یقینا پاکستان کے لیے مشکل صورتحال ہے،،، اس لیے پاکستان کی ثالثی کی بقاءاسی میں ہے کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھے،،، اور تمام فریقین کو ”اسلام آباد معاہدے“ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کام کرے،،، ورنہ زیادہ چودھریوں میں اگر کسی کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا تو وہ وطن عزیز ہے،،، کیوں کہ ہماری خارجہ پالیسی کے مطابق ہم نے تمام چودھریوں کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہے!